Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۷(کتاب البیوع، کتاب الحوالہ، کتاب الکفالہ )
65 - 180
اور جب یہ دونوں  نہ ہوں  تو رہا نرانام، تو وہ بھی جب بے ضرورت وحاجت محض بطور لہو ولعب وہزل ہومکروہ ہونا چاہئے جیسے اپنی عورت کو ماں یا بہن کہنا کہ اس کا نام رکھنے سے نہ وہ حقیقۃً اس کی ماں  بہن ہوجائے گی،
ان امھاتھم الااللائی ولدنھم۱؎۔
نہیں  ہیں  ان کی مائیں  مگر وہ جنہوں  نے ان کو جنا۔(ت)
 (۱؎ القرآن الکریم    ۵۸ /۲)
نہ اس کی مقاربت میں ا س پر اصلاً کوئی مواخذہ کہ اس کہنے سے وہ اس پر حرام نہ ہوگئی،
ابوداؤد فی سننہ عن ابی تمیمۃ الھجیمی ان رجلا قال لامرأتہ یااختی فقال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اختک ھی فکرہ ذٰلک ونہی عنہ ۲؎، قال فی الفتح الحدیث افادکونہ لیس ظہارا حیث لم یبین فیہ حکما سوی الکراھۃ والنھی ۳؎۔
امام ابوداود نے اپنی سنن میں  ابوتمیمہ ہجیمی سے روایت کیا کہ ایک مرد نے اپنی بیوی کو کہا کہ اے میری بہن، تو رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی  علیہ وسلم نے فرمایا کیا یہ تیری بہن ہے، آپ نے اس کی اس بات کو ناپسند جانا اور اس سے منع فرمایا۔ فتح میں  کہا کہ حدیث اس قول کے ظہار نہ ہونے کا فائدہ دیتی ہے کیونکہ ا س میں  ناپسند یدگی اور ممانعت کے سوا کوئی حکم بیان نہیں  کیا گیا۔(ت)
 (۲؎ سنن ابوداود    کتاب الطلاق     باب فی الرجل یقول لامرأتہ یا اختی    آفتاب عالم پریس لاہور    ۱ /۳۰۱)

(۳؎ فتح القدیر     باب الظہار    مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر    ۴ /۹۱)
ہاں  صرف اتنی قباحت ہوگی کہ اس نے بے کسی ضرورت و مصلحت کے ایک جائز حلال شے کو حرام نام سے تعبیر کیا،
کما قال اﷲ تعالٰی وانھم لیقولون منکر امن القول وزورا۴؎۔
  جیساکہ اﷲ تعالٰی  نے فرمایا: اور بیشک وہ بری بات اور جھوٹ کہتے ہیں ۔(ت)
 (۴؎ القرآن الکریم     ۵۸ /۲)
پھر اگر مصلحت ہو تو یہ قباحت بھی نہ رہے گی،
کقول سیدنا ابراہیم علٰی نبینا الکریم وعلیہ وعلٰی سائر الانبیاء افضل الصلٰوۃ والتسلیم لسیدتنا سارۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہا انہا اختی۱؎۔
جیسا کہ سیدتنا حضرت سارہ رضی اﷲ تعالٰی  عنہا کے بار ے میں  سیدنا حضرت ابراہیم کا فرماناکہ بیشک یہ میری بہن ہے،ہمارے نبی کریم، حضرت ابراہیم اور تمام انبیاء کرام پر بہترین دور وسلام ہو۔(ت)
 (۱؎ الدر المنثور    بحولہ ابویعلی عن ابی سعید     تحت آیہ بل فعلہ کبیرھم     منشورات مکتبہ آیۃ العظمی قم ایران     ۴/ ۳۲۱)
پھر علماء نے تو یہاں  مصلحت اخذ مباح تک معتبر رکھی نہ کہ مصلحت احیائے حق وازالہ مظالم کے بالبداہۃ اس سے ازید واتم ہے اور بالفرض کوئی مصلحت نہ بھی ہو تاہم اس مال کے حل و طیب میں  اصلاً شک نہیں ،
کما علمت وقد انتظمہ اطلاق قولھم لاربابین المولٰی وعبدہ ولا بین شریکی المفاوضۃ والعنان کما لایخفی۔
جیسا کہ تو جان چکا ہے، اور تحقیق فقہاء کے اس قول کا اطلاق اس کو شامل ہے کہ مالک و غلام کے درمیان اور مفاوضہ و عنان کے دو شریکوں  کے درمیان کوئی سود نہیں  جیساکہ پوشیدہ نہیں ۔(ت)
اور یہیں  سے ظاہر ہوگیا کہ اس مسئلہ میں  ماخوذ منہ کاکافر حربی خواہ محل اخذ کادارالحرب ہونا ضرور نہیں  کما تشھد بہ مسائل المولی والشرکاء(جیسا کہ مالک اور شریکوں  کے مسئلے اس پر گواہ ہیں ۔ت)صرف انتفائے حقیقت و قصد ربا، درکار ہے کہ اس کے بعد نہ عنداﷲ ارتکاب حرام نہ اپنے زعم میں  مخالفت شرع پر اقدام، علماء نے کہ مسئلہ حربی میں  قید دارالحرب ذکر فرمائی اس کا منشاء اخراج مستامن ہے کہ اس کا مال مباح نہ رہا۔
ردالمحتار میں  ہے :
ۤقولہ ثم ای فی دارالحرب قید بہ لانہ دخل دار نا بامان فباع منہ مسلم درھما بدر ھمین لایجوز اتفاقا ط عن المسکین ۲؎۔
ماتن کا قول''وہاں  یعنی دارالحرب، یہ قید اس لئے کہ اگر کوئی حربی ہمارے ملک میں  امان لے کر داخل ہوا پھر کسی مسلمان نے اس کے ہاتھ ایک درہم دو درہموں  کے عوض فروخت کیا تو بالاتفاق ناجائز ہے ط نے مسکین سے نقل کیا۔(ت)
 (۲؎ ردالمحتار     کتاب البیوع    باب الربا     داراحیاء التراث العربی بیروت    ۴/ ۱۸۸)
ہدایہ میں  ہے :
لاربا بین المسلم والحربی فی دارالحرب بخلاف المستامن منھم لان مالہ صار محظورا بعقد الامان اھ ۱؎ملخصا۔
مسلمان اور حربی کے درمیان دارالحرب میں  کوئی سود نہیں  بخلاف حربی مستامن کے کیونکہ عقد امان کی وجہ سے اس کا مال ممنوع ہوگیا اھ تلخیص (ت)
(۱؎ الہدایہ     کتاب البیوع  باب الربا  مطبع یوسفی لکھنؤ ۳ /۸۷)
فتح القدیر میں  مبسوط سے ہے :
اطلاق النصوص فی المال المحظور وانما یحرم علی المسلم اذاکان بطریق الغدر فاذالم یاخذ غدر فبای طریق اخذہ حل بعد کونہ برضا، بخلاف المستامن منھم عندنا لان مالہ صار محظورابالامان فاذا اخذہ بغیرالطریق المشروعۃ یکون غدرا۲؎۔
نصوص کااطلاق ممنوع مال میں  ہے حربی کا مال مسلمان پر صرف اس صورت میں  حرام ہوتا ہے جب وہ دھوکے سے لے، چنانچہ جب اس نے دھوکہ کے بغیر لیا چاہے جس طریقے سے لیا ہو تو اس کےلئے حلال ہے بشرطیکہ اس حربی کی رضامندی سے لیا ہو بخلاف حربی مستأمن کے دارالاسلام میں  کیونکہ اس کا مال امان کی وجہ سے ممنوع ہوگیا لہٰذا ا سکو اگر جائز طریقے کے علاوہ لیا ہو تو دھوکہ ہوگا۔(ت)
(۲؎ فتح القدیر     باب الربا     مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر    ۶/ ۱۷۸)
بالجملہ حقیقت ربا اموال محظورہ میں  متحقق ہوتی ہے کما سمعت اٰنفا(جیسا کہ تونے ابھی سنا ہے۔ت) اور مال اصحاب دیون و مظالم بقدر دیون و مظالم محظور اگر جنس حق سے ہو جیسا کہ اکثر صور مستفسرہ میں  ہے تو بالاجماع ورنہ علی المفتی بہ لفساد الزمان،  

درمختار میں ہے :
لیس لذی الحق ان یاخذ غیر جنس حقہ وجوزہ الشافعی وھو الاوسع۳؎۔
صاحب حق کےلئے روا نہیں کہ اپنے حق کی جنس کا غیر لے جبکہ امام شافعی رحمۃ تعالٰی  علیہ نے اس کو جائز قرار دیا اور اس میں  زیادہ وسعت ہے(ت)
 (۳؎ درمختار    کتاب الحظر والاباحۃ    فصل فی البیع     مطبع مجتبائی دہلی     ۲ /۲۵۳)
ردالمحتا رمیں  ہے :
قولہ وجوزہ الشافعی قدمنافی کتاب الحجر ان عدم الجواز کان فی زمانھم اما الیوم فالفتوی علی الجواز اھ ۴؎ وفیہ من کتاب الحجرعن العلامۃ الحموی عن العلامۃ المقدسی عن جدہ الجمال الاشقر عن الامام الاخصب انہ قال فی شرح القدوری ان عدم جواز الاخذ من خلاف الجنس کان فی زمانھم لمطاوعتھم فی الحقوق والفتوی الیوم علی جواز الاخذ عند القدرۃ من ای مال کان لاسیما فی دیارنا لمداومتہم العقوق۱؎اھ۔
ماتن کا قول کہ ''امام شافعی نے اس کو جائز قرار دیا'' ہم اس کو کتاب الحجر میں  بیان کرچکے ہیں  کہ عدم جوازانکے زمانے میں تھالیکن آج کل فتوٰی  جواز پر ہے اھ، اور اسی میں  کتاب الحجر میں  علامہ حموی سے منقول ہے انہوں  نے علامہ مقدسی سے انہوں  نے اپنے دادا جمال اشقر سے انہوں نے امام اخصب سے نقل کیا انہوں  نے شرح قدوری میں  کہا کہ تحقیق غیر جنس سے حق لینے کا عدم جواز ان کے زمانے میں تھا حقوق میں ان کی پاسداری کی وجہ سے جبکہ آج کل فتوٰی  جواز پر ہے جب کسی بھی مال سے لینے پر قادر ہو خصوصاً ہمارے شہروں  میں بسبب ان کی دائمی نافرمانی کے اھ (ت)
 (۴؎ ردالمحتار     کتاب الحظر والاباحۃ    داراحیاء التراث العربی بیروت    ۵ /۲۷۱)

(۱؎ ردالمحتار    کتاب الحجر    داراحیاء التراث العربی بیروت    ۵/ ۹۵)
تنویر الابصار میں  ہے :
من لہ حظ فی بیت المال ظفر بما وجد لبیت المال فلہ اخذہ دیانۃ۲؎۔
جس کا بیت المال میں  حق ہو اور اس نے بیت المال کا مال پایا دیانت کے اعتبار سے اس کو لینا جائز ہے۔(ت)
 (۲؎ درمختار شرح تنویر الابصار    کتاب  مسائل شتی     مجتبائی دہلی     ۲/ ۳۴۳)
درمختار میں  ہے :
وللمودع صرف ودیعۃ مات ربھا ولاوارث لنفسہ او غیرہ من المصارف۳؎۔
جس کے پاس ودیعت رکھی گئی ہے وہ ودیعت کو اپنی ذات یا دیگر مصارف میں  صرفکرسکتا ہے جبکہ ودیعت رکھنے والا فوت ہوگیا ہو اور اس کا کوئی وارث نہ ہو۔(ت)
 (۳؎درمختار شرح تنویر الابصار    کتاب الزکوٰۃ     باب العشر    مجتبائی دہلی    ۱/ ۱۴۰)
ردالمحتار میں  ہے :
عن شرح الوھبانیۃ عن البزازیۃ عن الامام الحلوانی لانہ لواعطاھا لبیت المال لضاع لانھم لایصرفون مصارفہ فاذا کان من اھلہ صرفہ الی نفسہ وان لم یکن من المصارف صرفہ الی المصرف۱؎اھ۔
شرح وہبانیہ میں  بحوالہ بزازیہ امام حلوانی سے منقول ہے، اس لئے کہ اگر اس نے ودیعت بیت المال کو دے دی تو وہ ضائع ہوجائیگی کیونکہ بیت المال والے مصارف میں  خرچ نہیں کرتے لہٰذا اگر وہ خود مصارف میں  سے ہے تو اپنی ذات پر صرف کرے اور اگر وہ خود مصارف میں سے نہیں  ہے تو کسی اور مصرف میں  خرچ کرے اھ (ت)
(۱؎ ردالمحتار    کتاب الزکوۃ   باب العشر داراحیاء التراث العربی بیروت    ۲/ ۵۶)
Flag Counter