ھذامایعرفہ کل فقیہ والمسئلۃ مسئلۃ الظفر المنصوص علیہا فی الوھبانیۃ و القنیۃ والدروغیرہا۔
یہ وہ ہے جس کو ہر فقیہ جانتا ہے اور مسئلہ تو مسئلہ ظفر ہے جس پر وہبانیہ، قنیہ اور در وغیرہ میں نص کی گئی ہے (ت)
زیادت ایضاح مقام یہ ہے کہ اصل حکم حقائق پر ہے نہ کہ الفاظ پر، مثلاً اگر کوئی شخص زید سے اپنا آتا ہو الے اور اس کا نام ربا رکھے تو وہ ربا یا حرام نہ ہوجائے گا یا دو قسم کے قرض ہوں ایک کی قسطوں کے ساتھ دوسرے کا بھی ایک حصہ برضائے مدیون خواہ بحالت انکار بلا رضالے لیا کرے تو وہ بھی ہر گز ربا نہیں ہوسکتا اگرچہ بلفظ ربا تعبیر کرے کہ حقیقت ربا یعنی فضل خالی عن العوض مستحق بالعقد (وہ عوض جو ایسی زیادتی سے خالی ہو جس کا استحقاق بذریعہ عقد ہو۔ت) اس پر صادق نہیں ، ہاں اگر یہ اپنی جہالت سے اسے حقیقت ربا سمجھے اور یہی جان کراس کے لینے کا مرتکب ہو تو اگرچہ سود لینے کا اس پر گناہ نہیں کہ جو اس نے لیا وہ سود عنداﷲ نہیں مگر بقصد مخالفت شرع کسی فعل کا کرنا ضرور اس کے حق میں معصیت جدا گانہ ہوگا کہ یہ تو اپنے زعم میں حکم الٰہی کا خلاف ہی کررہا ہے، ولہٰذا علماء فرماتے ہیں اگر دور سے کسی کپڑے کو زن اجنبیہ سمجھ کر بہ نگاہ بد اس کی طرف نظر کرے گا گنہگار ہوگا اگرچہ واقع میں وہ خالی کپڑا ہے کہ یہ تو اپنے نزدیک نافرمانی خدا پر اقدام کررہا ہے، میزان الشریعۃ الکبری کتاب البیوع باب مایجوز بیعہ ومالایجوز میں ہے:
لو نظر انسان الی ثوب موضوع فی طاق علی ظن انہ امرأۃ اجنبیۃ فانہ یحرم علیہ۱؎۔
اگر کسی انسان نے طاق میں رکھے ہوئے کپڑے کو اجنبی عورت سمجھ کر نظر بد سے دیکھا تو یہ اس کےلئے حرام ہے(ت)
(۱؎ میزان الکبرٰی کتاب البیوع باب مایجوز بیعہ ومالایجوز مصطفی البابی مصر ۲/ ۶۷)