Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۷(کتاب البیوع، کتاب الحوالہ، کتاب الکفالہ )
63 - 180
مسئلہ ۱۳۹: ۶جمادی الاولٰی ۱۳۱۰ھ

کیافرماتے ہیں  علمائے دین اس مسئلہ میں  کہ ایک شخص کہتا ہے یہاں  ہنود سے سود لینا جائز ہے مسلمانوں  سے نہیں ، یہ قول کیسا ہے؟بینواتوجروا۔
الجواب:سود لینا نہ مسلمان سے جائز نہ ہندو سے ،
لاطلاق قولہ تعالٰی وحرم الربٰو۱؎
اما یؤخذ من الحربی فی دارالحرب فمال مباح لیس بربا۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
اس ارشاد باری تعالٰی  کے اطلاق کی وجہ سے کہ ''اور اﷲ تعالٰی  نے سود کو حرام کردیا'' لیکن جو کچھ دارالحرب میں  حربی سے لیا جائے تو وہ مباح مال ہے سود نہیں ۔ واﷲ تعالٰی  اعلم(ت)
 (۱؎ القرآن الکریم    ۲/ ۲۷۵)
مسئلہ۱۴۰: مرسلہ محمد عنایت حسین سر شتہ دار سابق شفاخانہ ضلع بریلی ۳۰ربیع الثانی ۱۳۱۱ھ

کیافرماتے ہیں  علمائے دین اس مسئلہ میں  کہ زید سے اگر کسی بنئے نے کوئی رقم ناجائز مثل سود وغیرہ کے لی ہو جس کے وصول کرنے پر اسے قدرت نہ تھی اور وہ نہ بہ نیت سود بلکہ اس حق کو وصول کرنے کے لئے اس کی کوٹھی میں  کچھ روپیہ اتنا جمع کرے اور جو رقم ماہوار اس پر ملے اسے اپنے آتے ہوئے میں  مجرا سمجھتا جائے یہاں  تک کہ وہ حق پورا نکل آئے، اس کے بعد اپنا روپیہ واپس لے لے، اسی طرح بادشاہ یا حاکم نے کوئی محصول یا ٹیکس یا مالگزاری یا اسٹام یا جرمانہ وغیرہ اس سے یا عام رعایا سے ایسے طریقہ پر لیا ہو جو شرعاً ناجائز یا حد شرع سے زیادہ ہو اور اس مقدار ناجائز تک وصول کرنے کےلئے اپنے ذاتی روپیہ یا عام مسلمانوں  کے چندہ کا روپیہ شاہی بنک میں  جمع کرکے حقدار مذکور اس سے نیت وصول حق کے ساتھ بے نیت سود حاصل کرے، اور پہلی صورت میں  اسے اپنے صرف خاص اور چندہ کی صورت میں  ان مصارف مسلمین میں  جن کے لئے وہ چندہ وصول کیا گیا تھا صرف کردے تو یہ شرعاً جائز ہے یانہیں ؟ اور اور اسے سود لینا کہیں  گے یاکیا؟ بینواتوجروا۔
الجواب: سود حرام قطعی وکبیرہ عظیمہ ہے جس کا لینا کسی حال روانہیں  ہوسکتا مگر حقیقۃً سود لینا ہو یا سود لینے کی نیت کہ ایسا قصد معصیت بھی معصیت ہے اگرچہ فعل واقع میں  معصیت نہ ہو جیسے شربت براہ غلط شراب سمجھ کر پینا کہ وہ حقیقۃً حلال سہی پر یہ تو اپنے نزدیک مرتکب گناہ ہوا، اور جہاں  نہ حقیقت نہ نیت صرف نام ہی نام ہے وہ بھی بضرورت، تو اسے بالبداہۃ اس معصیت سے کچھ علاقہ نہ رہا کما لایخفی (جیسا کہ مخفی نہیں ۔ت) پس ریاست خواہ غیر ریاست جس شخص پر جس کا کوئی حق عام یا خاص ہو اور وہ بوجہ مجبوری قانون یا کسی وجہ سے اس طور پر وصول نہ ہوسکے مثلاً تمادی عارض ہے یا مدیون منکر اور گواہ نہیں  یا گواہ دئیے کچہری نہ مانی ڈسمس کردی یا کسی نے کچھ رقمیں  خلاف شرع اس سے لیں  اور یہ انہیں  واپس لینے پر قادر نہیں  جیسے بنئے نے سود، قاضی نے رشوت وغیرہما اور وہ دوسرے طریقہ ناجائز شرعی کے نام سے ملتا ہو کہ اس میں ممانعت قانونی وغیر موانع نہ ہوں  تو اس طریقہ ناجائزہ کے نام کو صرف اس مقدار تک جہاں  تک اس کا حق ہے ذریعہ وصول بنانا جبکہ کسی امر ممنوع کی طرف منجرنہ ہو اور قصد و نیت میں  اپنا حق لینا ہو نہ اس طریقہ ممنوعہ کا مرتکب ہونا، شرعاً جائز ہے کہ اس صورت میں  نہ اس امر ناجائز کی حقیقت نہ اس کی نیت نہ قانونی ممانعت جس سے دنیوی تحفظ کیا جائے ربا وغیرہ امور محرمہ کے معانی ربا و محرمات ہیں ، نہ مجرد الفاظ بے معنی،
ولہٰذا علماء فرماتے ہیں :
لاربابین المولی وعبدہ لان العبد ومافی یدہ ملک لمولاہ فلا یتحقق الربا۱؎وکذا لاربابین شریکی المفاوضۃ وکذا العنان ۲؎کما فی الھدایۃ والدر وغیرہما من الاسفار الغر۔
مالک اور اس کے غلام کے درمیان کوئی سود نہیں  ہوتا کیونکہ غلام اور جو کچھ اس کے قبضہ میں  ہو وہ مالک کی ملک ہوتا ہے لہٰذا سود متحقق نہیں  ہوتا اسی طرح شرکت مفاوضہ اور شرکت عنان کے دو شریکوں  کے درمیان بھی سود نہیں  ہوتا جیسا کہ ہدایہ اور درمختار وغیرہ روشن کتابوں  میں  ہے۔(ت)
 (۱؎ الہدایۃ     باب الربوٰ     مطبع یوسفی لکھنؤ    ۳ /۸۷)

(۲؎ درمختار    کتاب البیوع    باب الربا      مطبع مجتبائی دہلی     ۲/ ۴۳)
در مختار میں ہے :
الاصل ان المستحق بجہۃ اذا وصل الی المستحق بجھۃ اخری اعتبر واصلا بجھۃ مستحقہ  ان  وصل الیہ من المستحق علیہ۱؎۔
قاعدہ یہ ہے کہ جو چیز ایک جہت سے مستحق ہو جب وہ شخص مستحق کو پہنچے دوسری جہت سے تو وہ جہت مستحقہ سے واصل سمجھی جائے گی بشرطیکہ وہ مستحق علیہ کی طرف سے مستحق کو پہنچی ہو(ت)
 (۱؎ درمختار     کتاب البیوع    باب البیع الفاسد    مطبع مجتبائی دہلی     ۲/ ۲۸)
یہاں تک کہ علماء نے تحصیل مال مباح جس میں  پہلے سے اس کا کوئی حق مستقر نہیں  بحیلہ نام طرق ممنوعہ مثل رباوقماروغیرہماجائز رکھی بشرطیکہ وہ طریقہ صاحب مال کی رضامندی سےبرتا گیایعنی غدر سے پاک  وجدا ہو،
کما نصواعلیہ فی ربا المستامن و مقامرۃ الاسیر فی ردالمحتار عن السیر الکبیرو شرحہ اذادخل المسلم دار الحرب بامان فلا باس بان یاخذ منھم اموالھم بطیب انفسھم بای وجہ کان لانہ انما اخذ المباح علی وجہ عری عن الغدر فیکون طیبا لہ والاسیر و المستامن سواء حتی لو باعھم درھما بدرھمین او میتۃ بدراھم او اخذمالامنھم بطریق القمار فذٰلک کلہ طیب لہ ۲؎ اھ ملخصاً۔
جیساکہ فقہاء نے مستامن کے سود اور قیدی کے جوا کے بارے میں  ا س پر نص فرمائی ہے، ردالمحتار میں  سیر کبیراور اس کی شرح کے حوالے سے مذکور ہے جب کوئی مسلمان امان لے کر دارالحرب میں داخل ہو تو اس میں  کوئی حرج نہیں کہ وہ حربیوں  کا مال ان کی رضامندی سے کسی بھی طریقے سے لے کیونکہ اس نے مال مباح ایسے طریقے سے لیا جو کہ دھوکہ سے خالی ہے لہٰذا یہ اس کےلئے حلال ہے، قیدی اور مستامن برابر ہیں ، یہاں  تک کہ اگر کسی نے ان پر دو درہموں  کے عوض ایک درہم بیچا یا کچھ درہموں  کے عوض مردار بیچا یا جوئے کے ذریعے ان کا مال لے لیا تو یہ سب اس کے لئے حلال ہے اھ تلخیص۔(ت)
 (۲؎ ردالمحتار  کتاب البیوع  باب الربا  داراحیاء التراث العربی بیروت۴/ ۱۸۸)
Flag Counter