فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۷(کتاب البیوع، کتاب الحوالہ، کتاب الکفالہ )
62 - 180
مسئلہ۱۳۲: ۱۵ ذی الحجہ ۱۳۰۶ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک شخص نے کچھ روپیہ سودی نکلوایا دو شخص ضامن ہوئے اب گناہگار زیادہ کون ہے؟ وہ شخص جس نے سود پر دیا اب تو بہ کرتا ہے اور سود کو واپس دینا چاہتا ہے تو یہ توبہ اسکی قبول ہوگی یانہیں ؟ اور وہ سود کے گناہ سے پاک ہوگا یانہیں ؟بینواتوجروا۔
الجواب: بغیر سخت مجبوری کے جسے شرع بھی مجبور کہے سودی قرض لینا حرام ہے، اور اسی طرح اس کے کام میں کسی طرح کی شرکت ہو باعث گناہ ہے، اور حدیث صحیح میں : ھم سواء۲؎فرمایا یعنی وہ سب نفس گناہ میں برابر ہیں ،
(۲؎ صحیح مسلم کتاب المساقات باب الربا قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۲۷)
اور سود سے توبہ کے یہی معنی ہیں کہ جس قدر سود لیا واپس دے اور اﷲ عزوجل سے آئندہ کےلئے سچے دل سے نادم ہوکر عہد کرے، جو ایسا کرے گا اس کی توبہ بیشک قبول ہوگی
ھوالذی یقبل التوبۃ عن عبادہ۳؎
(وہ وہی ہے جو اپنے بندوں کی توبہ قبول فرماتا ہے۔ت)
(۳؎ القرآن الکریم ۴۲ /۲۵)
اور وہ سود کے گناہ سے پاک ہوجائے گا
التائب من الذنب کمن لاذنب لہ ۴؎
(گناہ سے توبہ کرنے والا ایسے ہے جیسے اس نے کوئی گناہ نہ کیا ہو۔ت) واﷲ تعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم۔
(۴؎ سنن الکبرٰی للبیہقی کتاب الشہادات دارصادربیروت ۱۰ /۱۵۴)
(سنن ابن ماجہ ابواب الزہد باب ذکر التوبۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۳۲۳)
مسئلہ ۱۳۳تا۱۳۸: ازشاہجہان پور محلہ خلیل مرسلہ محمد اعزاز حسین خاں مہتمم مدرسہ اسلامیہ ۲۶محرم ۱۳۰۹ھ کیافرماتے ہیں علمائے دین اور مفتیان شرع متین اس صورت میں کہ:
(۱) زید نے اپنی حیات میں کچھ روپیہ سود پر قرض دیا اور قبل وصول روپیہ کے زید مرگیا اب ورثا زید کو تاریخ وفات زید تک کا سود لینا جائز ہے یانہیں ؟
(۲) زید نے روپیہ قرض سود پر دے کر دیوانی سے مع سود ڈگری حاصل کی تھی اور حسب ضابطہ کچہری ۸ فیصدی سود تا ادائے روپیہ اور بھی ڈگری میں لکھا جاتا ہے بعد مرنے زید کے ورثاء اسکے دونوں قسم کا سود لے سکتے ہیں اور شرعاً جائز ہے یانہیں ؟
(۳) زید نے پر امیسری نوٹ خریدے تھے اور گورنمنٹ سے ساڑھے چار روپیہ فیصدی سالانہ سود لیا کرتاتھا زید مرگیا ورثاء زید کو حسب ضابطہ کچہری اول سارٹیفکیٹ وراثت لینا ضرور ہے اور بغیر اس کے ورثاء نہ سود نوٹوں کا پاسکتے ہیں اور نہ ان کو فروخت کرسکتے ہیں اور سارٹیفکیٹ لینے میں قریب تین ہزار روپیہ کے کچہری میں صرف ہوگا ورثاء زید چاہتے ہیں کہ گورنمنٹ نوٹوں تک سود لے کر سارٹیفکیٹ کے لینے میں خرچ کردیں یعنی گورنمنٹ سے لے کر پھر اسی کو واپس کردیں پس ورثاء زید تاریخ انتقال زیدتک سود نوٹوں کالے سکتے ہیں یا آئندہ کا بھی لے سکتے ہیں یا مطلق ناجائز ہے؟
(۴) عمرو نے پر امیسری نوٹ ایک لاکھ کے خریدے اور پر امیسری نوٹوں کا قاعدہ ہے کہ گورنمنٹ اصل روپیہ کبھی نہیں دیتی بلکہ ساڑھے چار روپیہ فی صدی سالانہ سود دیا کرتی ہے ہاں اگر مالک چاہے تو دوسرے خریداروں کے ہاتھ فروخت کرے اور نرخ نوٹوں کا بھی کم ہو تا ہے اور کبھی زیادہ جیسے آجکل سو روپیہ کا پر امیسری نوٹ ایک سو آٹھ روپیہ کو فروخت ہوتا ہے پس اگر عمرو بھی ایک لاکھ روپیہ کے پر امیسری فیصدی آٹھ روپیہ کے نفع سے فروخت کرے یا نرخ سے دو روپیہ زیادہ نفع پر بیچ ڈالے تویہ بیع درست ہے یانہیں ؟
(۵) کسی شخص نے دو ہزار کی ڈگری کچہری سے حاصل کی جس میں ایک ہزار اصل ہے اور ایک ہزار سود، وہ شخص کسی کے ہاتھ یا وارث اس کا بعوض بارہ سو کے وہ ڈگری فروخت کرڈالے تو کیسا ہے؟
(۶) اوپرکی صورتوں میں جو جو رقم کہ سود کی قرار دی گئی اگر اس میں سے کل یا بعض لے کر مدرسہ اسلامیہ میں دے دی جائے تو شرعاً کیا اس کی حالت ہے؟بینواتوجروا۔
الجواب
(۱) حرام قطعی ہے،
قال المولٰی سبحانہ وتعالٰی یا یھاالذین اٰمنوا اتقو ااﷲ وذرواما بقی من الربٰو ان کنتم مومنین oفان لم تفعلوا فأ ذنوابحرب من اﷲ ورسولہ ۱؎۔
مولا سبحانہ وتعالٰی نے فرمایا: اے ایمان والو! اﷲ سے ڈرو اور جو سود باقی رہا ہے چھوڑ دو اگر تم مسلمان ہو پھر جو ایسا نہ کرو تو خبر دار ہوجاؤ خدا ورسول کے لڑنے سے یا اعلان کردواﷲ ورسول سے لڑائی کا۔
(۱؎ القرآن الکریم ۲ /۷۹۔۲۷۸)
یہ اس بقیہ کی نسبت ارشاد ہوا جو تحریم سے پہلے کارہ گیا تھا مسلمانوں نے خیال کیا یہ تو حرمت سے پیشتر ہے اسے لے لیں آئندہ سے باز رہیں گے اس پر یہ حکم آیا صحابہ رضی اﷲ تعالٰی عنہم نے کہا ہم میں خدا ورسو ل سے لڑنے کی طاقت نہیں ، وہ بقیہ بھی چھوڑ دیا نہ کہ معاذاﷲیہ بقیہ شقیہ کے سرے سے بعد تحریم الٰہی کے لینا دینا ٹھہرا، اور اس کا لینے والا اﷲ عزیز مقتدر قہار اور اس کے رسول جلیل جبار جل جلالہ وصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے لڑائی کا پورا سامان کرلے اور قرآن پر ایمان رکھتا ہو تو یقین جانے کہ خد ا و رسول عزمجدہ صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم سے لڑنے والا سخت ہلاکت میں پڑنے والا ہے، والعیاذ باﷲ رب العٰلمین(اﷲ کی پناہ جو تمام جہانوں کو پالنے والا ہے۔ت) ورثہ اس چیز کے مستحق ہوتے ہیں جو مورث کی ملک اور اس کاترکہ ہو یہ سود نا مسعود نہ ملک نہ ترکہ اس کا مطالبہ کس ذریعہ سے پہنچ سکتا ہے واﷲالہادی ولاحول ولا قوۃ الا باﷲ العلی العظیم، واﷲسبحانہ وتعالٰی اعلم۔
(۲) کسی قسم کا نہیں لے سکتے، دونوں قطعی حرام ہیں ، حدیث میں ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں : سود کے ستر، اور ایک حدیث میں بہتّر، اور دوسری میں تہتر دروازے ہیں ، ان سب میں ہلکا ایسا ہے جیسے آدمی ماں سے زنا کرے۔
الحاکم عن ابن مسعود رضی اﷲ تعالٰی عنہ عن النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم الرباثلث وسبعون بابا ایسرھا مثل ان ینکح الرجل امہ ۲؎، الطبرانی فی الاوسط عن البراء بن عازب رضی اﷲتعالٰی عنہ قال قال رسول اﷲصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم الربا اثنان وسبعون باباادنا ھا مثل اتیان الرجل امہ ۱؎، ابن ماجۃ والبیہقی باسناد لاباس بہ واللفظ لہ عن ابی ہریرۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ قال قال رسول اﷲصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم الربا سبعون بابا ادناھا کالذی یقع علی امہ ۲؎۔
حاکم نے سیدنا ابن مسعود رضی اﷲتعالٰی عنہ سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے روایت کیا کہ سود کے تہتر دروازے ہیں ان میں سے سب سے ہلکا ایسے ہے جیسے کوئی شخص اپنی ماں سے زنا کرے۔ طبرانی نے معجم اوسط میں سیدنا براء بن عازب رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کیا کہ رسول اﷲصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا سود کے بہتر دروازے ہیں ان میں سے کمترین ایسے ہے جو کوئی مرد اپنی ماں سے زنا کرے۔ ابن ماجہ اور بیہقی نے ایسی اسناد کے ساتھ اس کو روایت کیا جس میں کوئی حرج نہیں اور لفظ بیہقی کے ہیں ۔ سیدنا حضرت ابوہریرہ رضی اﷲتعالٰی عنہ سے مروی ہے کہ رسول اﷲصلی اﷲ تعالٰی وسلم نے ارشاد فرمایا کہ سود کے ستر دروازے ہیں ان میں سے کمتر ایسا ہے جیسے کوئی مرد اپنی ماں سے زنا کرے(ت)
(۲؎ المستدرک للحاکم کتاب البیوع دارالفکر بیروت ۲ /۳۷)
(۱؎ المعجم الاوسط للطبرانی حدیث۷۱۴۷ مکتبۃ المعارف ریاض ۸ /۷۴)
(۲؎ سنن ابن ماجہ باب التغلیظ فی الربا ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲/ ۱۶۵)
(شعب الایمان حدیث ۵۵۲۰ دارالکتب العلمیۃ بیروت ۴ /۳۹۴)
تو جو شخص سود کا ایک پیسہ لینا چاہے اگر رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کا ارشاد مانتا ہے تو ذرا گریبان میں منہ ڈال کر پہلے سوچ لے کہ اس پیسہ کا نہ ملنا قبول ہے یا اپنی ماں سے ستر ستر بار زنا کرنا، واﷲ الہادی۔
(۳) سودلیناحرام قطعی و کبیرہ و عظیمہ ہے جس کا لینا کسی طرح روا نہیں ہوسکتا ہاں مال مباح شرعی یا اپنادیا ہو احق بقدر حق بہ نیت تحصیل مباح یا وصول حق نہ بہ نیت ربا وغیرہ امور محرمہ لینا جائز ہے اگرچہ کسی عذر کے سبب کسی ناجائز نام کو اس کے حصول کا ذریعہ کیاجائے،
وھذا مسألۃ جلیلۃ دقیقۃ لایتنبہ الا بتوفیق اﷲتعالٰی وسنفصلہا یوما ان شاء الملک العلام جل وعلا۔
یہ بڑی جلالت وعظمت کا حامل دقیق مسئلہ ہے سوائے اﷲتعالٰی کی توفیق کے اس پر آگاہی نہیں ہوسکتی، ہم ان شاء اﷲ تعالٰی کسی دن اس کو مفصل بیان کریں گے۔(ت)
(۴و۵) زائد، برابر کم کسی مقدار کو اصلاً بیع نہیں کرسکتا کہ ان دونوں صورت میں حقیقۃً غیر مدیون کے ہاتھ دین کا بیچنا ہے اور وہ شرعاً باطل ہے۔ اشباہ میں ہے :
بیع الدین لایجوز ولو باعہ من الدین او وہبہ جاز ۳؎۔ واﷲ تعالی اعلم وحکمہ سبحانہ احکم۔
دین کی بیع جائز نہیں اور اگر کوئی مدیون پر دین کو بیچے یا اس کو ہبہ کر دے تو جائز ہے، واﷲ تعالٰی اعلم وحکمہ سبحانہ احکم(ت)
(۳؎ الاشبا ہ والنظائر الفن الثالث القول فی الدین ادارۃ القرآن کراچی ۲/ ۲۱۳)
(۶) جوابات سابقہ سے واضح جہاں جس طرح لینا جائز دینا جائز جہاں نہیں نہیں ۔ واﷲتعالٰی اعلم