فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۷(کتاب البیوع، کتاب الحوالہ، کتاب الکفالہ )
61 - 180
اور اگراس مفلس قرضدار کی قرضخواہ کی طرف اس قسم کے اندیشے نہیں بلکہ صرف حساب آخرت پاک کرنا چاہتا ہے تو ایسی حالت میں سودی قرض لینے کی اجازت مقاصد شرع سے سخت بعید ہے قرضدار جب مفلس ہو تو شرع قرضخواہ پر واجب کرتی ہے کہ انتظارکرے اور جب تک اسے استطاعت نہ ہو مہلت دے،
قال اﷲ تعالٰی وان کان ذو عسرۃ فنظرۃ الی میسرۃ۲؎۔
اﷲتعالٰی نے ارشاد فرمایا: اگر قرضدار تنگدست ہو تو ا س کی کشادگی اور آسانی مہیا ہونے تک مہلت دو۔(ت)
(۲؎ القرآن الکریم ۲/ ۲۸۰ )
اور قرضدار کوحکم دیتی ہے کہ حتی الامکان ادا میں کوشش کرے اور ہر وقت سچے دل سے ادا کی نیت رکھے مفلسی کو پروانہ معافی نہ ٹھہرالے کہ اب ہم سے کوئی کیا لے گا، جب ایسی سچی نیت رکھے گا اور اپنی چلتی فکر ادا میں جو بروجہ شرعی ہوگئی نہ کرے گا تو اس سے زیادت شرع اسے تکلیف نہیں دیتی،
قال اﷲ تعالٰی لایکلف اﷲ نفسا الاوسعھا ۳؎۔
اﷲ تعالٰی نے ارشاد فرمایا: اﷲ تعالٰی کسی نفس کو تکلیف نہیں دیتا مگر اس کی وسعت کے مطابق۔(ت)
( ۳؎ القرآن الکریم ۲/ ۲۸۶)
پھر اگر اسی حال پر مرگیا اور ادا نہ ہو سکا تو امیدقوی ہے کہ ارحم الراحمین جل جلالہ در گزر فرماکرقرضخواہ کے مطالبہ سے نجات بخشے گا۔
حضور اقدس سید المرسلین صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
من اخذ اموال الناس یرید اداء ھا ادی اﷲ عنہ، ومن اخذیرید اتلافھا اتلفہ اﷲ۱؎۔ اخرجہ احمد والبخاری وابن ماجۃ عن ابی ہریرۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔
جو لوگوں کے مال بہ نیت ادالے اﷲتعالٰی اس کی طرف سے ادا فرمادے اور جو تلف کردینے کے ارادے سے لے اﷲ تعالٰی اسے ہلاک کردے۔ (امام احمد، بخاری اور ابن ماجہ نے حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے اسکی تخریج فرمائی۔ت)
(۱؎ صحیح البخاری کتاب فی الاستقراض الخ باب من اخذ اموال الناس الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۳۲۱)
اور فرماتے ہیں صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم ہیں :
من ادان دینا ینوی قضائہ اداہ اﷲ یوم القیٰمۃ ۲؎۔ اخرجہ الطبرانی فی الکبیر عن میمونۃ بن الحارث رضی اﷲتعالٰی عنہا باسناد صحیح۔
جو کوئی دین لے کہ اسکے ادا کی نیت رکھتا ہو اﷲ تعالٰی روز قیامت اس کی طرف سے ادا فرمادے گا(طبرانی نے معجم کبیر میں سند صحیح کے ساتھ حضرت میمونہ بنت حارث رضی اﷲ تعالٰی عنہا سے اس کی تخریج فرمائی۔(ت)
من حمل من امتی دینا ثم جھد فی قضائہ ثم مات قبل ان یقضیہ فانا ولیہ۳؎۔ رواہ احمد باسناد جید وابویعلی والطبرانی فی الاوسط عن ام المؤمنین الصدیقۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہا۔
میراجوامتی کسی دین کا بار اٹھائے پھر اس کے ادا میں کوشش کرے پھر بے ادا کئے مرجائے تو میں اس کا ولی وکفیل کار ہوں (اس کو امام احمد نے اسناد جید کے ساتھ اورا بویعلی اور طبرانی نے معجم اوسط میں ام المومنین سید ہ عائشہ صدیقہ رضی اﷲ تعالٰی عنہا سے روایت کیا۔ت)
(۳؎ مسند احمد بن حنبل عن عائشہ رضی اﷲعنہا دارالفکر بیروت ۶ /۷۴، ۱۵۴)
(المعجم الاوسط للطبرانی حدیث۹۳۳۴ مکتبۃ المعارف الریاض ۱۰ /۱۵۸)
اور ایک حدیث میں حضور اقدس صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
من تداین بدین وفی نفسہ وفاؤہ ثم مات تجاوز اﷲ عنہ وارضی غریمہ بماشاء ۱؎۔ الحدیث۔ رواہ الحاکم وبنحوہ الطبرانی فی الکبیر عن ابی امامۃ رضی اﷲتعالٰی عنہ۔
جو کسی دین کا معاملہ کرے اور دل میں اس کے ادا کا ارادہ رکھے پھر مرجائے تو اﷲ تعالٰی اس سے درگزر فرمائے اور اس کے قرضخوا ہ کوجیسے چاہے راضی کردے الحدیث(اس کو حاکم نے روایت کیا اور اس کی مثل طبرانی نے معجم کبیر میں ابوامامہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کیا۔ت)
(۱؎ المستدرک للحاکم کتاب البیوع باب من تداین بدین الخ دارالفکر بیروت ۲ /۳۲)
غرض بعد نیک نیتی کے پاکی حساب کی ویسے ہی امید ہے باقی شرع مطہر سے اس کی کوئی نظیر نہیں ملتی کہ ادائے قرض کےلئے کسی ناجائز طریقے سے مال حاصل کرنے کو جائز فرمایا ہواور بیشک سودی قرض لینا جائز طریقہ ہے بلکہ علماء تو یہاں تک تصریح فرماتے ہیں کہ عورت اگر مارے سے بھی نماز نہ پڑھے طلاق دے دے اگرچہ اس کا مہر دینے پر قادر نہ ہو کہ اﷲ تعالٰی سے اس حال پر ملنا کہ اس کا مطالبہ مہر اس کی گردن پر ہو اس سے بہتر ہے کہ ایک بے نمازی عورت سے صحبت کرے،
فی الغنیۃ الزوج لہ ان یضرب زوجتہ علی ترک الصلوۃ وان لم تنتہ عن ترکھا بالضرب یطلقھا ولو لم یکن قادر اعلی مھرھا ولان یلقی اﷲ تعالٰی ومھرھا فی ذمتہ خیرلہ من ان یطأ امرأۃ لاتصلی ۲؎۔
غنیہ میں ہے کہ شوہر کو حق پہنچتا ہے کہ وہ اپنی بیوی کو نماز چھوڑنے پر مارے اور اگر مارنے کے باوجود وہ نماز چھوڑنے سے باز نہیں آتی تو طلاق دے دے اگرچہ اس کو مہر کی ادائیگی پر قدرت نہ ہو کیونکہ اﷲ تعالٰی کو اس حال میں ملنا کہ اس کی بیوی کا مہر ا سکے ذمہ پر ہو بہتر ہے اس سے کہ ایسی عورت سے صحبت کرے جو نماز نہیں پڑھتی۔(ت)
دیکھو عورت کا نماز نہ پڑھنا اس کا کوئی گناہ نہیں جبکہ وہ اس کی ہدایت وتنبیہ کسی طرح نہیں مانتی باینہمہ اسے گوارا نہ کیا گیا اور قرضدار مرنے کو اس سے آسان سمجھا، تو سودی قرض لینا کہ جو خود اس کا گناہ ہے کیونکر گوارا کیا جائے گا اور قرضدارمرنا اس کی نسبت آسان نہ ہوگاھذاکلہ ماظہرلی وارجوان یکون صوابا ان شاء اﷲ تعالٰی (یہ سب وہ ہے جو مجھ پر ظاہر ہوا اور میں امید کرتا ہوں کہ ان شاء اﷲ تعالٰی یہ درست ہوگا۔ت) رہی ضمانت وہ درحقیقت قرض ملنے پر اعانت ہے اگر اس محتاج کو سودی قرض لینا شرعاً جائز تھا تو اصل روپے کی ضمانت میں کوئی حرج نہیں کہ جائز بات میں ایک مسلمان بھائی کی مددکرتا ہے اور ناجائز تھا تو ہر گز اصل کی بھی ضمانت نہ کرے کہ یہ معصیت پر اعانت ہوگی،
قال اﷲ تعالٰی ولا تعاونواعلی الاثم والعدوان۱؎۔
اﷲ تعالٰی نے ارشاد فرمایا: گناہ اورظلم پر تعاون مت کرو۔واﷲ تعالٰی اعلم(ت)