Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۷(کتاب البیوع، کتاب الحوالہ، کتاب الکفالہ )
60 - 180
مسئلہ ۱۳۱: ۲۷  رجب روز دو شنبہ۱۳۰۶ھ

کیافرماتے ہیں  علمائے دین اس مسئلہ میں  کہ زید مقروض ہے اور اس قدر محتاج ہے کہ قوت روز مرہ بھی بدشواری میسر آتا ہے چاہتا ہے کہ کچھ روپیہ سودی قرض لے کر کچھ روزگار کرے تا کہ صورت ادائے قرض کی ظہور میں آئے اور کچھ قوت بسری میں  لائے، پس یہ امر مباح ہے یانہیں ؟ اور جو شخص ایسے اصل روپیہ کی ضمانت کرے گنہگار ہوگا یانہیں ؟بینواتوجروا۔
الجواب : سود جس طرح لینا حرام ہے دینا بھی حرام ہے۔ 

رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی  علیہ وسلم فرماتے ہیں :
لعن اﷲ اٰکل الربو وموکلہ وکاتبہ و شاھدہ۲؎۔ رواہ احمد وابوداؤد والترمذی وابن ماجۃ والطبرانی فی الکبیر وزادوھم یعلمون ۱؎کلھم عن ابن مسعود رضی اﷲ تعالٰی عنہ احمد والنسائی عن علی کرم اﷲ تعالٰی وجہہ سند اھما صحیحان وبمعناہ عند مسلم فی صحیحہ وزادو ھم سواء ۲؎۔
اﷲ کی لعنت سود کھانے والے اور کھلانے والے اور اس کا کاغذ لکھنے والے اور اس کی گواہی کرنیوالے پر (اس کو امام احمد، ابوداؤد، ترمذی اور ابن ماجہ نے روایت کیا۔ طبرانی نے معجم کبیر میں  یہ زیادہ کیا کہ وہ جانتے ہوں  کہ یہ سود ہے ان تمام ائمہ نے اس کو سید نا ابن مسعود رضی اﷲتعالٰی  عنہ سے روایت کیا، امام احمد اور نسائی کے نزدیک اس کی مثل سید نا حضرت علی المرتضٰی  کرم اﷲ تعالٰی  وجہہ الکریم سے مروی ہے اور ان دونوں  کی سندیں  صحیح ہیں  اس کے ہم معنی امام مسلم نے اپنی صحیح میں  روایت کیا اور یہ اضافہ کیا کہ وہ سب برابر ہیں ۔ت)
 (۲؎ صحیح مسلم     کتاب المساقات    باب الربا     قدیمی کتب خانہ کراچی     ۲/ ۲۷)

(سنن ابوداؤد    کتاب البیوع    آفتاب عالم پریس لاہور    ۲ /۱۱۷)

(جامع الترمذی     ابواب البیوع    امین کمپنی دہلی         ۱ /۱۴۵)

(سنن ابن ماجہ ابواب التجارات     باب التغلیظ فی الربا    ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ص۱۶۶)

(مسند احمد بن حنبل    عن ابن مسعود     دارالفکر بیروت           ۱/ ۳۹۳  و  ۴۰۲ و ۴۰۹  و  ۴۵۳)

(مسند احمد بن حنبل    عن علی کرم اﷲ وجہہ    دارالفکر بیروت     ۱/ ۸۳  و  ۱۰۷  و ۱۳۳ و ۱۵۰)

(سنن النسائی     کتاب الزنیۃ    نورمحمد کارخانہ کراچی    ۲/ ۲۸۰)

(۱ ؎ مجمع الزوائد بحوالہ الطبرانی فی الکبیر، باب ماجاء فی الرباء ، دار الکتاب بیروت۴ /۱۱۸ ) 

(۲؎صحیح مسلم    کتاب المساقات    باب الربا     قدیمی کتب خانہ کراچی     ۲ /۲۷)
مگر شریعت مطہرہ کا قاعدہ مقرر ہے کہ الضرورات تبیح المحظورات (ضرورتیں  ممنوعات کو مباح کردیتی ہیں ۔ت) اسی لئے علماء فرماتے ہیں  محتاج کو سودی قرض لینا جائز ہے،
فی الاشباہ والنطائر وفی القنیۃ والبغیۃ یجوز للمحتاج الاستقراض بالربح۳؎ اھ قال فی الغمز و ذلک نحو ان یقترض عشرۃ دنانیر مثلاویجعل لربھا شیئامعلوما فی کل یوم ربحا۴؎اھ
  الاشباہ والنظائر، قنیہ اور بغیہ میں  ہے کہ محتاج کےلئے سود پر قرض لینا جائز ہے اھ غمز میں  فرمایا اس کی صورت یہ ہے کہ مثلاً وہ دس دینار قرض لے اور قرض دہندہ کے لئے یومیہ کچھ نفع مقرر کرے اھ (ت)
 (۳؎ الاشباہ والنظائر     الفن الاول    القاعدۃ الخامسۃ     ادارۃ القرآن کراچی    ۱/ ۱۲۶)

(۴؎ غمز عیون البصائر    الفن الاول    القاعدۃ الخامسۃ     ادارۃ القرآن کراچی    ۱/ ۱۲۶)
اقول: محتاج کے یہ معنی جو واقعی حقیقی ضرورت قابل قبول شرع رکھتا ہو کہ نہ اس کے بغیر چارہ ہو نہ کسی طرح بے سودی روپیہ ملنے کا یارا ورنہ ہر گز جائز نہ ہوگا جیسے لوگوں  میں  رائج ہے کہ اولاد کی شادی کرنی چاہی سوروپے پاس ہیں  ہزار روپے لگانے کو جی چاہا نوسو سودی نکلوائے یا مکان رہنے کو موجود ہے دل پکے محل کو ہوا سودی قرض لے کر بنایا یا سودوسو کی تجارت کرتے ہیں  قوت اہل وعیال بقدر کفایت ملتا ہے نفس نے بڑا سودا گر بننا چاہا پانچ چھ سوسودی نکلوا کر لگا دئے یا گھر میں  زیور وغیرہ موجود ہے جسے بیچ کر روپیہ حاصل کرسکتے ہیں  نہ بیچا بلکہ سودی قرض لیا وعلی ہذا القیاس صدہا صورتیں  ہیں  کہ یہ ضرورتیں  نہیں  تو ان میں  حکم جواز نہیں  ہوسکتا اگرچہ لوگ اپنے زعم میں  ضرورت سمجھیں ولہٰذا قوت اہل وعیال کے لئے سودی قرض لینے کی اجازت اسی وقت ہوسکتی ہے جب اس کے بغیر کوئی طریقہ بسر اوقات کا نہ ہو، نہ کوئی پیشہ جانتا ہو، نہ نوکری ملتی ہے جس کے ذریعہ سے دال روٹی اور موٹا کپڑا محتاج آدمی کی بسر کے لائق مل سکے ورنہ اس قدر پاسکتا ہے تو سودی روپے سے تجارت پھر وہی تونگری کی ہوس ہوگی نہ ضرورت قوت، رہا ادائے قرض کی نیت سے سودی قرض لینا، اگر جانتا ہے کہ اب ادا نہ ہوا تو قرضخواہ قید کرائے گا جس کے باعث بال بچوں  کو نفقہ نہ پہنچ سکے گا اور ذلت وخواری علاوہ اور فی الحال اس کے سوا کوئی شکل ادا نہیں  تو رخصت دی جائیگی کہ ضرورت متحقق ہولی حفظ نفس و تحصیل قوت کی ضرورت تو خود ظاہر، اور ذلت (عہ) ومطعونی سے بچنا بھی ایساامر ہے جسے شرع نے بہت مہم سمجھا اور اس کےلئے بعض محظورات کو جائز فرمایا، مثلاً شریرشاعر جو امراء کے پاس قصائد مدح لکھ کر لیجاتے ہیں  کہ خاطر خواہ انعام نہ پائیں  تو ہجو سنائیں  انہیں  اگرچہ وہ انعام لیناحرام ہے اور جس چیز کا لینا جائز نہیں  دینا بھی روا نہیں ، پھر یہ لوگ کہ اپنی آبرو بچانے کو دیتے ہیں  خاص رشوت دیتے ہیں  اور رشوت صریح حرام، باینہمہ شرع نے حفظ آبرو کےلئے انہیں  دینا دینے والے کے حق میں  روافرمایا اگرچہ لینے والے کو بدستور حرام محض ہے،
عہ:  ظاہر ہے کہ یہ ذلت پہنچے گی کہ مفلس کو مہلت دینی شرع نے واجب کی ۱۲منہ
فی الدرالمختار لاباس بالرشوۃ اذا خاف علی دینہ (عبارۃ المجتبی لمن یخاف) والنبی صلی اﷲتعالٰی  علیہ وسلم کان یعطی الشعراء ولمن یخاف لسانہ (فقد روی الخطابی فی الغریب عن عکرمۃ مرسلا قال اتی شاعر النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فقال یا بلال اقطع لسانہ عنی فاعطاہ اربعین درھما) ومن السحت مایاخذہ شاعر لشعر (لانہ انما یدفع لہ عادۃ قطعا للسانہ فلو کان ممن یؤمن شرہ فالظاہر ان مایدفع لہ حلال بدلیل دفعہ علیہ السلام بردتہ للکعب لما امتدحہ بقصیدتہ المشھور ۃ تأمل۱؎) اھ ملخصا مختلطا بردا لمحتار۔
درمختار میں  ہے کہ جب کسی کو اپنے دین کے بارے میں  خوف ہو تو اس کے لئے رشوت دینے میں  کوئی حرج نہیں  (مجتبٰی  کی عبارت میں  ہے جسے خوف ہو) نبی کریم صلی اﷲ تعالٰی  علیہ وسلم شاعروں  کو اور جن کی زبان درازی کاخوف ہوتا ان کو عطا فرماتے تھے (خطابی نے غریب میں  حضرت عکرمہ رضی اﷲ تعالٰی  عنہ سے مرسلاً روایت کیا عکرمہ نے کہا کہ ایک شاعر نبی کریم صلی اﷲ تعالٰی  علیہ وسلم کے پاس آیا تو حضرت بلال رضی اﷲ تعالٰی  عنہ سے فرمایا اے بلال! اس کی زبان مجھ سے قطع کرو۔ چنانچہ حضرت بلال رضی اﷲ تعالٰی  عنہ نے اس کو چالیس درہم دے دئے) حالانکہ شاعر جو کچھ شعر کی وجہ سے لیتا ہے وہ حرام ہے (کیونکہ عادتاً جو کچھ اس کو دیا جاتا ہے وہ اس کی زبان درازی روکنے کے لئے ہوتا ہے چنانچہ اگر کوئی شاعر ایسا ہو جس کے شر سے امن ہو تو ظاہر یہ ہے کہ اس کو جو کچھ دیا جائے وہ حلال ہے اس پر دلیل حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی  علیہ وسلم کا حضرت کعب رضی اﷲتعالٰی  عنہ کو اپنی چادر مبارک عطا فرمانا ہے جب حضرت کعب رضی اﷲ تعالٰی  عنہ نے آپ کی بارگاہ اقدس میں  اپنا مشہور قصیدہ پیش کیا) اھ تلخیص باختلاط ردالمحتار (ت)
(۱؎ درمختار    کتاب الحظر والاباحۃ    فصل فی البیع    مطبع مجتبائی دہلی     ۲/ ۲۵۳)

(ردالمحتار    کتاب الحظر والاباحۃ    فصل فی البیع    داراحیاء التراث العربی بیروت    ۵/ ۲۷۲)
Flag Counter