| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۷(کتاب البیوع، کتاب الحوالہ، کتاب الکفالہ ) |
الربا اثنان وسبعون حوبا اصغرھا حوبا کمن اتی امہ فی الاسلام ودرہم من الربا اشد من بضع وثلثین زنیۃ۳؎۔ رواہ ابن ابی الدنیا والبغوی وغیرہما وصدرہ عند عبدالرزاق بلفظ بضعۃ وسبعون۴؎۔
سود بہتّر گناہ ہے سب سے چھوٹا بحالت اسلام اپنی ماں سے زنا کی طرح ہے اور سود کا ایک درہم کئی اوپر تیس زنا سے سخت تر ہے۔(اس کو ابن ابی الدنیا اور بغوی وغیرہ نے روایت کیا، اور امام عبدالرزاق کے ہاں لفظ بضع وسبعون کے ساتھ ہے۔ت)
(۳؎ الترغیب والترہیب بحوالہ ابن ابی الدنیا والبغوی حدیث۱۲ دارنشر الکتب الاسلامیہ لاہور ۳ /۷) (شرح السنۃ للبغوی باب وعید آکل الربا حدیث۲۰۵۴ المکتب الاسلامی بیروت ۸/۵۴) (۴؎ المصنف لعبد الرزاق باب ماجاء فی الربا حدیث ۱۵۳۴۶ المکتب الاسلامی بیروت ۸/ ۳۱۴)
حدیث(۱۶) سیدنا عبداﷲ بن سلام فرماتے ہیں :
الربا ثلث وسبعون حوبا ادناھا حوبا کمن اتی امہ فی الاسلام ودرہم من الربا کبضع وثلثین زنیۃ۵؎۔ رواہ عبدالرزاق۔
سود میں تہتّر گناہ ہیں سب سے کم ایسا جیسے اسلام میں اپنی ماں سے جماع کرنا اور سود کا ایک درہم چند اور تیس زنا کی مانند ہے (اس کو امام عبدالرزاق نے روایت کیا۔ت)
(۵؎ المصنف لعبد الرزاق باب ماجاء فی الربا حدیث ۱۵۳۴۴ المکتب الاسلامی بیروت ۸/ ۳۱۴)
حدیث (۱۷) کعب احبار فرماتے ہیں :
لان ازنی ثلثا وثلثین زنیۃ احب الی من ان اٰکل درھما ربا یعلم اﷲ انی اکلتہ حین اکلتہ ربا۱؎۔ رواہ الامام احمد عنہ بسند جید۔
بیشک مجھے اپنا تینتیس بار زنا کرنا اس سے زیادہ پسند ہے کہ سود کا ایک درہم کھاؤں جسے اﷲ عزوجل جانے کہ میں نے سود کھایا ہے۔ (اس کو امام احمد نے سند جید کے ساتھ روایت کیا ہے۔ت)
(۱؎ مسند امام احمد بن حنبل حدیث عبداﷲبن حنظلہ دارالفکربیروت ۵/ ۲۲۵)
والعیاذ باﷲ تعالٰی ، اﷲ تعالٰی مسلمانوں کو ہدایت بخشے آمین۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔