فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۷(کتاب البیوع، کتاب الحوالہ، کتاب الکفالہ )
57 - 180
بابُ الرّبٰو
(سود کابیان)
مسئلہ۱۲۹: کیافر ماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ جس چیز کی جنس اور تول دونوں ایک نہ ہوں اس کو باختیار اپنے خلاف بازار نرخ کرنا اور وعدہ پر بیچنا درست ہے یانہیں ؟ مثلاً چاندی سونا عوض سونے کے یا چونے یا غلے کے عوض بیچے تو اس میں ادھار دینا اور تھوڑے مال کو بہت کے عوض میں بیچنا درست ہے یانہیں ؟ اور اگر وعدہ پر بیچے تو کس قدر مدت کا وعدہ شرعاً جائز ہے؟ بینواتوجروا
الجواب : اندازہ شرعی جو دربارہ ربوٰ معتبر ہے دو قسم ہے: کیل یعنی ناپ اور وزن بمعنی تول، اور حلت وحرمت کا قاعدہ کلیہ یہاں چارصورت میں بیان ہوتا ہے :
صورت اولٰی : جو دو چیزیں اندازہ میں مشترک ہیں یعنی ایک ہی قسم کے اندازہ سے ان کی تقدیر کی جاتی ہے مثلاًدونوں وزنی ہیں یا دونوں کیلی، اور دونوں ہیں بھی ایک جنس کے، مثلاً گیہوں گیہوں یا لوہا لوہا، تو ایسی دو چیزوں کی آپس میں بیع اسی وقت صحیح ہے جب دونوں اپنے اسی اندازہ میں جو شرعاً یا عرفاً ان کا مقرر ہے بالکل برابر ہوں اور ان میں کوئی ادھار بھی نہ ہو، اور اگر ایسی دو چیزیں ایک یا دونوں ادھار ہوں یا اپنے اس اندازہ مقرر میں برابر نہ کی گئیں ، اب خواہ سرے سے اندازہ ہی نہ کیا گیا یا اندازہ کیا مگر کمی بیشی رہی یا برابری تو کی مگر دوسری قسم کے اندازہ سے کی مثلاً جو تول کی چیز تھی اسے ناپ کے برابر کیایا جو ناپ کی تھی اسے تول کر یکساں کیا تو یہ بیع محض ناجائز اور ربوٰ قرار پائے گی۔
صورت ثانیہ: جو دو چیزیں ہم جنس تو ہیں مگر اندازہ میں مشترک نہیں خواہ دونوں طرف اندازہ معہودہ سے خارج ہیں جیسے گلبدن گلبدن، تنزیب تنزیب، گھوڑا گھوڑا کہ کیل ووزن سے ان کی تقدیر نہیں ہوتی، کپڑے گزوں سے بکتے ہیں اور گھوڑے شما ر سے، یاایک طرف فقط اندازہ ہو اور دوسری سمت خارج، جیسے تلوار لو ہے کے ساتھ یا بکری کا گوشت زندہ بکری کے ساتھ کہ ہر چند ہم جنس ہیں مگر لوہے اور گوشت کی طرف اندازہ ہے کہ تل کر بکتے ہیں اور تلوار اور بکری کی طرف اندازہ نہیں کہ شمار کی چیزیں ہیں تو ان صورتوں میں تفاضل یعنی کمی بیشی تو جائز ہے مگر ایک دونوں کا دین ہونا جائز نہیں ۔
صورت ثالثہ: جو دونوں چیزیں ایک قسم کے اندازہ میں تو شریک ہوں مثلاً دونوں کیلی ہیں یا دونوں وزنی مگر ہم جنس نہیں ، جیسے گیہوں جو کے ساتھ، یا لوہا تانبے کے ساتھ، تو یہاں بھی وہی حکم کہ تفاضل روا، اور نسیہ حرام سوا سو نے چاندی کے کہ ہر چند وزن کی چیزیں ہیں مگر بیع سلم کے طور پر انہیں نقد دے کر اشیائے موزونہ لوہاتانبا چونا ز عفران وغیرہ ادھار خریدنا بسبب حاجت کے بالاجماع جائز ہے اگرچہ ایک ہی قسم کے اندازہ میں شریک ہیں
صورت رابعہ: جو دو چیزیں نہ ہم جنس ہوں نہ ایک قسم کے اندازہ میں شریک، اب خواہ دونوں اصلاً داخل اندازہ کیل و وزن نہ ہوں جیسے گھوڑا کپڑا، یا ایک داخل ہو ا یک خارج جیسے گھوڑا گیہوں ، یا دونوں داخل ہوں مگر ایک قسم کے اندازہ سے ان کی تقدیر نہ ہوتی بلکہ ایک کیلی ہو دوسری وزنی جیسے چاول کھجوریں ، تو ایسی صورتوں میں تفاضل ونسیہ دونوں حلال ہیں ۔
فائدہ: سونے چاندی کا ادھار ہونا یونہی دفعہ ہوسکتا ہے کہ ان پر قبضہ کرلیا جائے مثلا یہ سونا بعوض اس چاندی کے بیچا اور بائع نے چاندی اور مشتری نے سونے پر قبضہ نہ کیا اور جدا ہوگئے وہ بیع جائز نہیں اور ان کے سوا اور چیزوں میں فقط معلوم معین ہونا شرط ہے قبضہ ضرور نہیں مثلاً یہ گیہوں بعوض اس جو کے بیچے اور دونوں بے قبضہ کئے جدا ہوگئے بیع صحیح ہے اور یہ جو اور گیہوں ادھار نہ کہلائیں گے۔
فائدہ: چار چیزوں کو رسول اﷲصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے کیلی فرمایا ہے :
(۱) گیہوں (۲) جو (۳) چھوہارے (۴) نمک۔
یہ چاروں ہمیشہ کیلی رہیں گی اگرچہ لو گ انہیں وزن سے بیچنے لگیں تو اب اگرگیہوں کے بدلے گیہوں برابر تول کر بیچے تو حرام ہوگابلکہ ناپ میں برابر کرنا چاہئے۔ اور دو کو حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے وزنی فرمایا ہے : (۱) سونا(۲) چاندی__یہ ہمیشہ وزنی رہیں گے، ان چیزوں کے سوا بنائے کار عرف و عادت پر ہے، جو چیز عرف میں تل کربکتی ہے وہ وزنی ہے اور جو گزوں یا گنتی سے بکتی ہے وہ اندازہ سے خارج(عہ)۔
عہ: جواب یہاں تک دستیاب ہوا۔
مسئلہ۱۳۰: ۲۱ رجب المرجب ۱۳۱۶ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک صاحب نے بیان فرمایا کہ سود کھانا اپنی ماں کے ساتھ زنا کرنے سے بدتر ہے اور سود کا ایک روپیہ لینا اتنی اتنی باززنا کرنے سے سخت تر ہے، یہ امر صحیح ہے یانہیں ؟بینواتوجروا۔
الجواب: بیشک صحیح ہے، اس باب میں احادیث کثیرہ وارد ہیں :
حدیث(۱) کہ فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم :
من اکل درھما من ربٰو فھو مثل ثلث و ثلثین زنیۃ، ومن نبت لحمہ من السحت فالنار اولٰی بہ ۱؎ رواہ الطبرانی فی الاوسط والصغیر وصدرہ ابن عساکر عن ابن عباس رضی اﷲتعالٰی عنہما۔
ایک درہم سود کا کھانا تینتیس زنا کے برابر ہے جس کا گوشت حرام سے بڑھے تو نارجہنم اس کی زیادہ مستحق ہے (اس کو طبرانی نے معجم اوسط اور صغیر میں اور ابن عساکر نے ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے روایت کیا۔(ت)
لدرھم یصیبہ الرجل من الربا اعظم عنداﷲ من ثلثۃ و ثلثین زنیۃ یزینھا فی الاسلام۲؎۔ رواہ الطبرانی فی الکبیر عن عبداللہ بن مسعود ایضا عن عبداﷲبن سلام رضی اﷲ تعالٰی عنہما۔
بیشک ایک درم کہ آدمی سود سے پائے اﷲ عزوجل کے نزدیک سخت تر ہے تینتیس زنا سےکہ آدمی اسلام میں کرے۔ (اس کو طبرانی نے معجم کبیر میں عبداﷲبن مسعود سے نیز عبداﷲ بن سلام رضی اﷲتعالٰی عنہما سے روایت کیا۔ت)
(۲؎ الدرالمنثور بحوالہ طبرانی تحت آیۃ ۲/ ۲۷۹ منشورات قم ایران ۱ /۳۶۷)
(الترغیب والترہیب عن عبداﷲ بن سلام حدیث ۱۲ مصطفی البابی مصر ۳ /۶)
(مجمع الزوائد باب ماجاء فی الربا دارالکتاب بیروت ۴/ ۱۱۷)
حدیث (۴) کہ فرماتے ہیں صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم :
درھم ربا یأکلہ الرجل وھو یعلم اشھد عنداﷲ من ستۃ وثلثین زنیۃ ۱؎۔ رواہ احمد بسند صحیح والطبرانی فی الکبیر عن عبداﷲ بن حنظلۃ غسیل الملٰئکۃ۔
سود کاا یک درم کہ آدمی دانستہ کھائے اﷲتعالٰی کے نزدیک چھتیس زنا سے سخت تر ہےت(اس کو امام احمد نے سند صحیح کے ساتھ اورطبرانی نے معجم کبیر میں عبداﷲ بن حنظلہ غسیل ملائکہ رضی اﷲ تعالٰی اﷲ عنہ سے روایت کیا۔ت)
(۱؎ المعجم الاوسط حدیث ۲۷۰۳ مکتبۃ المعارف ریاض ۳ /۳۳۰)
(مسند احمد بن حنبل حدیث عبداﷲ بن حنظلہ دارالفکر بیروت ۵/ ۲۲۵)
حدیث (۵) کہ فرماتے ہیں صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم :
ان الدرھم یصیبہ الرجل من الربا اعظم عنداﷲ فی الخطیئۃ من ست وثلثین زنیۃ یزنیھا الرجل ۲؎۔ رواہ ابن ابی الدنیا فی ذم الغیبۃ والبیھقی عن انس رضی اﷲتعالٰی عنہ۔
ایک درم کہ آدمی سود سے پائے اﷲتعالٰی کے نزدیک مرد کے چھتیس بار زنا کرنے سے گناہ میں زیادہ ہے۔ (اس کو ابن ابی الدنیا نے غیبت کی مذمت میں اور بیہقی نے انس بن مالک رضی اﷲتعالی عنہ سے روایت کیا۔ت)
(۲؎ الترغیب والترھیب بحوالہ ذم الغیبۃ، والبیہقی باب الترہیب من الربا مصطفی البابی مصر ۳ /۷ )
حدیث (۶) کہ فرماتے ہیں صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم :
لدرھم ربا اشد جرما عنداﷲ من سبع وثلثین زنیۃ ۳؎۔ رواہ الحاکم فی الکنی عن ام المؤمنین الصدیقۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہا۔
بیشک سود کا ایک درہم اﷲ عزوجل کے یہاں سینتیس زنا سے بڑھ کر جرم ہے۔(اس کو حاکم نے کنیتوں کے باب میں ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اﷲتعالٰی عنہا سے روایت کیا۔ت)
سود ستر گناہ ہے جن میں سب سے آسان تر اس شخص کی طرح ہے جو اپنی ماں سے نکاح کرے۔ (اور ایک روایت میں ہے کہ سود کے ستر دروازے ہیں جن میں ادنٰی یہ ہے کہ وہ اپنی ماں پرپڑے۔ت) (اس کو ابن ماجہ اور ابن ابی الدنیا نے ذم الغیبۃ میں اور ابن جریر نے اور بیہقی نے اس کو ایسی سند کے ساتھ روایت کیا جس میں کوئی حرج نہیں ساتھ لفظ ثانی کے تمام نے حضرت ابوہریرہ رضی اﷲتعالٰی عنہ سے روایت کیا۔(ت)