فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۷(کتاب البیوع، کتاب الحوالہ، کتاب الکفالہ )
56 - 180
فی البحر الرائق ان کان الثمن عرضا کان مملوکا للفضولی واجازۃ المالک اجازۃ نقدلا اجازۃ عقد لانہ لما کان العوض متعینا کان شراء من وجہ والشراء لایتوقف بل ینفذ علی المباشران وجد نفاذا، فیکون ملکالہ وباجازۃ المالک لاینقل الیہ، بل تاثیر اجازتہ فی النقد لافی العقد ثمن یجب علی الفضولی مثل المبیع ان کان مثلیا والافقیمتہ الخ۱؎۔
البحرالرائق میں ہے ثمن اگر سامان ہو تو فضولی کا مملوک ہوگا اور مالک کی اجازت اجازت نقد ہے نہ کہ اجازت عقد، کیونکہ عوض جب متعین ہے تو یہ من وجہ شراء ہے اور شراء موقوف نہیں ہوتی بلکہ مباشر پر نافذ ہوجاتی ہے اگر وہ نفاز کی راہ پائے تو یہ مشتری کی ملک ہوا اور مالک کی اجازت سےت یہ مشتری کی ملک ہو ااور الک کی اجازت سے یہ مالک کی طرف منتقل نہیں ہوگا بلکہ اس کی اجازت نقد میں اثر کرے گی نہ کہ عقد میں ، پھر فضولی پر مبیع کی مثل واجب ہوگی اوراگروہ مثلی ہے ورنہ اس کی قیمت واجب ہوگی الخ(ت)
(۱؎ البحرالرائق کتاب البیوع فصل فی بیع الفضولی ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۶/۱۴۸)
اور ورثہ سے جو اجازت نہ دے گا اسے اختیار ہے کہ اپنے تمام حصہ دین کا مطالبہ مدیون پر رکھے خواہ جس قدر حصہ دین مشتری نے بذیعہ شراء وصول پایا اسے جمیع سہام پر تقسیم کرکے بقدر اپنے سہم کے روپے کا مطالبہ مشتری اور باقی کا مدیون سے رکھے، مثلاً نوے روپے دین تھے، اور زید، عمرو، بکر تین بیٹے وارث زشید نے مدیون سے جائداد بعوض دین مورث اپنے نام خریدلی تو اس نے اپنے تیس روپے پالئے عمرو نے یہ تصرف جائز رکھا وہ اپنے پورے تیس روپے زید سے لے لے بکر نے اجازت نہ دی وہ چاہے تو کامل تیس روپے مدیون سے لے خواہ ازانجا کہ دین مشترک سبب واحد یعنی ارث سے ناشی تھا اور زید نے اپناحصہ اس سے پالیا بقدر ثلث یعنی دس روپے زید سے لے باقی بیس کا مطالبہ مدیون پر رکھے جائداد پر دعوٰی نہیں کرسکتا مگر یہ کہ زید اپنی خوشی سے اسے حصہ رسد جائداد دے اور وہ قبول کرلے،
فی الدرالمختار الدین المشترک بسبب متحد کدین موروث اذا قبض احدھما شیئا منہ شارکہ الاٰخرفیہ ان شاء او اتبع الغریم، فلو اشتری بنصفہ شیئا ضمنہ شریکہ الربع لقبضہ النصف بالمقاصۃ او اتبع غریمہ لبقاء حقہ فی ذمتہ ۱؎ اھ مختصرا وفی الھندیۃ ولو اشتری بنصیبہ ثوبا فللشریک ان یضمنہ نصف ثمن الثوب ولا سبیل لہ علی الثوب فان اجتمعا جمیعا علی الشرکۃ فی الثوب فذلک جائز کذافی السراج الوھاج ۲؎۔
درمختار میں مذکور ہے دو شخصوں میں سبب واحد سے مشترک دین ہو جیسے دین موروث ہو اور ان دونوں میں سے ایک نے اگر کچھ دین مشترک وصول کرلیا تو دوسراگر چاہے تو اس میں شریک ہوجائے یا پھر مدیون کا پیچھا کرے، اور دونوں میں سے ایک شریک نے نصف دین کے بدلے مدیون سے کوء چیز خریدی تو یہ خریدنے والا شریک دوسرے کو دین کے چوتھائی کا تاوان دے کیونکہ اس نے نصف دین پر قبضہ کیا ہے دین کے ثم میں مجراہونے کے سبب سے یا پھر دوسرا شریک مدیون کا پیچھا کرے کیونکہ اس کا حق مدیون کے ذمے پر باقی ہے اھ مختصرا۔ ہندیہ میں ہے کہ اگر ایک شریک نے اپنے حصے کے بدلے میں مدیون سے کپڑا خریدا تو دوسرے شریک کو حق حاصل ہے کہ وہ اس کو آدھے کپڑے کے ثمن کا ضامن ٹھہرائے اور کپڑے پر اس کا کوئی حق نہ ہوگا اور اگر وہ دونوں کپڑے کی شرکت پر متفق ہوجائیں تو یہ جائز ہے السراج الوہاج میں یونہی ہے۔(ت)
(۱؎ درمختار کتاب الصلح فصل فی دعوی الدین مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۱۴۴)
(۲؎ فتاوٰی ہندیہ کتاب الشرکۃ الباب السادس نورانی کتب خانہ پشاور ۲ /۳۳۷)
اور اگر یہ عقد شراء سب وارثوں کے لئے واقع ہوا مثلاً مدیون نے کہا میں نے تم سب ورثہ کو یہ جائداد دین میں دین مشتری نے کہا میں نے سب کی طرف سے خریدی یا سب کے لئے لی، یا اسی قدرکہا کہ میں نے قبول کی کہ مذہب صحیح پر ایک ہی کلام میں اضافت الی الغیر توقف عقدکےلئے بس ہے جبکہ کلام غیر میں اس کا خلاف نہ ہو،
فی البزازیۃ والبحر وغیرہما الصحیح انہ اذااضیف العقد فی احدالکلامین الی فلان یتوقف علی اجازتہ اھ ۱؎واما عدم التخالف فقد مناہ عن البحرعن الفروق ان الاصح عند التخالف البطلان قلت وھو مراد وجیز الکردری بقولہ لو قال اشتریت لفلان وقالابائع بعت منک الاصح عدم التوقف ۲؎اھ وقد عرض ھھنا وھم للعلامۃ الشامی فی ردالمحتار نبھنا علیہ فیما علقنا علیہ وباﷲ التوفیق۔
بزازیہ اور بحر وغیرہ میں مذکور ہے صحیح یہ ہے کہ جب دو کلاموں میں سے صرف ایک میں عقد کی اضافت فلان کی طرف کی گئی ہو تو عقد اس کی اجازت پر موقوف ہوگا،رہا مخالفت کا نہ ہونا تو ہم بحر سے بحوالہ فروق پہلے بیان کرچکے ہیں کہ بائع ومشتری کے کلاموں میں مخالفت کی صورت میں زیادہ صحیح یہ ہے کہ وہ عقد باطل ہوگا، میں کہتا ہوں کہ وجیز الکردری کے اس قول سے یہی مراد ہے کہ اگر مشتری نے کہامیں نے فلاں کے لئے خریدا اور بائع نے کہا میں نے تیرے ہاتھ بیچا تو زیادہ صحیح یہ ہے کہ عقد موقوف نہیں ہوگا اھ یہاں پر علامہ شامی کو ردالمحتار میں ایک وہم عارض ہوا، ہم نے ردالمحتار پر اپنی تحریر کردہ تعلیقات میں اس پر تنبیہ کردی، اور توفیق اﷲ تعالٰی ہی کی طرف سے ہے۔(ت)
(۱؎ البحرالرائق کتاب البیع فصل فی بیع الفضولی ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۶/ ۱۴۹)
(۲؎ الفتاوٰی البزازیۃ علی ہامش الفتاوٰی الھندیۃ کتاب البیوع، الباب التاسع نورانی کتب خانہ پشاور۴/ ۴۸۳)
تو اس صورت میں اگر مشتری باقی سب ورچہ کی طرف سے وصایۃً یا ولایۃً یا وکالۃً اس شراء کا اختیار رکھتا تھا جب تو ظاہر کہ عقد تمام وکمال فوراً نافذ اور سب ورثہ حصہ رسد جائداد میں شریک اور مدیون سب کے دین سے بری لانہ تصرف من لہ التصرف فتم و نفذ من دون توقف(کیونکہ یہ اس کا تصرف ہے جس کو تصرف کا اختیار ہے تو بلا توقف تام و نافذ ہوگیا۔ت) ورنہ اگر ورثہ میں کوئی قاصدایسا ہے جس پر کسی کو اس شراء کا اختیار شرعی نہیں جس طرح آج کل بہت یتیم ہوتے ہیں جن کے نہ باپ، نہ دادا نہ ان کا وصی، نہ وصی الوصی، نہ ان بلاد میں قاضی شرع، نہ سلطان اسلام، اور ان کے سواماں بھائی چچا وغیرہ یتیم کے لئے جائداد خریدنے کے مجاز نہیں تو اس کی طرف اس خریداری کی اجازت دینے والا کوئی نہیں اور فضولی سے و عقد ایساصادر ہو کہ وقت عقد جس کا مجیز نہیں ہو باطل ہوتا ہے، فی الدر کل تصرف صدر منہ ولہ مجیز ای من یقدر علی اجازتہ حال وقوعہ انعقد موقوفا وما لا مجیزلہ حالۃ العقد لاینعقد اصلا۱؎۔
درمیں مذکور ہے ہر وہ تصرف جو فضولی سےصادر ہوا اور عقد کے وقت اس کا کوئی مجیز یعنی کوئی ایسا شخص موجود ہےجو اس کی اجازت دے سکتا ہے تو اس عقد کا انعقاد اس کی اجازت پر موقوف ہوگا اور جس تصرف کا بوقف عقد کوئی مجیز موجود نہ ہو وہ بالکل منعقد نہیں ہوگا۔(ت)
(۱؎ الدرالمختار کتاب البیوع فصل فی الفضولی مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۳۱)
تو مشتری کا اس نابالغ کی طرف سے قبول، نہ قبول نافذ ہے نہ قبول موقوف بلکہ محض باطل ہے اور باطل معدوم، تو ایجاب سب کے لئے تھا اور قبول بعض کی طرف سے نہ پایا گیا، یا یوں کہئے کہ ایجاب کل مبیع کا تھا اور قبول بعض کا ہوا، بہرحال ایجاب وقبول مختلف ہوکر عقد ر اساً باطل ہوگیاکل جائداد مدیون کو واپس اوردین بدستور مذکور صورت اولٰی
قائم،فی ردالمحتار عن البحرالرائق الموجب اذا اتحد وتعدد المخاطب لم یجز التفریق بقبول احدھمابائعاکان الموجب او مشتریا وعلی عکسہ لم یجز القبول فی حصۃ احدھما ۲؎ اھ وفیہما شرط العقد موافقۃ الایجاب للقبول فلو قبل غیرما او جبہ او بعضہ او بغیر ما او جبہ او بعضہ لم ینعقد الافی الشفعۃ۳؎الخ۔
ردالمحتار میں البحرالرائق کے حوالے سے مذکور ہے کہ ایجاب کرنے والا اگر ایک ہو اور مخاطب متعدد ہوں تو تفریق جائز نہیں کہ ان دونوں میں سے ایک قبول کرے، چاہے ایجاب کرنے والا بائع ہو یا مشتری ہو، اور اگر اس کے برعکس ہو تو ان دونوں میں سے ایک کے حصہ میں قبول جائز نہیں اھ انہی دونوں کتابوں میں مذکور ہے کہ قبول کا ایجاب کے موافق ہونا شرط ہے بایں طور کہ مشتری اسی چیز کو قبول کرے جس کا بائع نے ایجاب کیا مشتری اس کے غیریا اس کے بعض کو قبول کرے یا جو ثمن بائع نے ایجاب میں ذکر کیا مشتری اس کے غیر یا اس کے بعض کے بدلے قبول کرے تو سوائے شفعہ کے منعقد نہیں ہوا الخ۔(ت)
(۲؎ ردالمحتار کتاب البیوع داراحیاء التراث العربی بیروت ۴/ ۱۹)
(بحرالرائق کتاب البیع ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۵/ ۶۸۔۲۶۷)
(۳؎ ردالمحتار کتاب البیوع داراحیاء التراث العربی بیروت ۴ /۵)
(بحرالرائق کتاب البیع ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۵/ ۲۵۸)
اور اگر یہ دونوں صورتیں نہیں یعنی نہ سب ورچہ پر مشتری کا یہ تصرف نافذ نہ ان میں کوئی ایسا جس پر کسی کا ایسا تصرف نافذ، تو شرابحق مشتری اور نیز اس کے حق میں جس کی طرف سے اس کا قبول نافز ہے نافذ ولازم باقی ورثہ کےلئے خود ان کی خواہ ان کے وصی یا وصی مجاز کی اجازت پر موقوف جو اجازت دے گا وہ بھی بقدر حصہ اس جائداد کا مالک ہوگا اور جرد کرے گااس کے حق میں رد ہوجائیگاکما ھو شان عقد الفضولی (جیسا کہ عقد فضولی کی شان ہے۔ت) اب بحالت رد بعض صورت یہ ہوگی کہ جائداد جو بائع نے بصفقہ واحدہ بیع کی تھی اس کی بعض مبیع رہی اور بعض مبیع سے نکل گئی اس میں اس پر تفریق صفقہ قبل تمام ہوگی جس پر وہ مجبور نہیں ہوسکتا،
اماالتفریق فظاھر وکذا کونہ قبل التمام فکیف تتم صفقۃ موقوفۃ قبل الاجازۃ الاتری ان للمشتری لہ الرد بدون قضاء ولارضاء ولذاکان خیار الشرط مانعا تمامھا کما نص علیہ فی الفتح۱؎ وغیرہ، قال فی الدر المختار الاصل ان ردالبعض یوجب تفریق الصفقۃ وھو بعد التمام جائز لاقبلہ فخیار الشرط و الرؤیۃ یمنعان تمامھا وخیار العیب یمنعہ قبل القبض لابعدہ ۲؎الخ قلت و الدین لازم بیعہ ممن ھو اصیل وفضولی الردممن شری لہ بل تحتمل الاجازۃ فلم یتحقق من البائع الرضی بتفریق الصفقۃ والرد معیبابعیب الشرکۃ۔
لیکن تفریق ظاہر ہے یونہی اس کا قبل از تمام ہونا کیونکہ اجازت پر موقوف عقد اجازت سے قبل کیسے تمام ہوسکتا ہے، کیا تو نہیں دیکھتا کہ جس کے لئے خریداری ہو اس کو قضاء ورضاء کے بغیر ہی رد کا اختیار ہے، اسی لئے خیار شرط تمامیت صفقہ سے مانع ہے جیسا کہ فتح وغیرہ میں منصوص ہے۔ درمختار میں ہے اصل یہ ہے کہ بعض کو ردکرنا تفریق صفقہ کا موجب ہے اور وہ تمامیت صفقہ کے بعد جائز ہے نہ کہ اس سے پہلے، چنانچہ خیار شرط اور خیار رؤیت تمامیت صفقہ سے مانع ہیں جبکہ خیار عیب قبضہ سے پہلے مانع ہے قبضہ کے بعد مانع نہیں الخ میں کہتا ہوں لازم دین کو فروخت کرنا اس شخص سے جو اصیل ہے اور فضولی بھی، فضولی ہونے کی حیثیت سے جس کے لئے خریدا اس کو رد کرنے بلکہ جائز کرنے کا اکتیار ہے تو اندریں صورت بائع کی طرف سے سودے کے متفرق ہونے اور شرکت عیب کے ساتھ رد کرنے پر رضانہ پائی گئی،
(۱؎ فتح القدیر کتاب البیوع باب خیار الرؤیۃ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۵ /۵۴۳)
(ردالمحتار کتاب البیوع باب خیار الرؤیۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۴ /۷۰)
(۲؎ درمختار کتاب البیوع باب خیار الرؤیۃ مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۱۵)
قال فی الھدایۃ اذا اشتری لرجلان غلاماعلی انھما بالخیار فرضی احدھما فلیس لاٰخر ان یردہ،لان المبیع خرج من ملکہ غیر معیب بعیب الشرکہ فلوردہ احدھما ردہ معیبا بہ وفیہ الزام ضرر زائد ولیس من ضرورۃ اثبات الخیا ر لھما الرضا برد احدھما لتصور ا اجتماعھما علی الرد ۱؎اھ مختصرا وفی الدر المختار لیس لاحدھما الانفراد اجازۃ او رد اختلافا لھما، مجمع ۲؎۔
ہدایہ میں فرمایا کہ جب دو شخص نے ایک غلام خریدا اس شرط پر کہ دونوں کو خیار شرط حاصل ہوگا پھر ان میں سے ایک راضی ہوگیا تو دوسرے کو رد کرنے کا اختیار نہیں کیونکہ غلام مبیع بائع ملک سے اس حال میں نکلا تھا کہ اس میں عیب شرکت نہیں تھا، اب اگر دونوں میں سے ایک اس کو واپس کرے تو اس حال میں واپس کریگا کہ اس میں شرکت کا عیب موجود ہے اور اس میں بائع پر ضرر زائد لازم کرنا ہوا، اور بائع کی طرف سے ان دونوں کو خیار دینے سے یہ لازم نہیں آتا کہ وہ ان میں سے ایک کے رد کرنے پر راضی ہو کیونکہ ان کے رد پر جمعی ہونے کا احتمال موجودہے اھ مختصر، درمختار میں ہے دونوں میں سے ایک کو انفرادی طور اجازت یا رد کا اختیار نہیں بخلاف صاحبین کے،مجمع۔(ت)
(۱؎ الہدایۃ کتاب البیوع باب خیار الشرط مطبع یوسفی لکھنؤ ۳/ ۴۰۔۳۹)
(۲؎ الدرالمختار کتاب البیوع باب خیار الشرط مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۱۳)
لہٰذا اسے اختیار ہوگا کہ کل جائداد واپس لے اور دین بدستور مذکور سابق اس پر لازم رہے خواہ اس ضرر تفریق کو گوارا کرکے جس نے رد کیا اس کا حصہ پھیرلے باقی میں بیع مقبول رکھے اس تقدیر پر جنہوں نے رد کیا انہیں وہی اختیار مذکور دیا جائے گا کہ خواہ اپنے اپنے حصص دین کا مطالبہ مدیون سے رکھیں خواہ ان پانے والے شریکوں یعنی مشتری وغیرہ نے (جن جن کے لئے عقد بفعل مشتری خواہ ان کے یا ان کے اولیا یا اوصیا کی اجازت سے نافذ ہوا) جو کچھ دین بمعاوضہ جائداد وصول پالیا اس قدر روپے سے اپنا حصہ رسد مطالبہ ان پانیوالوں سے کریں باقی کااصل مدیون سے رکھیں کما سبق(جیسا کہ پیچھے گزرا۔ت) مثلاً تصویر مسطور میں زید نے سب ورثہ کےلئےخریدی عمرو نے اجازت دی زید و عمرو بوعوض دین دو ثلث جائداد کے مالک ہوئے بکرنے کہ اسے جائز نہ رکھا چاہے تو اپنے تیس پورے مدیون سے لے خواہ دس دس زید و عمرو سے لے جو اپنے ساٹھ وصول پاچکے ہیں باقی دس کامطالبہ مدیون پر رکھے، واﷲ سبحٰہ و تعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
مسئلہ۱۲۷: ازالہ آباد دائرہ اجمل شاہ صاحب مرسلہ مولوی محمد صاحب محمدی ۱۳جمادی الآخر۱۳۱۴ھ
متعلقہ مسئلہ سابقہ
بعالی خدمت جناب مولٰنا الممجد دام فضلکم السلام علیکم ورحمۃ اﷲ وبرکاتہ
جو فتوٰی آپ نے مرحمت فرمایا اس میں عبارات ذیل ہیں ،بسبب علالت طبیعت،میں استخراج عبارت مذکور من الکتب کی طر ف متوجہ نہ ہوسکا او لڑکوں کی تلاش سے وہ عبارتیں کتاب میں نہ ملیں مجبورانہ خدمت گرامی بکمال تمنا ملتمس ہوں کو براہ عنایت کریمانہ تحریر فرمائیے کہ عبارت عبارات مذکورکس باب و فصل میں ہیں ممنون منت ہوں گا، والتسلیم!
فی الدرالمختار الدین المشترک بسبب متحد کدین موروث اذاقبض احدھما ۱؎الخ (ملخصا) فی الھندیۃ ولو اشتری بنصیبہ ثوبا فللشریک ان یضمنہ ۲؎الخ۔
درمختار میں ہےکہ دین مشترک جو سبب واحد کے ساتھ ہو جیسے دین موروث، پر دونوں میں سے ایک شریک جب قبضہ کرلے الخ ہندیہ میں ہے کہ جب ایک شرک نے مدیون سے اپنے حصہ کے بدلے میں کپڑا خریدا تو دوسرے شریک کو حق حاصل ہے کہ وہ اس سے ضمان لے الخ(ت)
(۱؎الدرالمختار کتاب الصلح فصل فی دعوی الدین مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۱۴۴)
(۲؎ فتاوٰی ہندیۃ کتاب الشرکۃ الباب السادس نورانی کتب خانہ پشاور ۲/ ۳۳۷)
الجواب: مولانا المکرم اکرم اﷲ تعالٰی ، السلام علیکم ورحمۃ اﷲ وربرکاتہ، عبارت درمختار کتاب الصلح فصل فی دعوی الدین
اور عبارت ہندیہ کتاب الشرکۃ الباب السادس فی المتفرقات میں ہے والسلام۔
مسئلہ۱۲۸: ۲۸ذی الحجہ ۱۳۱۱ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک شخص نے فی روپیہ انیس سیر کے حساب سے روپے قرض لئے لیکن غلہ بہم نہ کرسکا تو دائن نے اس سے بجائے غلہ کے زر نقد بحساب نرخ بازار لے لیا تو یہ شرح بازار قرضہ پر جوا افزود ہے آیا جائز ہے یا ناجائز؟بینواتوجروا۔
الجواب
ناجائز اور حرام قطعی اور نرا سود ہے،
فی الحدیث قال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کل قرض جر منفعۃ فھو ربٰو۱؎۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
حدیث میں ہے رسول اﷲصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو قرض نفع کھینچے سود ہے۔ واﷲ تعالٰی اعلم(ت)
(۱؎ کنز العمال حدیث ۱۵۵۱۶ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۶/ ۲۳۸)