| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۷(کتاب البیوع، کتاب الحوالہ، کتاب الکفالہ ) |
اور اگر شرط نہ ٹھہری تھی بلکہ دس روپے کا قرض لیا کہ اس کے عوض دس ہی روپے کا نوٹ ادا کیا جائے گا، پھر عمرو کے دل میں خیال آیا کہ نوٹ کے بدلے دس اور دو روپے اپنی طرف سے احساناً بڑھا کر بارہ روپے دے دے تویہ جائز واحسان ہے یا زید نے مثلاً اس سے اپنے قرض کا نوٹ مانگا اس کے پس نہ تھا بارہ روپے اس کے عوض دینے پر فیصلہ ہوا تو اس کی دوصورتیں ہیں ، اگر نوٹ عمرو خرچ کرچکا تو بالاتفاق بال شبہہ جائز ہے جبکہ روپے اسی جلسہ میں دے دئے جائیں ورنہ ناجائز ہوجائے گا اور اگر وہی نوٹ اس کے پاس بدستور موجود ہے اور اسی نوٹ موجود کے عوض روپے دئےے تو ہمارے امام اعظم و امام محمد رضی اﷲ تعالٰی عنہما کے نزدیک مطلقاً ناجائز ہے کہ عقد باطل ہے، زید پر لازم ہے کہ روپے عمرو کو پھیردے، ہاں نوٹ موجود کے بدلے روپے نہ دے بلکہ قرض لینے کے باعث جو اس کے ذمہ پر نوٹ لازم ہوا ہے اس کے عوض دے تو دونوں امام ممدوح کے طور پر جائز ہے مگر یہ شکل اخیر عوام کے تصور وخیال میں نہیں ہوتی کہ باوصف بقائے نوٹ وہ عین و دین میں فرق کریں اور بجائے مافی الید مافی الذمہ کا عوض دینا لینا مر اد رکھیں ،
درمختار میں ہے :
یملک المستقرض القرض بنفس القبض عندھما الامام ومحمد خلاف للثانی، فجاز شراء المستقرض القرض ولو قائما من المقرض بدراھم مقبوضۃ فلو تفرقا قبل قبضھا بطل لانہ افتراق عن دین بزازیۃ ۲؎اھ ملخصاً۔
(۲؎ درمختار کتاب البیوع فصل فی القرض مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۴۰ ۔ ۳۹)
مقروض محض قبضہ کرنے سے ان دونوں یعنی امام اعظم اور امام محمد کے نزدیک قرض کا مالک ہوجاتا ہے بخلاف امام ابویوسف کے ،لہٰذا (طرفین کے نزدیک) مقروض کا دراہم مقبوضہ کے بدلے میں قرض دہندہ سے قرض کو خرید نا جائز ہے اگر قرض موجود ہو اگر وہ دونوں شخص دراہم مذکورہ پر قبضہ سے قبل جدا ہوگئے تو یہ خریداری باطل ہوگی کیونکہ یہ دین سے جدا ہونا ہے، بزازیہ، اھ تلخیص۔(ت)
ردالمحتار میں ہے :
بیان ذلک انہ تارۃ یشتری مافی ذمتہ للمقرض وتارۃ مافی یدہ ای عین مااستقرضہ فان کان الاول ففی الذخیرۃ اشتری من المقرض الکر الذی لہ علیہ بمائۃ دینار جاز لانہ دین علیہ لابعقد صرف ولا سلم، فان کان مستھلکا وقت الشراء فالجواز قول الکل لانہ ملکہ بالاستھلاک و علیہ مثلہ فی ذمتہ بلا خلاف وان کان قائما فکذلک عندھما وعلی قول ابی یوسف ینبغی ان لایجو لانہ لایملکہ مالم یستھلکہ فلم یجب مثلہ فی ذمتہ، فاذا اضاف الشراء الی الکر الذی فی ذمتہ فقد اضافہ الٰی معدوم فلا یجوز اھ وھذا مافی الشرح وان کان الثانی ففی الذخیرۃ ایضا استقرض من رجل کراو قبضہ ثمن اشتری ذلک الکربعینہ من المقرض لایجوز علی قولھما لانہ ملکہ بنفس القبض فیصیر مشتریا ملک نفسہ اما علی قول ابی یوسف فالکُر باق علی المقرض فیصیر المستقرض مشتریا ملک غیرہ فیصح۱؎۔
اس کا بیان یہ ہے کہ مقروض کبھی تو اس چیز کوخرید تا ہے جو قرض دہندہ کےلئے اس کے ذمہ پر ہے اور کبھی بعینہ اس قرض کو خریدتا ہے جو اس کے قبضہ میں موجود ہے، اگر پہلی صورت ہوتو اس کے بارے میں ذخیرہ میں ہے کہ مقروض نے قرض دہندہ سےسو دینار کے عوض کر (غلہ) خریداقرض دہندہ کےلئے مقروض کے ذمہ پر لازم ہے تو یہ جائز ہے کیونکہ اس پر دین ہے جو کہ عقد صرف اور عقد سلم کے سبب سے نہیں ہے پھر اگر مقروض نے بوقت شراء قرض ہلاک کردیا ہے تو اس صورت میں سب نے جواز شراء کا قول کیا ہے کیونکہ وہ ہلاک کرنے کے سبب سے قرض کا مالک ہوگیا اور بلاخلاف اس کی مثل اس کے ذمے لازم ہے اور اگر بوقت شراء قرض مقروض کے پاس موجود ہے تو بھی طرفین کے نزدیک یہی حکم (جواز) ہے جبکہ امام ابویوسف کے قول پر مناسب ہے کہ جائز نہ ہو کیونکہ ان کے نزدیک جب تک وہ قرض کو ہلاک نہ کرے مالک نہیں ہوگا لہٰذا اس کی مثل مقروض کے ذمہ پر لازم نہ ہوگی اھ، یہ وہ ہے جو شرح میں ہے، اور اگر دوسری صورت میں ہے تو اس کے بارے میں بھی ذخیرہ میں ہے کہ کسی شخص نے ایک کر قرض لیا پھراس پر قبضہ کرکے بعینہ وہی کر اس مقروض نے قرض دہندہ سے خریدلیا تو طرفین کے قول پر جائز نہیں کیونکہ وہ مقروض محض قبضہ کرنے سے قرض کا مالک ہوچکا ہےتو اب وہ اپنی ہی ملک کا خریدار ہوگیا لیکن امام ابویوسف کے قول پر چونکہ وہ کر قرض دہندہ کی ملک پر باقی ہے، چنانچہ مقروض ملک غیر کا خریدار ہوا لہٰذا یہ خریداری صحیح ہے۔(ت)
(۱؎ ردالمحتار کتاب البیوع فصل فی القرض داراحیاء التراث العربی بیروت ۴/ ۱۷۳)
اسی میں ہے :
فی البزازیۃ من اٰخر الصرف، اذاکان لہ علی اٰخر طعام او فلوس فاشتراہ من علیہ بدرہم وتفرقا قبل قبض الدراہم بطل وھذا ممایحفظ ۲؎۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
بزازیہ باب الصرف کے آخر میں ہے کہ اگر کسی کا دوسرے کے ذمے اناج یا پیسے لازم ہیں پھر مقروض نےاس سے کچھ دراہم کے بدلے وہ اناج یا پیسے خرید لئے اور دراہم پر قبضہ سے پہلے ہی یہ دونوں شخص متفرق ہوگئے تو خرید اری باطل ہے، یہ بات قابل حفظ ہے۔(ت) واﷲ تعالٰی اعلم۔
(۲؎ردالمحتار کتاب البیوع فصل فی القرض داراحیاء التراث العربی بیروت ۴ /۱۷۴)
مسئلہ۱۲۶: ازالہ آباد دائرہ شاہ اجمل صاحب مرسلہ مولوی محمد صاحب محمدی برادر مولانا مفتی اسد اﷲ خان صاحب مرحوم ۲۴ ربیع الآخر ۱۳۱۴ھ کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ عوض قرضہ یا فتنی مورثکے منجملہ سے بری کردیا، مطابق شرع مذہب اہل سنت وجماعت دیگر وارثان کو وارث مذکور اس جو خریدار جائداد مدیون ہے بقدر حصہ رسدی زر قرضہ یافتنی مورچ کے نقد دلایا جائے گا یا جائداد خریدہ وارث مذکور متروکہ متصور ہوکر دیگر وارثان کو بھی بقدر سہام مفروضہ حصہ جائداد دلایا جائیگا۔ بینوامشرحا ومدللا مع سند الکتاب توجرواعنداﷲ الملک العزیز الوھاب (تفصیل سے مدلل اور حوالہ کتب کے ساتھ بیان فرمائیں اﷲ تعالٰی بادشاہ غالب بہت عطا فرمانے والے کے ہاں اجر دئے جاؤگے۔ت)
الجواب:صورت مستفسرہ میں ظاہر ہے کہ بائع مدیون کا مقصود یہی ہوگا کہ جائداد سب ورثہ کے حصص دین میں دے ان میں ہر ایک بقدر اپنے حصہ کے جائداد بعوض دین پالےکہ مدیون اسے دے کر دین سے بری ہو او مشتری بھی جبکہ دین مشترک میں لیتا ہے تو دیانۃً اس سے بھی یہی امید کہ تنہا اپنے ہی لئے نہ خریدی ہومگر واقع بارہا اس کے خلاف ہوتا ہے اورعبارت سوال سے کچھ نہیں کھلتا کہ بیع کس کے نام واقع ہوئی تنہا ایک شخص کا مشتری ہونا اسےمستلزم نہیں کہ مشترٰی لہ بھی تنہا وہی ہو، یوں ہی ثمن کسی مال مشترک بشرکت ملک بلکہ خاص ملک غیر ہی کو قرار دینا اس کی دلیل نہیں کہ شرا مشترک یاغیر کےلئے ہو،
فی الخیریۃ لایلزم من الشراء من مال الاب ان یکون المبیع للاب ۱؎۔
فتاوٰی خیریہ میں ہے کہ باپ کے مال سے کسی شیئ کو خریدنے سے لازم نہیں آتا کہ مبیع باپ کےلئے ہو۔(ت)
(۱؎ الفتاوٰی الخیریۃ کتاب البیوع فصل فی القرض دارالمعرفۃ بیروت ۱/ ۲۱۹)
لہٰذا ہمیں ہر احتمال پر کلام لازم اگر اس عقد میں کام عاقدین مختلف واقع ہوا یعنی بائع نےاپنی براءت تامہ کےلئے سب ورثہ کی طر ف اضافت کی اور مشتریہ نے اپنی منفعت کے واسطے صرف اپنی خصوصیت رکھی، مثلاً اس نےکہا میں نے یہ جائداد تم سب کے ہاتھ تمہارے دین میں بیع کی اس نے کہا میں نے اپنے لئے خریدی جب تو بیع ہی نہ ہوئی کہ ایجاب وقبول متخالف رہے،
فی البحر الرائق عن فروق الکرابیسی لو قال اشتریت لفلان بکذا و البائع یقول بعت منک بطل العقد فی اصح الروایتین والفرق انہ خاطب المشتری والمشتری یسترد لغیرہ فلایکون جوابا فکان شطر العقد۲؎۔
بحرالرائق میں فروق الکرابیسی سے منقول ہے کہ اگر کسی نے کہا کہ میں نے اتنے کے عوض یہ شیئ فلاں کےلئے خریدی ، اور بائع نے کہا کہ میں نے تیرے ہاتھ فروخت کے لئے خریدی، اور بائع نے کہا کہ میں نے تیرے ہاتھ فروخت کی، تو دو روایتوں میں سے زیادہ صحیح روایت کے مطابق عقد باطل ہوگا، فرق یہ ہےکہ بائع نے مشتری کو مخاطب بنایا جبکہ مشتری اس کو غیر کی طرف لوٹانا چاہتا ہے تو یہ مشتری کا جواب نہ ہوا تو اس طرح یہ آدھا عقد ہوا(یعنی دو میں سے صرف ایک رکن پایا گیا)(ت)
(۲؎ بحرالرائق کتاب البیوع فصل فی بیع الفضولی ایچ ایم سعید کمپنی کراچی۶ /۱۴۹)
اس صورت میں جائداد مدیون کو واپس اور ورثہ کا دین اس پر قائم،صرف مشتری کہ بری کرچکا، اگر اس کا ابرا اس عقد سے جدا واقع ہوا یعنی دین بطور خود معاف کردینا چاہاہو، اور اگر اس کی طرف سے بھی کوئی ابرائے جدا گانہ واقع نہ ہوا اسی شرائے جائداد بعوض دین کی بناء پر دعوٰی سے اسے بری کیا ہے تو س کا بھی دین بدستور باقی رہاوقد اوضحناہ وفصلناہ فی المداینات من فتاوٰنا(اس کی وضاحت وتفصیل ہم اپنے فتاوٰی میں مداینات کی بحث میں بیان کرچکے ہیں ۔ت) اور اگر مشتری نے اپنے ہی لئے خریدی اور بائع نے بھی اس کے ہاتھ بیچی سب ورثہ کی طرف اضافت نہ کی توبیع اسی مشتری کے لئے تمام ہوگئی دیگر ورثہ کا جائداد میں کچھ حق نہیں ، ہاں زر ثمن میں اس دین کا محسوب ہونا ان کی اجازات جائزہ شرعیہ پر موقوف رہے گا، جواجازت دے گا اس کے حصہ دین سے بائع بری، اور اس قدر روپیہ اجازت دہندہ کےلئے لازم بذمہ مشتری اور خود مشتری کے حصہ دین سے تو بائع بری ہو ہی چکا یہ اجازت دیگر ورثہ کہ یہاں درکار ہیوئی اجازت نقد ہے نہ اجازت عقد، عقد تو بامشتری تام ونافذ ہولیا یہاں تک کہ اگر کوئی شخص اپنے لئے کچھ خریدے اور اس کا ثمن کسی غیر کا غلام یا مکان قرار دے تو وہاں بھی صرف اس بناء پر کہ یہ من وجہ شراء ہے اور شراء مشتری پر نافذ عقد بنام مشتری تمام ہوجاتا ہے حالانکہ وہ من وجہ بیع ہے اور بیع مال غیر غیر نافذ و موقوف، تو جہاں من کل وجہ شرا ہے اس کا مشتری پر نفاذ اوضح واجلی ہے،