| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۷(کتاب البیوع، کتاب الحوالہ، کتاب الکفالہ ) |
مسئلہ ۱۲۲: ازچھاؤنی بانس بریلی بنگلہ ۲۴ملازم میجر اسٹور صاحب سؤلہ جناب شکور محمد صاحب خانساماں ۹ربیع الاول ۱۳۳۲ھ میں ایک شخص کا کھیت مبلغ پچیس روپے میں گروی رکھتا ہوں اپنے پاس، عرصہ دو سال کے بعد وہ شخص اپنا کھیت مبلغ پچیس روپے ہم کو دے کر واپس لے گااور دوسال تک اس کھیت میں جوت کر اور اس میں محنت کرکے جو ہماری طبیعت چاہے وہ ہم بوئیں گے مثلاً چنا، گیہوں اور مکاوغیرہ، توجو فصل اس میں ہوگی وہ ہماری ہے، اور سرکاری لگان بھی ہم دیں گے جو اس کی باقی ہے، اور بعد دو برس کے وہ پورے پورے مبلغ پیچیس روپے واپس دے کر اپنا کھیت واپس لے لے گا، اب ازراہ مہربانی اورعنایت پروری کے ساتھ یہ تحریر کریں کہ یہ بیاج تو نہیں ہوا ؟ اگر بیان ہوگیا تو نہ رکھوں اور اگر بیاج نہ ہو اہو تو رکھ لوں ۔ خوب اچھی طرح سمجھا کر تحریر کر دو کیونکہ ایک صاحب اس میں رائے دیتے ہیں کہ یہ بیاج ہوگیا، اب آپ کیہ رائے پر ہے یہ معاملہ، اگر بیاج ہوگیا تو ہم بھی اپنا کھیت دوسرے کے پاس نہ گروی رکھیں ۔
الجواب: یہ نہ شرعاً رہنہے نہ کسی طرح سود رہنکے لئے ضرور یہ ہےکہ وہ شیئ رہن رکھنے والے کی ملک ہو یا مالک نے اسے رہن کی اجازت دی ہو گیر کی ملک بے اس کی اجازت کے رہن نہیں ہوسکتی، یہاں یہ دونوں صورتیں ، ظاہر ہے کہ کھیت کا شتکار کی ملک نہیں زمیندار کی ملک ہے اور زمیندار نے اسکے رہن کی اجازت نہ دی کہ اسکی طرف سے وہ اجارہ میں ہے وہ اس کی اجرت یعنی لگان لے گا
والرھن والاجارۃ عقد ان متنا فیان لایجتمعان
(رہن اور اجارہ دو ایسے عقد ہیں جو ایک دوسرے کے منافی ہیں آپس میں جمع نہیں ہوسکتے۔ت) تو اتنے زمانے کے لئے یہ زمیندار سےذکرکردےکہ مثلاً دو برس تک یہ زمین میری کاشت میں رہے گی اور میں لگان دوں گا وہ اجازت دے دے گا اب یہ کاشت اور اس کا محاصل سب بلا شبہہ حلال ہوگا، پہلے کاشت کارکو جتنا روپیہ قرض دیا ہے اسی قدر اس سے واپس لے زائدنہ لے تویہ صورت کسی طرح سود نہیں ۔ واﷲتعالٰی اعلم
مسئلہ۱۲۳ تا ۱۲۴: ازجائس ضلع رائے بریلی محلہ زیر مسجد مکان حاجی ابراہیم مرسلہ ولی اﷲصاحب ۲ربیع الاول شریف ۱۳۲۰ھ کیافرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل میں : سوال اول: خراب اناج کھلانا اور فسل پراچھا اناج لینا جائز ہے یانہیں ؟ سوال دوم: چاول یا گیہوں پر روپیہ دینا نرخ کاٹ کر کہ فصل پر ا س نرخ سے لیں گے فصل نہ ہوئی تو اس روپیہ کو اسی بھاؤ سے جوڑ کر زیادہ کرکے یعنی جب اس بھاؤ کو جوڑا تو اب روپیہ زیادہ ہو دوسری فصل پر چھوڑ دینا یا گائے بیل لگالینا جائز یانہیں ؟فقط
الجواب (۱) اگراس نے ناج ناقص کردیا اور یہ شرط نہ تھی کہ عمدہ لوں گا قرضدار نے اپنی خوشی سے عمدہ ناج دے دیا سای قدر جتنا قرض لیا تھا تو اس میں مضائقہ نہیں اور اگر اسی شرط پر قرض دے کہ خراب دیتا ہوں اس کے برابر یا کم یا زائد عمدہ لوں گا، تو یہ ناجائز ہے،
لکونہ خلاف حکم الشرع من ان الدیون تقضی بامثالھا ولم یجز التنقیص ایضا لان الشرط المساواۃ قد راوالجید والردی فیہ سواء۔ واﷲتعالٰی اعلم۔
کیونکہ یہ شرع کے اس حکم کے خلاف ہے کہ قرضوں کی ادائیگی ان کی مثل کے ساتھ ہوتی ہے اور کمی بھی جائزنہیں کیونکہ اس میں مقدار کے اعتبار سے مساوات شرط ہے، عمدہ اور گھٹیا اس میں برابر ہیں ، واﷲتعالٰی اعلم (ت) (۲) ناج رپ روپیہ نرخ کاٹ کر دینا اگر انہیں لفظوں سے ہو کہ فصل پر اس نرخ سے لیں گے، تو نرا وعدہ ہے جس کا وفا کرنا ناج ولاے پر لازم نہیں اور اگر یوں ہے کہ اتنا ناج اس بھاؤ سے اتنے روپیہ کا خریدا تو یہ بیع سلم ہے اس کی سب شرطیں پائی گئیں تو جائز ہے ورنہ حرام۔ پھر بہرحال جب وہ ناج نہ دے سکے تو اس قرار داد بھاؤ کے حساب سے روپیہ یا اس کے بدلے گائے وغیرہ کوئی شے لینا قطعی حرام ہے، لحدیث لاتأخذ الاسلمک او راس مالک ۱؎، واﷲ تعالٰی اعلم وعلمہ اتم واحکم۔اس حدیث کی وجہ سے بیع سلم کی مبیع یا راس المال کے علاوہ مت لے، واﷲ تعالٰی علم وعلمہ اتم واحکم۔(ت)
(۱؎ درمختار کتاب البیوع باب السلم مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۴۹) (تبیین الحقائق کتاب البیوع باب السلم المطبعۃ الکبری بولاق مصر ۴ /۱۱۸)
مسئلہ۱۲۵: از مارہرہ شریف ضلع ایٹہ مرسلہ شیخ شان الٰہی ۱۵جمادی الاولٰی ۱۳۱۷ھ کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اگر زید عمرو کو دس روپے کا نوٹ قرض دے اور اس وقت یا کچھ دنوں کے بعد عمرو بارہ روپے نقد ادا کرے تو اس پر سود کا اطلاق ہوسکتا ہے نہیں اور زید وعمرو گنہگار ہوئے یانہیں ؟بینو اتوجروا۔
الجواب: اگر قرض دینے میں یہ شرط ہوئی تھی تو بیشک سود و حرام قطعی و گناہ کبیرہ ہے، ایسا قرض دینے والا ملعون اور لینے والا بھی اسے کے مثل ملعون ہے اگر بے ضرورت شرعیہ قرض لیا ہو۔ حدیث میں ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علییہ وسلم فرماتے ہیں :
کل قرض جرمنفعۃ فھو ربٰو ۱؎۔
قرض پر جو نفع حاصل کیا جائے وہ سود ہے۔
رواہ الحارث ابی اسامۃ عن امیر المؤ منین علی کرم اﷲ تعالٰی وجہہ الکریم۔
(اسے حارث بن اسامہ نے امیر المومنین حضرت علی کرم اﷲوجہہ الکریم سے روایت کیا۔ت)
(۱؎ کنز العمال حدیث ۱۵۵۱۶ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۶/ ۲۳۸)
متعدد احادیث صحیحہ میں ہے رسول اﷲ صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
لعن اﷲ اٰکل الربو مؤکلہ وکاتبہ وشاھدہ۲؎۔ رواہ احمد وابوداؤد و الترمذی وابن ماجۃ بسند صحیح عن ابی مسعود واحمد و النسائی بسند صحیح عن امیر المومنین علی رضی اﷲ تعالٰی عنہما وھو عند مسلم عنہ بلفظ لعن رسول اﷲصلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم اٰکل الربا ومؤکلہ وکاتبہ وشاھدیہ وقال ھم سواء ۱؎۔
اﷲ کی لعنت سود کھانے والے پراور سود کھلانے والے پر اور سود کا کاغذ لکھنے والے اور اس کے گواہ پر۔ (اس کو امام احمد، ابوداؤد، ترمذی اور ابن ماجہ نے صحیح سند کے ساتھ سید نا ابومسعود رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے رویات کیا، اور امام احمد اور نسائی نے صحیح سند کے ساتھ امیر المؤمنین حضرت علی رضی اﷲتعالٰی عنہ سے روایت کیا اور امام احمد علی رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے روایت کیامگر اس میں لفظ شاہد کے بدلے مانع صدقہ کے لفظ ہیں اور یہ امام مسلم کے نزدیک حضرت علی رضی اﷲتعالٰی عنہ سے ان لفظوں کے ساتھ مروی ہے کہ رسول اﷲصلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم نے سود کے کھانے والے، کھلانے والے، لکھنے والے اور اس کے گواہوں پر لعنت فرمائی، اور فرمایا کہ وہ سب برابر ہیں ۔(ت)
(۲؎ مسند امام احمد بن حنبل دارالفکربیروت ۱/ ۳۹۳) (سنن ابوداؤد کتاب البیوع باب فی اکل الربا آفتاب عالم پریس لاہور ۲/ ۱۱۷) (جامع الترمذی کتاب البیوع باب ماجاء فی اٰکل الربو امین کمپنی کتب خانہ رشیدیہ دہلی ۱/ ۱۴۵) (۱؎ صحیح مسلم کتاب المساقات باب الرباء قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۲۷)