Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۷(کتاب البیوع، کتاب الحوالہ، کتاب الکفالہ )
53 - 180
فکان دائنا ظفر بجنس حقہ
(وہ ایسا قرضخواہ ہوا و اپنے حق کی جنس کو وصول کرنے میں  کامیاب ہوگیا۔ت)
اب زید نوکر کے مطالبہ سے بری ہوگیا لانہ استوفی ماکان لہ (کیونکہ اس نے اپنا حق پورا وصول کرلیا۔ت)
پس خلاصہ حکم یہ ہے کہ اگر نوکر یہ کہہ کر الایا تھا کہ میرے آقا کو قرض دے، تو مہاجن کے پچاس روپے زید پر قائم اور زید کے پچاس روپے نوکر پر لازم، اور اگر یہ کہہ کر لایا کہ مجھے آقا کے لئے قرض دے، تو مہاجن کے پچاس روپے نوکر پر واجب اور نوکر کے پچاس روپے جو آقا پر تھے ادا ہوگئے۔ غرض نوکر پر ہر طرح پچاس روپے کامطالبہ ہے، پہلی صورت میں  آقا دوسری میں مہاجن کا، اور زید پر پہلی صور تمیں  مہاجن کا مطالبہ ہے دوسری میں  کسی کا نہیں ، واﷲ تعالٰی  اعلم
مسئلہ۱۱۷: ازسرنیاں  ضلع بریلی مرسلہ امیر علی صاحب قادری ۲ رجب ۱۳۳۱ھ

بھاؤ بکتازید سے اناج خرید کیا مگر ادھار فصل پر بھاؤ بکتا جتنا روپیہ ادھار تھا اس کا زید نے مول لیا۔
الجواب: اگر زید نے بیچتے وقت شرط کرلی تھی کہ اس کی قیمت میں روپیہ نہ لوں گا بلکہ روپیہ کے عوض فصل کے بھاؤ سےناج لوں گا، تو یہ ناجائز ہے اور اگر شرط نہ کی تھی اور فصل پر اس سے اپنا آتا ہوا روپیہ مانگا اس نے کہا روپیہ تو میرے پس نہیں  اس کا اناج لے لو، تو یہ جائز ہے جبکہ وہی ناج نہ ہو جو زید سے خریدا تھا یا وہی ہو تو اتنے ہی بھاؤ کو دیاجائے جتنےکو خریدا تھا ورنہ ناجائز ہے۔ واﷲ تعالٰی  اعلم۔
مسئلہ۱۱۸: اذدھوراجی ضلع کاٹھیاواڑ محلہ سیاہی گراں  مرسلہ جناب حاجی عیسی خان محمد صاحب رضوی یکم ذی الحجہ ۱۳۳۲ھ

ایک شخص کو ایک ہزار روپے کا نوٹ دس ماہ کے وعدہ سے گیارہ سوروپے کو دیا، قرضدار نے اپنے وعدہ پر قرض خواہ کو گیارہ سوروپے کے دوسرے نوٹ دئے (وہی نہیں  دئیے) تو جائز یا کیا؟ جواب سے سرفراز فرمائیں ۔
الجواب :اگر ہزار روپے کا نوٹ قرض دیا اور پیسہ اوپر ہزار لینا ٹھہرا تو حرام ہے سود ہے ہاں  اگر ہزار روپے کا نوٹ گیارہ سوروپے کو بیچا اور ادائے ثمن کا وعدہ مثلاً دس ماہ کا قرار پایا جب وعدہ کا دن آیا بائع نے زرثمن کا مشتری سے مطالبہ کیا اس نے کہا میرے پاس روپیہ نہیں  گیارہ سو روپے کے نوٹ زرثمن کے بدلے لے لو، اس نے قبول کیا اور نوٹ اس کے عوض میں  دے دئے تو یہ جائز ہے  وھی مسئلۃ شراء القرض من المستقرض(یہ مقروض سے قرض خرید نے کا مسئلہ ہے۔ت) واﷲ تعالٰی  اعلم۔
مسئلہ۱۱۹: ازپکسرانواں  ڈاکخانہ رسول پور ضلع رائے بریلی مسئولہ عبدالوہاب ۲۰رمضان ۱۳۳۹ھ

کیافرماتے ہیں  علمائے دین اس مسئلہ میں  کہ زید سے بکر نے ماہ کا تک میں  بغرض تخم ریزی ایک من گیہوں  لیا اورفصل کٹنے پر ماہ چیت میں  ایک من کا ایک من گیہوں  واپس دیا یعنی کچھ کمی بیشی نہیں  ہوئی، جائز ہے یانہیں ؟بینواتوجروا۔
الجواب: جائز ہے،
عملا بقول الامام ا ابی یوسف من اعتبار العرف فی الکیل والوزن مطلقا وقد تعمل بہ الناس وشاع بینھم استقراض الحنطۃ وزنا، ولاحول ولا قوۃ الاباﷲ العلی العظیم۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
امام ابویوسف کے قول پر عمل کرتے ہوئے کہ کیلی اور وزنی اشیاء میں  مطلقاً عرف کا اعتبار ہے اور لوگوں  کا اس پر عمل ہے اور گندم کو وزن کے اعتبار سے قرض لینا لوگوں  میں رائج ہے، گناہ سے بچنے اور نیکی کی طاقت نہیں  مگر بلند و عظمت والے معبود کی طرف سے۔ واﷲ تعالٰی  اعلم (ت)
مسئلہ ۱۲۰: مسئولہ الف خان مہتمم مدرسہ انجمن اسلامیہ قصبہ سانگوا ریاست کوٹہ راجپوتانہ بروز یکشنبہ 

۳شعبان ۱۳۳۴ھ

(۱) نوٹ قیمتی پچیس روپے کو ہمراہ یک صدیا پانصد روپے کے قریباً پچاس روپے کی قیمت پر بدست کسی ہندو یا مسلمان کے کسی مدت کے وعدہ پر بیع کرنا شرعاً درست ہے کہ نہیں ؟ اسی طرح زیور طلائی یا کوئی پارچہ کسی شیئ تجارت کو ہمرا روپے ادھار میں  زیادہ قیمت پر بیع کرنا اور تنہا نوٹ کو بھی اصلی قیمت سے زیادہ ادھار میں بیع کرنا درست ہے کہ نہیں ؟

(۲) غلہ تجارتی کو ادھار میں موجودہ نرخ سے زیادہ قیمت پر بیع کرنا درست ہے کہ نہیں ؟
الجواب:

(۱) قرض لینے والا بضرورت قرض قرض کے ساتھ کم مالیت کی شے زیادہ قیمت کو اس طرح خریدے کہ وہ بیع اس قرض پر مشروط ہو تو بالاتفاق حرام ہے،
لان النبی صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم نہی عن بیع وشرط۱؎۔
کیونکہ نبی صلی اﷲ تعالٰی  علیہ وسلم نے بیع ور شرط سے منع فرمایا ہے۔(ت)
 (۱؎ نصب الرایۃ     کتاب البیوع     باب البیع الفاسد     المکتبۃ الاسلامیۃ لصاحبہا الریاض     ۴ /۱۷)
خواہ یہ شرط نصا ہو یا دلالۃًلان المعروف کالمشروط ۲؎(کیونکہ معروف، مشروط کی طرح ہوتاہے۔ت)
 (۲؎فتح القدیر   کتاب البیوع    باب المرابحہ والتولیۃ    مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر    ۶/ ۱۳۴)
او اگر عقد قرض پہلے ہو اور یہ بیع اس میں  نصاً یا دلالۃً مشروط نہ ہو تو اس میں  اختلاف ہے، بعض علماء اجازت دیتے ہیں  کہ یہ بیع بشرط القرض نہیں  بلکہ قرض بشرط البیع ہے اور قرض شروط فاسدہ سے فاسد نہیں  ہوتا، اور راجح یہ ہے کہ یہ بھی ممنوع ہے کہ اگرچہ شرط مفسد قرض نہیں  مگر یہ وہ قرض ہے جس کے ذریعہ سے ایک منفعت قرض دینے والے نے حاصل کی اور یہ ناجائز ہے۔ نبی صلی اﷲتعالٰی  علیہ وسلم فرماتے ہیں :
کل قرض جر منفعۃ فھو ربو۳؎
 (جو قرض نفع کھینچے وہ سود ہے۔ت)
(۳؎ کنز العمال   حدیث ۱۵۵۱۶  مؤسسۃ الرسالہ بیروت  ۶/ ۲۳۸)
لہٰذا ان سب صورتوں  کو ترک کیا جائے وار قرض کا نام ہی نہ لیا جائے اور خالص بیع ایک وعدہ معینہ پر ہو، اب نوٹ کی بیع روپے کے عوض جائز ہوگی اگرچہ دس کا نوٹ سو کو بیچے، اور دونوں  صورتوں  میں  فرق وہی ہےجو قرآن عظیم نے فرمایا :
واحل اﷲ البیع وحرم الربٰو۴؎۔
اﷲ تعالٰی  نے بیع کو حلال وار سود کو حرام کیا۔(ت)
(۴؎ القرآن الکریم  ۲/ ۲۷۵)
مگر چاندی سونے کی بیع اب بھی جائز نہ ہوگی اور نوٹ کی جائز ہوگی۔
قال النبی صلی اﷲتعالٰی اعلم وسلم اذا اختلف النوعان فبیعواکیف شئتم ۵؎۔
نبی کریم صلی اﷲ تعالٰی  علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب بدلین مختلف نوعوں  کے ہوں  تو جیسے چاہوبیع کرو۔(ت)
 (۵؎ نصب الرایہ لاحادیث الہدایہ   کتاب البیوع     المکتبۃ الاسلامیہ لصاحبہا الریا ض  ۴/ ۴)
اور یہ زیادہ قیمت دینا اگرچہ بحالت قرض ہے بوجہ بیع جائزہے اگرچہ اولٰی  نہیں ،

 درمختار میں  ہے :
شراء شیئ بثمن غال لحاجۃ القرض یجوزویکرہ۔۱؎ واﷲتعالٰی اعلم۔
کسی چیز کو حاجت قرض کی وجہ سے مہنگے داموں  خریدنا جائز اور مکروہ ہے(ت) واﷲ تعالٰی  اعلم
 (۱؎ درمختار     کتاب البیوع    فصل فی القرض     مطبع مجتبائی دہلی     ۲ /۴۰)
 (۲) درست ہے۔واﷲ تعالٰی  اعلم
Flag Counter