Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۷(کتاب البیوع، کتاب الحوالہ، کتاب الکفالہ )
52 - 180
بابُ القرض

(قرض کا بیان)
مسئلہ ۱۱۵ : کیافر ماتے ہیں  علمائے دین و مفتیان شرع متین کہ ایک شخص نے مبلغ سو روپیہ اس شرط پر قرض لیا کہ پچیس روپے سالانہ منافع مقررہ بلا نقصان کے دیتارہوں  گا اور جب جمع طلب کروگے تو تمہارا پورا روپیہ واپس کردوں  گا، جس شخص نے اس شرط کو قبول کرکے روپیہ دے دیا اس پر خود سودخوری کا حکم ہے یانہیں ؟ اور اس کے پیچھے نمااز پڑھنا جائز ہوگی یا ناجائز؟بینواتوجروا(بیان کرواجردئے جاؤگے۔ت)
الجواب:قطعی سوداور یقینی حرام وگناہ کبیرہ خبیث ومردار ہے۔
حدیث میں  ہے :
قال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کل قرض جر منفعۃً فہو ربٰو۱؎۔
رسول اﷲصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا جو قرض نفع کو کھینچے وہ سود ہے (ت)
(۱؎ کنز العمال   حدیث ۱۵۵۱۶   مؤسسۃ الرسالہ بیروت    ۶/ ۲۳۸)
ایسے شخص کے پیچھے نماز پڑھنی سخت مکروہ ہے جس کے پھیرنے کا حکم ہے اور اسے امام کرنا گناہ
، کما نص علیہ الامام الحلبی فی الغنیۃ ۲؎
 (جیسا کہ سا پر امام حلبی نے غنیـہ میں  نص فرمائی ہے۔ت) واﷲتعالٰی  اعلم
 (۲؎غنیۃ المستملی     فصل فی الامامۃ     سہیل اکیڈمی لاہور     ص۱۴۔ ۵۱۳)
مسئلہ ۱۱۶: ۵ شوال ۱۳۰۷ھ

کیافرماتے ہیں  علمائے دین اس مسئلہ میں  کہ زید نے اپنے ملازم سے کہا پچاس روپلے مجھے کسی سے قرض لادے، ملازم ایک مہاجن سے پچاس وپے یہ کہہ کر قرض لایا کہ میرے آقا کو ضرورت روپے کی ہے مہاجن نے غائبانہ بلاتصدیق پچاس روپے دے دئیے اور ملازم نے اپنا رقعہ اسے لکھ دیا بعدہۃ روپیہ آقا کو ادا کردیا اور بیان کیا کہ میں  فلاں  مہاجن سے یہ روپیہ آپ کے نام سے قرض لایا ہوں  اور رقعہ اپنادستخطی لکھ کر دے آیا ہوں ، بعد چندے زید نے وہ(م۵۰/) اس ملازم کو دے دئیے، بعد بہت عرصہ کے تحقیق ہوا کہ روپیہ مہاجن کو نہیں  پہنچا بلکہ ملازم نے خود اپنے تصرف میں  کرلیا اور ملازم سے پوچھا تو وہ بھی اقرار کرتا ہے کہ روپیہ میں  نے مہاجن کو نہیں  دیا، اور کہتا ہے یہ روپیہ تو میں  اپنے رقعہ سے لایا تھا آقا سے مجھے ملنا چاہئے تھا، اس صورت میں  وہ (م۵۰/) مکرر ذمہ زید کے واجب الادا ہیں  یانہیں ؟ اور یہ (م۵۰/)کہ نوکرنے تصرف کرلئے اسے دینا آئیں  گے یانہیں ؟بینواتوجروا۔
الجواب:  صورت مستفسرہ میں  اگر نوکرنے یوں  قرض مانگا تھا کہ میرے آقا کو پچاس روپے قرض دے دے یا میرا آقا تجھ سے پچاس روپے قرض مانگتا ہے جب تو یہ قرض آقا کے ذمہ ہے اور اگر یوں  مانگا تھا کہ میرے آقا کو پچاس روپے کی ضرورت  ہے مجھے قرض دے یا میرے آقا کے لئے مجھے پچاس روپے قرض دے تو مہاجن کا قرض نوکر کے ذمہ ہوا۔
ردالمحتار میں  ہے :
فی جامع الفصولین بعث رجلا یستفرضہ فاقرضہ فضاع فی یدہ فلو قال اقرض للمرسل ضمن مرسلہ، ولو قال اقرضنی للمرسل ضمن رسولہ، والحاصل ان التوکیل بالقراض جائز لابالاستقراض و الرسالۃ بالاستقراض تجوز، ولواخرج وکیل الاستقراض کلامہ مخرج الرسالۃ یقع القرض للاٰمر، ولو مخرج الوکالۃ بان اضافہ الی نفسہ یقع للوکیل ولہ منعہ عن آمرہ اھ، قلت والفرق انہ اضاف العقد الی الموکل بان قال ان فلان یطلب منک ان تقرضہ کذاصار رسولا و الرسول سفیر ومعبر بخلاف مااذااضافہ الی نفسہ بان قال اقرضی کذااوقال اقرضی لفلان کذافانہ یقع لنفسہ ویکون قولہ لفلان بمعنی لاجلہ، وقالو اانما لم یصح التوکیل بالاستقراض لانہ توکیل بالتکدی وھو لایصح، قلت ووجہہ ان القرض صلۃ وتبرع ابتداء فیقع للمستقرض اذلاتصح النیابۃ فی ذلک فھو نوع من التکدی بمعنی الشحاذۃ ھذا ماظہرلی اھ ۱؎۔
جامع الفصولین میں ہے کسی نے ایک شخص کو قرض لینے کے لئے بھیجا اس نے قرض لیا ور اس کے ہاتھ سے ضائع ہوگیا، اگر اس نے قرض لیتے وقت یوں کہا کہ بھیجتنے والے کےلئے قرض دے تو بھیجنے والا ضامن ہوگا، اور اگر کہا کہ بھیجنے والے کےلئے مجھے قرض دے تو اب قاصد ضامن ہوگا۔ حاصل یہ کہ قرض دینے کے لئے وکیل بنانا جائز نہ کہ قرض لینے کے لئے، اور قرض لینے کے لئے قاصد بھیجناجائز ہے، اور اگر قرض لینے کے وکیل نے بطور قاصد کلام کیا تو قرض آمر کے لئے ہوگا اور اگر ساس نے بطور وکیل کلام کیا بایں  اس کو اپنی ذات کی طرف منسوب کیا تو اس صور ت میں  قرض خود وکیل کے لئے واقع ہوگااور اس کو اختیار ہوگا کہ وہ قرض آمر کو نہ دے اھ میں  کہتا ہوں  ان دونوں صورتوں  میں  فرق یہ ہے کہ جب اس نے عقد کو مؤکل کی طرف منسوب کیا مثلاً یوں  کہا کہ فلاں  تجھ سے مطالبہ کرتا ہے کہ تواس کو قرض دے تو اس صورت میں  وہ قاصد ہوگیا اور قاصد محض سفیر اور معبر ہوتا ہے بخلاف اس صورت کے کہ جب اس نے اپنی طرف نسبت کی اور کہا مجھے اتنا قرض دے یا کہ کہ مجھے فلاں  کے لئے اتنا قرض دے تو یہ قرض خود اس کے لئے واقع ہوا اور اس کے قول ''فلاں  کے لئے'' کا مطلب ہوگا کہ فلاں  کی وجہ سے۔ اور علماء نے کہا کہ قرض لینے میں  وکیل بنانا اس لئے صحیح نہیں  کہ یہ گداگری میں  وکیل بنانا ہے جو کہ صحیح نہیں ۔ میں  کہتا ہوں  اس کی وجہ یہ ہے کہ قرض ابتداءً صلہ اور احسان ہے چنانچہ قرض مانگنے والے کے لئے واقع ہوگا کیونکہ اس میں  نیابت درست نہیں  تو اس طرح وہ تکد بمعنی گداگری کی ایک قسم ہوگا، یہ وہ ہے جومیرے لئے ظاہر ہوا اھ (ت)
 (۱؎ ردالمحتار  کتاب البیوع  فصل فی القرض  داراحیاء التراث العربی بیروت     ۴/۱۷۵)
پھراس صور میں  جبکہ نوکرنے وہ روپے جو حقیقۃً اس کی ملک ہوچکے تھے لاکر آقا کو دے دیے اور اس نے اپنے صرف میں  کئے، اور ظاہر ہے کہ یہ دینابروجہ ہبہ نہ تھا بلکہ بربنائے قرض ووجوب تقاضا وادائے مثل تھا تو نوکر کا دین آقا کے ذمہ رہا۔
لان الاستقراض لما نفذ علی الخادم لاضافتہ الی نفسہ وقد اعطی علی وجہ التقاضی دون الھبۃ وبالتراضی صار کفضولی شری مضیفا الی نفسہ حتی نفذ علیہ ثم اعطاہ من اشتری لہ واخذمنہ الثمن حیث لایکون ھذا اجازۃ للعقد السابق لان الاجازۃ انما تلحق الموقوف دون النافذ بل یکون عقدا جدیدابینھما بالتعاطی۱؎کما فی الھدایۃ والدر المختار وغیرہما من الاسفار وذٰلک لکون الدفع بجھۃ البیع دون الھبۃ۔
کیونکہ قرض لینا اپنی ذات کی طرف منسوب کرنے کی وجہ سے خادم پر نافذ ہوگیا اور اس باہمی رضامندی سے وجوب تقاضا کے طور پر اپنے آقا کو دے دیا نہ کہ ہبہ کے طور پر، تو اس طرح وہ نوکر اس فضولی کیہ طرح ہوگیا جس نے اپنی ذات کی طرف نسبت کرتے ہوئے کوئی چیزخرید ی یہاں  تک کہ خریداری اس پر نافذ ہوگئی پھر وہ چیز نوکر نے اس شخص کو دے دی جس کے لئے اس نے خریدی اور اس سے ثمن وصول کرلئے، یہاں  یہ عقد سابق کی اجازت نہ ہوگی اس لئے کہ اجازت تو عقد موقوف کو لاحق ہوتی ہے نہ کہ نافذ کو، بلکہ یہ باہمی لین دین سے ان دونوں  کے درمیان ایک نیا عقد ہوگا جیسا کہ ہدایہ اور درمختار وغیرہ کتاب میں  ہے، ور یہ بطور بیع دینے کی وجہ سے ہے نہ کہ بطور ہبہ۔(ت)
(۱؎ بحرالرائق  کتاب البیع   فصل فی بیع الفضولی   ایچ ایم سعید کمپنی کراچی     ۶ /۱۴۹)
اور ظاہر کہ جب روپے مہاجن کو نہ پہنچے تو اس کا قرض کسی طرح ادا نہ ہوا،
لانہ مال ھلک قبل الوصول الی الطالب او الی وکیلہ فلا معنی للقضاء وبراءۃ الذمۃ۔
اس لئے کہ وہ مال طالب یا اس کے وکیل تک پہنچنے سے قبل ہی ہلاک ہوگیا تو اب قرض کی ادائیگی اور اس سے بری الذمہ ہونے کا کوئی معنی نہیں ۔(ت)
اب اگر واقع صورت اولٰی  تھی مہاجن کا قرض زید پر رہا اور یہ روپے کہ زید نے نوکر کو ادائے دین کے لئے دئے اور اس نے اپنے صرف میں  کرلئے اس کا تصرف بیجا ور حرام ہے اور نوکر پر اس تاوان لازم،لکونہ امینا خان و اتلف وتعدی علیہ فیما تصرف فصار ضمینا بعد ان کان امینا۔کیونکہ وہ امین تھا اس نے خیانت کی اور امانت میں  بیجا تصرف کرکے زیادتی کی تو اب وہ ضامن ہے جبکہ اس سے قبل وہ امین تھا۔(ت)
اور اس کا یہ عذر کہ روپیہ تو میں  اپنے رقعہ سے لایا تھا آقا سے مجھے ملنا چاہئے تھا محض نامقبول کہ جب آقا پر دین مہاجن کا تھا تو مہاجن کو پہنچنا چاہئے تھا یہ بیچ میں  لے لینے والا کون تھا، اور اگر واقع صورت ثانیہ تھی تو مہاجن کا قرض نوکر کے ذمہ رہا زید سے کچھ تعلق نہیں  اور یہ روپے کہ نوکر نے بربنائے مذکور اپنے سمجھ کر اٹھالئے بجا کئے کہ فی الواقع زید پر نوکر ہی کا دین تھا اور زید سے اسی کو ملنا چاہئے تھا
Flag Counter