فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۷(کتاب البیوع، کتاب الحوالہ، کتاب الکفالہ )
51 - 180
فتاوٰی قاضی خان جلد دوم ص۲۵۱:
اذا اختلف المتبائعان احدھما یدعی الصحۃ والاخر الفساد بشرط اسد اواجل فاسد کان القو قول مدعی الصحۃ والبینۃ بینۃ مدعی الفساد باتفاق الروایات، وان کان مدعی الفساد یدعی الفساد لمعنی فی صلب العقد بان ادعی انہ اشتراہ بالف درہم ورطل من خمر والاٰخریدعی البیع بالف درہم، فیہ روایتان عن ابی حنیفۃ رحمہ اﷲ تعالٰی فی ظاھر الروایۃ القول قول من یدعی الصحۃ ایضا والبینۃ بینۃ الاٰخر کما فی الوجہ الاول وفی روایۃ القول قول من یدعی الفساد۱؎۔
جب بائع اور مشتری میں اختلاف ہوان میں سے ایک صحت عقدکا جبکہ دوسراکسی شرط فاسد کی وجہ سے فساد عقد کا دعوٰی کرے تو قول صحت کے مدعی کا بہتر ہوگا اور گواہ فساد کے مدعی کے معتبر ہوں گے، اس پر تمام روایات میں اتفاق ہے۔اگر فساد کا دعوٰی کرنے والا اصل عقد میں پائی جانیوالی کسی خرابی کے سبب سے فساد کادعوٰی کرے مثلاً اگر وہ دعوٰی کرے کہ اس نے یہ شے ہزار درہم اور ایک رطل شراب کے عوض خریدی ہے جبکہ دوسرا دعوٰی کرے کہ اس نے ہزار درہم کے عوض فروخت کی، تو اس میں امام ابوحنیفہ رحمہ اﷲ تعالٰی سے دو روایتیں منقول ہےں ، ظاہر الروایۃ میں ہے کہ قول مدعی صحت کا اور گواہی دوسرے کے معتبر ہیں جیساکہ پہلی صورت میں بیان ہوا، اور ایک روایت میں یوں ہے کہ فساد کے مدعی کا قول معتبر ہوگا۔(ت)
(۱؎ فتوٰی قاضی خان کتاب البیوع فصل فی احکام البیع الفاسد مطبع نولکشور لکھنؤ ۲ /۳۵۰)
اور اسی طرح فتاوٰی عالمگیری میں نقل کیاجدل۳ ص ۵۲۔خلاص کتاب البیوع فصل ۴ :
لوادعی احدھما فساد العقد والاخر الصحۃ القول قول من یدعی الصحۃ ۲؎الخ۔
فتاوٰی صغری میں ہے اگر بائع اور مشتری میں سے ایک نے فساد عقد کا جبکہ دوسرے نے صحت عقد کیا دعوٰی کیا تو صحت کے مدعی کا قول معتبر ہوگا۔(ت)
(۲؎ خلاصۃ الفتاوٰی کتاب البیوع الفصل الرابع مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۳ /۴۸،۴۹)
قابل لحاظ ہے کہ جب اسل بائع دعوٰی فساد کرتا تو اس کا قول تسلیم نہ ہوتا غیر کا کیونکر ہوگا۔
(۱۰) اتنی بات اور بھی لائق التفات ہے کہ مدعیہ کو اس کی گنجائش ہی نہیں کہ وہ ہبہ ثمن بر سبیل اشتراط یا بلا اشتراط مابین الایجاب والقبول خواہ بعد القبول واقع ہونا مانے، کیونکہ اس تقدیر پر مورث کا بیع وہبہ کرنا ثابت ہوتا ہے اگرچہ وہ کسی طور پر ہو اور یہ قول اس کی عرضی دعوٰی و اظہار حلفی کے بالکل مناقض ہے، اور علماء تصریح فرماتے ہیں کہ مناقض دعوٰی قابل تسلیم نہیں تو مدعا علیہم کا قول بلامعارض ولائق قبول ہے واﷲ تعالٰی اعلم وحکمہ جل مجدہ احکم
مسئلہ ۱۰۸ : ازریاست رامپور مرسلہ جناب سیدنا درحسین صاحب ۵شعبان ۱۳۱۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہندہ نے اپنا ایک مکان سلمی کے ہاتھ جس سے پسر ہندہ کی شادی قرار پائی تھی بیع صحیح شرعی کیا اور زر ثمن کے سلمی پر اس بیع سے واجب ہوا تھا سلمی کو بخوشی معاف کردیا اس عقد کی دستاویز بدیں خلاصہ تحریر ہوکر رجسٹری ہوگئی منکہ سعادت النساء بیگم زوجی سید سعادت علی صاحب ساکن رام پور ہوں جو کہ ایک منزل مکان(چنیں وچناں ) واقع رامپور محدودہ ذیل مقبوضہ مملوکہ میراہے وہاب میں نے بحالت صحت نفس و ثابت عقل بلا اکراہ واجبار بطوع ورغبت اپنی سے جمیع حقوق ومرافق بعوض مبلغ آٹھ سوروپیہ چہرہ دار ہمدست مسماۃ سلمی بیگم بنت سید نا درحسین صاحب ساکنہ بریلی جس کا نکاح حسب خواہش میری سید سکندر شاہ پسر بطنی میرے سے قرار پایا ہے بیچا اور بیع کیا میں نے،__ ______________ ____اور مکان مبیعہ پر مشتریہ مذکورہ کو مثل اپنی ذات کے مالک وقابض کردیا میں نے، اور زر ثمن تمام کمال مشتریہ سے وصول پایا میں نے، یعنی ثمن اسکا بوجہ محبت فطری سید سکندر شاہ مذکور کے سلمی بیگم مشتریہ کو معاف کیا اور بخشا میں نے اب مجھ کو اور قائم مقامان میرے کو دعوٰ ی زر ثمن کا نہیں ہے اور نہ ہوگا تقابض بدلین واقع ہوا اب مجھ بائعہ کو مکان مبیعہ سے کچھ سروکار نہ رہا، اگر کوئی سہیم یا شریک پیدا ہو توجدابدہ میں بائعہ ہوں فقط، اس صورت میں یہ بیع شرعاً صحیح ہے یانہیں ؟ اور ہندہ خواہ اس کے قائم مقاموں کو اس بیع پر کوئی رد واعتراض ہے یانہیں ؟ او یہ معافی ثمن بھی صحیح ہوئی یا نہیں ؟ اور ہندہ یا ا سکے ورثہ کو اس معافی سے رجوع کا اختیار ہے یانہیں ؟ بینواتوجروا۔
الجواب: صورت مستفسرہ میں وہ بیع مکان و معافی دونوں میں صحیح وتام وکامل ہیں ہندہ خواہ اس کے کسی وارث قائم مقام کونہ اس بیع و معافی پر اعتراض پہنچتا ہے نہ ہر گزرجوع کا اختیار مل سکتا ہے، فتاوٰی عالمگیریہ میں ہے:
اذاحط کل الثمن اووھبہ اوابرأہ عنہ فان کان ذٰلک قبل قبض الثمن صح الکل ۱؎۔
اگر پورا ثمن گھٹا دیا یا ہبہ کردیا یا اس سے بری کردیا اگر یہ ثمن پر قبضہ سے پہلے ہوا تو سب جائز ہے(ت)
(۱؎ فتاوٰی ہندیہ کتاب البیوع الباب السادس عشر نورانی کتب خانہ پشاور ۳/ ۱۷۳)
نقایہ وشرح نقایہ میں ہے :
صح التصرف فی الثمن والحط عنہ ای صح للمشتری القاء کل المبیع اوبعضہ عن البائع وللبائع القاء کل الثمن او بعضہ عن المشتری ۱؎۔
ثمن میں تصرف اور اس کو گھٹانا صحیح ہے یعنی مشتری کےلئے درست ہے کہ وہ بائع سے پورایا بعض مبیع ساقط کردے او بائع کیلئے درست ہے کہ وہ مشتری سے پورا یا بعض ثمن ساقط کردے۔(ت)
(۱؎ شرح النقایۃ )
ردالمحتار میں ہے :
لوحط جمیع الثمن صح فی حق المشتری وکان ابراء لہ عن الثمن اھ ۲؎بتلخیص۔
اگر بائع نے پورا ثمن گھٹا دیا تو مشری کے حق میں یہ صحیح ہوگا اور یہ بائع کی طرف سے مشتری کو ثمن سے بری کرنا قرار پائیگا اھ تلخیص (ت)
(۲؎ ردالمحتار کتاب البیوع فصل فی المبیع والثمن داراحیاء التراث العربی بیروت ۴/ ۱۶۷)
اشباہ والنظائر وغمز العیون میں ہے :
واللفظ لہ بخلاف الابراء فانہ لارجوع فیہ سواء وجد فیہ مانع من موانع الرجوع فی الھبۃ اولا ۳؎۔ واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم۔
لفط غمز کے ہیں بخلاف ابراء کے کیونکہ اس میں رجوع کا حق نہیں کوئی رجوع سے مانع ہو، جیسے ہبہ یا منع نہ ہو۔ واﷲ سبحانہ وتعالٰی اعلم(ت)
(۳؎ غمزعیون البصائر الفن الثالث ماافترق فیہ الھبۃ والابراء ادارۃ القرآن کراچی ۲/ ۲۴۸)
مسئلہ۱۰۹: ازسرنیاں ضلع بریلی مرسلہ امیر علی صاحب قادری ۲رجب ۱۳۳۱ھ
بکر کمھار سے جس وقت لوٹے مول لیتا ہے کہتا ہے مسجد کے لئے لئے جاتے ہیں زیادہ دینا، کمہار دوچار لوٹے پر زیادہ کردیتا ہے، اور اگر مسجد کا نام نہ لیا جائے جب بھی اسی قدر ملتے، اوراگر بھاؤ سے زیادہ بھی دے تو زیادہ لوٹے کیسا ہے؟
الجواب
اگر وہ اپنی خوشی سے زیادہ دے کوئی حرج نہیں ، مگر کمہاراگر کافر ہے تو مسجد کے لئے اس سے مانگنا نہ چا ہئے کہ گویا مسجد اور مسلمان پر احسان سمجھے گا۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۱۰: آمدہ ازدکان حمیدہ اﷲ وعبدالرحمٰن جفت فروش دہلی بازار فتحپوری ۹رجب المرجب ۱۳۳۴ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین کہ ہم لوگ تاجر کاریگروں سے جو مال خریدتے ہیں ایک پیسہ روپیہ کٹوتی کاٹ کر مال کی قیمت دیتے ہیں اور اس بات کا اعلان کاریگروں کوبیع سے پہلے کردیا گیا ہے اس صورت میں یہ بیع شرعاً جائز ہے یاناجائز؟ صورت ثانی اگر بائع کٹوتی سے راضی ہو تو کیاحکم اور اگر ناراض ہو تو کیا حکم؟ صورت ثالث یہ ہےکہ پیشہ روپیہ کاٹ کر جو مال خرید کیا جاتی ہے بیوپاری کو پورا ایک روپیہ کا بتاکر نفع فی روپیہ لیا جاتا ہے یعنی بیوپاری کوکٹوتی مجرا نہیں دی جاتی، یہ امر جائز ہے یاناجائز؟ بینوتواجروا۔
الجواب
ناراضی کی حالت میں حرام ہے،
قال اﷲ تعالٰی الا ان تکون تجارۃ عن تراض منکم ۱؎۔
(۱؎ القرآن الکریم ۴ /۲۹)
اﷲ تعالٰی نے ارشاد فرمایا: مگر یہ کہ ہو وہ تمہارے درمیان تجارت باہمی رضامندی سے۔(ت)
اور رضا سے ہو یا ناراضی سے ،مال جتنے کو اسے پڑا اس سے زیادہ کو بتانا جائز نہیں۔ واللہ تعالٰی اعلم
مسئلہ۱۱۱:از ریاست رام پور مدرسہ مطلع العلوم مرسلہ محمد امام الدین صاحب ۱۵صفر ۱۳۳۶ھ
مبیع میں زیادت ثمن بحسب آجال درست ہے یانہیں ؟ اگر ہے تو بحسب اثمان و آجال مختلف ہے یانہیں ؟ اگر ہے توکیا ہے؟
الجواب درست ہے مع الکراہۃ اور اختلاف تراضی عاقدین پر۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۱۲: ازشہر محلہ عقب کوتوالی مرسلہ شیخ مقبول احمد صاحب پسر شیخ علی جان صاحب
کلکتہ سے میں نے ایک بیوپاری کو (مالص عہ /) مال روانہ کیا اور وہ اس کے پاس پہنچا لیکن روپیہ بھول سے ہمارے یہاں کھاتے میں درج کرنے سے رہ گیا قریب دو سال کے اس بیوپاری نے ہم سے اب کہا کہ قریب(مالص عہ/) کے ایک رقم فاضل تمہاری ہمارے کھاتے سے برآمد ہوئی ہے اور تمہارے یہاں یہ رقم جمع نہیں ، اب خدا معلوم کہ تمہاری غلطی ہے یا ہماری، اس سے بہتر کہ روپیہ ہم سے لے مگر اس کو اپنے مصر میں نہ لانا خدا کی راہ میں صرف کرنا چنانچہ بیوپاری سے ہم نے وعدہ کرلیا کہ یہ رقم ہم خیرات کردیں گے بیوپاری نے ہم سے قسم اس امر کی لی ہے کہ اگر اس رقم کی خیرات نہ کروگے تو تمہارے اوپر بوجھ رہے گا۔
الجواب : اگر اس رقم کا واجبی ہونا معلوم نہیں جب تو اس کا اپنے تصرف میں لانا ہرگز جائز نہیں سب خیرات کردیا جائے اور اگر معلوم ہے کہ ہماری یہ رقم اس پر آئی تھی لکھنے سے رہ گئی تھی تو اگر وہ اس کا مال ہے اور اپنے صرف میں لانا حرام نہ ہوگا مگر جب اﷲ کےلئے وعدہ کرچکا ہے تو اس سے پھرنا سخت شامت کا موجب ہے۔
قال اﷲ تعالٰی فاعقبھم نفاقا فی قلوبھم الی یوم یلقونہ بما اخلفوا اللہ ماوعدوہ وبماکانو ایکذبون ۱؎۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
اﷲ تعالٰی نے فرمایا: تواﷲ تعالٰی نے ان کی سزا میں ان کے دلوں میں نفاق رکھ دیا اس دن تک جب وہ اس کو ملیں گے اس سبب سے کہ انہوں نے خلاف ورزی کی اس وعدہ کی جو انہو ں نے اﷲ تعالٰی سے کیا تھا اور اس سبب سے کہ وہ جھوٹ بولتے تھے۔ واﷲ تعالٰی اعلم (ت)
(۱؎ القرآن الکریم ۹ /۷۷)
مسئلہ ۱۱۳:کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے بکر کے ہاتھ ایک اراضی بقیمت مبلغ چار سو روپے کی فروخت کی اور ایک سو پچاس روپیہ کی بابت بیعانہ زید نے بکر سے لے کر رسید تحریر کردی اوروعدہ کیا کہ بقیہ روپیہ وقت رجسٹری دستاویز لےکر بیعنامہ اندر مدت ایک سال کے تصدیق کرادوں گا، سوال یہ ہے کہ آیا شرعاً بیع منعقد اور مختتم ہوگی اور بقیہ زر ثمن بکر کے ذمہ دین رہا یا بیع فاسد ہوئی بوجہ مجہول غیر معلوم ہونے مدت ادائے زر ثمن کے اور قرار داد مہلت ادائے ثمن بہر حال مفسد بیع ہے یا فقط صلب عقد میں مہلت کا شرط ہونا مفسد ہوتا ہے اور تجویز عدالت میں دو روایتیں کتاب بحرالرائق وفتاوٰی خیریہ کی بابت فاسد ہونے بیع کے بجہالت مدت ادائے ثمن کے درج ہوئی ہیں وہ یہ ہیں ،
بیع ثمن حالی کے بدلے اور میعاد معلوم کے ساتھ صحیح ہے ماتن نے اجل کے ساتھ معلوم ہونے کی قید لتگائی اس لئے کہ اجل کی جہالت جھگڑے گاسبب بنتی ہے چنانچہ بائع قریبی مدت میں ثمن کا مطالبہ کرے گا اور مشتری اس سے انکار کریگا تو اس طرح فساد آئے گا۔(ت)
(۱؎ البحرالرائق کتاب البیع ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۵ /۲۷۹)
فتاوٰی خیریہ میں ہے : سئل فی رجل باع آخر جملا باثنین و ثلاثین غرشا مؤجلۃ علیہ الی ثلث خیارات کل خیار ثلث الثمن فطلع الاخیار ودفع لہ ثلثہ ویطالبہ بثلثیہ قبل طلوع الخیارین مدعیا ان الاجل المذکور غیر صحیح وانہ یستوجب کل الثمن عاجلا فالحکم فی ذٰلک (اجاب) البیع المذکور فاسد۲؎۔
ایک ایسے شخص کے بارے میں کیا گیا جس نے دوسرے کے ہاتھ بتیس غرش (دو آنے کے برابر ایک سکہ) کے عوض اونٹ بیچا اور اس پر تین خیاروں تک اجل مقر کی ہر خیار میں تہائی ثمن دے گا پس ایک خیار کے طلوع ہونے پر اس نے بائع کو ثمن کا ایک تہائی دے دیا اور بائع دوسرے دو خیاروں کے طلوع سے قبل ہی باقی دو تہائی ثمن کا مطالبہ کرتا ہے درانحالیکہ وہ اس بات کا دعوٰی کرتا ہے کہ اجل مذکور درست نہیں اور اس بیع میں تمام ثمن معجل طورپر لازم ہوتا ہے تو اس صورت میں کیا حکم ہے (تو جواب دیا کہ) بیع مذکور فاسد ہے۔(ت)
(۲؎ فتاوٰی خیریہ کتاب البیوع باب البیع الفاسد دارالمعرفۃ بیروت ۱ /۲۳۸)
اور تجویز عدالت جو بقدر ضرورت درج ذیل ہے اس کا کیا جواب ہے :
عبارت تجویز عدالت بقدر ضرورت
بقواعد شرعیہ جہالت اجل ثمن موجب فساد بیو ہے اس لئے کہ مدعی نے دعوٰی میں تحریر کیا ہے کہ مدعا علیہ نے بیعانہ لےکر یہ وعدہ کیا کہ بقیہ روپیہ وقت رجسٹری دستاویز لےکر بیعنامہ اندر مدت ایک سال کے تصدیق کردوں گا، پس وعدہ ادائے ثمن بقیہ کا جو درمیان سال کے حسب دعوی مدعی قرار داد ہو ا وہ بقید تاریخ معین مخصوص و مقید نہیں ہے اس کا اطلاق عموماً علی السویہ آغاز وعدہ سے تا اختتام جز و آخر روز سال مابین فریقین متضمن نزاع ہوسکتا ہے تو یہ بیع فاسد ہے فقط۔
الجواب
صورت مستفسرہ میں بیع تام و صحیح ہے اور بقیہ ثمن ذمہ مشتری واجب۔ یہ قرار داد مہلت ادائے ثمن کسی طرح مفسد بیع نہیں ، نہ بعد تمامی عقد،وان قلنا بالتحاقہ باصل العقد(اگرچہ ہم اس کے اصل عقد کے ساتھ لاحق ہونے کا قول کریں ۔ ت) نہ نفس صلب عقد میں کہ یہ اجل معین ہے اور بیع اجل معین کے ساتھ صحیح ہے اس کے لئے خود وہی عبارت بحرالرائق منقولہ تجویز کافی ہےکہ صح بثمن حال وباجل معلوم ۱؎(بیع درست ہے ثمن حالی کے ساتھ اور معلوم میعاد کے ساتھ۔ت)
(۱؎ البحر الرائق کتاب البیع ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۵ /۲۷۹)
اسے اجل مجہول سمجھنا اصلاً وجہ صحت نہیں رکھتا عرفاً لغۃً ہر طرح سال کے اندر اور ایک سال تک کا حاصل ایک ہے جس سے اجل کی تحدید ایک سال سے ہوتی ہے اور سال شے معین ہے نہ کہ مجہول،
آغاز وعدہ سے اختتام سال تک مشتری کو اختیار ادا ہونا مضر نہیں بلکہ عین مقصود تاجیل ہے کہ اجل اسی کے رفاہ کے لئے ہے کما فی الھدایۃ وغیرہ (جیسا کہ ہدایہ وغیرہ میں ہے۔ت) اور اگر یہ مقصود کہ اس کا اطلاق ان تمام اجزاء کو شامل تو بائع ہر جز میں طلب کرسکتا ہے اور یہ مفضی الی النزاع ہے تو یہ محض باطل ہے جب وہ مشتری کو سال کے اندر ادا کی اجازت کرچکا تو جب تک سال کے اندر ہے اسے اختیار مطالبہ نہیں کہ وہ اسی اجازت تاخیر کے اندر داخل ہے وقد لزم التاجیل من جھتہ فلا یقدر ان یطالبہ (تحقیق اس کی طرف سے میعاد لازم ہوچکی ہے اب وہ ثمن کا مطالبہ نہیں کرسکتا۔ت) ہاں جب سال سے باہر جائے ا س وقت اسے اختیار مطالبہ ہوگا اور اب مشتری کو کوئی عذر نہیں ہوسکتا پھر نزاع کہاں ، اور خود عبارت بحرالرائق منقولہ تجویز سے ظاہر کہ اجل وہی مفسد ہے جو مفضی نزاع ہو عبارت خیریہ کو یہاں سےکوئی تعلق نہیں کہ اس میں تین خیار تک بیع ہے اور خیار کوئی شے معین نہیں بخلاف سال۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۱۴: از اردہ نگلہ ڈاک خانہ اچھنیرہ ضلع آگرہ مرسلہ صاد ق علی خان ۲۸شوال ۱۳۳۶ھ
ایک شخص غلہ اپنا نرغ بازار سے کم اس شرط پر دیتا ہے کہ قیمت کچھ عرسہ بعد لوں گا مثلاًبھاؤ بازاری ۲۰ثار ہے اور لوگوں کو ۱۶ ثار کے حساب سے دیتا ہے اس قرض دینے میں سود تو نہیں ہوتا؟ جائز ہے یاناجائز؟
الجواب
یہ سود نہیں ، نہ اس میں کوئی حرج جبکہ برضائے مشتری ہو، اور اجل یعنی میعاد ادا معین کردی جائے،
قال اﷲتعالٰی الاان تکون تجارۃ عن تراض منکم۱؎۔
اﷲ تعالٰی نے فرمایا: مگر یہ کہ ہو وہ تمہارے درمیان تجارت تمہاری باہمی رضامندی سے۔(ت)
(۱؎ القرآن الکریم ۴ /۲۹ )
غرض یہ بیع بلا کراہت ہے، ہاں خلاف اولویت ہے۔
فتح القدیر میں ہے:
لاکراھۃ الاخلاف الاولی فان الاجل قابلہ قسط من الثمن ۲؎۔ واﷲتعالٰی اعلم۔
اس میں کراہت نہیں تاہم یہ خلاف اولٰی ہے کیونکہ اجل کے مقابل ثمن کا ایک حصہ ہے واﷲ تعالٰی اعلم (ت)
(۲؎ فتح القدیر کتاب الکفالۃ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۶ /۳۲۴)