اور اسی طرح اور کتب میں بھی تصریح ہے، پس ثابت ہوا کہ مذہب راجح صحت بیع ہے اگرچہ ہبہ ثمن مابین الایجاب والقبول واقع ہوا ہو۔ لطف یہ ہے کہ وہی عالمگیری جس سے اس مسئلہ میں طرف مقابل کو استناد ہے،
اسی کی جلد سوم ص۴۷ پر بحوالہ خانیہ مرقوم :
لو قال بعت منک بکذاعلی ان حططت منک کذا اوقال علی ان وھبت لک کذاجاز البیع ۱؎۔
اگر کسی نے کہا کہ میں تیرے ہاتھ اتنے کے عوض بیع کرتا ہوں اس شرط پرکہ میں تجھ سے اتنے گھٹاؤں گا یا کہا اس شرط پر کہ میں تیرے لئے اتنا ہبہ کروں گا تو بیع جائز ہے (ت)
(۱؎ فتاوٰی ہندیہ کتاب البیوع الباب العاشر نورانی کتب خانہ پشاور ۳/ ۱۳۶)
بالجملہ طرف مقابل کوکوئی محل استدلال نہیں رہا یہ کہ ہبہ بھی صحیح ہوا یا نہیں ؟ یہ دعوٰی مدعیہ سے جدا بات ہے۔
(۵) بطریق تنزل عرض کیا جاتا ہے کہ اگرحکم عالمگیری ہی تسلیم کیاجائے تو حاصل اختلاف فریقین کا یہ ہوگا کہ آیا یہ ہبہ قبل قبول واقعہ ہوا یا بعد۔ اب یہ دیکھا چاہئے کہ ایسی صورت میں علماء کون سے وقت کا اعتبار رکھتے ہیں مگر ہم تصریح پاتے ہیں کہ اصل حواد ث میں یہ ہے کہ وقت قریب کی طرف اضافت کئے جائیں اور جو بعدیت کا قائل ہے اسی کا قول معتبر رکھاجائے گا اور یہ بھی تصریح ہے کہ یہ دلیل مدعا علیہم کو مفید ہے نہ مدعیوں کو۔
اصل یہ ہےکہ حادث کی اضافت اس کے قریب ترین وقت کی طرف کی جائے۔(ت)
(۲؎ الاشباہ والنظائر الفن الاول القاعدۃ الثالثہ ادارۃ القرآن کراچی ۱/ ۹۴)
فقہ میں بہت مسائل اس ضابطہ پر مبنی ہیں ، تمثیلاً ایک عرض کیا جتا ہے، ایک عورت نصرانیہ ایک مسلمان کے نکاح میں تھی، اس مسلمان کا انتقال ہوا عورت نے دارالقضا میں آکر دعوٰی کیاکہ میں مسلمان ہوں اور مورث کا ہنوز دم نہ نکلا تھا کہ میں اسلام لے آئی تھی مجھے اسکاترکہ ملنا چاہئے، ورثہ نے کہا تو اس وقت مسلمان ہوئی ہے جب اس کا دم نکل چکا تھا تجھے ترکہ نہیں پہنچتا، علماء فرماتے ہیں قول ورچہ کا معبتر رہے گا کیونکہ اسلام اس کا حادث ہے تو وقت قریب کی طرف اضافت کیاجائے گا جب تک اول کا ثبوت بینہ سے نہ ہو۔
ہدایہ مطبع مصفائی جلد دوم ص۱۳۲ :
لومات المسلم ولہ امرأۃ نصرانیۃ فجاءت مسلمۃ بعد موتہ وقالت اسلمت قبل موتہ وقالت الورثہ اسلمت بعدموتہ فالقول قولھم ۱؎۔
اگر کوئی مسلمان فوت ہوااس حال میں کہ اس کی ایک نصرانی بیوی تھی جس اس کی موت کے بعد مسلمان تھی اور آئی اور کہا کہ میں اس کی موت سے پہلےاسلام لائی تھی جبکہ ورثاء میت کا کہنا ہے کہ یہ اسکی موت کے بعد اسلام لائی ہے تو ورثاء کا قول معتبر ہوگا۔(ت)
(۱؎ الہدایۃ شرح البدایۃ کتاب ادب القاضی فصل فی قضاء بالمواریث مطبع یوسفی لکھنؤ ۳/ ۱۴۷)
بنایۃ العلامۃ العینی میں ہے :
لان الاسلام حادث والحادث یضاف الٰی اقرب الاوقات۲؎۔
ورثاء کا قول اس لئے معتبر ہے کہ اسلام حادث ہے اور حادث کی اضافت اس کے قریب ترین وقت کی طرف کی جاتی ہے۔(ت)
(۲؎ البنایۃ فی شرح الہدایۃ کتاب ادب القاضی فصل فی قضاء بالمواریث المکتبۃ الامدادیہ مکہ مکرمہ ۳ /۳۰۴)
تو یہاں بھی ثمن حادث ہے پس قول مدعاعلیہم کا معتبر رہے گا کہ یہ ہبہ بعد تمامی بیع واقع ہوا، نہ مابین الایجاب والقبول۔
(۶) خود مسئلہ پیش کردہ مدعیہ سے ثابت کہ اگر ہبہ بطریق اشتراط فی نفس العقد ہو تو مفسد بیع ہے ورنہ نہیں ، تو اب حاسل اختلاف یہ ہوا کہ مدعیہ وجود شرط مفسد کا دعوٰی کرتی ہے مدعا علیہم اس کا انکار کرتے ہیں اس خاص جزئیہ میں بھی علماء کی تصریح ہےکہ قول اسکا معتبر ہے جو شرط فاسد کا انکار کرتی ہے۔
خانیہ مطبوعہ العلوم جلد دوم ص۲۵۱میں ہے :
لوادعی عبدافی یدرجل انہ اشتراہ منہ بالف درھم وقال البائع بعتک بالف دراھم و شرطت ان لاتبیع ولا تھب او ادعی المشتری ذٰلک وانکر البائع کان القول قول من ینکر الشرط الفاسدوالبینۃ بینۃ الاٰخر، وکذٰلک لو کان مکان الشرط الفاسد شرط الخمروالخنزیر ۱؎۔
اگر کسی شخص نے ایک غلام جو کہ دوسرےکے قبضہ میں ہےکہ بارے میں دعوٰی کیاکہ میں نے اس سےیہ غلام ہار درہم کے عوض خریدا ہے، اور بائع نے کہا کہ میں نے تیرے ہاتھ یہ غلام ہزار درہم کے عوض فروخت کیا اور یہ شرط لگائی کہ تو اس کو نہ تو بیچے گا اور نہ ہبہ کرے، یا مشتری نے اس شرط کا دعوٰی کیا اور بائع نے اس کا انکار کیا تو اس کا قول معتبر ہوگا جو اس شرط فاسد کا منکر ہے اور گواہ دوسرے کے مقبول ہوں گے اور ایسا ہی حکم ہوگا اگر اس شرط فاسد کی جگہ خمر و خنزیر کی شرط ہو۔(ت)
(۱؎ فتاوٰی قاضیخان کتاب البیوع فصل فی احکام البیع فاسد مطبع نولکشور لکھنؤ ۲ /۳۵۰)
(۷) یہ بھی تسلیم کیا کہ نفس ایجاب میں معاف ہونا مذکور تھا مگر علمائے محققین ایسی جگہ صیغہ ماضی ومستقبل میں فرق فرماتے ہیں کہ اگر بصیغہ مستقبل تھا تو ناجائز او بصیغہ ماضیتھا تو جائز، اور ظاہر ہے کہ دستاویز پیش کردہ مدعا علیہم میں لفظ ماضی مذکور ہےکہ ثمن بعوض حقوق فرزندی معاف کیا۔
فتاوٰی قاضیخاں جلد ۲ ص۲۳۹میں ہے :
لوقال علی ان اھب لک من ثمنہ کذا لا یجوز، ولو قال بعت منک بکذا علی ان حططت عنک کذا وعلی ان وھبت لک کذا جاز البیع اھ ملخصا۲؎۔
اگرکہااس شرط پر تیرے ہاتھ بیع کی کہ تجھے اس کے ثمن سے اتنے ہبہ کروں گا تو بیع جائز نہ ہوگی وار اگر کہا کہ میں نے تیرے ہاتھ کاتنے کو بیع کی اس شرط پر تجھ سے اتنا گھٹا دیا یا تجھے اتنا ہبہ کیا تو بیع جائز ہے اھ تلخیص ۔ (ت)
(۲؎فتاوٰی قاضیخان کتاب البیوع فصل فی الشروط المفسدۃ مطبع نولکشور لکھنؤ ۲ /۳۴۴)
اور اسی طرح نوازل میں مذکور ہے اور اس سے خلاصہ میں یونہی نقل کیا اور خود عالمگیری مستند وکیل مدعیہ سای طرح روایت کرکے مقرر رکھا کمامر (جیساکہ گزرا۔ت) اور سب میں بلا ذکر خلاف۔
(۸) علماء فرماتے ہیں کہ اگر کسی عقد کے صحت وعدم صحت سے سوال ہو تو اسے صحت پر حمل کیا جائیگا اور یہ مان لیا جائے گا کہ تمام شرائط صحت مجتمع تھیں تا وقتیکہ فساد دلیل روشن سے ثابت نہ ہو مجرد احتمال کفایت نہیں کرتا۔
فتاوٰی خیریہ لنفع البریہ تصنیف امام خیر الملۃ والدین رملی استاذ صاحب درمختار مطبوعہ مطبع میری مصر دوم صفحہ ۹۴ :
الاصل صحتہ ففی البزازیۃ لو سئل عن صحتہ یفتی بصحتہ حملا علی استیفاء الشرائط اذ المطلق یحمل علی الکمال الخالی عن الموانع للصحۃ واﷲ اعلم۱؎ وفیہا جلد دوم ص۳۵: اذا رفع السوال ببیع مال باعہ ذوالمال جاز بلا مرأ مع انہ کان مجنونا فلا احدیقول بانہ صح الشراء ۲؎۔ وفیہا النظر الی العمل بعبارۃ المکلف اولی من اھدارھا والحاقہ بالحیوانات وکلامہ بجوارھا واﷲ تعالٰی اعلم ۳؎۔
اس عقد کی صحت ہے چنانچہ بزازیہ میں ہے کہ اگر صحت عقد کے بارے میں سوال کیا جائے تو اس بنیاد پر کہ اس میں تمام شرائط مجتمع تھیں اس کی صحت کا فتوٰی دیا جائیگا کیونکہ مطلق کو موانع صحت سے خالی کمال پر محمول کیا جاتا ہے اور اﷲ تعالٰی خوب جانتا ہے۔ اور اسی میں جلد دوم ص ۳۵ پر ہے : اگر ایسے مال کی بیع کے بارے میں سوال کیا جائے جس کو مال والے نے منعقد کیا ہے تو بلا شبہہ یہ جائز ہے اس کے باوجود کہ اگر وہ مجنون ہے تو کوئی بھی یہ نہیں کہتا کہ خریداری درست ہے۔ اسی میں ہے کہ مکلف کی عبارت کوقابل عمل بنانے پر نظر کرنا اس کو لغو قراردینے اور مکلف کو حیوانوں اور اس کے کلام کو حیوانوں کے ڈکارنے کے ساتھ لاحق کرنے سے اولٰی ہے،اﷲ تعالٰی بہتر جانتا ہے۔(ت)
(۱؎ فتاوٰی خیریہ کتاب الصلح دارالمعرفۃ بیروت ۲/ ۱۰۳)
(۲؎فتاوٰی خیریہ کتاب الوکالۃ دارالمعرفۃ بیروت ۲ /۳۹)
(۳؎فتاوٰی خیریہ کتاب الدعوی دارالمعرفۃ بیروت ۲ /۷۷)
ملاحظہ ہو کہ جب مفتی کے لئے یہ حکم ہے کہ اصل صحت پر عمل کرے اور شرائط صحت کا اجتماع مان کر فتوٰی دے تو قاضی جس کی نظر صرف ظاہر پر مقتصر ہے اور احتمالات بعیدہ کا لحاظ اس کے منصب سے جدا بات ہے وہاں تو اصل پر نظر رکھنااولٰی واحق ہوگا،خصوصاً یہاں کہ بائع مرحوم عالم دین تھے اور ان کا قصد تملیک کا ہونا ظاہر، تو موانع صحت سے احتراز کرنا ہی ان سے متوقع۔
(۹) علماء تصریح فرماتے ہیں جب عاقدیم میں صحت وفساد کی اختلاف واقع ہو تو قول اس کا قول ہے جو مدعی صحت ہے۔