Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۷(کتاب البیوع، کتاب الحوالہ، کتاب الکفالہ )
49 - 180
اور امام علامہ فقیہ النفس مالک التصحیح والترجیح فخر الملۃ والدین قاضی خان اوزجندی رحمۃ اﷲ تعالٰی  علیہ نے اپنے فتاوٰی  میں  روایت صحت پر جزم کیا اور اسی کے ذکر پر اقتصار فرمایا دوسری روایت نقل بی نہ فرمائی اور اسی روایت کو مدلل و مبرہن کیا۔
قاضیخاں  مطبوعہ العلوم جلد ۲ص۲۴۹و۳۴۴ :
نظیرہ مالو قال بعتک ھذاالشیئ بعشرۃ دراہم ووھبت لک العشرۃ ثم قبل المشتری البیع جاز البیع، ولا یبرأ المشتری عن الثمن لان الثمن لایجب الابعد قبول البیع فاذا ابرأ عن الثمن قبل القبول کان ابراء قبل السبب فلایصح۱؎۔
اس کی نظیر یہ ہے کہ اگر کسی نےکہا میں نے یہ چیز تمہارے ہاتھ دس درہم کے بدلے فروخت کی اور میں  نے تیرے لئے دس درہم ہبہ کئے، پھر مشتری نے بیع کو قبول کرلیا تو بیع جائز ہے اور مشتری ثمن سے بری نہ ہوگا کیونکہ ثمن تو قبول بیع کے بعد ہی واجب ہوتے ہیں ، اگر اس نے قبول سے پہلے مشتری کو ثمن سے بری کیا تو یہ سبب سے قبل بری کرنا ہوا لہٰذا صحیح نہ ہوگا۔(ت)
 (۱؎ فتاوٰی  قاضیخان  کتاب البیوع  فصل فی احکام البیع الفاسد  نولکشور لکھنؤ  ۲/۳۴۹)
اور علماء تصریح فرماتے ہیں کہ کسی قول پر اقتصار کرنا اس کے اعتماد کی دلیل ہے۔
ردالمحتار مطبوعہ قسطنطنیہ پنجم صفحہ ۶۵۲ : الاقتصار علیہ یدل علی اعتمادہ۲؎۔
اس پر اقتصار اس کے اعتماد پر دلالت کرتا ہے۔(ت)
 (۲؎ردالمحتارعلی الدرالمختار    کتاب الوصایا     داراحیاء التراث العربی بیروت    ۵/ ۴۲۵)
طحطاوی حاشیہ درمختار مطبوعہ بولاق دارالسلطنت مصر جلد ۴ص۳۲۱ :
الاقتصار علیہ یدل علی اعتمادہ ۳؎۔
اس پر اقتصار اس کے اعتماد پر دلالت کرتا ہے۔(ت)
 (۳؎ حاشیۃ الطحطاوی  علی الدرالمختار   کتاب الوصایا  دارالمعرفۃ بیروت    ۳ /۴۲۱)
اور یہ بھی تصریح فرماتے ہیں کہ کسی قول کو مدلل و مبرہن کرنا بھی اس کی ترجیح کی دلیل ہے، 

فتاوٰی حامدیہ مع التنقیح مطبوعہ مطبع سرکاری مصر جلد اول ص۱۶:
  التعلیل دلیل الترجیح ۴؎ وفیہا ھوالمرجح اذ ھو المحلی بالتعلیل ۵؎۔
کسی کی علت بیان کو نا اس کی ترجیح کی دلیل ہے، اور اسی میں  ہے کہ وہی راجح ہے کیونکہ وہ بیان دلیل سے مزین ہے(ت)
 (۴؎ العقود الدریۃ فی تنقیح الفتاوٰی  الحامدیۃ     کتاب النکاح  حاجی عبدالغفار کتب خانہ ارگ بازار قندھار افغانستان    ۱ /۱۷)

 (۵؎العقود الدریۃ فی تنقیح الفتاوٰی  الحامدیۃ     کتاب النکاح  حاجی عبدالغفار کتب خانہ ارگ بازار قندھار افغانستان    ۱ /۱۷)
پس دو وجہ سے ثابت ہوا کہ امام قاضی خاں  نے صحت بیع پر اعتماد فرمایااور اسی کو ترجیح دی اب علماء تصریح فرماتے ہیں کہ اس امام اجل کا ارشاد زیادہ اعتبار واعتماد کے لائق اور ان کی تصحیح و ترجیح فائق ہے کہ انہیں  رتبہ اجتہاد حاصل تھا،
حاشیہ جامع الفصولین للعلامہ خیر الدین الرملی استاد صاحب الدرالمختار  : علیک بما فی الخانیۃ فان قاضی خان اھل التصحیح الترجیح ۱؎۔
جو خانیہ میں  ہے اس کو قبول کرناتجھ پر لازم ہے کیونکہ امام قاضی خاں  ترجیح وتصحیح والوں  میں  سے ہیں ۔(ت)
 (۱؎ الآلی الدریۃ فی الفوائد الخیریۃ حشیۃ جلیلۃ جامع الفصولین الفصل الثامن عشر اسلامی کتب خانہ کراچی  ۱ /۲۴۶)
تصحیح القدوری للعلامہ قاسم  :
مایصححہ قاضی خان من الاقوال یکون مقدما علی مایصححہ غیرہ لانہ کان فقیہ النفس۲؎۔
 جن اقوال کی تصحیح قاضی خان کردیں  وہ مقدم ہوتے ہیں  ان اقوال پر جن کی تصحیح دوسرے کریں  کیونکہ امام قاضی خاں  فقیہ النفس ہیں (ت)
 (۲؎ غمز عیون البصائر بحوالہ تصحیح القدوری    مع الاشباہ الفن الثانی  کتاب الاجارات   ادارۃ القرآن کراچی  ۲ /۵۵)
حاشیہ سید احمد طحطاوی علی الدرالمختار مطبوعہ مصر جلد دوم ص۲۵ :
الذی یظہر اعتماد مافی الخانیۃ قولھم ان قاضی خان من اجل مایعتمد کعلی تصحیحاتہ ۳؎۔
جوخانیہ میں  ہے اس پر اعتماد ظاہر ہے فقہاء کے اس قول کی وجہ سے کہ قاضی خان ان جلیلہ القدر لوگوں  میں  سے ہیں  جن کی تصحیحات پر اعتماد کیا جاتا ہے۔(ت)
 (۳؎ حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار     کتاب النکاح      فصل فی المحرمات دارالمعرفۃ بیروت    ۲ /۲۵)
غمز العیون والبصائر شرح الاشباہ والنظائر مطبوع مطبع مصطفائی دہلی ص۲۷۵:
ھذاالقول صححہ قاضی خان فینبغی اعتمادہ ۴؎۔
اس قول کو قاضی خان نے صحیح قرار دیا ہے لہٰذا اس پر اعتماد کرنا چاہئے۔(ت)
 (۲؎ غمز عیون البصائر مع الاشباہ      الفن الثانی     کتاب الاجارات         ادارۃ القرآن کراچی      ۲ /۵۵)
Flag Counter