Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۷(کتاب البیوع، کتاب الحوالہ، کتاب الکفالہ )
48 - 180
اسی طرح اگر کسی شخص ایک شے مشاع ہبہ کرنا چاہے اور جانے کہ ہبہ بوجہ شیوع فاسد ہوجائیگا، تو علماء فرماتے ہیں اس مشاع کو اس کے ہاتھ بیع کرے ور ثمن معاف کرے کہ اس کی غرض یعنی تملیک بلا عوض بھی حاصل ہوجائے گی، اور بدیں  وجہ کہ یہ عقد شرعاً بیع ہے فاسد بھی نہ ہوگا،
ردالمحتار حاشیہ در مختار مطبوعہ دارالاسلام قسطنطنیہ جلد ۴ص۷۷۷ :
 (فائدۃ) من ارادان یھب نصف دار مشاعا یبیع منہ نصف الدار بثمن معلومہ ثم یبریہ عن الثمن بزازیۃ۲؎۔
 (فائدہ) جو آدھا مکان غیر منقسم ہبہ کرنا چاہے تو وہ آدھا مکان موہوب لہ کے ہاتھ بیچ کر ثمن سے اس کو بری کردے، بزازیہ۔
 (ت) (۲؎ ردالمحتار    کتاب الھبۃ     دار احیاء التراث العربی بیروت    ۴/ ۵۰۸)
مدعیہ تسلیم کرتی ہے کہ صورت مقدمہ بعینہ یہی جزئیہ خاص ہے جس کا حکم فقہاء نے بالتصریح فرمادیا کیونکہ

 اس کی عرضی دعوٰی  کا بیان ہے کہ یہ عقد ضعیف مشروط بشرائط تھا لہٰذا بیع کی طرف انتقال کیا گیا، واﷲ تعالٰی  اعلم۔

(۲) وکیل مدعیہ نے جو عبارت درمختار پیش کی کہ بطل حط الکل ۳؎(کل کا گھٹا دینا باطل ہے۔ت)
 (۳؎ درمختار    کتاب البیوع    فصل فی التصرف فی البیع والثمن     مطبع مجتبائی دہلی     ۲ /۳۸)
علامہ شامی رحمۃ اﷲ تعالٰی علیہ نے ردالمحتار میں  اس کے معنی بیان فرمادئے کہ مراد یہ ہے کہ ہبہ ثمن بھی صحیح ہوگا اور عقد بھی صحیح رہےگا مگر یہ کہ بہ اصل عقد سے ملتحق نہ ہوگا یعنی یہ نہ قرار پائے گا کہ سرے سے عقد بلاثمن ہوا تھا تاکہ فساد لازم آئے یا بیع ہبہ ہوجائے بخلاف حط بعض کے کہ وہ اصل عقد سے ملتحق ہوجاتا ہے سو کو بیچا پھر پچیس حط کردے تو یہ ٹھہرے گا گویا ابتداء پچھتر کو بیچا تھا۔
شامی مطبوعہ استنبول ج ۴ص۲۵۹ :
 (قولہ) فبطل حط الکل ای بطل التحاقہ مع صحۃ العقدوسقوط الثمن عن المشتری خلافالماتوھمہ بعضھم من ان البیع  یفسداخذا من تعلیل الزیلعی بقولہ لان الالتحاق فیہ یؤدی الی تبدیلہ لانہ ینقلب ھبۃ او بیع بلاثمن فیفسد وقد کان من قصدھما التجارۃ بعقد مشروع من کل وجہ فالالتحاق فیہ یؤدی الی تبدیلہ فلایلتحق بہ اھ فقولہ فلا یلتحق صریح فی ان الکلام فی الالتحاق وان قولہ فیفسد مفرع علی الالتحاق کما صرح بہ شرح الھدایۃ وقال فی الذخیرۃ اذا حط کل الثمن او وھب او ابرأعنہ فان کان قبل قبضہ صح الکل ولا یلتحق باصل العقد وفی البدائع من الشفعۃ ولو حط جمیع الثمن یاخذ الشفیع بجمیع الثمن ولا یسقط عنہ شیئ لان حط کل الثمن لایلتحق باصل العقد لانہ لو التحق لبطل البیع لانہ یکون بیعابلا ثمن فلم یصح الحط فی حق الشفیع وصح فی حق المشتری وکان ابراء لہ عن الثمن اھ زادفی المحیط لانہ لاقٰی دینا قائما فی ذمتہ و تمامہ فی فتاوی العلامۃ قاسم۱؎۔
قولہ یعنی ماتن کا قول کہ ''کل کو گھٹا دینا باطل ہے'' اس سے مراد یہ ہے کہ اس کو اصل عقد کے ساتھ لاحق کرنا باطل ہے اور باوجودیکہ عقد اور مشتری سے ثمن کا اسقاط دونوں  صحیح ہیں ، یہ حکم بعض لوگوں  کے اس وہم کے خلاف ہے کہ بیع فاسد ہے، ان لوگوں  نے زیلعی کی تعلیل سے استدلال کیا جو اس نے اپنے اس کلام میں بیان کی کہ یہ الحاق اصل عقد کی تبدیلی تک پہنچاتا ہے کیونکہ اس کے سبب سے بیع یا تو ہبہ بن جائے گی یا بیع بلاثمن تو اس طرح وہ فاسد ہوجائے گی، حالانکہ ان دونوں  کا ارادہ ایسے عقد کے ذریعے تجارت تھا جو ہر لحاظ سے مشروع ہو او الحاق چونکہ اس میں  تبدیلی کا موجب ہے لہٰذا یہ عقد کے ساتھ ملحق نہ ہوگا اھ اس کا قول " فلا یلتحق"صریح ہے اس بات میں کلام لاحق ہونے کے بارے میں ہے اور اس کا قول ''فیفسد'' اسی لحوق پر متفرع ہے جیسا کہ شرح ھدایہ میں  اس کی تصریح کی گئی ہے، اور ذخیرہ میں کہا کہ جب بائع تمام ثمن گھٹا دے یا ہبہ کرے یا مشتری کو ثمن سے بری کردے اگر یہ ثمن پر قبضہ سے پہلے ہے تو سب درست ہے اور یہ اصل عقد کے ساتھ لاحق نہیں ہوگا۔ بدائع میں شفعہ کی بحث میں  ہےکہ اگر بائع نے تمام ثمن گھٹا دیئے تو شفیع تمام ثمن کے بدلے لے سکتا ہے اس سے کچھ بھی ساقط نہ ہوگا کیونکہ تمام ثمنوں کاگھٹا نا اصل عقد کے ساتھ لاحق نہیں  ہوتا اس لئے کہ اگر یہ لاحق ہوتو بیع باطل ہوجائے گی کیونکہ یہ بیع بلاثمن بن جائے گی، چنانچہ شفیع کے حق میں کل ثمن کا گھٹانا صحیح نہیں  البتہ مشتری کے حق میں صحیح ہے اور یہ اس کوثمن سے بری کرنا ہوااھ۔ اور محیط میں  زیادہ کیا کہ وہ اس دین کے مقابل ہوا جو اس کے ذمہ کے ساتھ قائم ہے، اس کی پوری بحث علامہ قاسم کے فتاوٰی  میں  ہے۔(ت)
 (۱؎ ردالمحتار   کتاب البیوع  فصل فی التصرف فی المبیع والثمن  داراحیاء التراث العربی بیروت  ۴/ ۱۶۷)
ملاحظہ کیاجائے کہ علامہ امین الملۃ والدین محمد ب ن عابدین آفندی شامی رحمۃ اﷲ تعالٰی  علیہ نے جو تحقیق انیق ارشاد فرمائی ہے کس قدر مدلل و مبرہن ہے اور وہ بھی صرف اپنی ایجاد نہیں  بلکہ کتب ائمہ سے اس پر نصوص صریحہ نقل فرمائیں  جن سے صاحب درمختار وغیرہ علمائے کبار سلفاً وخلفاً استناد کرتے آئے ہیں ____ ذخیرہ کہ ایک عمدہ مستند فتاوی ہے۔ بدائع تصنیف امام ابوبکر بن مسعود بن احمد کاشانی جس کی نسبت علماء فرماتے ہیں
ھذاالکتاب جلیل الشان لم ارلہ نظیر فی کتبنا
 (یہ عظیم الشان کتاب ہے جس کی نظیر ہماری کتابوں  میں  دکھائی نہیں دیتی۔ت)، محیط جس کا اعتبار آفتاب نیمروز ہے، فتاوٰی علامہ قاسم بن قطلوبغا تلمیذرشید امام علامہ کمال الدین محمد بن الہمام، تبیین الحقائق شرح کنز الدقائق امام علامہ فقیہ محدث زیلعی، شرح الہدایۃ اور ان کے سوا اورکتابتوں  میں بھی یہ مسئلہ یونہی لکھا ہے جیسا علامہ محقق نے تحقق فرمایا،
مجمع الانہر شرح ملتقی الابحر مطبوعہ استنبول جلد ۲صفحہ ۷۵ :
صح التصرف فی الثمن ببیع وھبۃ وتملیک ممن علیہ بعوض وغیرعوض قبل قبضہ، والحط منہ ویثبت الحط فی الحال ویلتحق باصل العقد استنادا وفیہ اشارۃ الی ان حط کل الثمن غیر ملتحق بالعقد اتفاقا۱؎اھ ملتقطا۔
ثمن میں قبض سے قبل تصرف صحیح ہے جیسے بیع، ہبہ، اور جس پر ثمن لازم ہے اس کو کچھ عوض کے ساتھ یا بلا عوض مالک بنانا، اور ثمن میں  سے کچھ گھٹادینا، اور یہ گھٹانافی الحال ثابت ہوتا ہے اور اصل عقد کی طرف منسوب ہوکر اس کے ساتھ لاحق ہوتا ہے اور اس میں  اشارہ ہےکہ تمام ثمن کا گھٹانا اصل عقد کے ساتھ بالاتفاق لاحق نہیں ہوتا اھ اختصار۔(ت)
 (۱؎ مجمع الانہر شرح ملتقی الابحر    کتاب البیوع      فصل فی بیان البیع قبل قبض المبیع 

داراحیاء التراث العربی بیروت     ۲ /۸۱۔۸۰)
شرح نقایہ مطبوعہ لکھنؤ  ج۳صفحہ ۳۳۰ :
صح التصرف فی الثمن والحط عنہ، ای صح للمشتری القاء کل المبیع اوبعضہ عن البائع، وللبائع القاء کل الثمن او بعضہ عن المشتری وان لم یبق المبیع ولم یقبض الثمن فصح ان یقول حططت کلہ او بعضہ عنک اووھبتہ منک او ابرأتک عنہ (الٰی قولہ) وان لم یلتحق باصل العقد۲؎۔
ثمن میں  تصرف اور اس کو گھٹانا درست ہے یعنی مشتری کے لئے کل یا بعض مبیع بائع سے گھٹانا اور اسی طرح بائع کے لئے کل یا بعض ثمن مشتری سے ساقط کردینا درست ہے اگرچہ مبیع باقی نہ رہا ہو اور ثمن پر قبضہ نہ کیا ہو تو یہ کہنا صحیح ہوگا کہ میں  نے تجھ سے کل یا بعض گھٹادیا یا میں  نے تجھ کو اس سے بری کردیا (اس کے اس قول تک) اگرچہ یہ اصل عقد کے ساتھ ملحق نہیں ہوگا۔(ت)
(۲؎ شرح النقایہ     )
خلاصۃ الفتاوٰی کتاب البیوع فصل ۱۳ :
ولووھب کل الثمن لایلتحق باصل العقد ولو وھب بعض الثمن یلتحق ۳؎۔
اگر کل ثمن ہبہ کردیے تو اصل عد کے ساتھ ملحق نہ ہونگے اور اگر بعض ثمن ہبہ کئے تو ملحق ہوجائیں گے۔(ت)
 (۳؎ خلاصۃ الفتاوٰی      کتاب البیوع     الفصل الثالث عشر فی الثمن     مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ    ۳ /۹۴)
فتاوٰی  ہندیہ مطبع احمدی جلد سوم صفحہ ۵۸ :
اذاحط کل الثمن اووھبہ او ابرأہ عنہ فان کان ذلک قبل قبض الثمن صح الکل ولکن لایلتحق باصل العقد ۴؎۔
جب کسی نے کل ثمن گھٹا دیئے یا ہبہ کردیے یا مشتری کو اس سے بری کردیا اگر یہ ثمن پر قبضہ سے پہلے ہوا تو سب صورتیں  درست ہیں  لیکن یہ اصل عقد کے ساتھ ملحق نہیں  ہوگا۔(ت)
 (۴؎ فتاوٰی  ہندیہ    کتاب البیوع   الباب السادس عشر    نورانی کتب خانہ پشاور    ۳/ ۱۷۳)
اور ان سب کتابوں  سے صاحب درمختار رحمۃ اﷲتعالٰی  علیہ نے اسی درمختا رمیں  صدہا جگہ استناد کیا ہے سوا فتاوٰی ہندیہ کےکہ اس کی تالیف تصنیف درمختا رس ے متاخر ہے تو اب کالشمس فی النصف النہار روشن ہوگیا کہ طرف مقابل کا یہ عذر کہ بمقابلہ درمختار شامی کا کیا اعتبار، کتنی بے محل بات ہے، قطع نظر اس سے کہ جس نے علامہ شامی رحمۃ اﷲ تعالٰی  علیہ کی تحقیقات لائقہ اور تدقیقات فائقہ اس حاشیہ اور کتاب مستطاب عقود دریہ وغیرہما میں  دیکھی ہیں  وہ ایسا لفظ ہر گز نہیں کہہ سکتا، اور علاوہ اس سے کہ علماء نے تصریح فرمادی ہے کہ درمختا ر ہرچند معتبر کتاب ہے مگر جب تک اس کے حواشی پاس نہ ہوں  اس سے فتوٰی  دینا جائز نہیں کیونکہ عبارت اس کی اکثر مقامات پر ایسی چیستاں  ہےجس سےصحیح مطلب سمجھ لینا دشوار ہوتا ہے، ان سب باتوں  سے قطع نظر کرکے جب اس قدر اکابر ائمہ مستند ین صاحب درمختار کی تحقیق علامہ شامی کے بالکل مطابق ہے تو اس لفظ کا کون ساموقع رہا۔

(۳) اگر تسلیم کیا جائے کہ عبارت درمختار سے ظاہراً جو مطلب سمجھا گیا وہی صحیح ہے اور جما ہیرائمہ کی تحقیق کا کچھ اعتبار نہیں تاہم اس کے مفاد کو دعوٰی  مدعیہ سے کیا علاقہ، اس سے اس قدر سمجھا گیا کہ ہبہ ثمن باطل ہے نہ یہ کہ بیع فاسد و قابل فسخ ہے جیسا کہ دعوٰی  مدعیہ ہے کاش یہ عبارت کہیں سے پیدا کی جاتی کہ بطل البیع بحط الکل (کل ثمن گھٹا دینے سے بیع باطل ہوگئی۔ت) تو شاید قابل التفات ہوتی۔

(۴) وکیل مدعیہ نے جو عبارت عالمگیری پیش کی کہ اگر ہبہ ثمن قبل قبول واقعہ ہوا تو عقد صحیح نہیں ، یہ مسئلہ مختلف فیہ ہے۔
فتاوٰی  خلاصہ کتاب البیوع فصل ۲ :
فی مجموع النوازل رجل قال بعت منک ھذاالعبد بعشرۃ دراہم ووھبت منک العشرۃ وقال الاٰخر اشتریت لایصح البیع کما لو باع بدون الثمن، وفی النوازل الشراء جائز ولم تجز الھبۃ۱؎۔
مجموع النوازل میں  ہے ایک شخص نے دوسرے کو کہا کہ یہ غلام میں  نے تیرے ہاتھ دس درہم کے عوض بیچا اور میں  نے تجھ دس درہم ہبہ کئے دوسرے نے جواب میں  کہا کہ میں  نے خریدا تو بیع صحیح نہ ہوگی جیساکہ وہ بغیر ثمن کے بیچے، اور نوازل میں  ہے کہ خریداری جائز ہے اور ہبہ ناجائز ہے۔(ت)
 (۱؎ خلاصۃ الفتاوٰی  کتاب البیوع    الفصل الثانی     مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ    ۳/ ۱۴)
Flag Counter