| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۷(کتاب البیوع، کتاب الحوالہ، کتاب الکفالہ ) |
عہ: اصل میں سوال درج نہیں ۔ جواب سے سوال کی صورت سمجھی جاسکتی ہے۔
الجواب صورت مستفرہ میں چند امور قابل لحاظ ہیں : (۱) شرع مطہر میں عاقدین کی نیات قلبیہ واغراض باطنیہ پر بائے کار نہیں بلکہ جو لفظ انہوں نےکہے ان کے معانی پر مدار ہے،صدہا مسائل شرع اس پر متفرع۔ اسی لئے اگر کسی عورت سے نکاح کرے اوراس کے دل میں عزم قطعی ہو کہ دو روز کے لئے نکاح کرتا ہوں تیسرے روز طلاق دے دوں گا تو وہ نکاح صحیح ونافذ رہتا ہے پھر اسے اختیار رہتا ہے چاہے طلاق دے یا نہ دے۔ اوراگر عقد نکاح ہی ان لفظوں سے واقع ہو تو باطل محض ہوجاتا ہے،
بنایۃ للعلامۃ العینی کتاب النکاح فصل المحرمات، قال شیخنا زین الدین العراقی فی شرح جامع الترمذی نکاح المتعۃ المحرم اذخرج بالتوقیت فیہ اما اذاکان فی تعیین الزوج انہ لا یقیم معھا الاسنۃ او شھرااونحو ذٰلک ولم یشترط ذٰلک فانہ نکاح صحیح۱؎۔
علامہ عینی کی تصنیف بنایہ کتاب النکاح، فصل محرمات میں ہے کہ ہمارے شیخ زین الدین عراقی نے جامع ترمذی کی شرح میں فرمایا کہ نکاح متعہ حرام ہے بشرطیکہ اس میں معین مدت کا اظہار کرے، اور اگر زوج نے محض اپنی نیت میں تعیین کی ہو کہ وہ اس عورت کو ایک سال یا ایک مہینہ وغیرہ مدت تک اپنی زوجیت میں رکھے گا لیکن بوقت نکاح شرط نہیں لگائی تو بیشک یہ نکاح صحیح یہ ہے۔(ت)
(۱؎ا لبنایۃ فی شرح الہدایۃ کتاب النکاح فصل فی نکاح المحرمات المکتبۃ الامدادیہ مکہ مکرمہ ۲ /۶۷)
علٰی ہذا اگر کوئی شخصاپنا مکانزید کے ہاتھ بیچنا چاہے اور شفیع کے خوف سے لفظ بیع نہ کہے بلکہ یہ اس کو مکان ہبہ کردے اور وہ بقدر ثمن روپیہ اسے ہبہ کردے تو یہ ہبہ شرعاً ہبہ ہی رہے گا او شفیع کا حق ثابت نہ ہوگا اگرچہ ان کی نیت مبادلہ مال بالمال تھی۔
عالمگیریہ مطبع احمد ی جلد ششم صفحہ ۱۴۹:
یھب البائع الدار من المشتری ویشھد علیہ ثمن الشتری یھب الثمن من البائع ویشھد علیہ وذکر فی حیل الاصل ثم المشتری یعوضہ مقدار الثمن فاذا فعلا ذلک لاتجب الشفعۃ لان حق الشفعۃ یختص بالمعاوضات ۱؎۔
بائع مکان مشتری کو ہبہ کردے اور اس پر گواہ قائم کردے پھر مشتری ثمن بائع کو ہبہ کرے اور اس پر گواہ قائم کرے اور حیل اصل میں مذکور ہے کہ پھر مشتری اس پر ثمن کے برابر عوض مقرر کرے، جب بائع او مشتری نے ایسا کرلیا تو اب شفعہ ثابت نہیں ہوگا کیونکہ حق شفعہ تو معاوضات کے ساتھ مختص ہے۔(ت)
(۱؎ فتاوٰی ہندیۃ کتاب الحیل الفصل العشرون نورانی کتب خانہ پشاور ۶/ ۴۲۱)