Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۷(کتاب البیوع، کتاب الحوالہ، کتاب الکفالہ )
46 - 180
باب التصرف فی المبیع والثمن

(مبیع اورثمن میں   تصرف کرنے کا بیان
مسئلہ ۱۰۵: از بڑودہ پائگاہ قام حالہ مرسلہ سیدہ میاں   حالہ ۱۹ ربیع الاخر شریف ۱۳۱۰ھ

قدوۃ العلماء عمدۃ الفضلاء اس مسئلہ کبیر میں  کیا ارشاد فرماتے ہیں   ایک شخص نے ایک عورت سے نکاح کیا۔ چند روز کے بعد عورت نے اپنا مہر طلب کیا، خاوند اس کا کہنے لگا کچھ روپیہ اس وقت نقد مجھ سے وصول کرلے باقی روپیہ جو رہا مکان اور زمین نرخ بازار سے خرید لے اور جو اس سے بھی باقی رہے قسط بقسط ماہ بماہ دیتارہوں  گا تیرا مہر بہرحال ادا کردوں   گا۔ عورت اس بات پر راضی ہوئی ، شرع شریف میں  یہ جائز ہے یا ناجائز ہے؟ مع مہر، سند کتاب عبارت عربی وترجمہ اردو خلاصہ تحریر فرمائے گا اس کا صلہ آپ کو اللہ تعالٰی جل شانہ، عطا کرے گا فقط۔ راقم سید ومیاں  حالہ از بڑودہ۔
الجواب: یہاں تین باتیں  ہیں  : بعض مہر کا بالفعل زر نقد سے ادا کرنا۔ بعض کے عوض مکان وزمین نرخ بازار پر دینا۔ باقی ماندہ کی قسط بندی ہونا، یہ تینوں امر شرعا جائز ہیں ۔اول تو خود ظاہر ہے اگرچہ شرعاخواہ عرفا مہرمؤجل عدت وطلاق یا ایسی اجل پر موعود ہو جو ہنوز نہ آئی مثلا دس برس بعد دینا ٹھہرا تھا اس نے کُل یا بعض ابھی دے دیا عورت کو جبرا لینا ہوگا کہ اجل حق مدیون ہے۔ اور اسے اس کے ساقط کرنے کااختیار،
فی الزیلعی والخانیۃ والنہایۃ ثم الاشباہ ثم العقود الدریۃ الدین المؤجل اذا قضاہ قبل حول الاجل یجبرا الطالب علی تسلیمہ لان الاجل حق المدیون فلہ ان یسقطہ ۱؎۔
زیلعی، خانیہ، نہایہ پھر اشباہ پھر عقود الدریہ میں  ہے کہ مدیون اگر دین مؤجل کی ادائیگی اجل گزرنے سے پہلے کرے تو طالب (قرض خواہ) پر اس کی وصولی کے لئے جبر کیا جائے گا کیونکہ اجل مدیون کا حق ہے جسے ساقط کرنے کا اسے اختیار ہے۔ (ت)
(۱؎ الاشباہ والنظائر  الفن الثانی کتاب المدانیات   ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی ۲ /۴۸)
اور ثانی بھی جائز کہ اگرچہ اصل مقتضائے دین یہی ہے کہ جس چیز کا مطالبہ ہے وہی دی جائے ، مثلا روپے کے روپے ہی اداکئے جائیں،
فی الاشباہ واالدروغیرہما الدیون تقضی بامثالہا ۲؎
 (اشباہ اور دروغیرہ میں ہے کہ قرضے ان کی مثل سے اداکئے جائیں  ۔ ت) مگر ماورائے سلم وصرف میں باہمی تراضی سے یہ بھی رواکہ دین کا معاوضہ دوسری چیز کرلیں  ۔
(۲؎تتمہ فی الفروق من الاشباہ والنظائر مع الاشباہ   ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی   ۲ /۶)
فی ردالمحتار طالب مدیونہ فبعث الیہ شعیر اقدرا معلوما وقال خذہ بسعر البلد والسعر لہما معلوم کان بیعا ۳؎۔
ردالمحتار میں ہے کہ کسی نے اپنے مقروض سے قرضے کا مطالبہ کیا تو اس نے معین مقدار میں جو بھیجے اور کہا کہ شہر کے بھاؤ کے مطابق لے لو اگر شہر کا بھاؤ دونوں کو معلوم ہے تو بیع ہوگئی۔ (ت)
 (۳؎ ردالمحتار        کتاب البیوع        داراحیاء التراث العربی بیروت    ۴/ ۱۲)
اور ثالث کا بھی جواب واضح، اگر چہ اس وقت تک قسط بندی نہ تھی کہ برضامندی معجل کو مؤجل ، غیر منجم کو منجم کرسکتے ہیں  ۔ یعنی جس دین کی نسبت قرارپایا تھا کہ فوراً دیا جائے گا پھر یہ ٹھہرالیں   کہ اتنی مدت کے بعد دیا جائے گا یا اب تک قسطیں نہ تھیں اب قرار دے لیں   کہ ماہانہ یا سالانہ قسط سے اداہواکرے گا۔
فی الکنز صح تاجیل کل دین غیر القرض ۴؎،
کنز میں ہےکہ قرض کے سوا ہر دین میں   میعاد مقرر کرنا صحیح ہے ،
 (۴؎ کنز الدقائق    باب المرابحۃ والتولیۃفصل صح بیع العقار    ایچ ایم سعید کمپنی کراچی        ص۲۲۵)
وفی الاشباہ الحال یقبل التأجیل الاماقد مناہ ۱؎ اھ یعنی ماذکر فی قولہ لیس فی الشرع دین لایکون الا حالا الا راس مال السلم وبدل الصرف والقرض و الثمن بعد الاقالۃ ودین المیت وما اخذبہ الشفیع العقار ۲؎۔
اور اشباہ میں   ہے دین حالی تأجیل کوقبول کرتاہے سوائے اس کے جس کا ہم پہلے ذکر کرچکے ہیں  اھ ، اس سے مراد وہ ہے جس کا ذکر مصنف نے اپنے اس قول میں   کیا کہ شرع میں کوئی دین ایسانہیں   جو فقط حالی ہو سوائے بیع سلم میں   راس المال ، بدل صرف ، قرض ، اقالہ کے بعد ثمن اور دین میت کے اور وہ جس کے بدلے شفیع نے جائداد لی۔ (ت)
 (۱؎ الاشباہ والنظائر    الفن الثالث القول فی الدین     ادارۃ القرآن الخ کراچی        ۲/ ۲۱۲)

(۲؎الاشباہ والنظائر    الفن الثالث القول فی الدین     ادارۃ القرآن الخ کراچی    ۲/ ۲۱۲)
مگر مکان زمین دینے میں اتنا لحاظ ضرور ہےکہ نرخ بازار مردوزن کا معلوم نہیں   تو پہلے نرخ دریافت کرلیں  ،اس کے تعین کے ساتھ بیع واقع ہوکہ بازار کے بھاؤ سے یہ چیز ہزار روپے کی ہے تو شوہر عورت سے کہے میں نے اپنی یہ زمین ومکان تیرے ہزار روپے کے عوض میں   تجھے دی۔ وہ کہے میں   نے قبول کی ، یہ نہ ہوکہ پہلے بیع ہولے اس کے بعد تحقیقات کرنے جائیں   کہ بازار کا نرخ کیا ہے کہ اس صورت میں بوجہ جہالت ثمن بیع فاسد ہوجائے گی اور  زن ومرد دونوں بسبب ارتکاب عقد فاسد گنہگار ہونگے پھر اس بیع کا فسخ بوجہ فساد واجب ہوگاہاں اگر اسی جلسہ ایجاب وقبول میں   نرخ بازار معلوم ہوجائے تو البتہ بیع صحیح ہوجائے گی۔ اور مشتریہ کو بعد علم قیمت اس شیئ کی لینے نہ لینے کا اختیار ہوگا مگریہ امر موہوم ومشکل ہے لہٰذا پہلے ہی دریافت کرکے بیع بطریق مذکور کریں  ۔
فی الدر فسد بیع ماسکت فیہ عن الثمن کبیعہ بقیمۃ ۳؎ اھ ملخصا۔
درمیں   ہے کہ جس بیع میں   ثمن سے سکوت اختیار کیا وہ فاسد ہے جیسے کسی شے کی بیع اس کی قیمت کے بدلے میں اھ تلخیص،
  (۳؎ درمختار    کتاب البیوع   باب البیع الفاسد مطبع مجتبائی دہلی    ۲ /۲۴)
وفی الہندیۃ اما اشرائط الصحۃ فمنہا ان یکون الثمن معلوما علما یمنع من المنازعہ فبیع المجہول جہالۃ تفضی الیہا غیر صحیح کبیع الشیئ بقیمتہ اھ ۱؎ مختصرا وفیہا من ولی رجلا شیئا بما قام علیہ ولم یعلم المشتری بکم قام علیہ فسد البیع فان اعلمہ البائع فی المجلس صح البیع وللمشری الخیار ان شاء اخذہ وان شاء ترکہ کذافی الکافی انتہی ۲؎ واﷲسبحٰنہ وتعالٰی  اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
ہندیہ میں ہے کہ صحت بیع کی شرائط میں سے ثمن کا اس طرح معلوم ہونا ہےکہ جھگڑا پیدا نہ ہو لہٰذا مجہول کی بیع ایسی جہالت کے ساتھ جو جھگڑے کا باعث بنے صحیح نہیں جیسےکسی شیئ کو اس کی قیمت کے بدلے فروخت کرنا اھ اختصار۔ اور اسی میں  ہے کہ کسی شخص نے دوسرے کے ساتھ کسی شیئ کی تولیہ کی اتنے کے بدلے میں   جتنے میں اس کو پڑی در انحالیکہ مشتری کو معلوم نہیں   کہ بائع کو کتنے میں   پڑی ہے تو بیع فاسد ہوگی، پھر اگر بائع نے مجلس کے اندر مشتری کو بتایدا تو بیع صحیح ہوجائے گی اور مشتری کو اختیار ہوگا اگر چاہے تو لے لے اور اگر چاہے تو چھوڑ دے، یونہی کافی میں ہے۔ واﷲ سبحانہ وتعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔(ت)
 (۱؎ فتاوٰی  ہندیہ     کتاب البیوع     باب الاول     نورانی کتب خانہ پشاور     ۳/۳)

(۲؎فتاوٰی  ہندیہ     کتاب البیوع   الباب المرابحۃ التولیۃ     نورانی کتب خانہ پشاور   ۳/ ۱۶۵)
مسئلہ۱۰۶: کیا فرماتے ہیں  علمائے دین اس مسئلہ میں  کہ اگر ایک جائداد بیع کی جائے اور اسی مجلس خواہ دوسری مجلس میں  بائع کا ثمن مشتری کو معاف کردے تو جائز ہے یانہیں؟ اور اس معاف کرنے کے سبب وہ بیع بیع رہے گی اور اس کے احکام اس پر جاری ہوں  گے یا ہبہ ہوجائے گی ؟بینواتوجروا۔
الجواب : بیشک جائز ہے کہ بائع کوئی چیز بیچے او اس مجلس خواہ دوسری میں  کل ثمن یا بعض مشتری کو معاف کردے اور اس معافی کے سبب وہ عقد عقد بیع ہی رہے گا اور اسی کے احکام اس پر جاری ہوں  گے اس ابراء کے سبب ہبہ ٹھہر کر احکام ہبہ کا محل نہیں قرار پاسکتا کیونکہ ہبہ یا ابراء جو کچھ ہوا ثمن کا ہوا ہے نہ اس جائداد کا، اورلفظ ثمن خود تحقق بیع کو متقضی ہے کہ اگر وہ بیع نہ تھی تو یہ ثمن کا ہے کہ تھا جو معاف کیا گیا،
فی الفتاوی العالمگیریۃ اذ احط کل الثمن اووھبہ او ابرأہ عنہ فان کان ذٰلک قبل قبض الثمن صح الکل ولکن لایلتحق باصل العقد وان کان بعد قبض الثمن صح الحط والھبۃ ولم یصح الابراء ھکذا فی المحیط ۳؎۔
فتاوٰی  عالمگیریہ میں  ہے پورا ثمن گھٹا دیا یا ہبہ کردیا یا بری کردیا اگر قبضہ سے پہلے ایسا کیا تو سب صورتیں  درست ہیں  مگر یہ اصل عقد کے ساتھ لاحق نہیں  ہوگا او اگر ثمن پر قبضہ کے بعد ایسا کیا ہے تو گھٹا نا اور ہبہ کرنا درست ہوگا مگر بری کرنا درست نہ ہوگا محیط میں  ایسا ہی ہے۔(ت)
(۳؎فتاوٰی  ہندیہ     کتاب البیوع الباب السادس عشر   نورانی کتب خانہ پشاور  ۳ /۱۷۳)
صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں  سیدنا جابر رضی اﷲ تعالٰی  عنہ سے مروی :
قال غزوت مع رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم قال فتلاحق بی النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم وانا علی ناضح لنا قد اعیا فلا یکاد یسیر فقال لی مالبعیرک قال قلت اعٰی، قال فتخلف رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فزجرہ ودعا لہ فما زال بین یدی الابل قد امھا یسیر فقال لی کیف تری بعیرک قال قلت بخیر قد اصابتہ برکتک قال افتبیعنیہ قال فاستیحیت ولم یکن لنا ناضح غیرہ قال فلقلت نعم قال فبعنی قال فبعتہ ایاہ علی ان لی فقار ظھرہ حتی بلغ المدینۃ  فلما قدم رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم المدینۃ غدوت علیہ بالبعیر فاعطا نی ثمنہ وردہ علی ۱؎ (ملتقطا) ۔
انہوں  نے کہا کہ میں  ایک جہاد میں  رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی  علیہ وسلم کے ساتھ گیا تو آپ مجھ سے آملے درانحالیکہ میں  پانی لانے والے ایک انٹ پر سوار تھا جو تھک چکا تھا اور چلنے سے تقریباً عاجز ہوگیا تھا۔ آپ نے مجھے فرمایا کہ تیرے اونٹ کو کیا ہوا۔ حضرت جابر رضی اﷲتعالٰی  عنہ کہتے ہیں  میں  نے عرض کی کہ تھک گیا ہے، آپ نے پیچھے مڑ کر اونٹ کو جھڑکا اور اس کے لئے دعافرمائی تو وہ مسلسل تمام اونٹوں  کے آگے چلنے لگا پھر سرکار دوعالم صلی اﷲ تعالٰی  علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا اونٹ کو کیسا پاتے ہو؟میں نے عرض کی کہ بہتر ہے اس کو آپ کی برکت پہنچی ہے، آپ نے فرمایا کیا تم اسکو میرے پاس فروخت کروگے تو میں  نے انکار سے حیا کیا جبکہ ہمارے پاس اور اونٹ نہ تھا تو میں  نے وہ اونٹ اس شرط پر آپ کے ہاتھ بیچ دیا کہ میں  مدینہ منورہ تک ا س کی پشت پر سواری کروں  گا۔ جب رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی  علیہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے تو میں  اونٹ لے کر آپ کی خدمت اقدس میں  حاضر ہوا آپ نے مجھے اونٹ کے ثمن عطا فرمائے اور اونٹ بھی مجھے واپس کردیا(ملتقطا)۔ (ت)
 (۱؎ صحیح البخاری     کتاب الجہاد   باب الاستیذان الرجل الامام الخ  قدیمی کتب خانہ کراچی   ۱/ ۴۱۶)
دیکھو حضور سرور عالم صلی اﷲتعالٰی  علیہ وسلم نے اونٹ خرید کر قیمت بھی عطافرمائی اور اونٹ بھی نہ لیا، یوں  ہی بائع کو روا ہےکہ مبیع بھی سپرد کردے اور ثمن بھی نہ لے۔واﷲ تعالٰی  اعلم۔
Flag Counter