Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۷(کتاب البیوع، کتاب الحوالہ، کتاب الکفالہ )
45 - 180
ہاں  بغیر اس تصریح کے جس طرح عام طورپر نوٹ کی خرید وفروخت ہوتی ہے نوٹ معین نہیں  ہوتایہاں  تک کہ اگر یہ نوٹ سوروپے کو بیچا بائع کو اختیار ہے کہ یہ خاص نوٹ نہ دے اس کے بدلے اور کوئی نوٹ کا سو کا دے دے جبکہ چلن میں اس کا مساوی ہو اور اگر ابھی یہ نوٹ مشتری کو نہ دینے پایا تھا کہ جل گیا ، پھٹ گیا، تلف ہوگیا تو بیع باطل نہ ہوئی کہ خاص اس نوٹ کی ذات اسے متعین نہ تھی دوسرا دے تو اس عام طورکے خریدے ہوئے نوٹوں  پر مرابحہ نہیں  کرسکتا کہ وہ معین ہوکر اس کی ملکیت میں  نہ آئے ،کما بیناہ اٰنفا (جیسا کہ ابھی ہم نے بیان کیا ہے۔ ت) اسی طرح اگر عورت کا مہر نوٹ قرار پائے تھے وہ اس نے شوہر سے اپنے مہر میں  پائے انھیں  مرابحۃ نہیں  بیچ سکتی کہ اثمان مہرمیں متعین نہیں  ہوتے۔ اشباہ پھر ردالمحتار میں  ہے : لایتعین فی المہر ولوبعد الطلاق قبل الدخول فتردمثل نصفہ ولذا لزمہا زکوٰتہ لونصابا حولیا عندھا ۱؎ اھ ۔    ثمن مہر میں  متعین نہیں  ہوتے اگر چہ دخول سے قبل طلاق کے بعد ہوں  تو اس صورت میں  مطلقہ نصف مہر کی مثل واپس کرے گی اسی وجہ سے اس عورت پر اس مہر کی زکوٰۃ واجب ہے اگر وہ نصاب کے برابر ہوں  اور سال بھر عورت کے پاس رہے اھ ،
 (۱؎ ردالمحتار     کتاب البیوع   باب البیع الفاسد        داراحیاء التراث العربی بیروت    ۴/ ۱۲۹)

(الاشباہ والنظائر الفن الثالث احکام النقد        ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی    ۲ /۱۵۹)
اقول:  والوجہ فیہ ان المہر ایضا معاوضۃ والاثمان لایتعین فی المعاوضات وتتعین فیما وراء ھا من التبر عات وفیہا الہبۃ والصدقۃ ومن الامانات ومنہا المضاربۃ والشرکۃ والوکالۃ والودیعۃ کلہا بعد التسلیم اما قبلہ فلا مطالبۃ ولا استحقاق وانما النظر فی تعین النفقود وعدمہ من ھذہ الجھۃ کما فی احکام النقد من الاشباہ ۱؎
اقول:  (میں  کہتاہوں ) وجہ اس میں  یہ ہےکہ مہر معاوضہ ہے اور ثمن معاوضوں  میں  متعین نہیں  ہوتے جبکہ معاوضوں  کے ماسوا یعنی تبرعات، امانات اور غصبات میں  متعین ہوجاتے ہیں ، ہبہ اور صدقہ تبرعات میں  سے ہیں  جبکہ مضاربت، شرکت، وکالت اور ودیعت امانات میں  سے ہیں ۔ ان سب میں  تعین تسلیم کے بعد ہوتا رہاہے قبل از تسلیم تو اس صورت میں  نہ مطالبہ نہ کوئی استحقاق، نقود کے تعین اور عدم تعین میں  نظر صرف اسی جہت (بعدا ز تسلیم) سے ہے جیسا کہ اشباہ کی فصل احکام النقد میں  ہے ۔
 (۱؎ الاشباہ والنظائر      احکام النقد   ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ  کراچی      ۲/ ۵۹۔ ۱۵۸)
اقول:  ولذا لم تتعین فی النذر اذ لیس مطالب الا بما فیہ قربۃ ولاقربۃ فی خصوص نقد او وقت اوفقیر  کما فی جامع الفصولین ۲؎ من الفصل السابع عشر ومن الغصبیات ویلتحق بہا المقبوض فی الصرف اذا فسد بالتفریق قبل قبض بدل و فی البیع اذا فسد علی ماھو الاصح لکونہ واجب الرد وفی الدعوی اذا ادعی اٰخر مالافقضی لہ فقبض ثم اقرانہ کان مبطلا فیہا اما الدین المشترک اذا قبضہ احدھما یؤمر بردحصۃ صاحبہ من عین المقبوض۔
اقول:  اسی لئے نقود نذر میں  متعین نہیں  ہوتے کیونکہ مطالبہ صرف اس چیزکا ہوتاہے جس میں  قربت ہو جبکہ نقد یا وقت یا فقیر کےخاص ہونے میں کوئی قربت نہیں جیساکہ جامع الفصولین فصل ۱۷ میں  ہے، اور بیع صرف میں  جس چیز پر قبضہ کیا جائے وہ غصبیات کے ساتھ ملحق ہوجاتی ہے جبکہ بدل صرف پر قبضہ کرنے سے پہلے تفریق کی وجہ سے عقد صرف فاسد ہوجائے، اور مذہب اصح کے مطابق بیع فاسد میں  بھی غصب سے ملحق ہے کیونکہ اس کا ردکرناواجب ہے اور یوں  ہی دعوٰی میں  ہے اگر کسی نے دوسرے پر کچھ مال کا دعوٰی کیا پھر فیصلہ کے حق میں  ہونے اور قبضہ کرنے کے بعد اس نے اقرار کیا کہ وہ اس دعوٰی میں  باطل پر تھا یعنی جھوٹا تھا۔ رہا دین مشترک تو اگر اس پر دو شریکوں  میں  سے ایک نے قبضہ کرلیا تو اس کو حکم دیا جائے گا کہ وہ عین مقبوض میں  سے اپنے شریک کا حصہ اس کو دے ۔
 (۲؎ جامع الفصولین  الفصل السابع عشر  اسلامی کتب خانہ کراچی  ۱/ ۲۳۰)
اقول:  ان کان قبضہ بحق فامین اولافغاصب فانحصر الامر فیما ابدیت من الضابط واﷲ الحمد اتقنہ فانک لاتجدہ فی غیر ھذہ السطور والحمد اﷲ علی تواتر الائہ بالوفور۔
اقول:  (میں  کہتاہوں ) اگر اس نے حق کے ساتھ قبضہ کیا تو امین ہے اور اگرناحق قبضہ کیا ہے و غاصب ہے ۔ چنانچہ جو ضابطہ میں  نے بیان کیا ہے معاملہ اسی پر منحصر ہوا۔ اللہ تعالٰی  کے لئے ہی حمد ہے۔ اسے محفوظ کرلو کہ اس کو تو ان سطور میں کے غیرمیں  نہ پائیگا۔ اور مسلسل وافر نعمتوں  کی عطا پر تمام تعریفیں  اللہ تعالٰی کے لئے ہیں ۔ (ت) 

پھر جہاں  نوٹ پر مرابحہ منع ہے اس کے یہ معنٰی ہیں  کہ ملک اول کے لحاظ سے نفع مقرر نہیں  کرسکتا ابتدائے بیع بے لحاظ سابق کرے جسے مساومہ کہتے ہیں ۔ تو اختیار ہے جنتے کو چاہے بیچے اگر چہ دس کا نوٹ ہزار کو۔
بحرمیں ہے :
قید بقولہ لم یرابح لانہ یصح مساومۃ لان منع المرابحۃ انماھی للشبہۃ فی حق العباد لافی حق الشرع وتمامہ فی البنایۃ ۱؎۔
  ماتن نے یہ قید لگائی کہ وہ بیع مرابحہ نہیں  کرسکتا کیونکہ بیع مساومہ اس میں  صحیح ہے اس لئے کہ مرابحہ کی ممانعت حقوق العباد میں  شبہ کی وجہ سے ہے نہ کہ حق شرعی میں  ۔ اس کی پوری بحث بنایہ میں  ہے۔ (ت)
(۱؎ البحرالرائق   کتاب البیوع باب المرابحۃ والتولیۃ    ایچ ایم سعید کمپنی کراچی        ۶/ ۱۱۱)
اورجہاں  مرابحہ جائز ہے اور یوں  مرابحہ کیا جس طرح سوال میں  مزکور ہے کہ لکھی ہوئی رقم سے مثلا فی روپیہ ایک آنہ زیادہ لوں  گا تو اس کے لئے ضرورہے کہ مشتری کو بھی اس کی رقم معلوم ہو اور جانے کہ مجموع یہ ہوااورنہ اگر کسی ناخواندہ کے ہاتھ بیچا ہے معلوم نہیں  کہ یہ نوٹ کتنے کا ہے اس صورت میں  اگر اسی جلسہ بیع میں  اسے علم ہوگیا کہ یہ مثلا سوروپے کا ہے اور مجھے ایک سو چھ روپے چارآنے میں  دیا جاتاہے تو بعد علم اسے اختیار ہے کہ خریداری پر قائم رہے یا انکار کردے اور اگر ختم جلسہ بیع تک اسے علم نہ ہو توبیع فاسد وحرام و واجب الفسخ ہوگئی اگرچہ بعد کو اسے علم ہوجائے۔
ردالمحتارمیں ہے :
قال فی النہر لو کان البدل مثلیا فباعہ بہ وبعشرہ ای بعشر ذٰلک المثلی فان کان المشتری یعلم جملۃ ذٰلک صح والا فان علم فی المجلس خیر والافسد ۲؎۔
نہر میں  کہا کہ اگر بدل مثلی ہے اور اس نے اس مثلی بدل اور مزید اس کے عشر یعنی اس مثل کے دسویں  حصہ کے عوض بیع کی، اس صورت میں  اگر مشتری کو اس تمام کا علم ہے تو بیع صحیح ہے اور اگر علم نہیں  تھا مگر اسی مجلس میں  اس کو معلوم ہوگیا تو اسے اختیار ہے ورنہ فاسد ہوگی۔ (ت)
 (۲؎ ردالمحتار  کتاب البیوع باب المرابحۃ والتولیۃ    داراحیاء التراث العربی بیروت    ۴/ ۱۵۴)
ہدایہ باب المرابحہ میں ہے :
اذ احصل العلم فی المجلس جعل کابتداء العقد وصار کتاخیر القبول الی اٰخر المجلس وبعد الافتراق قد تقرر فلا یقبل الاصلاح ونظیرہ بیع الشیئ برقمہ ۱؎۔
واﷲ تعالٰی  اعلم۔ جب مشتری کو مجلس کے اندر ثمن کا علم ہوگیا تو اس کی ابتداء عقد کی طرح قراردیا جائے گا اور یہ آخر مجلس تک قبول کومؤخر کرنے کی مثل ہوگیا اور جدائی (تبدیلی مجلس) کے بعد اگر علم ہوا تو اب چونکہ فساد مستحکم ہوچکا ہے لہذایہ بیع اصلاح کو قبول نہیں  کرے گی اورا س کی نظیر کسی شے کو اس کی لکھی ہوئی قیمت کے عوض فروخت کرنا ہے۔ اور اللہ تعالٰی خوب جانتاہے۔ ت)
 (۱؎ الہدایہ    کتاب البیوع باب المرابحۃ والتولیۃ    مطبع یوسفی لکھنؤ    ۳ /۷۷۔ ۷۶)
Flag Counter