فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۷(کتاب البیوع، کتاب الحوالہ، کتاب الکفالہ )
44 - 180
یہ وہ ہے جس کا ہم نے آپ کے ساتھ پہلے وعدہ کیا تھا کہ جو تعریف علامہ بحر نے بیا ن کی ہے وہ بھی تام نہیں ، ان پر لازم تھا کہ وہ اپنے قول ''ممایتعین'' کے بعد یہ الفاظ بڑھاتے ''غیر ربوی قوبل بجنسہٖ'' یعنی وہ چیز مال ربوٰی کا غیر ہو جس کا مقابلہ اس کی جنس سے کیا گیا ہو، پھر علامہ محقق ابوالخلاص حس شربنلالی رحمہ اللہ تعالٰی پر حیرت ہے کہ جب درر کی اس تعریف ''وہ ملوک چیز کی بیع ہے اس کی مثل کے ساتھ جتنے میں اس کو پڑی مع کچھ زیادتی کے'' پر اس مسئلہ کے ساتھ اعتراض وارد ہوا کہ غاصب دینے پر وہ اس شیئ کوغائب کردیا اور اس کا ضمان دینے پر وہ اس شیئ مغصوب کا ماملک بن گیا اس کے باوجود وہ اس میں بیع مرابحہ نہیں کرسکتا جیساکہ اس سے نقل کرچکے ہیں ، تو علامہ ابوالاخلاص حسن شربنلالی نے فرمایا کہ یہ اعتراض اس پر وارد نہیں ہوتاجس نے تعریف میں یوں کہا کہ ''بیع بمثل الثمن الاول'' یعنی ثمن اول کی مثل کے بدلے بیع کرنا،
(۱؎ غنیہ ذوی الاحکام حاشیہ درر الاحکام باب المرابحۃ والتولیۃ میر محمد کتب خانہ کراچی ۲/ ۱۸۰)
اقول: صور بضمان الغصب فصدق ماقام علیہ ولم یصدق الثمن ولوصور بربوی ملکہ بجنسہ کبر ببر لعم الضمان والاثمان وورد علی الکل بالسویۃ فہذا تحقیق الشرط الثانی وقد تفضل علی المولٰی سبحانہ وتعالٰی بہذا المباحث فاتقنہا فانک لاتجدہ فی محل اٰخروﷲ الحمد علی تواتر الائہ والصلٰوۃ والسلام علی سید انبیائہ محمد واٰلہ واحبائہ۔
اقول: (میں کہتاہوں ) ضمان غصب کے ساتھ صورت بیان کی گئی ہوجو ''ماقام علیہ '' پر صادق اور ثمن پر صادق نہیں اگر ایسے مال ربوی کے ساتھ صورت بیان کی جاتی جس کا وہ اس کی جنس کے بدلے میں مالک ہوا جیسے گندم کے بدلے گندم تو یہ صورت ضمان غصب اور ثمنوں کو شامل ہوتی اور سب پر اعتراض کا ورود برابر ہوتا۔ یہ شرط ثانی کی تحقیق ہے۔ بیشک مولٰی سبحانہ وتعالٰی نے ان مباحث جلیلہ کے سبب محمد پر فضل فرمایا اور تو ان کو محفوظ کر کہ انھیں تو دوسری جگہ نہیں پائے گا۔ ان مسلسل نعمتوں کے عطا ہونے پر اللہ تعالٰی ہی کے لئے حمد ہے اور درود وسلام ہو نبیوں کے سردار محمد مصطفٰی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم اورآپ کی آل واحباب پر۔ (ت)
جب یہ اصل اصیل منقع ہولی اب جواب مسئلہ کی طرف چلئے فاقول: وباللہ التوفیق (تو میں کہتاہوں اور توفیق اللہ سے ہے۔ ت) نوٹ میں شرط دوم تو خوموجود ہے کہ وہ سرے سے مال ربوٰی ہی نہیں نہ وہ اور روپے یا اشرفی متحد الجنس۔ اور شرط اول اس کی نفس ذات میں تو متحقق ہے کہ وہ فی نفسہٖ ایک عرض ومتاع ہے نہ ثمن مگر بذریعہ اصطلاح اسے ثمنیت عار ض ہے اور جب تک رائج رہے گا اور عاقدین بالقصد اسے متعین نہ کریں گے عقود معاوضہ متعین نہ ہوگا۔ اور اوپر معلوم ہولیا کہ یہاں تعین دونوں وقت درکار ہے ملک اول کے وقت اور اس بیع مرابحہ کے وقت تاکہ صادق آئے کہ وہی شے جو پہلے اس کی ملک میں آئی تھی اس نفع پر بیچی۔ وقت مرابحہ کا تعین بھی خودہی ظاہر ہے کہ جب مرابحہ بے تعین ناممکن اور وہ قصد مرابحہ کررہے ہیں ضرور اسے متعین کرلیا جس طرح پیسوں کی بیع سلم میں ہمارے ائمہ کے اجماع سے اورایک پیسہ معین دوپیسے معین کو بیچنے میں ہمارے امام اعظم وامام ابویوسف رضی اللہ تعالی عنہما کے نزدیک ہے جس کی تحقیق ہمارے رسالہ کفل الفقیہ الفاہم میں ہے۔
وقلت فی الوفاقیۃ ان المسلم فیہ لایکون ثمنا قط فاقدامہا علی جعلہا مسلما فیہا دلیل علی الابطال ۱؎ اھ ای ابطال الاصطلاح علی الثمینۃ القاضیۃ بعدم التعیین وفی الہدایۃ فی الخلافیۃ لہما ان الثمینۃ فی حقہما باصطلاحہما فتبطل باصطلاحہما ۱؎ اھ وقلت فیہا فی ہامش الکفل ان الحاجۃ الی تصحیح العقد تکفی قرینۃ علی ذٰلک ولایلزم کون ذٰلک ناشئا عن نفس ذات العقد کمن باع درہما ودینارین بدرہمین ودینار یحمل علی الجواز صرفا للجنس الی خلاف الجنس مع ان نفس ذات العقد لاتابی مقابلۃ الجنس بالجنس واحتمال الرباء کتحققہ فما الحامل علیہ الاحاجۃ التصحیح و کم لہ من نظیر ۲؎۔
میں نے اتفاقی اور اجماعی مسئلہ میں کہا کہ مسلم فیہ کبھی بھی ثمن نہیں ہوسکتا لہٰذا بائع اور مشتری کا پیسوں کو مسلم فیہ بنانے کا اقدام دلیل ابطال ہے اھ یعنی اصطلاح ثمنیت کا ابطال جو عدم تعیین کا تقاضا کرتی ہے اور ہدایہ میں اختلافی مسئلہ کے بارے میں شیخین کی دلیل یون بیان کی کہ بائع اور مشتری کے حق میں ثمنیت ان دونوں کی اصطلاح کی وجہ سے ہے لہٰذا ان دونوں کی اصطلاح سے باطل ہوجائے گی۔ اور میں نے اس مسئلہ اختلافیہ کے بارے میں کفل الفقیہ کے حاشیہ پر کہا ہے کہ عقد کو صحیح کرنے کی حاجت اس پر کافی قرینہ ہے اس کا نفس عقد سے ناشی ہونا لازم نہیں جیسے کسی نے ایک درہم اور دو دینار کو دو درہموں اور ایک دینار کے عوض فروخت کیا۔ تو جنس کو غیر جنس کی طرف پھیرتے ہوئے اس کو جواز پر محمول کریں گے باوجود یکہ خود ذات عقد جنس کا مقابلہ جنس سے کرنے سے انکار نہیں کرتی اور سود کا احتمال بھی حقیقت سودکی طرح ہے تو سوائے تصحیح عقد کی حاجت کے اس کا کوئی باعث نہیں اوراس کی متعدد نظیریں ہیں ۔ (ت)
اب نہ رہی مگر وقت میں نظر۔ اگریہ نوٹ کسی نے اسے ہبہ کیا تھا یااس پر تصدق کیا یا بذریعہ وصیت یا مورث کے ترکہ میں اسے ملایا اس نے کسی سے چھین لیا اور تاوان دے دیا یاکسی کا اس کے پاس امانت رکا تھا اس سے منکر ہو کر تاوان دے کر بیچ لیا تو ان صورتوں میں اسے بیع مرابحہ کرسکتاہے کہ اب سب وجوہ میں خود روپے اشرفی معین ہوتے ہیں جو ثمن خلقی ہیں نوٹ تو ثمن اصطلاحی ہے، پہلی چارصورتوں میں تو بازار کے بھاؤ سے اس کی قیمت بتاکر اس پر نفع لگائے مثلایہ نوٹ سو روپے کا ہے میں نے تیرے ہاتھ اکنی روپے کے نفع پر بیچا اور پچھلی دو صورتوں میں جو کچھ تاوان دینا پڑا ہو وہ بتاکر اس پر نفع رکھے کہ یہ نوٹ مجھے اتنے میں پڑا اور انتے نفع پر میں نے تیرے ہاتھ بیع کیا، درمختار میں ہے :
المرابحۃ بیع ماملکہ ولو بھبۃ او ارث اووصیۃ اوغصب ۱؎۔
مرابحہ اس چیز کی بیع ہے جس کامالک بنااگر چہ ہبہ، میراث، وصیت یا غصب کے سبب سے مالک بنا ہو۔ (ت)
(۱؎ درمختار کتاب البیوع باب المرابحۃ والتولیۃ مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۳۵)
غصب کا جب تاوان دے دیا تو اب اس تاوان پر غصب کی بیع بطور مرابحہ یا بطور تولیہ جائز ہے اور جس چیز کا ہبہ، میراث یا وصیت کے ذریعے مالک بنا جب اس کی قیمت مقرر کرے تو اس قیمت پر اس مملوک چیز کی بیع مرابحہ کرسکتا ہے بشرطیکہ قیمت مقرر کرنے میں سچا ہو اھ التقاط (ت)
(۲؎ البحرالرائق کتاب البیوع باب المرابحۃ والتولیۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۶/ ۱۰۷)
امانتوں ۔ ہبہ، صدقہ، شرکت، مضاربہ اور غصب میں دراہم ودنانیر متعین ہوجاتے ہیں (ت)
(۳؎ ردالمحتار کتاب البیوع باب المرابحۃ والتولیۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۴/ ۱۲۹)
یونہی اگریہ نوٹ بیع سلم سےمول لیااس پر مرابحہ کرسکتاہے مثلا نوے روپے کے بدلے سو کی رقم کانوٹ ایک مہینہ کے وعدہ پر خریدا یہ نوٹ معین ہوگیا لما قدمنا۔ (اس دلیل کی وجہ سے جس کا ہم پہلے ذکر کرچکے ہیں ۔ت) اب نوے روپے اصل ثمن لگاکر اس پر نفع معین کرے سو روپے اصل قیمت کو ٹھہرا کر اس پر نفع لگانا حرام ہوگا یونہی اگر نوٹ اور خریدنے میں صاف تصریح کردی کہ خاص یہ نوٹ بعینہ اتنے کو بیچاکہ ایسی صریح تصریح سے ثمن اصطلاحی متعین ہوجاتاہے تو جتنے کو لیا اتنے پر مرابحہ کرسکتا ہے اور صرف اس کے کہنے سے کہ یہ نوٹ اتنے کو بیچا معین نہ ہوگا جب تک عاقدین صاف تصریح نہ کریں کہ خاص اس کی ذات سے عقد بیع کا متلعق کرنا مقصود ہے۔
تبیین الحقائق میں ہے :
صح البیع بالفلوس النافقۃ وان لم یعین لانہا اموال معلومۃ صارت ثمنا بالاصطلاح فجاز بہا البیع ووجب فی الذمۃ کالدراھم والدنانیر وان عینہا لاتتعیین لانہا صارت ثمنا باصطلاح الناس ولہ ان یعطیہ غیرہما لان الثمنیۃ لاتبطل بتعیینہا لان التعیین یحتمل ان یکون لبیان قدرالواجب ووصفہ کما فی الدراھم ، ویجوز ان یکون لتعلیق الحکم بعینہا فلا یبطل الاصطلاح بالمحتمل مالم یصرحا بابطالہ بان یقولا اردنا بہ تعلیق الحکم بعینہا فحینئذ یتعلق العقد بعینہا بخلاف مااذا باع فلسا بفلسین باعیانہما حیث یتعین من غیر تصریح لانہ لو لم یتعیین لفسد البیع علی مابینا من قبل فکان فیہ ضرورۃ تحریا للجواز وھنا یجوز علی التقدیرین فلاحاجۃ الی ابطال اصطلاح الکافۃ ۱؎۔
رائج پیسوں کے ساتھ بیع جائز ہے اگرچہ متعین نہ ہوں کیونکہ وہ اموال معلومہ ہیں جوکہ اصطلاح کے سبب سے ثمن بنے ہیں تو ان کے ساتھ بیع جائز ہوگی اور یہ ذمہ پر ہونگے جیسا کہ دراہم ودنانیر کا حکم ہے اگر ان کومتعین کرے تب بھی یہ متعین نہ ہونگے کیونکہ یہ لوگوں کے اصطلاح سے ثمنم بنے ہیں اور تعیین کے باوجود اس کو دوسرے پیسے دینے کا اختیار ہے کیونکہ ان کی تعیین سے ثمنیت باطل نہیں ہوتی کیونکہ تعیین میں احتمال ہے کہ وہ واجب کی مقدار اور وصف کو بیان کرنے کے لئے ہو اور یہ بھی ممکن ہے حکم کو ان معین پیسوں کی ذات سے معین کرنے کے لئے ہو چنانچہ محض احتمال سے اصطلاح باطل نہیں ہوتی جب تک بائع اور مشتری اس کو باطل کرنے کی تصریح نہ کریں بایں طور کہ وہ یوں کہیں کہ ہم نے خاص انہی پیسوں سے حکم کو مطلق کرنے کا ارادہ کیا ہے اس وقت خاص ان ہی معین پیسوں سے عقد متعلق ہوگا بخلاف اس صورت کے جب کسی نے دو معین پیسوں کے عوض ایک پیسہ فروخت کیا کیونکہ یہاں بغیر تصریح کے وہ متعین ہوجائیں گے اس لئے کہ اگر اس صورت میں وہ متعین نہ ہوں تو بیع فاسد ہوگی اس وجہ سے جوہم نے پہلے بیان کردی ہے تو اس میں تلاش جواز کی ضرورت ہوئی اوریہاں دونوں صورتوں میں بیع جائز ہوگی لہٰذا تمام کی اصطلاح کو باطل کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ۔ (ت)
(۱؎ تبیین الحقائق کتاب الصرف المطبعۃ الکبرٰی الامیریہ مصر ۴/ ۱۴۳)