Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۷(کتاب البیوع، کتاب الحوالہ، کتاب الکفالہ )
43 - 180
اقول:  و العجب ان المعترض حصر والبطل جمیع الشقق فکیف یعترض بالابہام لم لایحکم بالبطلان ثم العجب اشد العجب الاستناد بمانقل عن الایضاح والمحیط فانہ لامساس لہ بالمدعی کمانبہ علیہ العلامۃ سعدی اٰفندی حیث یقول ''لایخفی علیک ان مانقلہ من ذینک الکتابین انمایدل علی عدم اشتراط مما ثلثۃ الریح لرأس المال جنسا لا علی عدم شرطبۃ مماثلۃ الثمن الثانی للاول فی الجنس ۲؎ اھ،
اقول: (میں  کہتاہوں ) تعجب ہے معترض نے حصر کرتے ہوئے تمام شقوں  کو باطل قرار دیا ہے تو اس پر ابہام کا اعتراض کیسے ہو ابطلان کاحکم کیوں  نہیں  لگایا گیا پھر شدید ترین تعجب اس استناد پر ہے جو ایضاح اور محیط سے منقول عبارت پر کیا گیا کیونکہ اس کا مدعا سے کوئی تعلق نہیں  جیسا کہ علامہ سعدی آفندی نے یہ کہتے ہوئے اس پر تنبیہ فرمائی کہ اے مخاطب! تجھ پر پوشیدہ نہیں  کہ اکمل نے ان دونوں  کتابوں  سے جو نقل کیا ہے وہ تو اس بات پر دلالت کرتاہے کہ نفع کا اعتبار جنس کے راس المال کی مثل ہونا شرط نہیں ، اس بات پروہ دلالت نہیں  کرتا کہ ثمن ثانی کاباعتبار جنس کے ثمن اول کی مثل ہونا شرط نہیں  اھ
(۲؎ حاشیہ سعدی آفندی علی ہامش فتح القدیر    باب المرابحۃ والتولیۃ  مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر  ۶/ ۱۲۲)
اقول: ولانظر الی مایوھمہ التصویر بالدارہم والدنانیر والتعلیل بان الکل ثمن فان الربح یجوز مطلقا من ای جنس کان ثوبا اوعبدا اوارضا او غیر ذٰلک بعد ان یکون مقدارا معلوما کما قدمناہ عن العنایۃ عن التحفۃ ومثلہ فی عامۃ الکتب فہذا وجہ
اقول:  (میں  کہتاہوں )دراہم ودنانیر سے صورت بیان کرنا جس وہم کو پیدا کرتاہے علامہ آفندی کو ملحوظ ہے نہ ہی وہ تعلیل جو اکمل نے یہ کہہ کر بیان کی کہ یہ سب ثمن ہیں  اس لئے کہ نفع تو مطلقا جائز ہے چاہے کسی بھی جنس سے ہویعنی چاہے کپڑا ہویا غلام ہو یا زمین وغیرہ ہو بشرطیکہ وہ مقدار معین ہو جیسا کہ ہم عنایہ سے بحوالہ تحفۃ الفقہاء پہلے بیان کرچکے ہیں  اور اس کی مثل عام کتابوں  میں  ہے یہ تو جیہ ہے
اقول: ولانظر الی مایوھمہ التصویر بالدارہم والدنانیر والتعلیل بان الکل ثمن فان الربح یجوز مطلقا من ای جنس کان ثوبا اوعبدا اوارضا او غیر ذٰلک بعد ان یکون مقدارا معلوما کما قدمناہ عن العنایۃ عن التحفۃ ومثلہ فی عامۃ الکتب فہذا وجہ و اقول: ثانیا لئن قطعنا النظر عن ھذا لم یکن فیہ مایمنع اشتراط المجانسۃ وینفیہ فقد نصوا ان الدرھم والدینار جنس واحد فی بضع مواضع منہا المرابحۃ کما فی البحر والدر ۱؎ وغیرہما ،
اقول:  ثانیا (میں  دوبارہ کہتاہوں ) اگر ہم اس سے قطع نظر کرلیں  تو بھی اس میں  ایسی کوئی چیز نہیں  جو شرط مجانست سے مانع ونافی ہو، چنانچہ فقہاء نے تصریح کی ہے کہ چند جگہوں  میں  درہم اور دینار جنس واحد شمار ہوتے ہیں ، ان میں  سے مرابحہ بھی ہو، جیسا کہ بحر اور در وغیرہ میں  ہے،
 (۱؂درمختار    کتاب البیوع باب البیع الفاسد    مطبع مجتبائی دہلی    ۲/ ۲۶)

(بحرالرائق   کتاب البیوع باب البیع الفاسد    ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی    ۶ /۸۳)
اقول:  ثالثا وھوا لقول الفصل وھادم الاعتراض من الاصل اطبقت الکتب قاطبۃ ان شرط صحۃ المرابحۃ والتولیۃ کون العوض الی الثمن الاول مثلیا وعللہ المعللون کالہدایۃ والشروح ومنہا العنایۃ والتبیین والبحر وغیرھما واللفظ للعنایۃ بان مبنا ہما علی الاحتراز عن الخیانۃ وشبھھا والاحتراز عن الخیانۃ فی القیمیات ان امکن، وقد لایمکن عن شبہہا لان  المشتری لا یشتری المبیع الابقیمۃ ماوقع فیہ من الثمن اذ لایمکن دفع عینۃ حیث لم یملکہ ولا دفع مثلہ اذ الفرض عدمہ فتعیت القیمۃ وھی مجھولۃ تعرف بالخرص و الظن فیتمکن فیہ شبہۃ الخیانۃ الااذا کان المشتری باعہ مرابحۃ ممن ملک ذٰلک البدل من البائع الاول بسبب من الاسباب فانہ یشتریہ مرابحۃ بربح معلوم من دراہم او شیئ من المکیل والموزون الموصوف لاقتدارہ علی الوفاء بما التزمہ ۱؎ اھ
اقول: ثالثا (میں  سہ بارہ کہتاہوں ) جو قول فیصلہ کن اور اعتراض کو سرے سے منہدم کردینے والا ہے کہ تمام کتابیں  اس پر متفق ہیں  کہ تولیہ ومرابحۃ کے صحیح ہونے کی شرط یہ ہے کہ عوض یعنی ثمن اول مثلی ہو اور علت بیان کرنے والوں  جیسے ہدایہ اور اس کی شروحات عنایہ، تبیین اور بحر وغیرہ نے اس کی علت یوں  بیان کی، لفظ عنایہ کے ہیں  کہ ان دونوں  (تولیہ ومرابحہ) کی بناء خیانت اورشبہ خیانت سے اجتناب پر ہے جبکہ قیمتی چیزوں  میں  اگرچہ خیانت سے اجتناب ممکن ہے مگر شبہ خیانت سے اجتناب کبھی ممکن نہیں  ہوتا کیونکہ مرابحہ میں  مشتری مبیع کو اس قیمت کے بدلے ہی خریدسکتاہے جس میں  ثمن واقع ہوا نہ کہ عین ثمن کے بدلے کیونکہ جب وہ اس کا مالک ہی نہیں تو اس کا دینا اس کے لیے نا ممکن ہے  اورنہ ہی مثل ثمن کے بدلے کیونکہ مفروض اس کا عدم ہے تو قیمت ہی متعین ہوئی اور وہ مجہول ہے جو کہ ظن وتخمینہ سے پہچانی جاتی ہے لہٰذا اس میں  شبہ خیانت پایا جاتاہے سوائے اس کے کہ جب مشتری اول مبیع کو اس شخص کے ہاتھ بطور مرابحہ بیچے جو اس بائع اول سے اس مبیع کے بدل کا کسی سبب سے مالک بن چکا ہے کیونکہ اس صورت میں  مشتری ثانی اس مبیع کو دراہہم یا کسی کیلی وزنی شے میں  سے معین ومعلوم نفع پرخرید رہا ہے یہ اس لئے ہے کہ مشتری ثانی نے جس چیز کا التزام کیا ہے وہ اس کی ادائیگی پر قادرہے اھ ،
 (۱؎ العنایہ علی ہامش الفتح القدیر    کتاب البیوع باب المرابحۃ والتولیۃ    مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر    ۶/ ۱۲۴)
اقول:  ولاتنس ماقدمنا ان الربح سائغ مطلقا ولو ثوبا کما نص علیہ فی التحفۃ وقال فی التحفۃ وقال فی الفتح لوکان مااشتراہ بہ وصل الی من یبیعہ منہ فرابحہ علیہ بربح معین کان یقول ابیعک مرابحۃ علی الثوب الذی بیدک وربح درھم اوکرشعیرا وربح ھذا الثوب جاز اھ ۱؎ فالقصر علی المکیل والموزون لامفہوم لہ ومن البین ان اشتراط مثلیۃ الثمن الاول یوجب المماثلۃ بینہ وبین الثمن الثانی فی الجنس اذا لاہ لعاد علی مقصودہ بالنقص فان الشیئ ولومثلیا اذا بدل بخلاف جنسہ خرج المثل من البین وآل الامرالی التقویم فھناک قلتم لایمکنہ دفع مثلہ اذا الفرض عدمہ وھھنا نقول لایمکن دفعہ مثلہ اذ الفرض ان البیع الثانی بخلاف جنسہ وھذ اکان شیئا واضحا فی غایۃ الوضوح فسبحان الذی اذ ھل ھؤلاء الاکابر من مثلہ ولاعصمۃ الالکلام اﷲ وکلام الرسول جل جلالہ وصلی اﷲ تعالٰی  علیہ وسلم۔
اقول: (میں  کہتاہوں ) جو ہم پہلے ذکر کرچکے ہیں اس کو مت بھولیں  کہ نفع مطلقا جاری ہوتاہے اگر چہ کپڑ ا ہو جیسا کہ فتح میں  کہا کہ اگر کسی طرح مبیع کے ثمن اس شخص کے پاس پہنچ جائیں  جس کے ہاتھ اب یہ بیع بطور مرابحہ بیچ رہا ہے اور اس ثمن پر معین نفع لگائے مثلا یوں  کہے کہ میں  یہ چیز بطور مرابحہ تجھ پر فروخت کرتاہوں  اس کپڑے کے عوض جو تیرے قبضے میں ہے اور ایک درہم کے نفع پر یا ایک کُر جو کے نفع پر یا اس کپڑے کے نفع پرتویہ بیع مرابحہ جائزہے اھ چنانچہ نفع کے کیلی اور وزنی اشیاء میں  اقتصار کا کوئی مفہوم نہیں  ، اورظاہرہے ثمن اول کے مثل ہونے کی شرط اس بات کو واجب کرتی ہے کہ ثمن اول اور ثمن ثانی کے درمیان جنس کے اعتبار سے مماثلت ہو اس لئے کہ اگر ایسا نہ ہو تو یہ امر مقصود پر بطور نقض لوٹے گا کیونکہ کوئی شے اگرچہ مثلی ہو جب غیر جنس سے بدلی جائے تو مماثلت درمیان سے نکل جاتی ہے اور معاملہ قیمت لگانے کی طرف لوٹ آتاہے، وہاں  تم نے کہا کہ ثمن اول کی مثل دیناممکن نہیں کیونکہ مفروض اس کا عدم ہے تو یہاں  ہم کہتے ہیں کہ اس کی مثل دینا ممکن نہیں کیونکہ مفروض یہ ہے کہ بیع ثانی اس کی جنس کے غیر بدلے میں  ہے یہ انتہائی واضح چیز ہے ، پاک ہے وہ جس نے ان کا ابر کو اس جیسی ظاہر چیز بھلادی، خطا سے پاک تو صرف اللہ تعالٰی اوررسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کاکلام ہے۔ (ت)
(۱؎ فتح القدیر        کتاب البیوع باب المرابحۃ والتولیۃ    مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر    ۶/ ۱۲۴)
اور ناجائز یوں  ہوئی جس کا بیان ابھی عنایہ وغیرہا کے حوالے سے گزرا کہ غیر جنس کا عوض اول کے مثل ومساوی ہونا محض تخمین واندازہ سے ہوگا اور تخمین میں  غلطی کا احتمال ہے اور مرابحہ کی بناء کمال امانت پر ہے اس میں  خیانت کا شبہ بھی حرام ہے پوراٹھیک ٹھیک ثمن اول کا مساوی بتاکر اس پر نفع باندھے، غیر جنس میں  ٹھیک مساوات بتانا محال ہے لہٰذا مال ربوی جب اپنی جنس کے عوض کیا ہواسے مرابحۃ بیچنا ناممکن وحرام ہے، یہ وہ شرط ثانی ضروری ولازمی وواجب تھی جس سے بحرالرائق میں  باوصف استقصاء کے غفلت واقع ہوئی،
وھذا م وعدناک من قبل بان الحد الذی اتی بہ لم یتم ایضا وکان علیہ ان یزید بعض قولہ "ممایتعین" غیر ربوی قوبل بجنسہ ثم العجب من العلامۃ المحقق ابی الاخلاص حسن الشربنلالی رحمہ اﷲ تعالٰی  اذا ورد علی تعریف الدرر المذکور بیع ماملکہ بمثل ماقام علیہ بزیادۃ مسئلۃ المثلی اذا غیبہ الغاصب وضمن وملک ولایرابح کما قدمنا عنہ، قال ولایرد علی من قال بیع بمثل الثمن الاول ۱؎ ۔
Flag Counter