فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۷(کتاب البیوع، کتاب الحوالہ، کتاب الکفالہ )
42 - 180
اسی میں محیط سے ہے :
اذا باع قلب فضۃ وزنہ عشرۃ دراھم بدینار وتقابضا ثم باعہ بربح درھم اوبربح نصف دینار جاز اما اذا باعہ بربح نصف دینار فلانہ یصیر بائعا قلب فضۃ وزنہ عشرۃ دراھم بدینار ونصف وزنہ عشرۃ دراھم بدینار ونصف دینار لان الجنس مختلف فلا یظہر الربح، واما اذا باع بربح درھم فما ذکر من الجواب ظاھر الروایۃ لانہ یصیر بائعا للقلب بدینار ودرھم ، وانہ جازلانہ یجعل بازاء الدرھم من القلب مثلہ والباقی من القلب بازاء الدینار، وعن ابی یوسف انہ لایجوز ۱؎ الخ
اگر دس درہم وزنی چاندی کا کنگن سونے کے ایک دینار کے بدلے میں خریدا پھر ایک درہم نفع پر (ایک دینار اور ایک درہم کے بدلے میں ) یا نصف دینار نفع پر (یعنی ڈیڑھ دینارکے بدلے میں ) فروخت کر دیا تو جائز ہے، نصف دینار نفع پر بیچنا تو اس لئے جائز ہے کہ وہ چاندی کے ایک ایسے کنگن کو ڈیڑھ دینار میں فروخت کرنے والا ہے، جس کا وزن دس درہم ہے کیونکہ جنس مختلف ہے لہٰذا نفع ظاہر نہ ہوا، رہا ایک درہم نفع پر بیچنا تو حکم مذکور ظاہر الروایہ ہے کیونکہ ایک درہم کے عوض کنگن میں سے اس کی مثل یعنی ایک درہم ہوا اورباقی کنگن دینار کے عوض ہوگیا امام ابویوسف سے مروی ہے کہ یہ جائز نہیں الخ۔ (ت)
(۱؎ فتاوٰی ہندیہ کتاب الصرف الباب الثالث الفصل ثانی نورانی کتب خانہ پشاور ۳/۳۱۔۲۳۰ )
نہ بیع کا صرف ہونا مطلقا اس کی ممانعت کو مستلزم، سونا کہ دس روپے کو خریدا تھا گیارہ روپے کو بیچا یا دس روپے بھر چاندی کا کنگن کہ ایک اشرفی کو مول لیا تھا ڈیڑھ اشرفی یا ایک اشرفی اورایک روپے کوبیچنا، یہ سب صرف ہی ہے اور مرابحہ اور جائز، نہ صرف نہ ہونا مطلقا جواز مرابحہ کو کافی، من بھرگیہوں من بھر گیہوں کو خریدے، ان کی بیع مرابحہ حرام ہے کہ سود ہےحالانکہ صرف نہیں ۔
غاصب نے ِمثلی شے کو غائب کردیا، قاضی کی طرف سے اس پر اس کی مثل دینے کا فیصلہ صادر ہوا تو اب وہ مغصوب کا مالک بن گیا اس کے لئے جائز نہیں کہ اس چیز کو اس سے زائد پر فروخت کرے کیونکہ یہ سود ہے، (ت)
(۲؎ غنیہ ذوی الاحکام فی بغیۃ درر الاحکام باب المرابحۃ والتولیۃ میر محمد کتب خانہ کراچی ۲/ ۱۸۰)
ہندیہ میں محیط سے ہے :
لواشتری مختوم حنطۃ بمختومی شعیر بغیر عینہما ثم تقا بضا فلابأس بان یبیع الحنطۃ مرابحۃ، وکذٰلک کل صنف من المکیل والموزون بصنف اٰخر اھ ۳؎، افاد بمفہوم قولہ بصنف اٰخر انہ لو قوبل الجنس بالجنس لم تجز المرابحۃ وسنعطیک دلیلہ ان شاء اﷲ تعالٰی ،
اگر کسی نے گندم کا ایک مختوم جو کے دو غیر معین مختوموں کے بدلے میں خریدا پھر باہمی قبضہ بھی کرلیا تو گندم کو بطور مرابحہ فروخت کرنے میں کوئی حرج نہیں ایسے ہی ہر کیلی اور وزنی چیزوں کی ایک قسم کو دوسری قسم کے ساتھ بیچنے کا یہی حکم ہے اھ ہندیہ کے قول یصنف اٰخر (یعنی دوسری قسم کے ساتھ) کے مفہوم نے یہ فائدہ دیا کہ اگر جنس کا مقابلہ جنس سے ہو توبیع مرابحہ ناجائز ہے، ہم عنقریب ان شاء اللہ تعالٰی تجھے اس کی دلیل دیں گے۔ (ت)
(۳؎ فتاوٰی ہندیہ کتاب البیوع الباب لرابی عشر نورانی کتب خانہ پشاور ۳ /۱۶۱)
بلکہ تحقیق یہ ہے کہ جوشے مرابحۃ بیچی جائے اس میں دو شرطیں ہیں :
شرط اول: وہ شے معین ہو یعنی عقد معاوضہ اس کی ذات خاص سے متعلق ہوتاہے نہ یہ کہ ایک مطلق چیز ذمہ پر لازم آتی ہو، ثمن جیسے روپیہ اشرفی عقود معاوضہ میں متعین نہیں ہوتے، ایک چیز سو روپے کو خریدی کچھ ضرور نہیں کہ یہی سو روپے جو اس وقت سامنے تھے ادا کرے بلکہ کوئی سو دے دے، اور اگر مثلا سونے کے کنگن بیچے تو خاص یہی کنگن دینے ہوں گے، یہ نہیں کرسکتا کہ ان کو بدل کر دوسرے کنگن دے اگر چہ وزن ساخت میں ان کے مثل ہوں یہ شرط مرابحۃ وتولیۃ ووضیعہ تینوں میں ہے یعنی اول سے نفع پر بیچے یا برابر کو یا کمی پر، یہاں اس شیئ کا معین ہونا اس لئے ضرور ہے کہ یہ عقد اسی شیئ مملوک سابق پر وارد کا جاتاہے اور جب وہ معین نہیں تو نہیں کہہ سکتےکہ یہ وہی شی ہے، ولہٰذا اگرروپوں سے اشرفیاں خریدیں تو ان کو مرابحہ نہیں بیچ سکتے۔
کما نص علیہ فی التبیین والفتح و العنایۃ والکفایۃ والبحر والنہر و الظہیریۃ والخانیۃ وخزانۃ المفتین و الہندیۃ وجامع الرموز وغیرہما وان نقل ط عن حاشیۃ سری الدین علی الزیلعی نقل عن البدائع انہ یجوز ۱؎ ۔
جیسا کہ تبیین، فتح القدیر، عنایہ، کفایہ، بحر، نہر، ظہیریہ، خانیہ، خزانۃ المفتین، ہندیہ اور جامع الرموز میں اس پر نص کی گئی ہے اگرچہ ط نے تبیین کے حاشیہ سری الدین سے بحوالہ بدائع نقل کیا ہے کہ یہ جائز ہے۔ (ت)
(۱؎ حاشیہ الطحطاوی علی الدرالمختار کتاب البیوع باب المرابحۃ والتولیۃ دارالمعرفۃ بیروت ۳ /۹۴)
اس لئے کہ اشرفیاں معین نہیں ہوتیں ، بیچنے والا ان اشرفیوں کے بدلے دوسری اسی طرح کی دے دیتاتو جائز تھا اور اب جو یہ بیچ رہا ہے اب بھی متعین نہ ہوں گی یہ اشرفیاں دے یا ان کے ساتھ کی دوسری،تو یہ کیونکر کہا جا سکتا ہے کہ جو اشرفیاں پہلے اس کی ملک میں آئی تھی وہی اتنے نفع پر بیچیں کہ بیع مرابحہ ہو،
فتاوٰی امام قاضی خاں میں ہے:
رجل اشتری دنانیر بداراہم ثم باع الدنانیر مرابحۃ لایجوز لان الدنانیر لاتتعین فی البیع فلم یکن المقبوض بعقد الصرف مبیعا فی البیع الاول ۲؎۔
ایک شخص نے درہموں کے عوض دینار خریدے پھر ان دیناروں کو بطور مرابحہ بیچا تو یہ جائز نہیں کیونکہ دینار بیع متعین نہیں ہواکرتے لہٰذا عقد صرف میں جن دیناروں پر قبضہ کیا گیا بعینہ وہی بیع اول کامبیع قرار نہ پائے۔ (ت)
(۲؎ فتاوٰی قاضی خان کتاب البیوع فصل فی الاجل نولکشور لکھنو ۲/ ۴۰۱)
فتح القدیر میں ہے :
انما لم تجز المرابحۃ فی ذٰلک لان بدلی الصرف لایتعینان فلم تکن عین ھذہ الدنانیر متعینۃ لتلزم مبیعا ۱؎۔
اس میں مرابحہ اسی لئے ناجائزہے کہ بیع صرف کے بدلین متعین نہیں ہوتے تو بعینہ یہی دینار متعین نہ ہوئے کہ ان کا مبیع ہونا لازم ہوتا۔ (ت)
(۱؎ فتح القدیر کتاب البیوع باب المرابحۃ والتولیۃ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۶/ ۱۲۲)
اور اگر سونے کا گہناروپوں کو خریدا تو اسے مرابحۃ بیچ سکتاہےکہ وہ بیع میں متعین ہوگیا تو عقد سی مملوک اول پر واقع ہوگا۔
کما قدمناہ وبہ ظہر ان مرادہم ہنا بالعرض والسلع کل مایتعین ولم من احد النقدین وبالصرف مالایتین فیہ البدل الذی حصل فی ملک من یرید بیعہ مرابحۃ وان الاولی قول الفتح المراد نقل ماملکہ مما ہو ببیع متعین بدلا لۃ قولہ بالثمن الاول فان کون مقابلہ ثمنا مطلقا یفیدان ماملکہ بالضرورۃ مبیع مطلقا ۲؎ اھ۔
جیساکہ ہم پہلے ذکر کرچکے ہیں اور اسی سے ظاہر ہوگیا کہ یہاں پر عرض اور سلع سے فقہاء کی مراد ہر و ہ چیز ہے جو متعین ہواگر چہ نقدین میں سے کوئی ایک ہو اور عقد صرف سے ان کی مراد وہ بیع ہے جس میں وہ بدل متعین نہ ہو جو اس شخص کی ملکیت میں حاصل ہو جو بطور مرابحہ اس کو بیچنے کا ارادہ کرے،ا ور اس سے یہ بھی ظاہر ہوا کہ فتح کا قول اولٰی ہے یعنی مراد یہ ہے کہ اس مبیع متعین کو منتقل کرنا جس کا وہ مالک ہواہے اس پر دلیل اس کا قول ''ثمن اول '' ہے اس لئے کہ اس کے مقابل ثمن مطلق ہونا اس بات کا فائدہ دیتاہے کہ جس چیز کا وہ مالک ہوا وہ ضروری طورپر مبیع مطلق ہے اھ (ت)
(۲؎فتح القدیر کتاب البیوع باب المرابحۃ والتولیۃ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۶/ ۱۲۲)
فھذا ھو تحقیق الشرط الاول
(پس یہ ہے شرط اول کی تحقیق۔ ت)
شرط دوم: وہ ایسا مال ربوی نہ ہو جو اپنی جنس کے بدلے لیا ہو جیسے سونا سونے یا چاندی چاندی، یا گیہوں ، گیہون، یا جو جو کو، عالمگیریہ میں ہے :
ان اشتری ذھبا بذہب اوفضۃ بفضۃ لم تجزمرابحۃ اصلا کذا فی التتارخانیۃ ۳؎۔
اگر سونے کو سونے کے بدلے یا چاندی کو چاندی کے بدلے خریدا تو اس میں مرابحہ بالکل جائز نہیں ۔ یہ تتارخانیہ میں ہے۔ (ت)
(۳؎ فتاوٰی ہندیہ کتاب الصرف الباب الثالث الفصل الثانی فی المرابحۃ نورانی کتب خانہ پشاور ۳/ ۲۳۱)
یہ شرط مرابحۃ ووضیعہ اول کے اعتبار سے زیادہ یا کم بیچنے میں ہے تولیہ یعنی برابر بیچنے میں نہیں اقول: وباللہ التوفیق وجہ اس کی یہ ہے کہ جب ایک ربوی مال جس میں کمی بیشی سے سود ہوجاتاہے اپنی جنس کے بدلے اسے ملاہے، اب جو یہ اسے مرابحۃ بیچتے گا تو اس کی جنس سے بدلے گا یاغیر جنس سے، اگر جنس سے بدلے تو فرض ہوگا کہ دونوں پورے برابر ہوں ،کمی ییشی کیونکر ممکن عین ربوٰ ہے، اور اگر غیر جنس سے بدلے تو نہ مرابحۃ ہوئی، نہ جائز ہوسکتی ہے، مرابحۃ تویہ تھی کہ جس عوض پر اسے پڑی ہے اسی کو مع کچھ نفع کے بیچے، یہاں عوض کی جنس بدل گئی،
وبہ ظہر سقوط مااعترض بہ فی العنایۃ علی تعریف الہدایۃ و تبعہ فی البحر اذ قال واللفظ للاکمل بالاختصار ''اعترض علیہ بانہ مشتمل علی ابہام یجب عنہ خلوا لتعریف لان قولہ بالثمن الاول اما ان یراد بہ عین الثمن الاول اومثلہ لاسبیل لا الاول لان عین الثمن الاول صار ملکا للبائع الاول، ولا الی الثانی لانہ لایخلوا ما ان یراد المثل من حیث الجنس اوالمقدار الاول لیس بششرط لما فی الایضاح والمحیط انہ اذا باعہ مرابحۃ فان کان ما اشتراہ بہ لہ مثل جاز سواء جعل الربح من جنس راس المال الدراھم من الدراھم اومن غیر الدراھم من الدنانیر اوعلی العکس اذا کان معلوما یجوز بہ الشراء لان الکل ثمن والثانی یقتضی ان لایضم الی راس المال اجرۃ القصار والصباغ والطراز وغیرھا ۱؎ الخ والاکمل وان اجاب عنہ فانما اختار الشق الاخیر والبحر لم یرضہ بل ردہ بما لایفید الایراد الا بعدا۔
اور اس سے اس اعتراض کا ساقط ہونا ظاہر ہوگیا جو ہدایہ کی تعریف پر عنایہ میں واردکیا گیا اور بحر نے اس کی اتباع کی اختصارا لفظ اکمل کے یہ ہیں کہ اس پر اعتراض کیا گیا ہے کہ یہ تعریف، (تعریف ہدایہ) ابہام پر مشتمل ہے جس سے تعریف کا خالی ہونا واجب ہے اس لئے صاحب ہدایہ کے قول ''ثمن اول''سے مراد ثمن اول کا عین ہے یا اس کی مثل، اول کی طرف کوئی راہ نہیں کیونکہ عین اول تو بائع اول کی ملک ہوگیا اور نہ ہی ثانی کی طرف کوئی راہ ہے کیونکہ ثانی (ثمن کی مثل) دوحال سے خالی نہیں یا تو اس سے مراد جنس کے اعتبار سے ثمن اول کا مثل ہونا ہے یا مقدار کے اعتبار سے جنس کےاعتبار سے مثلیت تو اس دلیل کی وجہ سے شرط نہیں جو ایضاح اور محیط میں ہے کہ جب اس نے بطور مرابحہ کسی چیز کی بیع کی اگر اس چیز کی مثل موجو دہےجس کے بدلے میں اس نے اس کو خریدا تھا تو یہ بیع مرابحہ جائز ہے چاہے اس نے نفع راس المال یعنی دراہم کی جنس یعنی دراہم سے رکھا یا اس کے غیر بھی یعنی دیناروں سے رکھا ہویا اس کے برعکس صورت ہو (یعنی راس المال بجائے درھموں کے دینار ہوں ) جب یہ معین ہو تو اس کے بدلے خریداری جائز ہے کیونکہ یہ سب ثمن ہیں اور اگر مقدار کے اعتبار سے مثلیت مراد ہو تو یہ مقتضی ہے اس امر کو کہ راس المال کے ساتھ دھوبی، رنگریز اور نقش ونگار وغیرہ کی اُجرت نہ ملائی جائے الخ اکمل نے اگر چہ اس کا جواب دیتے ہوئے آخری شق کو اختیار کیا مگر صاحب بحراس پر راضی نہیں بلکہ اس کو رد کردیا جو کہ اعتراض میں بعد کے سوا کچھ فائدہ نہیں دیتا۔
(۱؎ العنایۃ علی ہامش فتح القدیر باب المرابحۃ والتولیۃ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۶/ ۱۲۲)