Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۷(کتاب البیوع، کتاب الحوالہ، کتاب الکفالہ )
41 - 180
اقول:  وھو ظاھر البطلان ولاقائل بہ احد من الناس والا لامتنعت المرابحۃ والتولیۃ فی البیاعات المطلقۃ عن اٰخرھا لکون الاثمان فیہا ممالا یتعین وقد قال الامام السمر قندی فی تحفۃ الفقہاء، وعنہا فی غایۃ البیان اذا باع شیئا مرابحۃ علی الثمن الاول، فلایخلوا ماان یکون الثمن من ذوات الامثال کالدراہم و الدنانیر والمکیل والموزون والمعدد المتقارب، اویکون من الاعداد المتفاوتۃ، مثل العبید والدروالثیاب والرمان و البطاطیخ وغیرھما اما اذا کان الثمن الاول مثلیا فباعہ مرابحۃ علی الثمن الاول وزیادۃ ربح فیجوز سواء کان الربح من جنس الثمن الاول اولم یکن بعد ان یکون شیئا مقدارا معلوما نحو الدرہم وثوب مشارالیہ اودینار ۲؎ الخ،
اقول: ( میں  کہتاہوں ) کہ اس کا باطل ہونا ظاہر ہے اور نہ ہی لوگوں  میں  اس کا کوئی قائل ہے ورنہ مرابحہ وتولیہ تمام بیانات مطلقہ میں  ممنوع ہوجائیں  گی کیونکہ ان میں  ثمن غیر معین ہوتے ہیں  ، امام سمرقندی نے تحفۃ الفقہاء میں  کہا اور اسی کے حوالے سے غایۃ البیان میں  ہے کہ جب کسی نے ثمن اول پر کچھ نفع کے ساتھ کوئی چیز فروخت کی تو وہ ثمن دوحال سے خالی نہیں کہ وہ ذوات الامثال میں  سے ہے جیسے درہم، دینار، کیلی، وزنی اورعددی متقارب یا وہ عددی متفاوت میں  سے ہے جیسے غلام ، کپڑے، مکانات، تربوز اور انار وغیرہ، بہر حال اگر ثمن اول مثلی ہو اور اس نے ثمن اول پر کچھ نفع لگاکر بیع کی تو جائز ہے چاہے وہ نفع ثمن اول کی جنس سے ہو یا نہ ہو بعد اس کے وہ معین ومعلوم شے ہو جیسے درہم اور ایسا کپڑا جس کی طرف اشارہ کیا گیا ہو یا دینار الخ ،
(۲؎ تحفۃ الفقہاء   کتاب البیوع    باب الاقالۃ والمرابحۃ    دارالکتب العلمیہ بیروت    ۱/ ۱۰۶)
فالصواب عندی ان الباء فی بما یتعین من خطاء النساخ وانما ھو ممایتیعن ای ماملکہ حال کونہ من الاشیاء التی یتعین فی العقود فالتعین شرط فیما ملکہ وھوالذی یرید نقلہ مرابحۃ لافی عوضہ وقال فی الکفایۃ ''قولہ نقل ماملکہ ای من السلع لانہ اذا اشتری بالدراھم الدنانیر لایجوز بیع الدنانیر بعد ذٰلک مرابحۃ ۱؎ اھ وقال فی العنایۃ بعد ذکر الایرادات علی حد المتن قیل فعلی ھذا الاولی ان یقال نقل ماملکہ من السلع بما قام عندہ ۲؎ اھ و قال سعدی اٰفندی فی حاشیتہا المراد بما ماملکہ ھوالمملوک المعہود الذی کان الکلام الی ھنافیہ اعنی السلع ۳؎ اھ ،
میرے نزدیک درست بات یہ ہے کہ ''بمایتعین'' پر ''با'' کا تبوں  کی غلطی سے ہے(دراصل) وہ ''ممایتعین'' ہے یعنی  جس چیز کا وہ مالک ہوادرانحالیکہ وہ ان اشیاء میں  سے ہو جو عقود میں  متعین ہوتی ہیں  چنانچہ تعین اس مملوکہ شے میں  شرط ہے جس کو وہ بطور مرابحہ منتقل کرنا چاہتاہے عوض میں  تعین شرط نہیں ۔اور کفایہ میں  کہا کہ ماتن کا قول کہ منتقل کرنا اس چیز کو جس کا وہ مالک ہوا، اس چیز شے سامان مراد ہے کیونکہ اگر درہموں  کے بدلے دنانیر خریدے تو اس کے بعد ان دیناروں کی بیع بطو رمرابحۃ جائز نہیں  اھ عنایہ میں  متن پر وارد ہونے والے اعتراضات کو ذکرکرنے کے بعد فرمایا، کہا گیا ہے کہ اس بناء پر بہتر تھا کہ وہ یوں کہا جاتا کہ اس سامان کو منتقل کرنا جس کا وہ مالک ہوا اس کے بدلے میں  جتنے میں  اس کو پڑا اھ اور سعدی آفندی نے اس کے حاشیہ میں  کہا کہ اس چیز سے مراد جس کا وہ مالک ہوا وہی مملوک معہود ہے جس میں یہاں  تک کلام ہورہی ہے یعنی سامان اتنے کے بدلے میں  جتنے میں  اس کو پڑا اھ،
 (۱؎ الکفایۃ مع فتح القدیر    کتاب البیوع باب ا لمرابحۃ والتولیۃ    مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر    ۶/ ۱۲۲)

(۲؎ العنایۃ علی ہامش فتح القدیر    کتاب البیوع باب  المرابحۃ والتولیۃ    مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر    ۶/ ۱۲۲)

(۳؎ حاشیہ چلپی        کتاب البیوع باب  المرابحۃ والتولیۃ    مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر    ۶/ ۱۲۳)
قال فی جامع الرموز التولیۃ ان یشترط فی البیع ای بیع العرض احتراز عن الصرف فالتولیۃ والمرابحۃ لم تکونا فی بیع الدراہم ودنانیر کما فی الکفایۃ ۱؎ اھ وقال فی الدارلمختار المرابحۃ بیع ماملکہ من العروض بما قام علیہ وبفضل اھ ۲؎۔
جامع الرموز میں  کہا تولیہ یہ ہے کہ شرط لگائی جائے بیع میں  یعنی سامان کی بیع میں  یہ بیع صرف سے احتراز ہے چنانچہ تولیہ ومرابحہ دونوں  دراہم ودنانیرکی بیع میں  نہیں  ہوتے جیسا کہ کفایہ میں  ہے اھ درمختار میں کہا کہ مرابحہ یہ ہے کہ سامان مملوک کو اتنے کے بدلے جتنے میں  اس کو پڑا ہے اور کچھ زیادتی کے ساتھ فروخت کرنا اھ، (ت)
 (۱؎ جامع الرموز    کتاب البیوع    باب المرابحۃ والتولیۃ     مکتبہ اسلامیۃ گنبد قاموس ایران     ۳ /۵۳)

(۲؎ درمختار    کتاب البیوع      باب المرابحۃ والتولیۃ    مطبع مجتبائی دہلی        ۲ /۳۵)
اقول:  وباللہ التوفیق (میں  کہتاہوں  اور توفیق اللہ تعالی سے ہے۔ ت) جو چیز مرابحۃ بیچی جائے نہ تو ا س کا عرض وسلع ومتاع وکیلا ہونا لازم بلکہ سونے چاندی پر بھی مرابحہ جائز ہے جبکہ سونا روپوں  کو خریدا ہو یا چاندی اشرفیوں  کو،
فتاوٰی عالمگیری میں  ہے :
اذا اشتری ذھہا بعشرۃ دراہم فباعہ بربح درھم جاز کذا فی الحاوی ۳؎۔
اگردس درہم کا سونا خریدا اور ایک درہم نفع کے ساتھ فروخت کردیا تو جائز ہے، ایساہی حاوی میں ہے۔ (ت)
 (۳؎ فتاوٰی ہندیہ کتاب الصرف  الباب الثالث الفصل ثانی    نورانی کتب خانہ پشاور        ۳/ ۲۳۰)
Flag Counter