| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۷(کتاب البیوع، کتاب الحوالہ، کتاب الکفالہ ) |
مسئلہ ۱۰۲: از مرادآباد محلہ باڑہ شاہ صفا مسئولہ حافظ عبدالمجید ۶شوال ۱۳۳۹ھ کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے ایک جائداد عمرو کی چھ سو پچیس روپے پر اپنے دوست بکرکے ذریعہ خریدنے کے لئے طے کرائی، قیمت طے ہونے کے بعد سو روپیہ بطور بیعنامہ عمرو کو دے کررسید لکھوائی، رسید میں بکر نے دھوکے سے اپنا نام بھی تحریر کرالیا اوردعوٰی کردیا کہ جائداد تو میری اورتمھاری دونوں کی مشترک طے ہوئی، حالانکہ یہ بالکل غلط ہے، یہ قصہ پنچایت میں ڈالا گیا، پنچوں نے دونوں سے پچاس پچاس روپے لے کر جمع کرائے اور کہا جو شخص یہ روپیہ لے گا اسے جائداد نہیں ملے گی اور جو جائداد لے گا یہ روپیہ نہیں لے سکتا۔ زید نے جائداد خریدنی منظور کی، بکر نے سوروپے اٹھالئے اور رسید لکھنی چاہی، ابھی لکھی نہ تھی کہ بکر کے محلہ والے جو زید سے بغض وعداوت رکھتے ہیں زید سے بولے کہ یہ رسید بیعنامہ عمرو کو واپس کردو ہم تم کو یہ جائداد خریدنے نہ دیں گے بلکہ اسے مسجد کی آمدنی کے لئے خریدیں گے، زید نے مجبوری رسید عمرو کو واپس کردی، اب بے اجازت زید آمدنی مسجد کے لئے یہ جائداد خریدیں یہ جائز ہے یانہیں ؟ بکرکے اہل محلہ یہ بھی کہتے ہیں کہ تمھارا اس میں کچھ دخل نہیں نہ تمھاری رضامندی کی ضرورت ہے۔ بینوا توجروا
الجواب: صورت مستفسرہ میں کہ زید نے بکر کو ایک شے معین خریدنے کا وکیل کیا اسے کوئی اختیار نہ تھا کہ غیبت زید میں اسے اپنے نفس کے لئے خریدے بلکہ اپنے نفس کےلئے خریدتا جب بھی زید موکل کے لئے ہو جب مخالفت نہ کی ہو،
ففی الدرالمختار لووکلہ بشراء شیئ بیعنہ لایشتریہ نفسہ ولولمؤکل اٰخربالاولی عند غیبتہ حیث لم یکن مخالفا دفعاللضرر فلو اشتراہ بغیر العقود اوبخلاف ماسمی المؤکل لہ من الثمن وقع الشراء للوکیل لمخالفتہ امرہ وینعزل فی ضمن المخالفۃ عینی ۱؎۔
درمختارمیں ہے کسی نےکسی شخص کو کسی معین شے کی خریداری کا وکیل بنایا تو وکیل اس شے کو مؤکل کی غیر موجودگی میں اپنے لئے نہ خریدے اور دوسرے مؤکل کے لئے تو بدرجہ اولٰی نہ خریدے تاکہ دھوکہ دہی نہ ہو، یہ حکم تب ہےجب وکیل امر مؤکل کی مخالفت نہ کرے، اور اگر وکیل نے اس شیئ کو غیر نقود سے خریدا اس ثمن کے خلاف خریدا جو مؤکل نے اس کو بتایا تھا تو یہ خریداری امر مؤکل کی مخالفت کی وجہ سے خود وکیل سے ہوگی اور اس مخالفت کے سبب سے وہ وکالت سے معزول ہوجائے گا۔ عینی (ت)
(۱؎ درمختار کتاب الوکالۃ باب الوکالۃ بالبیع واالشراء مطبع مجتبائی دہلی ۲/۱۰۵)
بکرنے کہ رسید بیعنامہ میں اپنا نام بھی لکھا لیا ظلم وفریب وجہل وحماقت تھا، پنچوں نے جو فریقین سے پچاس جمع کرائے اور وہ بے معنی فیصلہ قراردیا سخت باطل ومردود تھا وہ پچاس روپے بکر پر حرام ہیں اس پر فرض ہے کہ زید کو واپس کردے۔
قال اﷲ تعالٰی لاتاکلوا اموالکم بینکم بالباطل ۔ ۲؎
اللہ تعالٰی نے فرمایا: آپس میں ایک دوسرے کے مال باطل طریقے پر مت کھاؤ۔ (ت)
(۲؎ القرآن الکریم 188/ 2)
عبارت سوال سے زید پر اہل محلہ بکر کی جانب سے کوئی اکراہ شرعی نہ ہونا نہیں نکلتا لوگوں کے اصرار سے عرفی مجبوری اکراہ شرعی نہیں اس صورت میں جبکہ زید نے بیعنامہ واپس کردیا اور عمرو نے قبول کرلیا بیع اگر نہ ہوئی تھی ہونے نہ پائی اور اگر ہو چکی تھی فسخ ہوگئی بہرضال زید کو اس جائداد سے کوئی تعلق نہ رہا اہل محلہ بکر اگر مسجد کے لئے خریدیں برضائے عمرو خریدکرسکتے ہیں رضائے زید کی کچھ حاجت نہیں ، واللہ تعالٰی اعلم۔
باب المرابحۃ (بیع مرابحہ کا بیان)
مسئلہ ۱۰۳: ۱۰ جمادی الاولٰی ۱۳۱۹ھ زید نے عمرو سے کہا کہ تم عہ/ روپیہ کا مال اپنے روپے سے خرید لو بعد خریدنے تمھارے کے میں تم سے عہ اِ ایک روپیہ آنہ دے کر خرید لوں گا اور ایک ماہ میں دوں لگا کیونکہ میرے پاس روپیہ نہیں تو اس صورت میں نفع جائز ہے یانہیں ؟ بینوا توجروا
الجواب جائزہے مگر یہ ثمن کی زیادتی اگر معمولی نرخ سے اس بناء پر بڑھائی گئی کہ زید قرض خریدتاہے تو بہتر نہیں
لما فیہ من الاعراض عن مبرۃ الاقراض کما افادہ فی الفتح وردالمحتار وغیرھما من الاسفار، واﷲ تعالٰی اعلم۔
کیونکہ اس میں قرض دینے کی نیکی اور مروت سے اعراض ہے جیسا کہ اس کا فائدہ فتح اور ردالمحتاروغیرہ کتابوں نے دیا ہے۔ واللہ تعالٰی اعلم۔ (ت)
مسئلہ ۱۰۴: از کاٹھیا وارر دھوراجی محلہ سیاہی گراں مسئولہ حاجی عیسٰی خاں محمد صاحب ۸ جمادی الاولٰی ۱۳۳۰ھ نوٹ کی بیع مرابحہ یعنی نوٹ بیچا اور کہا کہ فی روپیہ ایک آنہ لکھی ہوئی رقم سے زیادہ لوں گاجائز ہے یانہیں ؟
الجواب: یہ مسئلہ تنقیح طلب ہے ہم اولا عبارات کتب ذکر کریں پھر بتوفیق اللہ تعالٰی اپنے تحقیق پھر صورت مسئولہ کاحکم وباللہ التوفیق،
فاعلم ان ائمتنا رحمہم اﷲ تعالٰی عرفوا المرابحۃ فی المتون بانہا نقل ماملکہ بالعقد الاول بالثمن الاول مع زیادۃ ربح کما فی الھدایۃ ۱؎۔ واختصرہ فی الکنز فقال بیع بثمن سابق وزیادۃ ۲؎ وکلام عامتہم تدور حول ذٰلک واعترضہم الشراح بانہ منتقض طردا وعکسا واطالوا فیہ بما افادوا احکام فروع وقد اجبیب عن اکثر الایرادات بما یتم اولا کما بسطہ فی العنایۃ والفتح وغیرھا ولما کان منشأ اکثرھا العقد والثمن ترکہما فی الدرر وقال بیع ماملکہ بمثل ماقام علیہ بزیادۃ،۳ ولا یسلم ایضا من بعض النقوض، ولسنا ھھنا بصدد سردہا مع مالہا وعلیہ،
تو جان لے کہ ہمارے ائمہ کرام رحمۃ اللہ تعالٰی علیہم نے متون میں مرابحہ کی تعریف یوں کی ہےکہ مرابحہ وہ بیع ہے کہ عقد اول کے ساتھ جس چیز کا مالک ہواہے اس کو ثمن اول مع کچھ نفع کی زیادتی کے دوسرےکو منتقل کرنا، جیساکہ ہدایہ میں ہے،کنز میں اس کو مختصر کرکے کہا کہ ثمن اول اور کچھ اضافے کے ساتھ فروخت کرنا، عام فقہاء کا کلام اسی تعریف کے گرد گھومتا ہے، شارحین نے اس پر اعتراض کیا کہ یہ تعریف جامع اور مانع نہیں انھوں نے اس میں طویل کلام کیاجو کئی فروعی حکام کا مفید ہے، اور تحقیق ان میں سے اکثر اعتراضوں کے تام یا غیرتام جوابات دئے گئے ، جیسا کہ عنایہ اور فتح وغیرہ میں اس کی تفصیل مذکور ہے، چونکہ اکثراعتراضات کامنشا لفظ عقدا ور لفظ ثمن ہے، چنانچہ درر میں ان دونوں کو چھوڑ کر یوں کہا جس چیز کا مالک ہوا ہے وہ چیز جتنے میں اس کو پڑی ہے اس کی مثل اور کچھ زیادہ کے ساتھ اس کو منتقل کرنا، یہ تعریف بھی بعض اعتراضات سےمحفوظ نہیں اور ہم ان اعتراضات کی تفصیل ان کے مالہ، اور ماعلیہ کے درپے نہیں ہیں ،
(۱؎ الہدایہ کتاب البیوع باب المرابحۃ والتولیۃ مطبع یوسفتی لکھنؤ ۳ /۷۳) (۲؎ کنز الدقائق باب التولیۃ والمرابحۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۲۳۲) (۳؎ الدررالحکام فی شرح غررالاحکام باب المرابحۃ والتولیۃ میر محمد کتب خانہ کراچی ۲/ ۱۸۰)