Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۷(کتاب البیوع، کتاب الحوالہ، کتاب الکفالہ )
38 - 180
مسئلہ ۱۰۱:  از بنارس   محلہ کچی باغ علاقہ جیت پورہ      مرسلہ خلیل الرحمن صاحب      ۲۸ جمادی الاولٰی ۱۳۲۲ھ

کیا فرماتے ہیں  علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں  جو کچھ ازروئے کتب معتبرہ ہو بیان فرمائیں ، بینوا توجروا واضح ہو کہ مسمٰی حشام جب بیمار ہوئے تو حالت بیماری میں  اپنا مکان اپنی زوجہ واپنی دختر دونوں  کے ہاتھ بیع کیا مگر گواہان سے ثابت ہوا کہ زرثمن روبرو گواہوں  کے مشتریاں  مذکورہ نے ادانہیں کیا اور بعد بیع کرنے مکان کے مسمی حشام ایسے نہ ہوئے کہ چارپائی سے اٹھر کر کام ضروری کرتے آخر بعد اکیس یوم کے قضا کرگئے، اور بعد قضا کرنے حشام کے ان کی دختر بھی ایک ہفتہ کے بعد مرگئی، اور پھر گزرنے مدت پانچ ماہ کےلڑکا حشام کا پیدا ہوا، اور بعد پیدا ہونے بیٹے کے مسماۃ جان بی بی زوجہ حشام بیمار ہوئیں  اوربیماری کی حالت میں  زوجہ حشام نے مکان مذکور کو ایک شخص کے ہاتھ بیع کیا اور بعد بیع کرنے مکان کے چار روز بعد زوجہ حشام بھی قضا کرگئیں  فقط۔

لڑکا حشام کا جو پیدا ہوا تھا وہ تنہا رہا، پھر وہ لڑکا بھی دو مہینے بعد مرگیا، جب سب لوگ مرگئے کوئی نہ بچا مگر ایک براردر زادہ حشام کے مسمی یارمحمد ہیں ، تو یار محمد سے اور جس کے ہاتھ زوجہ حشام نے مکان بیع کیا تھا اس سے تنازع ہوئی، مشتری نے کہا کہ ہم نے خریدا ہے اور یارمحمد نے کہا کہ ہمارا حق ہوتاہے ہم مالک ہیں ، غرضکہ جب جھگڑا زیادہ اہل محلہ نے دیکھا تب پنچوں  نے دونوں  سے کہا کہ جھگڑو نہ ہم لوگ تمھارا جھگڑا طے کردیں  گے، پنچ جمع ہوئے، مطلب سے آگاہ ہوئے یعنی مشتری نے کہا کہ حشام بعد بیع کرنے مکان کے تندرست ہوگئے تھے اور یارمحمد بھتیجے حشام نے کہا کہ بیع کرنے کے بعد چچااپنی چارپائی سے نہ اٹھے اور فوت ہوئے، اس بات میں  پنچوں  نے صلاح کیا کہ جو لوگ قریب مکان کے رہیتے ہیں  ان سے دریافت کرناچاہئے تب دوآدمی پڑوسی کو بلایا ایسے کہ وہ لوگ حشام کے گھر جاتے رہتے تھے، وہ لوگ آئے یعنی مسمی الہی بخش ومسمی جان محمد، دونوں  گواہوں  سے پوچھا گیا تو جو گواہوں  نے شہادت دی ہے وہ رقم ہوتاہے فقط۔

بیان الہٰی  بخش گواہ کا یہ ہے: الہٰی  بخش ازروئے حلف بمقابلہ پنچوں  کے مسجد میں  بیان کیا کہ میں  گاہ گاہ ان کے گھر جاتا تھا تو حالت حشام کی ایسی تھی کہ سوائے چارپائی کے کہیں جانہیں  سکتے تھے اور ضعف اس قدر تھا کہ واسطے حاجات ضروری کے مکان سے باہر نہیں  جاسکتے تھے مکان کے اندر پاخانہ وپیشاب کرتے تھے اور بیعنامہ لکھنے کے تخمینا ایک ماہ سے کمتر میں  انتقال کرگئے،

بیان جان محمد گواہ کا یہ ہے: مسجد میں  بیان کیا گیا کہ حشام نے جب بیعنامہ لکھا تو حالت ان کی یہ تھی کہ سوائے چاپائی کے کہیں جانہیں سکتے تھے، بیماری میں  ضعف اس قدر تھا کہ واسطے پاخانہ وپیشاب کے مکان سے باہر نہیں  جاسکتے تھے اندرہی مکان کے حاجت اداکرتے تھے میں  گاہ گاہ ان کی حالت کو جاتا رہتا تھا تو اسی چارپائی پر جھک کر حقہ بھی بھرلیتے تھے، اور اسی بیماری میں  تخمینا ایک ماہ سے کمتر میں  قضا کرگئے۔
الجواب: بیع جو مرض الموت میں  وارث کے نام کی جائے حکم وصیت میں  ہے کہ بعد موت مورث، بے اجازت وارث باطل ہے،
فتاوٰی امام قاضیخاں  وغیرہ میں  ہے :
من البیع الموقوف اذا باع المریض فی مرض الموت من وارثہ عینا من اعیان مالہ ان صح جاز بیعہ وان مات من ذلک المرض ولم یجز الورثۃ بطل البیع ۱؎۔
موقوف بیوع میں  سے ہے کہ جب مریض نے مرض موت میں  اپنے مال میں  سے جو معین چیز انے کسی وارث کے ہاتھ فروخت کی اب اگر وہ صحتیاب ہوگیا تو بیع جائز ہوجائے گی اور گر اسی بیماری میں  مرگیا اور اس کے وارثوں  نے اس بیع کی اجازت بھی نہ دی تو بیع باطل ہوجائے گی۔ (ت)
 (۱؎ فتاوٰی قاضی خاں     کتاب البیوع فصل فی البیع الموقوف    نولکشور لکھنؤ        ۲/ ۳۵۳)
او وقت اجازت متصل موت مورث ہے یہاں  تک کہ حیات میں  اجازت ورثہ معتبر نہیں ، 

ہدایہ میں  ہے :
لامعتبر باجازتہم  فی حال حیاتہ لانہا قبل ثبوت الحق ، اذا لحق یثبت عندالموت ۲؎۔
مریض کی زندگی میں  وارثوں  کی اجازت معتبر نہیں  کیونکہ یہ اجازت ثبوت حق سے پہلے ہوئی اس لئے کہ واثوں  کا حق تو مریض کی موت کے وقت ثابت ہوگا۔ (ت)
 (۲؎الہدایہ   کتاب الوصایہ   مطبع یوسفی لکھنؤ    ۴/ ۶۵۱)
اور موت ہشام سے چند ماہ بعد لڑکا پیدا ہونے سے ثابت ہواکہ وقت موت یہ لڑکا بھی ایک وارث تھا اور اگر بچہ کہ ہنوز پیٹ میں  ہو ظاہر ہے کہ نہ تو خود اس کی اجازت متصور نہ اس کی طرف سے کسی کی اجازت ممکن کہ پیٹ کے بچے پر اللہ(عہ) ورسول جل جلالہ وصلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے سوا کسی ولی یا وصی یاحاکم یہاں تک کہ خود باپ کو بھی ولایت نہیں ۔
عہ :  اللہ جل جلالہ کا ولی ووالی جملہ عالم ہونا ظاہر اور اس کی خلافت سے حضور پرنور سید عالم خلیفہ اعظم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی ولایت بھی ہر شیئ پر ہے اور خود جنین پر حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی ولایت فقیر قرآن عظیم وحدیث صحیح سے ثابت کرسکتاہے،آیت تو قول الہٰی  عزوجل النبی اولٰی  بالمومنین من انفسہم ۳؎ جس میں  ارشاد ہو اکہ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ہر مسلمان پر اس کی جان سے زیادہ ولی وواولی ومختار وصاحب تصرف واقتدار ہیں ، اور شک نہیں کہ جنین بھی انسان ہے اور یقینا کافر نہیں ،
 (۳؎ القرآن الکریم     ۳۳ /۶)
رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں
  :کل مولود یولد علی فطرۃ الاسلام ۴؎۔
ہر بچہ فطرت اسلام پر پیدا ہوتاہے۔ (ت)
(۴؎ صحیح البخاری   کتاب الجنائز        قدیمی کتب خانہ کراچی    ۱/ ۱۸۱)

(صحیح مسلم  کتاب القدر  باب معنی کل مولود یودل علی الفطرۃ   قدیمی کتب خانہ کراچی    ۲/ ۳۳۶)
اللہ سبحانہ وتعالٰی فرماتاہے :
فطرت اﷲ التی فطر الناس علیہا ۲؎۔
اللہ کی فطرت وہ ہے جس پر اس نے لوگوں  کو پیدا فرمایا۔ (ت)
(۲؎ القرآن الکریم       ۳۰ /۳۰)
اہلسنت کے نزدیک ایمان وکفر میں  واسطہ نہیں  تو جنین ضرور مومن ہے اور بحکم آیت رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ہر مومن کے ولی ووالی ہیں ، یہ ثبوت آیت سے ہوا اور حدیث سے یہ کہ ابھی فقہائے کرام کی تصریحیں  سن چکے کہ جنین کا کوئی ولی نہیں ، اور رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
اﷲ ورسولہ مولٰی من لامولی لہ ۳؎۔  رواہ الترمذی وحسنہ وابن ماجۃ عن امیر المومنین الفاروق رضی اﷲ تعالٰی عنہ ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
جس کا کوئی ولی نہ ہواس کے ولی ووالی ومولٰی اللہ ورسول ہیں  جل وعلا وصلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم (اسے ترمذی نے روایت کیااور اسے حسن قرار دیا اور ابن ماجہ نے اسے امیر المومنین عمر فاروق رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کیا۔ ت) ۱۲ منہ غفرلہ
 (۳؎ سنن ابن ماجہ   ابواب الفرائض باب ذوی الارحام    ایچ ایم سعید کمپنی کراچی        ص ۲۰۱)
ولوالجیہ پھر معین المفتی پھر غمز العیون القول فی الملک میں  ہے :
لاولایۃ للاب علی الجنین ۱؎۔
جنین پر باپ کی ولایت حاصل نہیں ۔ (ت)
 (۱؎ غمز عیون البصائرمع الاشباہ  الفن الثالث القول فی الملک  ادارۃ القرآن الخ کراچی  ۲/ ۲۰۳)
ثالث میں ثانی سے ہے :
وفی التبیین ولاتصح الہبۃ للحمل لان الھبۃ من شرطہا القبول والقبض ولایتصور ذٰلک من الجنین ولایلی علیہ احدحتی یقبض عنہ فصارکالبیع قلت فقدافاد رحمہ اﷲ تعالٰی  انہ لاولایۃ لاحد علی الجنین اصلا وبہ ظہر خطأ من افتی ان الوصی یملک التصرف فی المال الموقوف للحمل ۱؎.
تبیین میں  ہے:  حمل کے لئے ہبہ درست نہیں  کیونکہ قبول وقبضہ ہبہ کی شرائط میں  سے ہے جبکہ جنین سے یہ متصور نہیں  اور نہ ہی اس پر کسی کو ولایت حاصل ہے کہ وہ اس کی طرف سے قبضہ کرے چنانچہ یہ بیع کی طرح ہوگیا، میں کہتاہوں  کہ مصنف علیہ الرحمۃ نے اس بات کافائدہ دیا کہ بیشک جنین پر کسی کو کسی قسم کی ولایت بالکل حاصل نہیں  تو اس سے اس شخص کی غلطی ظاہر ہوگئی جس نے یہ فتوٰی دیا کہ حمل کے لئے رکھے ہوئے مال میں وصی تصرف کرنے کامالک ہے۔ (ت)
 (۱؎ غمز عیون البصائر مع الاشباہ    الفن الثالث القول فی الملک    ادارۃ القرآن الخ کراچی        ۲/ ۲۰۳)
عقود الدریہ میں  منح الغفار سے ہے :
لاولایۃ للاب علی الجنین فضلا عن الوصی لقول الزیلعی ولایلی علی الحمل اھ۲؎۔
باپ کو جنین پر ولایت حاصل نہیں  تو وصی کو کیسے حاصل ہوسکتی ہے بسبب زیلعی کے قول کے کہ اس کو حمل پر ولایت نہیں  اھ (ت)
 (۲؎ العقود الدریۃ فی تنقیح الفتاوی الحامدیۃ    کتاب الوصایا باب الوصی   ارگ بازار قندھار افغانستان    ۲ /۳۳۰)
اور جو عقد جس وقت محتاج اجازت ہو اور اس وقت اس کا اجازت دینے ولا کوئی نہ ہو وہ باطل محض ہوتا ہےکہ پھر آئندہ کوئی صالح اجازت پیدا ہوکر اجازت بھی دے تو جائز نہیں  ہوسکتا،
درمختارمیں  ہے :
مالامجیزلہ حالۃ العقد لاینعقد اصلا بیانہ صبی باع مثلا ثم بلغ قبل اجازۃ ولیۃ فاجازہ بنفسہ جاز لان لہ ولیا یجیزہ حالۃ العقد بخلاف مالوطلق مثلا ثم بلغ فاجازہ بنفسہ لم یجز لانہ وقت العقد لامجیز لہ فیبطل ۳؎۔
جس بیع کا بوقت عقد کوئی اجازت دینے والا نہ ہو وہ اصلا منعقد نہیں  ہوتا اس کا بیان یہ ہے کہ نابالغ بچے نے بیع کی پھر ولی کی اجازت سے قبل بالغ ہوگیا اور بذات خود اس کی اجازت دے دی تو بیع جائز ہوگئی کیونکہ بوقت عقد اس بیع کی اجازت دینے والا اس کا ولی موجود تھا جو بیع کی اجازت دے سکتا تھا بخلاف اس کے کہ اس  نے نابالغی کی عمر میں  طلاق دی پھر بالغ ہوکر بذات خود اس کی اجازت دی تو یہ طلاق جائزنہ ہوگی کیونکہ بوقت عقد اس کا کوئی اجازت دہندہ نہ تھا لہٰذا یہ باطل ہوگئی (ت)
 (۳؎درمختار   کتاب البیوع  فصل فی الفضولی  مطبع مجتبائی دہلی ۲/۳۱)
تو ظاہر ہواکہ صورت مستفسرہ میں  یارمحمد مومشتری کا اختلاف کہ ہشام نے وہ بیع صحت میں  کی یا مرض الموت میں  درحقیقت اس بیع کی انعقاد وبطلان میں  اختلاف ہے مشتری مدعی ہے کہ وہ بیع شرعا منعقد ہے اور یارمحمد کہتاہے منعقد نہیں  بلکہ محض باطل وکالعدم ہے اور جب بیع کے بطلان وانعقاد میں  اختلاف واقع ہو تو قول اس کا بحلف معتبرہے جو قائل بطلان ہو،
اشباہ والنظائر ودرالمختار میں ہے :
اختلف المتبایعان فی الصحۃ والبطلان فالقول المدعی البطلان وفی الصحۃ و الفساد لمدعی الصحۃ الافی مسئلۃ فی اقالۃ ۱؎۔
بائع اور مشتری کا بیع کی صحت وبطلان میں  اختلاف واقع ہو تو بطلان کا دعوٰی کرنے والے کا قول معتبر ہوگا اور اگر صحت وفساد میں  اِختلاف ہو تو صحت کا دعوٰی کرنے ولا کا قول معتبر ہوگا سوائے اقالہ کے (ت)
 (۱؎ درمختار کتاب البیوع     باب الاقالۃ    مطبع مجتبائی دہلی    ۲ /۳۴)

(اشباہ والنظائر    الفن الثانی کتاب البیوع     ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی    ۱/ ۳۲۶)
اسی طرح جب صحت مرض میں اختلاف ہو کہ مورث نے یہ عقد وارث کے ساتھ یا اس کے لئے فلاں  اقرار اپنے مرض میں  کیا یاصحت میں ، تو قول اس کا معتبر ہے جو مرض میں  ہونا بتاتاہے۔
ردالمحتارمیں ہے :
لواقر لوارث ثم مات فقال المقرلہ اقرفی صحتہ وقال بقیۃ الورثۃ فی مرضہ فالقول قول الورثۃ والبینۃ للمقرلہ وان لم یقم بینۃ واراداستحلافہم لہ ذٰلک ۲؎۔
اگر کسی نے اپنے کسی وارث کے لئے کسی شے کا اقرار کیا پھر مرگیا اب مقرلہ، (جس کے لئے اقرار کیا گیا) کہتاہے کہ یہ اقرار اس نے حالت صحت میں  کیا جبکہ دیگر ورثاء کہتے ہیں  کہ اس نے یہ اقرار مرض الموت میں  کیا تو دیگر وارثوں  کا قول معتبر ہوگا اور گواہ پیش کرنا مقرلہ، کے ذمے ہے اگر وہ گواہ پیش نہ کرے اوردیگر وارثوں  سے قسم لینا چاہے تو اس کو ایسا کرنے کا حق ہے۔ (ت)
(۲؎ ردالمحتار  کتاب الشہادات باب القبول وعدمہ  داراحیاء التراث العربی بیروت    ۴/ ۳۸۷)
اسی میں  ہے :
فی الانقروی ادعی بعض الورثۃ ان المورث وہبہ شیئا معینا وقبضہ فی صحتہ وقالت البقیۃ کان فی المرض فالقول لہم و ان اقاموالبینۃ فالبینۃ لمدعی الصحۃ ۱؎۔
انقروی میں ہےکسی وارث نے دعوٰی کیا کہ کہ مورث نے اپنی کوئی معین شے اس کو ہبہ کی اور مورث کی حالت صحت میں  اس وارث نے موہوب شیئ پر قبضہ کرلیا تھا جبکہ باقی ورثاء کہتے ہیں کہ یہ سب کچھ مرض الموت میں  ہوا تو باقی وارثوں  کا قول معتبر ہوگا اوراگر وہ گواہ پیش کریں  تو گواہ اس کے معتبر ہوں گے جو حالت صحت کا دعوٰی کرنیوالا ہے۔ (ت)
(۱؎ ردالمحتار         کتاب الشہادات باب القبول وعدمہ    داراحیاء التراث العربی بیروت    ۴/ ۳۸۷)
پس صورت سوال میں  یارمحمد کو حاجت گواہان نہ تھی بلکہ مشتری سے گواہ لئے جائیں  اگر وہ گواہان عادلہ ثقہ متقی سے ثابت کردے کہ یہ بیع ہشام نے اپنی تندرستی میں کی یا اس بیع کے بعد وہ تندرست ہوگیا تھا، یا وہ گواہ نہ دے سکے اور یارمحمد سے قسم چاہے، اور یارمحمدپنچوں  کے سامنے قسم کھانے سے انکار کرے تو ان دونوں  صورتوں  میں  ثابت ہوجائے گا کہ ہشام نے جو بیع اپنی زوجہ و دختر کے ہاتھ کی ضرور صحیح ونافذ تھی عورتیں  اس مکان کی مالک مستقل ہوگئیں اور اگر بیع میں  تفصیل حصص نہ تھی تو دونوں  نصفا نصفٖ کی مالک ہوئیں ، پھر جب دختر نے انتقال کیا اور اس کی موت سے چھ مہینے کے اندر اس کا بھائی پیدا ہوا تو ظاہر ہوا کہ یہ بھی بہن کا وارث ہے، اب کہ زوجہ ہشام نے اپنے مرض میں  کل مکان مشتری کے ہاتھ بیع کردیا، اگر یہ مشتری بائعہ کا وارث نہیں  توبیع اس قدر میں  صحیح ہوگئی جو ملک زوجہ مذکورہ تھا یعنی نصف مکان کہ بیع ہشام سے اس کی ملک ہوا اورنصف دیگر ملک دختر سے ایک ثلث جبکہ اسے ثلث سے کوئی حاجت نہ ہو، باقی دوثلث نصف یعنی کل مکان کا ایک ثلث حق برادرنو پیدا ہوا، اگر مادر وبرادر مذکور کے سوا دختر کا کوئی اور وارث نہ ہو، پھر جب لڑکا مرگیا اوریارمحمد کے سوا اس کاکوئی وارث نہ ہو تو وہ ثلث یارمحمد کا ہوا اس قدراسے واپس دے، اورگر مشتری گواہ نہ دے سکا یاگواہ عادل شرعی قابل قبول نہ تھے اور یارمحمد نے پنچوں  کے سامنے بطلب مشتری حلف کرلیا کہ ہشام نے یہ بیع اپنے مرض موت میں  کی تو اس صورت میں  وہ بیع باطل ہوئی ، پھر بعدموت ہشام اگر اس کے وارث یہی زن وپسر ودختر ہیں  عورت کا ایک ثمن اور دختر کے ۲۴ / ۷ ہوئے ان میں  سے بشرط مذکور ایک ثلث یعنی ۷/۷۲ پھر زوجہ ہشام کو پہنچے تو وقت بیع زوجہ ہشام صرف ۱۶/۷۲ یعنی ۲/۹ کی مالک تھی اسی قدر میں  بیع قائم رہ سکتی ہے مشتری باقی مکان بشرط مذکور یعنی مکان کے ۹ حصوں  سے ۷ حصے یارمحمد کو واپس دے، واللہ تعالٰی اعلم۔
Flag Counter