Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۷(کتاب البیوع، کتاب الحوالہ، کتاب الکفالہ )
37 - 180
فی ردالمحتار علی اجازۃ من شری لہ فان اجاز جاز وعہدتہ علی المجیز لاعلی العاقد ۱؎۔
  ردالمحتار میں  ہے کہ اس شخص کی اجازت پر موقوف ہوگی جس کے لئے فضولی نے خریداری کی اگر وہ اجازت دےگا تو یہ شراء جائز ہوجائےگی اور اس کی ذمہ داری اجازت دینے والے پر ہوگی نہ کہ عاقدین پر۔ (ت)
 (۱؎ ردالمحتار    کتاب البیوع فصل فی الفضولی  داراحیاء التراث العربی بیروت    ۴/ ۱۳۷)
جبکہ خالد نے مکانات پر قبضہ کیا وہ شراء جائز ونافذ ہوگیا۔
کما ان قبض الثمن اجازۃ لبیع الفضولی فی الدارالمختار اخذ المالک الثمن اجازۃ ۲؎ اھ ملخصا ثم قال وافاد کلامہ جواز الاجازۃ بالفعل والقول ۳؎ اھ،
جیسا کہ ثمن پر قبضہ کرنا بیع فضولی کی اجازت ہوتاہے درمختار میں  ہے کہ مالک کا ثمن وصول کرنا اجازت ہے اھ ملخص، پھرکہا ماتن کا قول اس بات کا فائدہ دیتاہے کہ اجازت قول وفعل دونوں  سے جائز ہے۔ اھ (ت)
 (۲؎ درمختار    کتاب البیوع فصل فی الفضولی    مطبع مجتبائی دہلی        ۲/۳۲)

(۳؎درمختار   کتاب البیوع فصل فی الفضولی   مطبع مجتبائی دہلی        ۲/ ۳۲)
اور تقریر سوال سے ظاہر کہ ثمن زید نےبطورخود بے اذن وامر خالد اپنے مال سے ادا کیا تو وہ اس امر میں  تبرع واحسان کرنیوالا تھا اور یہ بات خود گفتگو مذکور سوال سے واضح ہے پس مکانات بے شرکت غیرے خاص ملک خالد ہیں  اور اس پر وارثان زید کا کوئی دعوٰی نہ دربارہ مکانات ہے نہ درباب ثمن،
فی الفتاوی الخیریۃ اذا دفع دینا لحق الاخر باذنہ فلہ الرجوع علیہ ولایکون متبرعا للاذن حتی اذالم یاذن لہ بہ کان متبرعاوبہ یعلم انہ اذادفع مہر زوجتہ عنہ باذنہ اوثمن الجاریۃ التی امرہ بشرائہا یرجع علیہ بما دفع والحال ھذہ ۴؎ اھ۔
فتاوٰی خیریہ میں  ہے اگر کسی نے دوسرے کا قرض اس کی اجازت سے ادا کیا تو اس سے رجوع کرسکتاہے اور متبرع نہ ہوگا کیونکہ اس کی اجازت سے ادائیگی کی ہے حتی کہ اگر مقروض نے اس کو ادائیگی قرض کا اذن نہ دیا ہوتا تویہ احسان کرنے والا قرار پاتا(یعنی حق رجوع نہ رکھتا) اس سے معلوم ہوا کہ اگر کسی نے شوہر کے اذن سے اس کی طرف سے ا س کی بیوی کا مہراداکردیا یا کسی کی لونڈی کی قیمت ادا کردی جس کی خریداری کا اس نے حکم دیا تھا تو ادا کرنے والا شوہر اور لونڈی کے مالک سے رجوع کرسکتاہے اور صورت حال یہی ہے اھ (ت)
 (۴؎ فتاوٰی خیریہ کتاب البیوع فصل فی الفضولی   دارالمعرفۃ بیروت        ۱/ ۲۳۴)
رہا عمرع اگر واقع میں  کچھ روپیہ اس کا بھی ادائے ثمن میں  صرف ہوا اور اس نے بھی مثل زید بطور خود دیا تھا تو وہ بھی متبرع ہے جس کا مطالبہ کسی سے نہیں  کرسکتا، اور اگر زید نے اس سے مانگ کر ثمن میں  صرف کیا تو غایت یہ ہے کہ یہ قرض عمرو کا زیدپر ہوگا اس کے ترکہ سے لے،خالد پر کوئی دعوٰی اسے نہیں  پہنچتا۔
فانہ ان اقرض فانما اقرض زید ا فعلیہ العھدۃ لاعلی خالد کما لایخفی۔
    اس لئے کہ اگر اس نے قرض دیاتھا تو یہ قرض زید کو دیا تھا اس پر اس کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے نہ کہ خالد پر، جیسا کہ پوشیدہ نہیں ۔ (ت)
اور اگر عقد بیع وشراء بنام زید ہوا تھا اگرچہ بعد کو زید نے بیعناموں  میں  خالد کا نام لکھا دیا تو وہ مکان وقت خریداری مملوک زید ہوئے۔
لان الشراء اذا  وجد نفاذا  نفذ علی العاقد ۱؎ کما نص علی فی الہدایۃ والدرالمختار وعامۃ الاسفار فی الدر لواشتری لغیرہ نفذ علیہ ۲؎ الخ۔
  کیونکہ شراء نفاذ کی گنجائش پائے تو عائد پر نفاذ ہوجاتی ہےجیساکہ اس پر ہدایہ اور عام کتابوں  میں  نص کی گئی ہے، درمیں  ہے کہ اگر کسی غیر کے لئے خریداری کی تو خود اس پر نافذ ہوگی الخ (ت)
(۱؎ ردالمحتار        کتاب البیوع باب المتفرقات    داراحیاء التراث العربی بیروت    ۴/ ۲۲۰)

(فتاوٰی قاضی خاں     کتاب البیوع     فصل فی البیع الموقوف    نولکشور لکھنؤ            ۲ /۳۵۱)

(۲؎ درمختار    کتاب البیوع     فصل فی الفضولی    مطنع مجتبائی دہلی        ۲ /۳۱)
اور عمرو کا روپیہ ادائے ثمن میں  دیا بھی گیا ہو تو ا س سے یہ لازم نہیں آتا کہ وہ مکان خرید کردہ عمرو کے ٹھہریں  یاان میں  اس کا حصہ قرارپایا جائے بلکہ تنہا زید ہی اس کامالک ٹھہرے گا،
فی الفتاوی الخیریۃ لاتثبت الدارللاب بقول الابن اشتریتہا من مال ابی اذا لایلزم من الشراء من مال الاب ان یکون المبیع للاب لانہ یحتمل القرض والغصب ۳؎۔
  فتاوٰی خیریہ میں ہے کہ بیٹے کے یوں  کہنے سے کہ میں  نے گھر اپنے باپ کے مال سے خریدا ہے گھر باپ کے لئے ثابت نہ ہوگا کیونکہ باپ کے مال سے خریدنے سے یہ لازم نہیں  آتا کہ مبیع باپ کے لئے ہو اس لئے کہ اس میں  یہ احتمال موجود ہے کہ اس نے باپ کا مال غصب کیا ہو یا قرض کیاہو۔ (ت)
 (۳؎ فتاوٰی خیریہ کتاب البیوع     فصل فی الفضولی      دارالمعرفۃ بیروت        ۱ /۲۱۹)
پھر بعد خریداری جو افعال واقوال زید سے واقع ہوئے اور اس نے وہ مکان خالد کا نام بیعنام میں لکھا کراسے سپردکردئے یہ صریح دلیل ہبہ ہے۔
      فالہبۃ ایضا ینعقد بالتعاطی دل علیہ فروع جمۃ فی المذہب وفی الدرالمختار اتخذ لولدہ اولتلمیذہ ثیاباثم اراد دفعہا لغیرہ لیس لہ ذٰلک مالک یبین وقت الاتخاذ انہا عاریۃ ۱؎ اھ وفی العقود الدریۃ فی تنقیح الفتاوی الحامدیۃ وفی الذخیرۃ والتجنیس امرأۃ اشتری ضیعۃ لولدھا الصغیر من مالہا وقع الشراء للام لانہا لاتملک الشراء للولد وتکون الضیعۃ للولد لان الام تصیر واھبۃ ۲؎۔
       چنانچہ ہبہ بھی تعاطی (باہمی لین دین) سے منعقد ہوجا تا ہے اس پر مذہب میں  واقع کثیرفروع دلالت کرتی ہے، درمختارمیں  ہے کہ بیٹے یا شاگرد کے لئے کسی نے کپڑے بنائے پھر غیر کو دینے کا ارادہ کیا تو اس کو ایسا کرنے کا اختیار نہیں جب تک کہ بنانے کے وقت یہ وضاحت نہ کردی ہو کہ یہ کپڑے عاریت ہیں  اھ عقود الدریہ، فتاوٰی حامدیہ، ذخیرہ اور تجنیس میں  ہے کہ ایک عورت نے اپنے مال سے نابالغ بچے کے لئے جائداد خریدی تو شراء ماں  کے لئے واقع ہوئی کیونکہ وہ بچےکے لئے خریداری کی مالک نہیں  اور وہ جائداد بچےکی ہوگی کیونکہ مال ہبہ کرنے والی بن گئی۔ (ت)
 (۱؎ درمختار    کتاب الہبۃ    مطبع مجتبائی دہلی    ۲/ ۱۶۰)

(۲؎ العقود الدریۃ فی تنقیح الفتاوٰی الحامدیۃ    کتاب الوصایۃ   عبدالغفار کتبخانہ قندہار افغانستان    ۲ /۳۳۷)
پس اس صورت میں  بھی بعد قبضہ خالد کے ملک تام ہوگئی اور ان مکانات میں کسی کا کچھ حق نہ رہا اور زرثمن میں اگرعمرو نےکچھ دیا بھی تو اس کا وہی حال ہےجو اوپر مذکور ہوا یعنی بطور تطوع تھا تو کسی پر مطالبہ نہیں  اور بطور قرض تھا تو وہ زید پر ہے خالد سےکچھ تعلق نہیں ، ہاں اگر نفس عقد زید وعمرو دونوں  کے لئے واقع ہوتا مچلا بائع کہتا میں نے یہ مکان تم دونون کے ہاتھ بیچے، یہ کہتے ہم نے خریدے، یا عمرو زید کو اپنی طرف سے اپنے مکان کی خریداری کا وکیل کردیتا تو البتہ وہ بحصہ مساوی زید وعمرو دونوں  کے ملک ہوتے اگرچہ عمرو نے ثمن میں  کچھ نہ دیا ہو اور اب یہ ہبہ بنام خالد کہ صرف زید نے کیا محض ناجائز رہتا،
لانہ مایملک الاھبہ ملکہ وھو مشاع ولایکفی سکوت عمرو حتی یجعل ھبۃ لکل لان سکوت المالک یبیع الفضولی لایکون رضا کما فی الاشباہ فکیف بالھبۃ ۱؎۔
کیونہ وہ تو صرف اپنی ملک کو ہبہ کرنے کا مالک ہے، اور اس کی ملک جزء غیر منقسم ہے جس کاہب جائز نہیں ) اور عمرو کا سکوت کافی نہیں  کہ دونوں  کا ہبہ بنادیا جائے کیونکہ فضولی کی بیع کے وقت مالک کا سکوت اس کی رضا نہیں  ہوتا جیسا کہ اشباہ میں  ہے تو ہبہ میں  ایسا کیسے ہوسکتاہے (ت)
 (۱؎ الاشباہ والنظائر    الفن الاول القاعدۃ الثانیہ عشر    ادارۃ القرآن کراچی    ۱/ ۱۸۵)
مسئلہ ۹۹ـ: از پیلی بھیت مرسلہ مولوی عبدالاحد صاحب    ۴ جمادی الاولٰی ۱۳۳۶ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں  کہ زید نے بحالت مرض الموت ایک حقیت بحق وارث بیع کی بہ امورات خیر، تویہ وقف رہا یا بیع؟ ایسی صورت میں  یہ بیع بھی ایک ثلث میں  بحق وارث رہ سکتی ہے یانہیں ؟ یہ بیع ایسی حالت میں  بیع جانی جائے گی یاہبہ؟ فقط بینوا توجروا
الجواب: جبکہ بیع کی ہے تو وہ عقد نہ وقف ہوسکتاہے نہ ہبہ ہوسکتاہے بلکہ بیع ہی ہوگا اگر واقعی اسی مرض میں  ہے جسے شرعا مرض الموت مانا جائے تو وارث کے ہاتھ بے اجازت دیگر ورثہ مطلقا ناجائز ہے نہ ثلث میں  نافذ ہوسکتی ہے ہزارویں  حصے میں ، واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۰۰: از قصبہ فیروز آباد ضلع آگرہ مسئولہ سید بشارت علی وسرفراز علی سوداگران چوڑی ۲ ذی الحجہ ۱۳۳۷ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں  کہ اس زمانے میں گورنمنٹ نے شہر بہ شہر ، قصبہ بہ قصبہ، گاؤں  بگاؤں  مویشی خانے مقرر کررکھے ہیں  اس میں  لاوارثی گائے بیل بکری وغیرہ داخل کی جاتی ہیں  اور وہ زیادہ سے زیادہ پندرہ یوم مویشی خانہ میں  اس وجہ سے رہتی ہے کہ جب مالک مویشی آئے گا اس وقت زرجرمانہ و زرخوراک وصول کرکے چھوڑ دیا جائے گا اور جب میعاد مقررہ تک مالک راس نہیں  آیا تو اس جانور کو حاکم پرگنہ یا حاکم متعلقہ نیلام کردیتاہے، اب سوال یہ ہے کہ ایسی بیع جائز ہے یانہیں ؟ اس قسم کی گائے بیل وغیرہ نیلام میں  سے خرید کرکے بقرہ عید پر قربانی کرنا اس جانور کا جائز ہے یانہیں ؟ دوسری بات یہ ہے کہ اگر ایسے جانور کو دوسرا شخص خریدے خواہ ہندو ہو یا مسلمان پھر اس سے ایک اور شخص خرید کرکے قربانی کرے تو جائز ہے یانہیں ؟ قربانی کرنے والے کو اس کا علم ہے کہ اس نے مویشی خانے میں  سے نیلام میں  خریدی ہے زید وعمرو دونوں  مولوی ہیں  یہ دونوں  کہتے ہیں  کہ ایسے جانور کی قربانی جائز ہے اور بکر ایک مولوی ہے وہ یہ کہتاہے کہ یہ جانور حکم لقیط میں  ہے لہٰذا ایسے جانور کی قربانی بھی ناجائز ہے؟ بینوا توجروا۔
الجواب: جو چیز ہے بے اطلاع مالک بیچی جائے وہ بیع اجازت مالک پر موقوف رہتی ہے قبل از اجازت اگر سو بیعیں  یکے بعد دیگرے ہوں  سب اسی کی اجازت پر موقوف رہیں  گی اور قبل اجازت اس میں  کوئی اس کا مالک نہ ہوگا نہ اس کا تصرف جائز ہو، نہ اس کی قربانی ہوسکے، لقطہ کاحکم تشہیر ہے اس کے بعد فقیر پر تصدق نہ کہ بلاتشہیر بیع، ہاں  بعد اطلاع جس بیع کہ وہ نافذ کردے نافذ ہوجائیگی جبکہ بائع ومشتری وبیع قائم ہوں ،
فتاوٰی قاضی خاں  وفتاوٰی عالمگیریہ وغیرہما میں  ہے :
اذا باع الرجل مال الغیر عندنا یتوقف البیع علی اجازۃ المالک ویشترط لصحۃ الاجازۃ قیام العاقدین و المقعود علیہ ۱؎۔
جب کسی شخص نے غیر کا مال فروخت کیا توہمارے نزدیک یہ بیع مالک کی اجازت پر موقوف ہوگی اور اجازت کے صحیح ہونے کے لئے شرط ہے کہ عاقدین اور معقود علیہ قائم ہو، (ت)
 (۱؎ فتاوٰی ہندیہ        کتاب البیوع   الباب الثالث عشر    نورانی کتب خانہ پشاور    ۳/ ۱۵۲)

(فتاوٰی قاضیخان  کتاب البیوع   فصل البیع الموقوف    نولکشور لکھنؤ        ۲ /۳۵۱)
Flag Counter