| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۷(کتاب البیوع، کتاب الحوالہ، کتاب الکفالہ ) |
اقول : (میں کہتاہوں ) جواب کا حاصل دو امرہیں : پہلا یہ کہ زید نے مکان کا اقرار کیا نہ کہ ثمن کا اور وہ ثمن کی ادائیگی میں مجبورتھا لہٰذا وہ رجوع کرے گا اور اس کو تبرع قرار نہیں دیا جائےگا، دوسرا امر یہ ہے کہ زید نے جب مکان ورثاء عمرو کے حوالے کردیا اور یہ تعاطی کے ساتھ نئی بیع ہوئی تو اب ثمن اداکرکے اس کو لینا عمرو کے ورثاء کی ذمہ داری ہے اور تو جانتا ہے کہ ان دونوں امروں میں مخالفت ومنافات ہے، اور میرے نزدیک اس کا جواب اس طرح نہیں جس طرح میرے مجیب نے کہا اس لئے کہ زید نے خریداری کے وقت یا تو یہ کہا ہے کہ میں نے یہ مکان فلاں کے لئے خریدا ہے یا یہ کہا کہ یہ میرے اپنے لئے ہوگا یا ایسا اس نے نہیں کیا، پہلی صورت میں وہ فضولی ہے اور اس کی خریداری کا نفاذ اس کی اجازت پر موقوف ہوگا جس کے لئے اس نے یہ مکان خریدا حالانکہ وہ اجازت سے قبل مرگیا ہے تو بیع باطل ہوگئی اور ظاہر ہوگیا کہ مبیع بائع کی ملک اور ثمن ا س فضولی مشتری کی ملک ہے جس نے اپنے پاس سے ادا کیا، چنانچہ عمرو اور اس کے وراثوں کے لئے کچھ بھی نہیں اور ان کے حق میں حاکم نے ان کے لئے ملک غیر کا حکم کیاہے اور اقرار باطل ہے کیونکہ یہ ملک غیر کا اقرار ہے، ہاں اگر اس کے بعد کسی طرح وہ مکان زید کی طرف منتقل ہوجائے تو وہ اس کے اقرار کے سبب سے لے لیا جائے گا، اور اگر یہ معاملہ قاضی کے پاس لے جایا جائے تو اس پر پہلے فیصلے کو رد کردینا واجب ہے کیونکہ شریعت کی جہت سے اس کی خطاء ظاہر ہوچکی ہے اور اس تعاطی کانئی بیع ہونا بھی جائز نہیں کیونکہ فضولی کا مبیع میں کوئی حق نہیں اوراگرنئی ہوئی بھی تو ایسی بیع فضولی ہوگی جو بائع اول کی اجازت پر موقوف ہوگی اگر اس نے اجازت دے دی تو ثمن اس کے لئے ہوں گے نہ کے فضولی کے لئے، اوراگر اس نے بیع کورد کردیا تو مکان عمرو کے وارثوں سے واپس لے لیا جائے گا اور ثمن فضولی کو لوٹا دئے جائیں گے، دیگر دونوں صورتوں میں خریداری فضولی پر نافذ ہوئی کیونکہ اس نے اس شخص کی طر ف اضافت نہیں کی جس کے لئے اس نے گھر خریدا پھر بسبب اس کے اقرار کے وہ ذمہ دار ہوگیا اور قاضی نے ورثاء عمرو کے حق میں فیصلہ دیا جو زید کے اقرار کو دلیل بنارہے ہیں تو اب زید (فضولی) ثمن کے بارے میں ورثاء عمرو پر کس وجہ سے رجوع کرے گا اور اگر قاضی کے ہاں ثابت ہوجائے کہ زید نے وہ مکان عمر و کے ثمن سےخریدا ہے تو اہل شرع خریداروں کے نزدیک یہ معاملہ محکمہ قضاء کے تحت داخل نہ ہوگا اگرچہ کسی کے شے مکان کا اقرار کرنا اس بات کا تقاضا نہیں کرتا کہ وہ مکان اس کے ثمن سے خریدا گیا ہے کیونکہ کسی شخص کو اس کے اقرار کے سبب پکڑنے کا یہ مطلب نہیں کہ اقرار والی شے کافیصلہ اس شخص کے لئے کیا جائے جس کے لئے اقرار کیا گیاہے اور پھر اقرار کرنے والا اس بناء پر مقرلہ سے ثمن کے بارے میں رجوع کرے کہ اس ااقرار کرنے والے نے یہ شے خریدی تھی اس لئے کہ اقرار میں واقع کونہیں دیکھا جاتا بلکہ اقرار کرنے ولا اپنے گمان/ قول کے سبب سے پکڑا جاتا ہے کیونکہ ہوسکتا ہے اقار کرنے والے نے اس شیئ کو خریدا ہو پھر کوئی ایسا سبب پیدا ہوگیا ہو جس سے وہ شے مقرلہ کی ملکیت منتقل ہوگئی ہو، اور اگر اقرار کرنے والا یہ دعویٰ کرے کہ اس نے یہ شیئ (مقریہ اس خیال سے خریدی تھی کہ اس کی خریداری مجھ پر نافذنہ ہوگی تویہ محض اس کا ایک قول ہے جس کو قبول نہیں کیا جائے گا، اس دلیل کی وجہ سے جو اشباہ میں کہ ایک شخص نے کسی چیز کا اقرار کیا پھر اس میں خطاء کا دعویٰ کیا تویہ دعویٰ قبول نہیں کیا جائے گا سوائے طلاق کے کہ جب کسی شخص نے مفتی کے غلط فتویٰ کی بناء پر طلاق کا اقرار کرلیا۔
(۱؎ الاشباہ والنظائر کتاب الاقرار ادارۃ القرآن کراچی ۲ / ۲۱ ۔ ۲۰)
ثم ظھر ان الحکم لیس کک فادعی الخطاء بناء علی ھذا قبل وکذا ان ادعی ان اقرارہ کان تملیکا وہبۃ وبطلت لموت عمروقبل القبول والتسلیم فان الموت احدالعاقدین یبطل الہبۃ اذا کان قبل التسلیم فقبل القبول ۔۔۔۔۔ ف۔۔۔ ابی لم تقبل ایضا صرح بہ فی الاشباہ ثم ھذا التسلیم الواقع بامرالقاضی انما وقع علی حکم الاقرار لاعلی وجہ البیع والتسلیم لایکون بیع التعاطی الااذا وقع علی جھتہ قال فی الدر فی باب الوکالۃ بالبیع والشراء لان التسلیم علی وجہ البیع بیع بالتعاطی ۱؎ الخ ۔
پھر اسے معلوم ہوا کہ مسئلہ اس طرح نہیں ہے چنانچہ اس وجہ سے اس نے خطاء کا دعوٰی کیا تو قبول کرلیا جائے گا اور یہی حکم ہوگا کہ اگر زید نے دعوٰی کیا کہ اس کا اقرار تو تملیک اور ہبہ تھا اور وہ قبول وتسلیم سے عمرو کے فوت ہوجانے کی وجہ سے باطل ہوگیا ہے کیونکہ عاقدین میں سے کسی ایک کی موت ہبہ کو باطل کردیتی ہے جبکہ تسلیم سے پہلے موت واقع ہوئی ہے ۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰ پھرقاضی کے حکم سے واقع ہونے والے یہ تسلیم بطور بیع نہیں بلکہ اقرار کی بنیاد پر ہے اور تسلیم جب تک بطور بیع نہ ہو وہ بیع تعاطی نہیں ہوسکتی در میں بیع وشراء کی وکالت کے باب میں ہے کہ بیشک بیع کے طو پر ہونے والی تسلیم بیع تعاطی ہے الخ ۔ ف : یہاں اصل میں بیاض ہے۔
(۱؎ درمختار کتاب الوکالۃ باب الوکالۃ بالبیع الخ مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۱۰۶)
وایضا یعتمد البیع بالتراضی و ھھنا التسلیم بامر القاضی ولا رضاء بعد القضاء ھذا ماظہرلی من وجوہ الخلل فی الجواب فالحق فی الجواب مااقول : ان ثبت انہ لم یکن اضاف الشراء الی عمرو حین اشتری ولو استکتب اسمہ فی الصک بعد تمام العقد ووقوع الایجاب و القبول فلا شک ان الشراء ینفذ علیہ فتصیر الدار ملکا لہ ثم یواخذہ باقرارہ کما قضی القاضی ولایمکنہ الرجوع علی الورثۃ بالثمن وان تثبت الاضافۃ اذ ذاک کان شراء متوقطا ثم بطل لموت عمر وقبل الاجازۃ قال فی الدر فی حق بیع الفضولی لاتجوز اجازۃ وارثہ لبطلان بموتہ ۱؎ وکذا فی عامۃ الکتب فکذا شراء ہ لاجرم ان قال فی الاشباہ الموقوف یبطل بموت الموقوف علی اجازتہ ولا یقوم الوارث لوارث مقامہ الا فی القسمۃ کذا فی الولوالجیۃ ۲؎ انتہی فلم یکن للورثۃ حق فی الدارولا فی الثمن فاذ ارفع الامرا الی القاضی وجب ان یرد قضاؤہ لما تبیین من خطائہ بحکم الشرع فان ادعی البائع ردت الدار الیہ والثمن الی المشتری ولا شیئ للورثۃ ھذا ، واﷲ تعالٰی اعلم وعلمہ اتم وحکمہ احکم۔
نیز بیع کی بنیاد تو باہمی رضامندی پر ہوتی ہے جبکہ یہاں قاضٰ کے حکم سے تسلیم ہوئی اور قضاء کے بعد رضا نہیں ہوتی، یہ مجیب کے جواب میں واقع ہونے والے خلل کی وجوہات تھیں جومیرے لئے ظاہر ہوئیں اورجواب میں حق وہ ہے جو اقول : (میں کہتاہوں) اگر ثابت ہوجائے کہ زید نے مکان خریدتے وقت خریداری کو عمرو کی طرف منسوب نہیں کیا اگر چہ ایجاب وقبول کے وقوع اور عقد کے انعقاد کے بعد بیعنامہ میں اس کانام لکھوادیا ہے تو بیشک یہ شراء زید پر نافذ ہوگی اور مکان اس کی ملک ہوگا پھر اس کے اقرار کلی وجہ سے وہ مکان اس سے لے لیا جائے گا جیسا کہ قاضی نے فیصلہ کیا ہے اس صورت میں وہ ثمن کے بار ے میں ورثاء عمرو سے رجوع نہیں کرسکتا اور اگر بوقت خریداری عمرو کی طرف نسبت کرنا ثابت ہوجائے تو یہ شراء موقوف ہوئی جو کہ عمرو کی قبول از اجازت موت کے سبب سے باطل ہوچکی، در میں فضولی کی بیع کے بارے میں فرمایاکہ اس کے وارث کی اجازت سے جائز نہ ہوگی کیونکہ وہ بیع اس (صاحب متاع) کی موت کی وجہ سے باطل ہوچکی ہے اور اسی طرح عام کتابوں میں ہے تو یقینا اسی طرح فضولی کی شراء کا حکم ہوگا، اشباہ میں کہا کہ موقوف بیع اس شخص کی موت سے باطل ہوتی ہے جس کی اجازت پر وہ موقوف تھی اور اس کا وارث اس کے قائم مقام نہیں ہوتا سوائے قسمت کے جیسا کہ ولوالجیہ میں ہے انتہی، لہٰذا ورثاء عمرو کا نہ تو مکان میں کوئی حق ہے نہ ہی ثمن میں اور جب قاضی کے پاس معاملہ لے جایا گیا تو اس کی قضا کو ردکرنا واجب ہے کیونکہ شرع کی جانب سے اس کی خطاء ظاہر ہوچکی ہے چنانچہ اگر بائع دعویٰ کرے تو مکان اس کوا ور ثمن مشتری کو لوٹا دئے جائیں گے ورثاء عمرو کے لئے کوئی شیئ نہ ہوگی اسے خوب یادرکھو واللہ تعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔ (ت)
(۱؎ درمختار کتاب البیوع فصل فی الفضولی مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۳۲) (۲؎ الاشباہ والنظائر کتاب البیوع الفن الثانی ادارۃ القرآن کراچی ۱/ ۳۳۰)
مسئلہ ۹۸: کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے دومکان اپنے روپیہ سے خرید کر ان کے بیعنامے اپنےچھوٹے بھائی خالد کے نام کہ وہ بھی بالغ تھا لکھادئے اورخریدتے وقت اپنے اہل خاندان کے روبرو کہا کہ یہ مکان میں نے اپنے بھائی خالد کے لئے خریدے ہیں ان کا کوئی مالک نہیں اور بعد خریداری خلاد کو قابض کرادیااور دستاویز بھی اسے دے دی اور کرایہ نامے خالدہی کے نام سے ہوتے رہے اور کرایہ دار اسی کی مرضی پرآباد ہوتے رہے اور کرایہ بھی وہی پاتا رہا اب دس برس کے بعد کو زید فوت ہوا اس کا تیسرا بھائی عمرو مدعی ہے، ان مکانوں کے میں اور زوجہ وپسر ودختر زید مالک ہیں کہ میرے اور زید کے روپے سے خرید کردہ ہیں حالانکہ واقع میں اس کا روپیہ اصلا نہ تھا اس صورت میں مالک مکانوں کا کون ہوسکتاہے؟ بینوا توجروا
الجواب: اگر خریدتے وقت عقد بیع وشراء مالکان مکان وزید سے بنام خالد وقع ہوا تھا تو وشراء شرائے فضولی تھا اور اجازت خالد پر موقوف،
فی الدارالمختار لواضافہ (یعنی اضاف المشتری الفضولی الشراء الی غیرہ) بان قال بع ھذا العبد لفلان فقال البائع بعتہ لفلان توقف بزازیۃ وغیرھا ۱؎ اھ۔
درمختارمیں ہے کہ اگر فضولی مشتری نے شراء کی نسبت کسی غیر کی بایں طور کہ یوں کہا یہ غلام فلاں کے لئے فروخت کر، بائع نے کہا میں نے فلاں کے لئے فروکت کیا، تویہ شراء موقوف ہوگی، بزازیہ وغیرہ اھ۔
(۱؎ درمختار کتاب البیوع فصل فی الفضولی مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۳۱)