| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۷(کتاب البیوع، کتاب الحوالہ، کتاب الکفالہ ) |
ودرمحیط نوشتہ (عبارت منقول برہامش درمختار ص ۴۸۲) انتہٰی ملتقطا واگر نیک غور کردہ آید ہمیں مضموم یعنی داخل نبودن ثمن غیر مقربہ در اقرار مکان ولازم نبودنش برمقران ازھدایہ وعینی وغیرہما بقیہ مااقربہ درعبارت لزمہ اقرارہ مجہولہ کان مااقربہ اومعلوما ۲؎ والاقرار ملزم علی المقرما اقربہ ۳؎۔
اور محیط میں مرقوم ہے (عبارت برہامش درمختار ص ۴۸۲) انتہی ملتقطا اور اگر خوب غور کیا جائے تو یہی مضمون یعنی غیر اقرار شدہ ثمنوں کا اقرار مکان میں داخل نہ ہونا اور مکان کا اقرار کرنیوالوں پرثمن کا لازم نہ ہونا ہدایہ اور عینی وغیرہ میں مذکور مااقربہ (جس کا اس نے اقرار کیا) کی قید سے حاصل ہوتاہے جو قید انھوں نے ان عبارتوں میں لگائی کہ مقرپر اس کا اقرار لازم ہو جاتاہے چاہے وہ شے جس کا اس نے اقرار کیامعلوم ہو یا مجہول ، مقر پر لزوم اس کے اقرار کی وجہ سے ہوتاہے ۔
(۲؎ الہدایہ کتاب الاقرار مطبع یوسفی لکھنؤ ۳/ ۲۲۹) (۳؎ البنایۃ فی شرح الہدایۃ کتاب الاقرار المکتبۃ الامدادیہ مکۃ المکرمہ ۳/ ۴۷۷) (فتح القدیر کتاب الاقرار مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۷/ ۲۹۹)
واضح مے شودوچوں ثمن غیر مقربہ داخل در اقرار مکان نمی تواند شد پس زید کہ مکان مذکور آں بلااجازت عمرو بنام اوخریدہ زرثمن آں از نرد خود بجہت مباشربودن معاملہ خرید ومضطر بودن درادائے ثمن کہ دینے واجب الادا بود ببائع آں نمود ورثہ عمرو آں مکان را بعد حکم حاکم برتسلیم زید درقبض خود درآورند بے شبہہ ز ید مستحق یافتن زرثمن ادا کردہ خود از ورثہ عمر واست واحتمال تطوع وتبرع درہمچوں حالت اضطرار ادائے ثمن مفقود کہ شرعا مضطر بادائے دین ذمگی کسے بہ نہجیکہ باشد ہر گز متطوع ومتبرع قراردادہ نمی شود چنانچہ ازیں روایت معتبرہ شرح حموی ظاہر ست لو قضی واحد من الورثۃ حق الغریم من مالہ علی ان لایرجع فی الترکۃ فالقاضی لاینقض القسمۃ بل یمضیہا امااذا شرط الرجوع او سکت فالقسمۃ مردودۃ الاان یقضوا حق الوارث الذی قضی حق الغریم من مالہ وھذا الجواب ظاہر فیما اذا شرط الرجوع مشکل فیما اذا سکت، وینبغی ان یجعل متوطعا اذااسکت و الجواب انہ لم یجعل متطوعا لانہ مضطر فی القضاء ۱؎ انتہی ۔
جب غیر اقرار شدہ ثمن مکان کے اقرارمیں داخل نہیں ہوسکتے تو پھر زید نے جو مکان عمرو کی اجازت کے بغیر اس کے نام پر خریدا اور زرثمن اپنے پاس سے اس لئے بائع کودیا کہ ہو خریداری کے معاملہ میں مباشر تھا اور ثمن جو کہ واجب الادا دین ہے کی ادائیگی میں مجبور تھا ورحکم حاکم کے بعد زید کی سپردگی سے عمرو کے ورثاء نے وہ مکان اپنے قبضہ میں لے لیا تو اب زید بلا شبہ عمروکے ورثاء سے اس زرثمن کو وصول کرنے کا مستحق ہے جو اس نے اپنے پاس سے ادا کیا ہے اور اس طرح کی اضطراری حالت میں ثمن کی ادائیگی میں تطوع وتبرع (بطور احسان اداکرنا) کا احتمال موجود نہیں کیونکہ کسی کے ذمے لازم قرض کی ادائیگی میں اگر کوئی شخص کسی طرح مجبورہوتوشرعی طورپراس قرض اداکرنے والے شخص کوتطوع و تبرع کرنے والا ہر گز قرارنہیں دیا جاتا، جیسا کہ شرح حموی کی اس معتبر روایت سے ظاہر ہے اگر کسی وارث نے اپنے مال سے کسی قرض خواہ کا حق ادا کردیا اس شرط پرکہ وہ ترکہ میں سے قرض کا رجوع نہیں کرے گا تو قاضی تقسیم کو نہیں توڑے گا بلکہ اس کو قائم رکھے گا اوراگر اس نے ترکہ سے رجوع کی شرط لگائی یا خاموش رہا تو تقسیم مردود ہوگی تاوقتیکہ ورثاء اس وارث کا حق ادا کردیں جس نے قرضخواہ کا حق اپنے مال سے اداکیا، یہ حکم شرط رجوع والی صورت میں ظاہر اور سکوت والی صورت میں شکل ہے چنانچہ خاموش رہنے کی صورت میں اس وارث کو متطوع قرار دینا چاہئے، اس کا جواب یہ ہے کہ اس کو متطوع اس لئے قرار نہیں دیا گیا کہ وہ قرض کی ادائیگی میں مجبور تھا انتہی،
(۱؎ غمز عیون البصائر الفن الثانی کتاب القسمۃ ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی ۲/ ۹۵ ۔ ۹۴)
وبرائے ثبوت استحقاق زید بہ نسبت یافتن زرثمن از ورثہ عمرو کہ مکان خریدہ زید رابعد حکم حاکم بہ تسلیم زید باوصف ثبوت ادائے ثمن ازاں زید بقبضہ ایشاں دررسیدہ ایں روایت ہدایہ وعنایہ ونتائج وغیرہ کنایت میکند وھی ھذہ ومن قال الاخر بعنی (منقول ھامش الدرمن باب الفضولی ) الا ان یسلمہ المشتری لہ ای الاان یسلمہ المشتری لہ العبد المشتری لاجلہ الیہ ویجوز ان یکون معناہ الاان یسلم فلانا العبد المشتری لاجلہ وفاعل یسلم ضمیر یعود الی المشتری بناء علی الروایتین بکسرالراء وفتحہا فیکون بیعا و علیہ العہدۃ ای علی فلان عہدۃ الاخذ بتسلیم الثمن لانہ صار مشتریا بالتعاطی کالفضولی اذااشتری لشخص ثم سلمہ المشتری لاجلہ، ۱؎ عنایۃ الا ان یسلم المشتری لہ روی لفظ المشتری بروایتین بکسر الراء وفتحہا فعلی الکسر یکون المشتری فاعلا، وقولہ لہ ای لاجلہ ویکون المفعول الثانی محذوفا وھو الیہ، فالمعنی الا ان یسلم الفضولی العبد الذی اشتراہ لاجل فلان الیہ، وعلی الفتح یکون المشتری لہ مفعولا ثانیا بدون حرف الجر وحو فلان، ویکون الفاعل مضمرا یعود الی المشتری فالمعنی الا ان یسلم الفضولی العبد الی المشتری لہ وھو فلان، ثم ان ھذا الاستثناء من قولہ لم یکن ۲؎ الخ (منقولہ ھامش الدر من الفضولی) الخ نتائج ، وا ﷲ تعالٰی اعلم وعلمہ احکم المجیب المدعو بمحمد فقیر اﷲ الغنی عفی عنہ ارسلہ الی سید مولٰنا شاہ علی باھتمام تام للتصدیق لمنتصف جمادی الاولی ۱۲۹۵ھ۔
زید کاخریدا ہوا مکان حکم حاکم پر زید کے سپردگی کے بعد جب ورثاء عمرو کے قبضہ میں پہنچ گیا باوجود یکہ زید کی طرف سے زرثمن کی ادائیگی ثابت ہے تواب ورثاء عمرو سے زید کے زرثمن کے مستحق ہونے کے ثبوت کے لئے ہدایہ، عنایہ اورنتائج کی یہ روایت کافی ہے جو کہ یہ ہے اور جس شخص نے دوسرے کو کہاکہ مجھ پر فروخت کر الخ (منقول از حاشیہ درمختار، باب الفضولی) مگریہ کہ مشتری غلام اس کے حوالے کردے جس کے لئے اس نے خریدا یعنی سوائے اس کے بیع جائز نہ ہوگی کہ مشتری خریدا ہوا غلام اس کے حوالے کردے جس کے لئے اس نے خریدا اور ممکن ہے کہ معنٰی یوں ہو مگر ا وقت بیع جائز ہوگی جب مشتری خریدا ہوا غلام اس فلاں کے سپرد کردے جس کی خاطر وہ غلام خریدا گیا اور یسلم کافاعل ضمیر ہو جو مشتری کی طرف لوٹتی ہے، یہ اختلاف دوروایتوں پر مبنی ہے مشتری کی راء پر کسرہ اور فتحہ کے ساتھ تو اس طرح یہ نئی بیع ہوگی او راس کی یعنی فلاں کی ذمہ داری ہے کہ وہ ثمن ادا کرکے اس کو لے لے کیونکہ وہ تعاطی کے ساتھ مشتری ہوگیا ہے اس فضولی کی طرح جو کسی شخص کے لئے کچھ خریدے وہ چیز اس کے حوالے کردے جو اس کے لئے خریدی گئی (عنایہ) مگریہ کہ مشتری وہ غلام اس کے حوالے کردے، لفظ مشتری دوطرح سے روایت کیا گیا راء کے کسرہ اور فتحہ کے ساتھ، کسرہ کی صورت میں مشتری فاعل ہوگا اور ماتن کا قول لہ کا بمعنی لاجلہ ہوگا اور مفعول ثانی محذوف ہوگا جوکہ الیہ ہے تو اس طرح عبارت مذکورہ کا معنی یہ ہوگا مگر یہ کہ فضولی (مشتری) وہ غلام جو فلاں کی وجہ سے اس نے خریدا وہ فلاں کے حوالے کردے، اورفتحہ کی صورت میں مشتری لہ بغیر حرف جر کے مفعول ثانی ہوگا اور مشتری لہ وہ فلاں ہی ہے اور یسلم کا فاعل وہ ضمیر ہوگی جو مشتری کی طر ف لوٹتی ہے تو اس طرح عبارت مذکورہ کا معنی یہ ہوگا مگریہ کہ وہ فضولی (مشتری) غلام کو مشتری لہ (جس کے لئے خریدا گیا) کے حوالے کردے اور وہ یعنی مشتری لہ وہ فلاں ہی ہے، پھر یہ اسثتناء ماتن کے قول لم یکن الخ سے ہے (منقول ازحاشیہ در باب الفضولی) نتائج، اللہ تعالٰی بہتر جانتا ہے اوراس کا علم بہت مضبوط ہے، مجیب فقیر محمد فقیر اللہ نے اس کو سیدمولٰنا شاہ علی کے پاس پورے اہتمام کے ساتھ تصدیق کے لئے ارسال کیا نصف جمادی الاولٰی ۱۲۹۵ھ (ت)
(۱؎ العنایۃ علی ہامش فتح القدیر کتاب الوکالۃ باب الوکالہ فی البیع والشراء مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۷ /۵۱ و ۵۲) (۲؎ نتائج الافکار وھی تکملہ فتح القدیر کتاب الوکالۃ باب الوکالہ فی البیع والشراء مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۷/ ۵۱ و ۵۲)
اقول: حاصل الجواب امران الاول انہ انما اقربالدار دون الثمن وکان مضطر الی قضائہ فیرجع ولایجعل تبرعا ، الثانی انہ لما سلم الدار الی ورثۃ عمرو صاربیعا مبتہ ابالتعاطی فکان عہدۃ الاخذ بتسلیم الثمن علیہم وانت تعلم ان بین الامرین تباینا وتنافیا وعندی الجواب لیس کما قال لان زیدا اما ان یکون قال عندالشراء اشتریتہ لفلان اوقال لی اولا ولا علی الاول کان فضولیا یتوقف نفاذ شرائۃ علی اجازۃ من اشتری لہ وقد مات قبل ان یجیز فبطل واستبان ان المبیع للبائع و الثمن للفضولی المشتری الذی اداہ من عندہ ، فلا شیئ لعمرو ولالورثتہ وحکم الحاکم لہم لایعتبر بل یرد ویفسخ لانہ قضٰی لہم بمال الغیر والاقرار باطل لانہ اقرار بملک الغیر نعم ان انتقل الیہ بعد بوجہ من الوجوہ اخذ باقرارہ فاذ ارفع الامر الی القاضی وجب ان یرد قضاوہ لظہور خطائہ من جہۃ الشرع، وھذا التعاطی ایضا لایجوز ان یکون بیعا مبتداءً اذا لفضولی لاحق لہ فی المبیع وان کان کان بیع فضولی متوقفا علی اجازۃ البائع الاول، فان اجاز کان الثمن لہ لاللفضولی والا یسترد الدار من الورثۃ ویرد الثمن علی الفضولی، وعلی الثانیین نفذ الشراء علی الفضولی لعدم الاضافۃ، الی من اشتراھا لاجلہ، ثم انہ مواخذہ باقرارہ وقد قضی القاضی للورثہ بالدار محتجین بالاقرار ففیم برجع علیہم بالثمن و ان ثبت عندا لقاضی انہ انما شراہ بثمنہ لما وقع عندالشراء فی محکمۃ القضاء ولم لم یستلزم الاقرار بالدار الاقرار بالثمن اذلیس معنی المؤاخذۃ بالاقرار ان یقضی بالمقربہ للمقرلہ ویرجع المقر بالثمن بناء علی انہ کان اشتراہ اذ فی الاقرار لاینظر الی الواقع انما یواخذ الرجل بزعمہ لاحتمال انہ کان اشتراہ ثم حدث سبب فصار ملکا للمقرلہ وان ادعی انہ انما اقربنا علی زعمہ ان اشراءہ لاینفذ علیہ فھذہ کلمۃ ھو قائلہا لاتقبل منہ لما فی الاشباہ اذا اقربشیئ ثم ادعی الخطاء لم تقبل الا اذااقربالطلاق اذا اقربہ بناء علی مافتی بہ المفتی ۱؎۔