Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۷(کتاب البیوع، کتاب الحوالہ، کتاب الکفالہ )
34 - 180
مسئلہ ۹۴: از ضلع فریدپور مرسلہ حافظ عنایت علی وکفایت علی     ۲۵ صفر ۱۳۱۹ھ

جناب مولانا احمد رضاخاں  صاحب بعد سلام علیکم مزاج شریف ، احوال یہ ہے کہ ایک شخص گندم مبلغ بیس ۲۰ روپے کے ساڑھے نوسیر کے وعدہ پر چھ ماہ کو طلب کرتاہے اور گندم کانرخ بازار میں  ساڑھے گیارہ سیر وبارہ سیرہے، جوشخص گندم لیتاہے اپنی ضرورت کو بازار میں  ساڑھے گیارہ سیر وبارہ سیر فروخت کرکے اپنا کام نکال لیتاہے اورجو شخص گندم ادھار دیتاہے اس کے مکان پر گندم نہیں  بازار سے خرید کردیتاہے، دوسرا شخص مبلغ دس روپے کے گندم آٹھ سیر کے بھاؤ سے مانگتا ہے اور مبلغ دس روپے نقد طلب کرتاہے اسے جو دس روپے دئے جائیں  گے اس روپیہ کو دس کے دس لئے جائیں  گے جیسا کچھ ارشاد فرمائیں ۔
الجواب: یہ صورتیں  حرام نہیں  گناہ نہیں  پھر بھی مکروہ ہیں  ان سے بچنا بہترہے، کما فی الفتح وردالمحتار (جیسا کہ فتح اور ردالمحتارمیں ہے۔ ت)
باب بیع الفضولی

(فضولی کی بیع کے احکام)
مسئلہ ۹۵: کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں  کہ زید نے زیور اپنی زوجہ ہندہ کا کہ اسے جہیز میں  ملاتھا بلااجازت ہندہ بیع کیا اور اپنے صرف میں  لایا، آیا یہ بیع نافذ اور ہندہ کو زید سے اختیار مطالبہ حاصل ہے یانہیں ؟ اور زیور وظروف وغیرہ اسباب جہیز جو والدین ہندہ نے خاص واسطے صرف ہندہ کے دیا ہے ملک ہندہ کی ہے یا زید کی؟ بینوا توجروا۔
الجواب:زیور وظروف وغیرہ اسباب جہیز کہ والدین ہندہ نے خاص واسطے صرف ہندہ کے دیا بلاوجہ ملک ہندہ ہے زید کو اس میں  کچھ حق نہیں ۔
فی الدرالمختار جھز ابنتہ بجھاز وسلمہا ذٰلک لیس لہ الاسترداد منہا، ولالورثتہ بعدہ ان سلمہا ذلک فی صحتہ بل تختص بہ، وبہ یفتی ۱؎۔
درمختارمیں  ہے کہ باپ نے بیٹی کو جہز دیا اور بیٹی کے قبضہ میں  دے دیا تو اب نہ تو وہ خود واپس لے سکتاہے نہ ہی اس کے مرنے کے بعد اس کے ورثاء واپس لے سکتے ہیں  جب کہ اس نے یہ جہیز حالت صحت میں  دیا ہو بلکہ اس جہیز کی ملکیت بیٹی کے ساتھ مختص ہے اور اسی پر فتوٰی ہے۔ (ت)
 (۱؎ درمختار     کتاب النکاح باب المہر        مطبع مجتبائی دہلی    ۱/ ۲۰۳)
پس وہ بیع کہ زید نے کی بلااجازت ہندہ نافذ نہیں  ہوسکتی، اور اگر ہندہ مطالبہ کرے تو وہ زیور مشتری سے پھر سکتاہے ، واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۹۶: کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں  کہ ہندہ نے اپنے مرض موت میں  ایک مکان اور ایک دکان کہ قریب سولہ سو روپے کے قیمت کے تھے چھ سوروپے کو اپنے شوہر اور دختر کے ہاتھ بیع کئے، بعد پندرہ روزکے بعد ہندہ مرگئی، اس صورت میں  یہ بیع جائز ہے یانہیں ؟ بینوا توجروا
الجواب: صورت مسئولہ میں  بیع صحیح نہیں  کہ بیع مرض موت میں  کم قیمت کو باتفاق امام اعظم وصاحبین رحمہم اللہ تعالٰی ناجائز ہے اور وارث کے ہاتھ تو برابر قیمت کوبھی بے اجازت دیگر ورثہ امام اعظم کےنزدیک جائز نہیں
فی التلویح لوباع من احد الورثۃ عینا من اعیان الترکۃ بمثل القیمۃ فلایجوز عند ابی حنیفۃ ۱؎ اھ ملخصاواﷲ تعالٰی اعلم ۔
  تلویح میں  ہے اگر اشیاء ترکہ میں  سے کوئی خاص شئی کسی نے اپنے وراث کے ہاتھ برابر قیمت پر فروخت کی تو امام ابوحنیفہ رضی اللہ تعالی عنہ کے نزدیک جائز نہیں  ہے اھ ملخصا، واللہ تعالٰی اعلم۔ (ت)
 (۱؎ التلویح مع التوضیح    فصل فی الامور المعترضۃ علی الاھلیۃ منہا المرض    نورانی کتب خانہ قصہ خانی پشاور     ص۶۶۳)
مسئلہ ۹۷: مثلا زید یک مکان بلااجازت عمرو خریدہ بیعنامہ آں  بنام عمرو برادر خود تحریر کنایندہ گرفت وزرثمن آں  نیز خود دادہ اقرارہم کردہ ماند کہ ایں  مکان عمرو ست بعد ازاں  عمرو کہ وقت خرید مکان درسفر بود درانجا فوت کرد ورثہ عمرو مکان مذکورہ باعانت حاکم از زید بوجہ بیعنامہ واقرار مذکور درخواستند وزیر بحکم حاکم تفویض وتسلیم ایشاں  کردپس الحال زید مستحق یافتن زرثمن کہ درعدالت دادن زید ثابت گردید از ورثاء عمرو ہست یا بوجہ اقرار برملکیت عمرو بسبب مکان مذکور اقراربریں  امر ہم گردید کہ روپیہ دادہ شدہ زرثمن مکان ازاں  عمرو ست ، بینوا توجروا
مثال کے طور پر زید نے ایک مکان اپنے بھائی عمرو کی اجازت کے بغیر خرید کر اس کا بیعنامہ عمرو کے نام لکھوادیا اور اس کا زرثمن بھی خود ہی دے کر اقرار کیا کہ یہ مکان عمرو کا ہے، بعد میں  جب عمرو جو مکان کی خریداری کے وقت سفرپر تھا وہیں  فوت ہوگیا تو عمروکے وارثوں  نے بیعنامہ اور اقرار مذکورہ کی وجہ سے حاکم کی مدد کے ذریعے زید سے مکان کامطالبہ کیا اور زید حاکم کے حکم پروہ مکان ان کے حوالے کردیا، توکیا اب زید وہ زرثمن عمروکے وارثوں  سے پانے کا حقدار ہے جس کی زید کی طرف سے عدالت میں  ادائیگی ثابت ہے یامکان مذکور پر عمرو کی ملکیت کااقرار کرنے کی وجہ سے اس بات کا بھی اقرار ہوگیا کہ مکان کہ زرثمن میں  دیا گیا روپیہ بھی اسی عمرو کی طرف سے ہے، بیان کرو اجرپاؤ گے۔ (ت)
الجواب: شرعا درصورت مسؤل فیہا زید مستحق یافتن زرثمن کہ درعدالت دادن زید ثابت گردیدہ از روثہ عمرو بعدتسلیم مکان بایشان است ، واقرار زید بمکان برائے عمرو کہ ہمچوں  صورت خرید درغیبت دادن ثمن از نردخود بمعنی خریدہ شدن برائے عمرو است اقرار بملکیت ثمن برائے عمو عموما خصوص بحالیکہ زید بودن ثمن ازاں  خود گفتہ باشد نمی تواند شد چہ اقرار بریک چیز اقرار بچیز دیگر منفصل از مقربہ کہ جزء تابع آں  نباشد نمے شود وزرثمن کہ چیزے منفصل وعلیحدہ ا ز مکان مقربہ است بجہت نبودن جزء مکان ومرکب نبودنش دراں  تابع مکان نیست پس داخل دراقرار مکان عموما خصوص درحالیکہ زید بودنش ازاں  خود گفتہ باشد نمی تواند شد مانند اقرار بجاریہ مقبوضہ ذات ولد واقرار بصندوق محمولہ متاع و اقرار بدار مقبوضہ مشمولہ بمتاع ودواب کہ اقرار بولد جاریہ ومتاع صندوق ومتاع دار ودواب از ہمیں  علت جامعہ یعنی از جہت نبودن ہر یکے ازاں  جزو تابع مقربہ نمے شود درفتاوٰی قاضیخان نوشتہ رجل فی یدیہ جاریۃ وولدہافقال ان الجاریۃ لفلان لایدخل فیہ الولد ۱؎ الخ ۔
صورت مسئولہ میں  عمرو کے ورثاء کومکان سپرد کرنے کے بعد زید ان سے وہ زرثمن حاصل کرنے کا شرعی طور پرمستحق ہے جس زرثمن کی زید کی طرف سے عدالت میں  ادائیگی ثابت ہے، اورزید کا یہ اقرار کہ مکان عمرو کے لئے ہے جیسا کہ خریداری کی صورت میں  عمرو کی عدم موجودگی میں  اپنے پاس سے ثمن ادا کرنا بایں معنی کہ مکان کی خریداری عمرو کے لئے ہے اس بات کا اقرار عموما نہیں  ہوسکتا کہ ثمن عمر وکی ملکیت تھے خصوصا اس حال میں  کہ جب زید نے اپنے پاس سے ثمنوں  کی ادائیگی کاکہا بھی ہو (تو بدرجہ اولی ثمنوں  کا ملک عمرو ہوناثابت نہ ہوگا) کیونکہ ایک چیز کا اقرار کسی دوسری ایسی چیز کا اقرار نہیں  ہوسکتا جو اس چیز سے منفصل ہو جس کا اقرار کیا گیا ہے اوراس کی تابع جزء نہ ہو، اور ثمن اس مکان سے منفصل اور علیحدہ چیز ہے جس مکان کا اقرار زید نے عمرو کے لئے کیا ہے لہٰذا اس مکان کی جزء نہ ہونے اور اس کے ساتھ مرکب نہ ہونے کی وجہ سے زر ثمن مکان کے تابع نہیں  چنانچہ بالعموم اقرار مکان میں  داخل نہ ہوسکے گاخصوصا اس حال میں  کہ جب زید نے یہ کہہ بھی دیا ہے کہ ثمن میں  اپنے پاس دے رہاہوں  یہ ایسے ہی ہوگیا جیسے کوئی شخص اولاد والی مقبوضہ لونڈی کے بارے میں  اقرار کرے یا اس صندوق کے بارے میں  اقرار کرے جس میں  سامان ہویا ایسے گھر کے بارے میں  اقرار کے جس میں  سامان اور چوپائے ہوں  تو یہ اقرار لونڈی کی اولاد، صندوق میں رکھے ہوئے سامان اور گھر میں  موجود سامان اور چوپایوں  کو شامل نہ ہوگا اسی علت  جامعہ کی وجہ سے یعنی اس وجہ  سے کہ ان میں  کوئی بھی ان چیزون کی جزء وتابع نہیں  جن کے بارے میں  اقرار کیا گیا، فتاوٰی قاضی خاں  میں لکھا ہوا کہ ایک شخص کے قبضہ میں  لونڈی اور اس کی اولاد ہوا اور وہ کہے کہ یہ لونڈی فلاں شخص کی ہے تو لونڈی کی اولاد اس اقرار میں  داخل نہ ہوگی الخ۔
 (۱؎ فتاوٰی قاضی خاں   کتاب الاقرار  فصل فی الاستثناء    نولکشور لکھنؤ        ۳/ ۶۲۳)
Flag Counter