Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۷(کتاب البیوع، کتاب الحوالہ، کتاب الکفالہ )
33 - 180
مسئلہ ۹۱ تا ۹۲: از بریلی محلہ ذخیرہ     جناب مقبول الرحمن خاں 

(۱)کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں  کہ ایک مکان مسکونہ کی بیع ایک مسلمان سے قرار پائی وہ معاملہ بیع طے ہوگیا اور قبضہ مکان پر مشتری کو بعد تحریر مسودہ بیعنامہ کردینے دستخط کے دے دیا گیا حسب قانون انگریزی ہنوز بینعامہ تحریر ورجسٹری نہ ہوا تھا کہ ایک دوسرامسلمان اسی محلہ کا جو پہلے خریداری سے انکار کرچکا تھا اب ایک سو روپیہ بڑھاکر خریداری کا ارادہ ظاہر کرتاہے اور قبضہ ہنوز اس شخص کا ہے جس سے پہلے بائعان کی گفتگو بیع کی طے ہوچکی ہے اور اس کے قبضہ میں  مسودہ دستخط شدہ بھی موجود ہے، ایسی صورت میں  کون سی بیع شرعا جائز ہے اور جو بیع شرعی پرراضی نہ ہو اس کے لئے کیاحکم ہے؟

(۲) تین ہفتہ سے مشتری سابق مع عیال واطفال اس مکان میں  رہتاہے جس پر بائعان بخوشی قبضہ دے چکے ہیں  تو اب اس کو حق اہل محلہ کے پڑوسی ہونے کا حاصل ہوگیا یانہیں ؟ اوراگر حاصل ہوگیا تو نئے مشتری کو جو پڑوسی ہے اس کو تکلیف دینا اور مکان بہ جبر اس سے خالی کرانا جائز ہے یانہیں ؟ اور اگر نہیں  تو اس کے لئے کیاحکم ہے؟ بینوا توجروا
الجواب: دوسرے کااب بیع سے تعرض کرنا، قیمت بڑھانا، اپنی طرف پھیرنا سب حرام ہے۔
فقد نہی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم عن سوم الرجل علی سوم اخیہ ۱؎ فضلا عن الصورۃ المذکورۃ فی السوال۔
بیشک رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا کہ کوئی شخص اپنے بھائی کے سوداپر سودا کرے چہ جائیکہ سوال میں  مذکورہ صورت ہو۔ (ت)
 (۱؎ مسند احمد بن حنبل     حدیث ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ  دارالفکر بیروت     ۲ /۴۱۱)
مکان بہ جبر اس سے خالی کرانا ظلم ہے، اور رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں : الظلم ظلمات یوم القیمۃ ۲؎۔ ظلم قیامت کے دن اندھیریاں  ہوجائے گا۔
(۲؎مسند احمد بن حنبل عبداللہ ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ دارالفکر بیروت   ۲/ ۱۰۶)
 اورقرآن عظیم میں  ظالموں  پر لعنت فرمائی اور ہمسایہ ظلم اور بھی سخت اشد کبیرہ ہے ، بائع پر فرض ہے کہ اپنی اگلی بیع پر قائم رہے شرعا بیع ہوچکی رجسٹری یا اسٹامپ پرلکھا جانا شرعا اصلا ضرور نہیں ، اور اس دوسرے شخص پر فرض ہے اس ظلم سے باز آجائے واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۹۳: از چاندپور ضلع بجنور مرسلہ حکیم رضوی صاحب ۲۳ شوال ۱۳۳۸ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں  کہ فصل اور موسم ارزانی میں  غلہ خرید کیا جائے عندالموقع بشرح نرخ بازار فروخت کردیا جائے اس کا منافع مسلم کے لئے حرام ہونا کہاں  تک لغویت ہے مخالفین اس میں  طعنہ زن ہوتے ہیں  بغرض حجت حضور سے استصواب ہے۔
الجواب

صورت مذکورہ پر غلہ کی تجارت بلاشبہ حلال وجائز ہے اسےحرام کہنے والا حلال شرعی کوحرام کہتاہے،حرام یہ ہے کہ بستی میں  آنے والا غلہ خود خریدلے اور بندرکھے کہ جتنا مہنگا چاہے بیچے جس سے بستی پر تنگی ہوجائے، اور مکروہ یہ ہے کہ اس کے خریدنے سے بستی پر تنگی تونہ ہو مگر اسے آروز ہو کہ قحط پڑے کہ مجھے نفع بہت ملے، اور جب ان دونوں  باتوں  سے پاک ہے جیسا صورت سوال میں ہے تو اصلا کراہت بھی نہیں ۔
درمختارمیں ہے:
کرہ احتکار قوۃ البشر والبہائم فی بلد یضرباھلہ فان لم یضرلم یکرہ ۱؎۔
انسانوں اور چوپایوں کی خوراک مہنگا بیچنے کی غرض سے ایسے شہر میں  روک رکھنا مکروہ ہے جس کے باشندوں  کو اس روکنے سے ضررر پہنچے اور اگر ضرر نہ ہو تو مکروہ نہیں ۔ (ت)
 (۱؎ درمختار    کتاب الحظر والاباحۃ     فصل فی البیع   مطبع مجتبائی دہلی   ۲/ ۲۴۸)
ردالمحتارمیں ہے :
اثم بانتظار الغلاء والقحط لنیۃ السوء للمسلمین ۲؎۔ واﷲ تعالٰی اعلم،
مہنگائی اور قحط سالی کے انتظار میں  غلہ کوروک رکھنے سے گنہگار ہوا کیونکہ ا س میں  مسلمانوں  کےلئے بدخواہی ہے ۔ واللہ تعالٰی اعلم۔ (ت)
(۲؎ ردالمحتار    کتاب الحظر والاباحۃ     فصل فی البیع    داراحیاء التراث العربی بیروت    ۵/ ۲۵۶)
مسئلہ ۹۴: از ضلع فریدپور مرسلہ حافظ عنایت علی وکفایت علی     ۲۵ صفر ۱۳۱۹ھ

جناب مولانا احمد رضاخاں  صاحب بعد سلام علیکم مزاج شریف ، احوال یہ ہے کہ ایک شخص گندم مبلغ بیس ۲۰ روپے کے ساڑھے نوسیر کے وعدہ پر چھ ماہ کو طلب کرتاہے اور گندم کانرخ بازار میں  ساڑھے گیارہ سیر وبارہ سیرہے، جوشخص گندم لیتاہے اپنی ضرورت کو بازار میں  ساڑھے گیارہ سیر وبارہ سیر فروخت کرکے اپنا کام نکال لیتاہے اورجو شخص گندم ادھار دیتاہے اس کے مکان پر گندم نہیں  بازار سے خرید کردیتاہے، دوسرا شخص مبلغ دس روپے کے گندم آٹھ سیر کے بھاؤ سے مانگتا ہے اور مبلغ دس روپے نقد طلب کرتاہے اسے جو دس روپے دئے جائیں  گے اس روپیہ کو دس کے دس لئے جائیں  گے جیسا کچھ ارشاد فرمائیں ۔
Flag Counter