Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۷(کتاب البیوع، کتاب الحوالہ، کتاب الکفالہ )
32 - 180
باب البیع المکروہ

( بیع مکروہ کا بیان)
مسئلہ ۸۹: کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں  کہ غلہ کوروک کر بیچنا جائزہے یانہیں ؟ بینوا توجروا
الجواب    غلہ کو اس نظر سے روکنا کہ گرانی کے وقت بیچیں  گے بشرطیکہ اسی جگہ یا اس کے قریب سے خریدا اور اس کانہ بیچنا لوگوں  کو مضر ہو مکروہ وممنوع ہے، اوراگر غلہ دور سے خرید کر لائے اور باتنظار گرانی نہ بیچے یانہ بیچنا اس کا خلق کو مضرنہ ہو تو کچھ مضائقہ نہیں ،
فی العالمگیریۃ الاحتکار مکروہ وذٰلک ان یشتری ذٰلک یضر بالناس کذا فی الحاوی وان اشتری فی ذٰلک المصر وحبسہ ولایضر باھل المصر لاباس بہ کذا فی التتارخانیۃ ناقلاعن التجنیس واذا اشتری من مکان قریب من المصرفحمل طعاما الی المصر وحبسہ وذٰلک یضر باھلہ فہو مکروہ ھذا قول محمد وھو احدی الروایتین عن ابی یوسف وھو المختار ھکذافی الغیاثیۃ وھو الصحیح  ھکذا فی جواہر الاخلاطی، وفی الجامع الجوامع فان جلب من کان بعید واحتکر لم یمنع کذا فی التاتارخانیۃ ۱؎۔
عالمگیریہ میں  ہے احتکار مکروہ ہے اس کی صورت یہ ہے کہ شہر میں  غلہ خرید لے اور اس کو فروخت کرنے سے روک رکھے اوریہ روکنا لوگوں  کے لئے نقصان دہ ہو یہ حاوی میں  ہے اور شہر میں  خرید کر اس کے بیچنے سے روکا مگر اس سے لوگوں  کو ضرر نہیں  پہنچتا تو کوئی حرج نہیں  یونہی تاتارخانیہ میں  تجنیس سے نقل کیا گیا ہے، اور اگر شہرکے قریب سے خریدا اور شہر میں  اٹھالایا اور فروخت سے روک رکھا جبکہ اس سے شہر والوں  کو ضرر پہنچتاہے تو یہ مکروہ ہے یہ امام محمد علیہ الرحمۃ کا قول ہے، اورامام ابویوسف رحمہ اللہ تعالٰی علیہ سے بھی دوروایتوں  میں  سے ایک میں  یہی آیاہے، یہی مختار ہے، اسی طرح غیاثیہ میں  ہے، اوریہی صحیح ہے جیسا کہ جواہر الاخلاطی میں  مذکور ہے اور جامع الجوامع میں  ہے کہ اگر کہیں  دور سے اناج خرید کر کھینچ لایا اور شہر میں  فروخت سے روک رکھا تو ممنوع نہیں ، تتارخانیہ میں  یوں  ہی ہے۔ (ت)
(۱؎ فتاوٰی ہندیہ  کتاب البیوع فصل فی الاحتکار    نورانی کتب خانہ پشاور  ۳ /۲۱۳)
مسئلہ ۹۰: از شہر کہنہ    ۱۱ربیع الآخر شریف ۱۳۲۱ھ

کیا فرماتے ہیں  علمائے دین اس مسئلہ میں  کہ زد نے مبلغ پانسو روپے کے گیہوں  خریدے فصل میں  اور بقدر ضرورت اپنے اہل وعیال کے لئے رکھ لئے، اور باقیماندہ ماہ اساڑھ میں  فروخت کردئے اس شکل میں  زید مواخذہ دار ہوایانہیں ؟
الجواب :بریلی میں  پانسو بلکہ پانچ ہزار کے گہیوں  فصل پر خریدنے اور بیچنے میں  کوئی مواخذہ نہیں  کہ ان دونوں  زمانوں  میں  نرخ کا اختلاف معمولی طوپر ہمیشہ ہوتاہے، ہاں  اگر گرانی پڑنے کی خواہش کرے تو خلق اﷲ کا بدخواہ اور ماخوذ گناہ ہے۔ واللہ تعالی اعلم۔
Flag Counter