فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۷(کتاب البیوع، کتاب الحوالہ، کتاب الکفالہ )
31 - 180
اسی کے مثل فتح میں بھی ہے :
اقول: ویبتنی علی ان الشہود شرط الانعقاد فی النکاح وعلیہ ظاھر عامۃ کلما تہم وصرح فی الدر ۲؎ وغیرہ انہم من شروط الصحۃ فیکون النکاح بلاشہود فاسدا لاباطلا واﷲ تعالٰی اعلم، ثم اقول: بل الحق ان عدم شرط الانعقاد ومبطل لامفسد والکلام فی الفاسد فالسوال ساقط من اصلہ۔
اقول: (میں کہتاہوں ) کہ اس کی بنیاد اس پر ہے کہ گواہ نکاح میں شرف انعقاد ہیں اورکلمات فقہاء کا ظاہر بھی اسی پر دلالت کرتاہے اوردر وغیرہ میں تصریح کی گئی کہ گواہ شرط صحت ہیں لہٰذا بغیر گواہوں کے نکاح فاسدہوگا نہ کہ باطل، واللہ تعالٰی اعلم۔ ثم اقول: (پھر میں کہتاہوں ) بلکہ حق یہ ہے کہ شرط انعقاد کانہ پایا جاتا باطل کرنے والا ہے نہ کہ فاسد کرنے والا حالانکہ کلام فاسد ہونے میں ہے تو سرے سے سوال ہی ساقط ہے۔ (ت)
(۲؎ درمختار کتاب النکاح مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۱۸۶)
ان کے سوا جو فساد ہو اگر قوی ہے صرف مجلس بیع کے اندر اس کاازالہ عقد کو صحیح کرسکے گا، بعدمجلس فساد متقرر ہوجائے گا اوراگر چہ مفسدزائل ہوجائے مرتفع نہ ہوگا جیسے ثمن کاآندھی چلنے یا مینہ برسنے پر مؤجل کرنا اور اگر ضعیف ہے تو بعد مجلس بھی اصلاح پذیر ہے جب تک وہ فساد اپنا عمل نہ کرلے کہ بعد عمل انتہا ہے نہ کہ انتفاء جیسے حاجیوں کے آنے یاہوائیں چلنے پر ثمن کی تاجیل اگر آنے اور چلنے سے پہلے اس شرط کو ساقط کردیا تو بیع صحیح ہوگئی اگرچہ مجلس عقدکے مہینوں بعد ہوا، اور اگرحاجی آئے ہو ائیں چلی گئی تو اب اسقاط شرط کے کوئی معنی نہیں فساد مستقر ہوگیابے فسخ عقد مرتفع نہ ہوگا، ہدایہ کی عبارت گزری،
ماتن کا ان مدتوں کی قید لگانا ہواؤں کے چلنے اور بارش برسنے کی میعاد کو خارج کرنے کے لئے ہے اس لئے کہ اگر ان کے ساتھ میعاد مقرر کی پھر اسے ساقط کردیا تب بھی بیع بالاتفاق صحیح نہ ہوگی۔ (ت)
(۱؎ فتح القدیر کتاب البیوع باب البیع الفاسد مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۶/ ۸۸)
شرح الطحطاوی للامام الاسبیجابی پھر حقائق شرح منظومہ نسفیہ پھر ردالمحتار میں ہے : البیع باجل مجہول لایجوز اجماعا سواء کانت الجہالۃ متقاربۃ کالحصاد والدیاس اومتقاربۃ الریح وقدوم واحد من سفرہ فان ابطل المشتری المتقارب قبل محلہ وقبل فسخ العقد انقلب البیع جائزا عندنا ولو مضت المدۃ قبل ابطال الاجل تاکدا الفساد ولاینقلب جائزا اجماعا، وان ابطل المشتری المتفاوت قبل التفرق ونقد الثمن انقلب جائزا عندنا ولوتفرقا قبل الابطال تاکد الفساد ولا ینقلب جائزا اجماعا ۲؎ (مختصرا)
مدت مجہولہ کے ساتھ بیع بالاجماع ناجائز ہے چاہے جہالت متقاربہ ہو جیسے فصلوں کی کٹائی اور ان کو گاہنا،م یا جہالت متفادتہ ہو جیسے ہواؤں کا چلنا اورکسی کا سفر سے واپس آنا، اگر مشتری نے جہالت متقاربہ والی میعاد کو مستحکم ہونے اورفسخ عقد سے پہلے ختم کردیا توہمارے نزدیک بیع جائز ہوجائیگی اور اگر میعاد کوختم کرنے سے پہلے مدت گزرگئی توفساد پختہ ہوگیا اور بیع بالاجماع جائز نہ ہوگی، اوراگر مشتری نے جہالت متفاوتہ کو جدا ہونے سے قبل ختم کردیا اور ثمن ادا کردئے توہمارے نزدیک بیع جائز ہوگئی اور اگر جہالت کوختم کرنے سے پہلے بائع اورمشتری ایک دوسرے سے جدا ہوگئے تو فساد مستحکم ہوگیا اوراب بالاجماع جائز نہ ہوگی۔ (مختصرا) (ت)
(۲؎ردالمحتار کتاب البیوع باب البیع الفاسد داراحیاء التراث العربی بیروت ۴ /۱۲۰)
بدائع امام ملک العلماء میں ہے :
الاصل عندنا انہ ینظر الی الفساد فان کان قویا بان دخل فی صلب العقد وھوالبدل والمبدل لایحتمل الجواز برفع المفسد کما قال زفراذا باع عبدا بالف درہم ورطل من خمر فحط الخمر عن المشتری وان کان ضعیفا لم یدخل فی صلب العقد بل فی شرط جائز یحتمل برفع المفسد ۱؎۔
ہمارے نزدیک ضابطہ یہ ہے کہ فساد کو دیکھا جائے گا اگر وہ قوی ہے یعنی صلب عقد میں ہے جوکہ بدل و مبدل ہے تو رفع مفسد کے ساتھ جائز ہونے کا احتمال نہیں رکھتا جیساکہ امام زفر نے اس صورت کے بارے میں کہاکہ جب کوئی شخص ہزار درہم اور یک رطل شراب کے بدلے میں غلام فروخت کرے پھر مشتری سے شراب کو ساقط کردے اور اگر فساد وضعیف ہے یعنی صلب عقد میں داخل نہیں بلکہ شرط جائز میں پایا گیا تو اس صورت میں رفع مفسد کے ساتھ جواز عقد کااحتمال ہے۔ (ت)
(۱؎ بدائع الصنائع کتاب البیوع فصل واما شرائط الصحۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۵/۱۷۸)
اسی میں ہے :
منہما (ای من شرائط صحۃ البیع) ان یکون مقدور التسلیم من غیر ضرر یلحق البائع، فاذا باعاجذ عالہ فی سقف اواجرلہ فی حائط اوذرا عافی دیباج اوکرباس لایجوز، فان نزعہ البائع اوقطعہ وسلمہ الی المشتری قبل ان یفسخ المشتری البیع جاز البیع حتی یجبر المشتری علی الاخذ لان المانع من الجواز ضرر البائع بالتسلیم فاذا سلم باختیارہ ورضاہ فقد زال المانع فجاز البیع ولزم، فرق بین ھذا وبین بیع الالیۃ فی الشاۃ الحیۃ والنوی فی التمروالزیت فی الزیتون والدقیق فی الحنطۃ والبزر فی البطیخ ونحوھا انہ لا ینعقد اصلا حتی لو سلم لم یجزاولا صل المحفوظ ان لایمکن تسلیمہ الابضرر یرجع الی قطع اتصال ثابت باصل الخلقۃ فبیعہ باطل وما لایمکن تسلیمہ الا بضرر یرجع الی قطع اتصال عارض فبیعہ فاسد الا ان یقطع باختیارہ ویسلم فیجوز ولقیاس علی ھذا الاصل ان یجوز بیع الصوف علی ظھرالغنم لانہ یمکن تسلیمہ من غیر ضرر یلزمہ بالحز الاانہم استحسنوا عدم الجواز للنص وھو ماروی عن ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہما عن رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ولان الجزء من اصلہ لایخلو عن الاضرار بالحیوان وموضع الجز فیما فوق ذٰلک غیر معلوم فتجری فیہ النازعۃ فلایجوز ۱؎ اھ ملتقطا اقول: فکان ھذا من باب عدم ارتفاع المفسد وقولہ ''جذ عالہ فی مقف اواٰجر لہ فی حائط'' یحتمل المعین فلا فساد الامن جہۃ لزوم الضرر۔
صحت کی بیع کی شرائط میں سے یہ ہے کہ مبیع مقدور التسلیم ہو بغیر ا س کے کہ بائع کو ضرر لاحق ہو، چنانچہ اگر کسی نے چھت میں لگی ہوئی شہتیر یا دیوار میں لگی ہوئی اینٹیں یارشمی یا اونی کپڑے میں سے ایک گز فروکت کیا تو جائز نہیں پھرا گر بائع نے مبیع کو اکھاڑیا ایا کاٹ دیا اور مشتری کے بیع کو فسخ کرنے سے پہلے مبیع مشتری کے حوالے کردیا تو بیع جائز ہوگئی یہاں تک کہ مشتری کو مجبور کیا جائے گا کہ وہ اس کولےکیونکہ مانع جواز تو تسلیم کے سبب سے بائع کو لاحق ہونے ولا ضرور تھا اب جبکہ بائع نے اپنی رضا مندی اور اختیار سے تسلیم مبیع کردیا تو وہ مانع زائل ہوگیا اور بیع جائز اور لازم ہوگئی، فرق کیا گیا ہے درمیان مذکورہ صورت کے اور درمیان اس کے کہ زندہ دنبہ کی چکی، کجھور میں موجود گٹھلی زیتون میں موجودروغن، گندم میں موجود آتا، تربوز میں موجود بیچ اور اس طرح کی دیگر اشیاء فروخت کی جائیں کیونکہ ان میں سرے سے بیع منعقد ہی نہیں ہوتی یہاں تک اگر بائع مبیع کو مشتری کے حوالے بھی کردے تب بھی جائز نہ ہوگی اور اصل محفوظ یہ ہے کہ اگرتسلیم مبیع بائع کو ایسا ضرر پہنچے بغیر ممکن نہ ہو جو ضرر اصل خلقت سے ثابت شدہ اتصال کے قطع کی طرف لوٹتاہے تو بیع باطل ہوگی اور اگر تسلیم مبیع ایسے ضرر کے بغیر ممکن نہ ہوجو اتصال عارضی کے قطع کی طرف لوٹتا ہے تو بیع فاسد ہو گی مگر جب بائع اپنے اختیار سے قطع کرکے تسلیم مبیع کردے توبیع جائز ہوجائیگی۔ او راس اصل پر قیاس کا تقاضا ہے کہ بکریوں کی پشت پر اگی ہوئی اون کی بیع جائز ہو کیونکر اس میں تسلیم ممکن ہے بائع کو ضرور لاحق ہوئے بغیر جو بسبب اون کاٹنے کے لازم آتاہے مگر فقہاء نے اس کے جائز نہ ہونے کو مستحسن قرار دیا اس نص کی وجہ سے جس کو سیدنا حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے روایت فرمایا اور اس وجہ سے کہ اون کو جڑ سے کاٹنا حیوان کو ضرر پہنچانے سے خالی نہیں اور جڑکے اوپر سے کاٹیں تو کاٹنے کی جگہ متعین نہیں لہٰذا س میں جھگڑا پیدا ہوگا اس لئے ناجائز ہے الخ پس میں کہتاہوں کہ یہ مفسد کے دور نہ ہونے کے باب سے ہوگیا اور صاحب بدائع کا قول کہ ''بائع نے چھت میں لگی شہتیر یا دیوار میں لگی ہوئی اینٹیں فروخت کیں '' تو اس میں احتمال ہے کہ وہ شہتیر اور اینٹیں معین ہوں تو اس میں سوائے لزوم ضرر کے کسی اورجہت سے فساد نہ ہوگا۔ (ت)
(۱؎ بدائع الصنائع کتاب البیوع فصل واماشرائط الصحۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۵/ ۱۶۷)
بلکہ درمختارمیں ہے :
(فسد) بیع (جذع) معین (فی سقف) اما غیر المعین فلا ینقلب صحیحا ابن کمال (وزراع من ثوب یضرہ التبعیض) فلو قطع وسلم قبل فسخ المشتری عاد صحیحا ولو لم یضرہ القطع ککر باس جاز لانتفاء المانع ۱؎ ۔
چھت میں لگی ہوئی معین شہتیر کی بیع فاسد ہے رہی غیر معین تو اس کی بیع نہیں ہوسکتی(ابن کمال) اور جس کپڑے کو تبعیض نقصان دے اس میں سے ایک گز کی بیع فاسد ہے پھر اگر مشتری کے بیع کو فسخ کرنے سے قبل بائع نے اس کپڑے کوکاٹ کر مشتری کے سپرد کردیا تو بیع جائز ہوگئی اور اگر کاٹنا اس کو نقصان نہیں پہنچاتا تو مانع کے نہ ہونے کی وجہ سے بیع جائز ہے۔ (ت)
(۱؎ درمختار کتاب البیوع باب البیع الفاسد مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۲۴)
مگر ردالمحتار میں ہے :
وھو ضعیف لانہ فی غیر المعین معلل بلزوم الضرر الجہالۃ فاذا تحمل البائع الضرر وسلمہ زال المفسد وارتفعت الجہالۃ ایضا ومن ثم جزم فی الفتح بانہ یعود صحیحا ۲؎ (عہ)
عہ: جواب ناتمام ملا۔
اور وہ ضعیف ہے کیونکہ غیر معین میں فساد بیع کی علت لزوم ضرر اور جہالت کو قرار دیا گیا تو جب بائع نے ضررکو برداشت کرلیا اور مبیع مشتری کے سپرد کردیا تو مفسد زائل ہوگیا اور جہالت بھی جاتی رہی، یہی وجہ ہے کہ فتح میں اس پر جز م کیا گیا کہ بیع صحت کی طرف پلٹ آئے گی۔ (ت)
(۲؎ ردالمحتار کتاب البیوع باب البیع الفاسد داراحیاء التراث العربی بیروت ۴ /۹۔ ۱۰۸)