| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۷(کتاب البیوع، کتاب الحوالہ، کتاب الکفالہ ) |
وقال فی البدائع لو قال بعت ھذا العبدبقیمتہ فالبیع فاسد لان قیمتہ تختلف باختلاف المقومین فکان الثمن مجہولا وکذا اذا باع بحکم المشتری اوبحکم فلان لانہ لایدری بما اذا یحکم فلان وجہالۃ الثمن تمنع صحۃ البیع فاذا علم ورضی بہ جاز البیع لان الجہالۃ قد زالت فی المجلس ولہ حکم حالۃ العقد فصار کانہ کان معلوما عند العقد وان لم یعلم بہ حتی افترقاتقرر الفساد ۱؎ اھ مختصرا وفیہما ایضا لابی حنیفۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ ان جملۃ الثمن مجہولۃ حالۃ العقد جہالۃ مفضیۃ الی المنازعۃ فتوجب فساد العقد وعندنا اذا ارتفعت فی المجلس ینقلب العقد الی الجواز لان المجلس وان طال فلہ حکم ساعۃ العقد ۲؎ اھ و فیہا ایضا اذاشتری ثوبا برقمہ ولم یعلم المشتری رقمہ حتی فسد البیع ثم علم رقمہ فان علم قبل الافتراق واختار البیع جاز عندنا و ان کان بعد الافتراق لایجوز بالاجماع ۱؎ اھ،
بدائع نے فرمایا کہ اگر بائع نے کہا میں نے غلام اس کی قیمت کے عوض بیچا تو بیع فاسد ہے کیونکہ مختلف قیمت لگانے والوں کے اعتبار سے اس غلام کی قیمت مختلف ہوگی تو اس طرح ثمن مجہول ہوگا اس طرح اگر غلام بیچا اس چیز کے بدلے میں جس کا فیصلہ مشتری یا فلاں شخص کرے گا تو بھی بیع فاسد ہوگی کیونکہ معلوم نہیں فلاں شخص کیا فیصلہ کریگا اور جہالت ثمن صحت بیع سے مانع ہے پھر جب مشتری کوثمن کا علم ہوا اور وہ اس پر رضامندہوگیا تو بیع جائز ہوجائے گی کیونکہ جہالت مجلس کے اندر ہی زائل ہوگئی تو یہ ایسے ہی ہوگیا جیسے گویا کہ عقد کے وقت معلوم تھا اور اگر ثمن کا علم نہ ہوا یہاں تک کہ بائع اور مشتری متفرق ہوگئے تو فسادمستحکم ہوگیا اھ مختصرا۔ اور اسی میں امام ابوحنیفہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کا یہ قول بھی ہے کہ اگرحالت عقد میں تمام ثمن اس طرح مجہول ہو ں کہ جہالت جھگڑے تک پہنچائے تو یہ فساد عقدکا موجب بنے گی اور ہمارے نزدیک جب مجلس کے اندر جہالت رفع ہوجائے تو عقدجواز کی طرف پلٹ آتاہے کیونکہ مجلس اگر چہ طویل ہو اس کاحکم ساعت عقد والا ہی ہوتاہے اھ اور اسی میں یہ بھی ہے کہ جب کسی نے لکھی ہوئی قیمت کے بدلے میں کپڑا خریدا اور مشتری کو اس لکھی ہوئی قیمت کا علم نہیں ہے حتی کہ بیع فاسد ہوئی پھراسے لکھی ہوئی قیمت کا علم ہواگر چہ تویہ علم افتراق سے قبل ہو او ر اس نے بیع کو اختیار کرلیا تو ہمارے نزدیک بیع جائز ہوگئی اور اگر افتراق کے بعد اسے لکھی ہوئی قیمت کا علم ہوا تو بالانفاق بیع جائز نہیں ہوگی الخ،
(۱؎ بدائع الصنائع کتاب البیوع فصل واما شرائط الصحۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۵/ ۱۵۸) (۲؎بدائع الصنائع کتاب البیوع فصل واما شرائط الصحۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۵/ ۱۵۹) (۱؎ بدائع الصنائع کتاب البیوع فصل واما شرائط الصحۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۵/ ۱۷۸)
وثانیا تتبعت جمیع باب المرابحۃ من الھندیۃ فلم ارفیہا ماذکر من التعلیل لافی النسخۃ المصریۃ ولا فی الہندیۃ وانما قال فیہما اول باب المرابحۃ ان باعہ بربح دہ یازدہ لایجوز الا اذا علم الثمن فی المجلس فیجوز ولہ (ای للمشتری) الخیار فاذا اختار العقد یلزمہ احد عشر استحسانہ وکذا الوباعہ تولیۃ ولایعلم المشتری بکم یقوم علیہ ولایجوز الا اذا علم الثمن فی المجلس فیجوز ولہ الخیار ھکذا فی محیط السرخسی ۲؎ اھ وقال الاخر الباب من ولی رجلا شیئا بما قام علیہ ولم یعلم المشتری بکم قام علیہ فسد البیع فان اعلمہ البائع فی المجلس صح البیع وللمشتری الخیار ان شاء اخذہ وان شاء ترکہ کذا فی الکافی ۱؎ اھ وقال قبیلہ عن الحاوی اذا باع الرجل المتاع بربح دہ یازدہ او ماشاکل ذٰلک فاذا علم المشتری بالثمن ان شاء اخذہ وان شاء ترکہ، ان علم بالثمن قبل العقد فلیس لہ ان یرد ۲؎ اھ اقول: والمراد العلم فی المجلس بدلیل ماتقدم و ماتاخر۔
وثانیا میں نے ہندیہ کا تمام باب مرابحہ تلاش کیاتعلیل مذکورہ میں نے اس میں نہیں دیکھی نہ مصری نسخے میں اور نہ ہندی نسخے میں ، ہاں بیشک اس کے اندرباب مرابحہ کے شروع میں یہ فرمایا اگر کسی نے دویازدہ یعنی دس کی چیز بطورنفع گیارہ کے بدلے میں فروخت کی تو جائز نہیں مگر جب مجلس میں ہی مشتری کو ثمن کا علم ہوگیا تو بیع جائز ہوگئی اور مشتری کو اختیار ہے اگر اس نے عقد کو اختیار کیا توبطور استحسان اس پر گیارہ لازم ہوں گے یونہی اگر وہ چیز بطور تولیۃ بیچی اور مشتری نہیں جانتا کہ اسے کتنے میں پڑے گی توبیع جائز نہیں مگر جب مجلس کے اندراس کو ثمن معلوم ہوگئے تو جائز ہے اورمشتری کو اختیارہوگا اس طرح محیط سرخسی میں ہے اھ اور باب کے آخر میں کہا کہ جس شخص نےکسی مرد پر بطور تولیۃ کوئی شیئ اتنے میں بیچی جتنے میں بائع کو کتنے میں پڑی تو یہ فاسد ہوئی، پھر اگر بائع مجلس کے اندر مشتری کو بتادے تو بیع صحیح ہوگئی اور مشتری کو اختیارہے اگر چاہے تو لے لے اور چاہے تو چھوڑ دے اسی طرح کافی میں ہے اھ اور اس سے تھوڑا پہلے حاوی کے حوالہ سے کہا کہ اگر کسی مرد نے کوئی سامان جودس کا خریدا ہوا تھا گیار ہ کے بدلے بیچا اس سے ملتی جلتی کوئی صورت اختیار کی پھر جب مشتری کوثمن کا علم ہوا تو اس کا اختیار ہے چاہے تو لے لے اور چاہے تو چھوڑ دے اور اگرمشتری کو عقد سے پہلے ثمن معلوم ہوں تو اسے رد کا اختیار نہ ہوگا الخ میں کہتاہوں اس سے مراد مجلس کے اندر علم ہونا ہے اس دلیل کے ساتھ جو پہلے گزری اور جو اس کے بعد ہے۔
(۲؎ فتاوٰی ہندیہ الباب الرابع عشر نورانی کتب خانہ پشاور ۳/ ۱۶۰) (۱؎ فتاوٰی ہندیہ کتاب البیوع الباب الرابع عشر نورانی کتب خانہ پشاور ۳/ ۱۶۵) (۲؎فتاوٰی ہندیہ کتاب البیوع الباب الرابع عشر نورانی کتب خانہ پشاور ۳/ ۱۶۵)
وثالثا التعلیل المزکور کالمتناقض فان اٰخر ہ یفید انہ بالعقد الاول واولہ انہ بعقد جدید۔ وثالثا تعلیل مذکور متناقض کی مانند ہے اس لئے کہ اس کا آخر اس بات کا فائدہ دیتاہے کہ وہ عقد اول کے ساتھ ہے اور اس کا اول اس بات کا فائدہ دیتاہے کہ وہ عقد جدید کے ساتھ ہے۔ (ت)
صلب عقد بدلین ہیں فتح القدیر میں اسی مسئلہ آجال مجہول میں ہے:
صلب العقد بدلان ۳؎
(صلب عقد دونوں بدل ہیں (یعنی ثمن ومبیع) ۔ ت)
(۳؎ فتح القدیر باب البیع الفاسد مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۶ /۸۸)
یہ فساد کبھی مرتفع نہیں ہوسکتا جب تک اس عقد ہی کو فسخ نہ کریں یہاں نفس مجلس عقدمیں اصلاح بھی کارآمد نہیں جیسے ایک روپیہ دوروپے کو بیچے پھرقبل افتراق زائد روپیہ ساقط کردے، عقدصحت کی طرف عود نہ کرے گا۔
ہدایہ میں ہے :
لوباع الی ھذہ الاضال تراضیا باسقاط الاجل قبل ان یاخذ الناس فی الحصاد و الدیاس وقبل قدوم الحاج جاز البیع ، وقال زفرلا یجوز لانہ وقع فاسدا فلاینقلب جائزا، ولنا ان الفساد للمنازعۃ وقد ارتفع قبل تقررہ وھذہ الجہالۃ فی شرط زائد لافی صلب العقد فیمکن اسقاطہ بخلاف ما اذا باع الدرہم بالدرہمین ثم اسقطا الدرھم الزائد لان الفساد فی صلب العقد ۱؎۔
اگر کسی نے ان اوقات مذکورہ کے وعدہ پر بیع کی پھر بائع اورمشتری اس مدت کو ساقط کرنے پر رضامند ہوگئے قبل اس کے لوگ کھیتی کاٹنے یا اس کو گاہنے کا آغاز کریں اور قبل اس کے کہ حاجی لوگ آئیں تو بیع جائز ہوگئی، امام زفر نے کہا جائز نہیں ہوگی کیونکہ یہ بیع فاسد واقع ہوئی لہٰذا جوازکی طرف نہیں پلٹے گی، اور ہماری دلیل یہ ہے کہ فساد تو جھگڑے کے ڈر سے تھا درانجالیکہ وہ فسادمستحکم ہونے سے پہلے ہی دور ہوگیا اور یہ جہالت صلب عقد میں نہیں بلکہ ایک زائد شرط میں واقع ہوئی جس کو ساقط کرنا ممکن ہے بخلاف اس کے کہ جب ایک درہم دودرہموں کے عوض بیچا پھر بائع اور مشتری دونوں نے زائد درہم کو ساقط کردیا تب بھی یہ بیع جائز نہ ہوگی کیونکہ یہاں فساد صلب عقد میں ہے۔ (ت)
(۱؎ الہدایہ کتاب البیوع باب البیع الفاسد مطبع یوسفی لکھنؤ ۳ /۶۴)
اور عدم شرط انعقاد کا فساد اس سے ملحق کیاگیا ،
فان انعدامہ یعدم العقد لاانہ منعقد بصفۃ الفساد فیکمن اصلاحہ فی المجلس۔
اس لئے کہ شرط کامعدوم ہونا عقد کو باطل کردیتاہے ایسا نہیں کہ وہ عقد صفت فساد کے ساتھ منعقد ہوا کہ مجلس میں اس کی اصلاح ممکن ہو۔ (ت)
عنایہ امام کمال بابرتی محل مذکورمیں ہے :
اعترض بانہ اذا نکح بغیر شہود ثم اشہد بعد النکاح فانہ لاینقلب جائزا ولیس الفساد فی صلب العقد واجیب بان الفساد فیہ لعدم الشرط فہو قوی کما لوکان فی صلب العقد الاتری ان من صلی بغیر طہارۃ ثم تطہر لم تنقلب صلاتہ جائزۃ اھ ۱؎ ملخصا ۔
ۤاس پر اعتراض کیاگیا کہ اگرکوئی شخص بغیر گواہوں کےنکاح کرے پھر نکاح کےبعد اس پر گواہ قائم کردے تو وہ نکاح جواز کی طرف نہیں پلٹے گا حالانکہ اس صورت میں فساد صلب عقدمیں نہیں ، اس کا جواب یہ دیا گیا کہ یہاں فلاں عدم شرط کی وجہ سے آیا ہے جو قوی ہے جیسا کہ صلب عقد میں فساد ہو تو قوی ہوتاہے کیا تو نہیں دیکھتا ہے کہ اگرکوئی شخص بلا طہارت نماز پڑھ لے پھر بعد میں طہارت کرلے تو اس کی نماز جواز کی طرف نہیں پلٹے گی اھ (ت)
(۱؎ العنایہ علی ہامش فتح القدیر کتاب البیوع باب البیع الفاسد مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۶ /۸۸)