| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۷(کتاب البیوع، کتاب الحوالہ، کتاب الکفالہ ) |
مسئلہ ۸۷: از کسیراں کلاں ڈاکخانہ خاص ضلع بلند شہر مرسلہ احمد علی ولد حکم محمد امیر ۱۵ صفر ۱۳۳۸ھ کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ عوام میں قدیم سے یہ دستور رائج ہے کہ جب فصل انبہ یا خربوزہ وغیرہ کی فروخت کرتے ہیں تو قیمت کے سوا کچھ جنس لیتے ہیں جو ڈالی کے نام سے مشہور ہے، انبہ کی جنس فی روپیہ ایک صد آم، اورخربوزہ پر فی روپیہ ۵ سیر لینے کا معمول ہے، اور بعض اوقات جنس بقدر تول طے پاتی ہے اور اکثر بلاتعین وقت کے فصل کی فروختگی کا معمول وقت پھول آنے یاپھل کے نمودار ہوجانے پرہے۔ تو بایں صورت فصل انبہ وغیرہ کی بیع درست ہے یانہیں اور جنس دستوری کا لینا اور اس کاکھانا جائز ہے یانہیں ؟ اگر جائزنہیں تو شرعا وہ کیا فصل کی بیع کا طریقہ ہے کہ جس سے بیع بھی درست رہے اور جنس کالینا بھی روا قرار پائے۔
الجواب: بیج یا پھول پرفصل کی بیع ناجائزہے، اور جب پھل آجائیں اگر چہ جانور کے کھانے کے قابل ہوئے ہوں تو بیع جائز ہے مگریوں کہ خریدار اسی وقت توڑلے، اور اگر یہ ٹھہراکر پھل تیار ہونے تک لگے رہیں گے تویہ ناجائز وحرام ہے اور اس میں اسے فی روپیہ آم یا پانچ سیر خربوزہ یاکم وبیش بائع کےلئے قرارد ینا دوسراحرام ہے، ہاں یہ ہوسکتاہے کہ مثلا آم میں جتنے کوبہاربیچی منظور ہو موجودہ پھل جس حالت کے ہیں اتنے کوخرید کئے جائیں پھر مشتری بائع سے کہے کہ میں نے یہ پیڑ بعقد معاملہ تجھ سے لئے کہ میں ان کی غورپر داخت کروں گا اور جو پیل پیداہوں گے ان میں سے ہر ہزارمیں ایک تیرا اور نوسو نناوے میرے یا سو تیرے اور نو سو میرے جوقرارپاجائے، خربوزے، تربوز، ککڑی، بیگن کی جڑیں خریدے تاکہ جو پید ا ہوے مشتری کی ملک ہویہ خریداری ایک حصہ ثمن پر ہو جتنے پر بہار بیچنا اورخریدنا چاہتے ہوں باقی حصہ ثمن پر اس زمین کو ایک مدت معلوم تک اجارہ پر لے جس میں یہ سمجھے کہ فصل فارغ ہوجائے گی یہی طریقہ کھیتی میں بھی ہے مثلا سوروپے پر معاملہ کرنا چاہتے ہیں توخربوزے وغیرہ کی جڑیں یاموجود کھیتی پچاس روپے کوخریدے اور چھ مہینے میں فارغ ہوتی سمجھیں تو باقی پچاس روپے کے بدلے میں چھ مہینے کے واسطے اجارہ پر لے لے،
درمختارمیں ہے :
من باع ثمرۃ بارزۃ اماقبل الظہور فلایصح اتفاقا ظھر صلاحہا اولایصح فی ظاہر المذہب وصححہ السرخسی، ویقطعہا المشتری فی الحال جبرا علیہ وان شرط ترکھا علی الاشجار فسد البیع، والحیلہ ان یاخذ الشجرۃ معاملۃ علی ان لہ جزء من الف جزئ وان یشتری اصول الرطبۃ کالباذنجان و اشجار البطیخ والخیار لیکون الحادث للمشتری وفی الزرع والحشیش یشتری الموجود ببعض الثمن ویستاجر الارض مدۃ معلومۃ یعلم فیہا الادراک بباقی الثمن ۱؎ مختصرا۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
جس شخص نے نمودار پھل بیچا چاہے اس کی صلاحیت ظاہر ہوئی ہو یانہ ہوئی ہو تو اصح قول کے مطابق صحیح ہے اور اگر نمودار ہونے سے قبل پھل بیچا تو بالاتفاق صحیح نہیں ، اورا گر کچھ پھل نمودار ہواور کچھ ابھی نمودار نہیں ہو تو ظاہر مذہب میں بیع صحیح نہیں سرخسی نے اس کو صحیح قرار دیا اور بیع کے بعد مشتری پھلوں کو فی الحال قطع کرے اس سلسلہ میں اس پر جبر کیا جائے گا اور اگر اس نے پھلوں کو درختوں پر چھوڑنے کی شرط لگائی تو بیع فاسد ہوگی اور اس میں حیلہ یہ ہے کہ مشتری بائع سے درخت بطور معاملہ لے کرہزار میں سے ایک جزء بائع کی ہوگی اور یہ کہ بینگن ، تربوز اور ککڑی کی جڑیں خریدلے تاکہ نئے پیداہونے والے پھل مشتری کی ملک ہوں اور کھیتی اور گھاس میں موجود بعض ثمن کے بدلے خریدلے اور باقی ثمن کے بدلے زمین کو مدت معینہ کے لئے کرایہ پر لے لے جس مدت میں کھیتی کا پکنا معلوم ہو۔ (ت)
(۱؎ درمختار کتاب البیوع فصل فی مایدخل فی البیع تبعا مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۹)
مسئلہ ۸۸: ا زکانپور مسجد جامع مرسلہ محمدادریس صاحب پرتابگڈھی ۲۹ ذی القعدہ ۱۳۳۶ھ پس از سلام مسنون حضرت سیدولد آدم وسید الانس والجان (روحی فداہ) معروض خدمت ولا ہے کہ خادم کو چند مسائل کے متعلق جناب سے استفسار مقصودہے زید نے اپنے مکان کہ عمرو سے بیع کیا اور قیمت کے متعلق یہ قرار دیا کہ جو بکر قرار دے وہی قیمت ہے یعنی بیع تو اس وقت کی اور قیمت کی تقدیر وتعیین بکر کی رائے پر موقوف کردی یہ بیع صحیح ہوئی یا فاسد ، پھر جبکہ بکرنے تخمینہ تین ماہ کے بعد قیمت معین کی تو بصورت فسادوہ فساد اُٹھ گیا یا نہیں ؟ اور کون سا فساد بعد رفع علت فساد اٹھ جاتاہے اور فساد کے صلب عقد میں ہونے کا کیامعنی ہے، اور تقرر بیع کی کیا صورتیں ہیں ، امید کہ حضرت والا ان امور سے ضرور بالتفصیل مع حوالہ کتاب آگاہ فرمائیں گے۔ بینوا توجروا
الجواب: یہ بیع فاسد ہے ،عالمگیریہ میں ہے: اما اشرائط الصحۃ فمنہا ان یکون البیع معلوما والثمن معلوما علما یمنع من المنازعۃ فبیع المجہول جہالۃ تقضی الیہا غیر صحیح کبیع شاۃ من ھذا القطیع وبیع الشیئ بیقمتہ وبحکم فلان ۱؎۔ بیع کے صحیح ہونے کی شرط میں سے یہ ہے کہ مبیع معلوم ہواور ثمن معلوم ہو اس طور پر کہ جھگڑا نہ پیدا ہو چنانچہ ایسی مجہول چیز کی بیع صحیح نہیں جس سے جھگڑا پیدا نہ ہو، جیسے کہا جائے کہ اس گلہ میں سے ایک بکری کی بیع یا اس شے کی بیع اس کی قمیت کے ساتھ یافلاں کے فیصلے کے مطابق بیع۔ (ت)
(۱؎ فتاوٰی ہندیہ کتاب البیع الباب الاول نورانی کتب خانہ پشاور ۳/۳)
بکرنے جبکہ تعیین ثمن انقضائے مجلس بیع کے بعد کی وہ فساد بالاجماع متقرر ہوگیا اب نہیں اٹھ سکتا جب تک یہ بیع فسخ نہ کی جائے۔ ردالمحتارمیں ہے :
فی النہایۃ والفتح وغیرہما قال شمس الائمۃ الحلوانی وان علم بالرقم فی المجلس لاینقلب ، ذٰلک العقد جائز اولکن ان کان البائع دائما علی الرضافرضی بہ المشتری ینعقد بینہا عقد بالتراضی اھ وعبر فی الفتح بالتعاطی والمراد واحد ۱؎ اھ
نہایہ اورفتح وغیرہ میں ہے شمس الائمہ حلوانی نے فرمایا کہ اگرچہ مشتری کو مجلس کے اندر لکھی ہوئی قیمت معلوم ہوگی _______ تو بھی عقد جائز نہیں ہوگا لیکن اگر بائع رضامندی پر قائم ہے اور مشتری بھی اس پر راضی ہوگیا تو دونوں کی باہمی رضامندی سے عقد ان کے درمیان منعقد ہوجائے گا الخ فتح میں اس کو تعاطی سے تعبیر کیا گیا اور مراد دونوں سے ایک ہی ہے اھ (ت)
(۱؎ ردالمحتار کتاب البیوع داراحیاء التراث العربی بیروت ۴ /۱۲)
اور لفظ فتح یہ ہیں :
وجواز اذا علم فی المجلس بعقد اٰخر ھوالتعاطی کما قالہ الحلوانی ۲؎ اھ اقول: وھذا التعیین ان التعاطی بعد عقد فاسد اذا وقع فی المجلس لایحتاج الی سبقۃ متارکۃ ذٰلک الفاسد بخلافہ بعد المجلس الاتری الی تقییدہ وبقولہ اذا علم فی المجلس والا فحصول البیع بعقد جدید لا یتوقف علی کونہ فی المجلس الاول فقد حصل التوفیق وان استبعدہ الشامی واستظھر انہما روایتان اعنی اشتراط المتارکۃ فی التعاطی بعد الفاسد و عدمہ فافہم وباﷲ التوفیق۔
مجلس میں معلوم ہوجانے پر اس کا جواز دوسرے عقدکے ساتھ ہے جوکہ تعاطی ہے جیسا کہ حلوانی نے فرمایا اھ میں کہتاہوں یہ امر کی تعیین کے لئے ہے کہ بیشک تعاطی جب عقد فاسد کے بعد مجلس میں واقع ہو تو وہ پہلے اس عقد فاسد کے متارکہ کی محتاج نہیں ہوتی بخلاف مجلس کے بعد تعاطی کے، کیا تونہیں دیکھتا کہ فتح نے اپنے اس قول کے ذریعے قید لگائی کہ ''جب اس کو مجلس میں معلوم ہو'' ورنہ عقد جدید کے ساتھ بیع کا حصول اس بات پر موقف نہیں کہ وہ مجلس اول میں ہو تحقیق (مختلف عبارتوں میں ) توفیق وتطبیق حاصل ہوگئی اگر چہ شامی نے اس کو بعید جانا اور احتیاط برتتے ہوئے کہا کہ بیشک یہ دو روایتیں ہیں یعنی عقد فاسد کے بعد تعاطی میں متارکہ کا شرط ہونا اور شرط نہ ہونا پس سمجھ اور توفیق اللہ تعالٰی ہی کی طرف سے ہے۔ (ت)
(۲؎ فتح القدیر کتاب البیوع مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۵/ ۴۷۴)
پھر شامی نے فرمایا : وجزم بخلاف فی الھندیۃ اٰخر باب المرابحۃ وذکر ان العلم فی المجلس یجعل کابتداء العقد ویصیر کتاخیر القبول الی اٰخر المجلس وبہ جزم فی الفتح ھناک ایضا اھ۱؎۔ ہندیہ میں باب المرابحہ کے آخر میں اس کے خلاف پر جزم کیا اور ذکر کیا کہ مجلس میں معلوم ہونے کو ابتداء عقد کی مانند بنایا جائے گا اور یہ آخر مجلس تک قبول کومؤخر کرنے کی طرح ہوجائے گا اوریہاں پر فتح نے بھی اسی پر جز م کیا اھ
(۱؎ ردالمحتار کتاب البیوع داراحیاء التراث العربی بیروت ۴/ ۱۲)
اقول: اولا لقد ابعد الحجۃ فقد قال فی الھدایۃ من باب خیار الشرط انہ اسقط المفسد قبل تقررہ فیعود جائزا کما اذا باع بالرقم واعلمہ فی المجلس ۲؎ اھ واقرہ الفتح و الشراح وقال فی الفتح صدرالبیوع ممالا یجوز البیع بہ البیع بقیمتہ اوبما حل بہ اوبما ترید اوبما اشتراہ اوبمثل مااشتری فلان لایجوز فان علم المشتری بالقدر فی المجلس فرضیہ عادجائزا اھ ۳؎ ۔
اقول: (میں کہتاہوں ) اولا علامہ شامی دلیل سے دورہوگئے تحقیق ہدایہ کے باب خیار الشرط میں فرمایا کہ بیشک بائع نے مفسد کو فساد کے مستحکم ہونے سے قبل ساقط کردیا تو بیع جائز ہوگئی جیسا کہ کسی نے لکھی ہوئی قیمت پر بیع کی اور مجلس کے اندر مشتری کو وہ قیمت بتادی الخ فتح اور شارحین نے اسے برقرار رکھا، فتح میں کتاب البیوع کے آغاز میں فرمایا جن چیزوں کے ساتھ بیع ناجائز ہے ان میں سے یہ ہے کہ کہ کسی چیز کی بیع اس کی قیمت کے بدلے میں یا اس چیز کے بدلے جس سے بیع حلال ہو یا بائع مشتری کو یہ کہے کہ جنتی قیمت تو چاہے اس کے بدلے میں بیچتاہوں یا کہے جتنے پر اس نے خریدا ہے اس کے بدلے میں یا کہے جتنے پر فلاں نے خریدا اس کی مثل قیمت کے بدلے میں ، تو ان تمام صورتوں میں بیع ناجائز ہے پھر اگر مشتری کو مجلس کے اندر قیمت کی مقدار معلوم ہوگئی اور وہ اس پر رضامند ہوا تو بیع جائز ہوجائے گی الخ ۔
(۲؎ الہدایہ کتاب البیوع باب خیار الشرط مطبع یوسفی لکھنؤ ۳ /۳۴) (۳؎ فتح القدیر کتاب البیوع مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۵ /۴۶۷)