| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۷(کتاب البیوع، کتاب الحوالہ، کتاب الکفالہ ) |
مسئلہ ۸۲ تا ۸۴: از سورت محلہ سید واڑہ سید عبدالقادر سید حسن واعظ بروز شنبہ بتاریخ ۶صفر المظفر ۱۳۲۴ھ کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایک قصبہ مسلمانوں میں دوفریق ہوگئے تھے اس پر سے شہر سورت میں سے دوتین شخص کو مذکورہ قصبہ والے لے گئے اور انھوں نے دونوں کو ایک جگہ جمع کیا اور جس کا قصور رپایا ان سے کہا کہ تم مقابل فریق سے اپنا قصور معاف کراؤ، تو انھوں نے مقابل فریق سے قصور کی معافی چاہی، بعد میں جو شخص سورت گئے تھے انھوں نے اپنے پیسے سے شیرینی منگواہی اور مجلس میں تقسیم کردی اس میں سے ایک شخص نے وہ شیرینی نہ لی اور کہا کہ تم بکری فروخت کرنے کے دلال ہو تو تمھارے مکان کا پانی ، کھانا اور شیرینی چار مذہب میں حرام ہے، تو کہنے والا گنہگار ہے یانہیں ، (۱) سورت میں لوگ اپنی بکری وکیلوں پر روانہ کرتے ہیں اس شرط پر کہ تم اس کو بیچو اور اس کی قیمت ہم کو پوری اداکردو، نفع ونقصان وکیل کے ذمہ اور دلالی کا روپیہ فی صدی دوروپیہ لے لو، یہ درست ہے یانہیں ؟ (۲) ایسی کمائی ہو مسلمان کی تو اس کے گھر کاکھانا درست ہے یانہیں ؟ (۳)بے پڑھا فتوٰی دےدے کہ چار مذہب میں حرام تو اس کا کیاحکم ہے؟
الجواب (۱) اس عبارت سے یہ مفہوم ہتاہے کہ وہ لوگ ایک قیمت معین کردیتے ہیں کہ اتنے دام ہم کو بھیج دو خواہ تم کم کو بیچو یا زیادہ کو، او ران داموں میں سے دو روپیہ فیصدی اپنی دلالی کے لے لو، اگر یہی صورت ہے تو بلاشبہ فریقین کو ناجائز ہے مؤکلوں کو بھی اور وکلاء کو بھی ایسی صورت میں اس شخص کا اعتراض بیجا نہ تھا اگر چہ لفظ زائد کہے، واللہ تعالٰی اعلم۔ (۲) اس میں تفصیل بہت ہے اور اجمال یہ ہے جو سیدنا امام محمدرضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا:
بہ ناخذ مالم نعرف شیئا حراما بعینہ ۱؎ ھندیۃ عن الذخیرہ۔
ہم اسی کو لیتے ہیں جب تک کسی معین چیز کا حرام ہونا ہمیں معلوم نہ ہوجائے، ہندیہ بحوالہ ذخیرہ۔ (ت)
(۱؎ فتاوٰی ہندیہ کتاب الکراہیۃ الباب الثانی نورانی کتب خانہ پشاور ۵ /۳۴۲)
یعنی جب تک معلوم نہ ہو کہ یہ شے جو ہمارے پاس آئی خاص حرام ہے اس وقت تک اس کے کھانے پینے میں حرج نہیں ، واللہ تعالی اعلم۔ (۳) اس کا جواب اوپر گزرا کہ اگر صورت وہی تھی تو بلاشبہ حرام ہے، بے پڑھے کہ جو حکم شرعی سناہے بہ تحقیق معلوم ہے اس کے بیان میں حرج نہیں اگر چہ جرأت نہ کرنا ہی اس کے لئے بہترہے۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۷۵: مسئولہ الہ داد خان صاحب محرر مدرسہ اہلسنت بروز جمعہ بتاریخ ۱۲ذی القعدہ ۱۳۳۳ھ کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید نے اپنا مکان ایک ہزار روپیہ یا کچھ کم وبیش کا دو سویا تین سو روپے میں عمرو کے ہاتھ فروکت کیا اور اسی وقت یا بعد کو عمرو سے ایک اقرار نامہ علیحدہ لکھوالیا کہ دوبرس یا چار برس یا پانچ برس میں یہ مکان میرے ہاتھ فروخت کردینا جس قیمت میں مجھ سے خریداہے، ا ور زید اس مکان میں خود رہا اورکچھ ماہواری باہم تصفیہ ہوکرزید نے مقرر کردیا، یہ جائز ہے یانہیں ؟
الجواب اگرعقد بیع میں یہ شرط نہ تھی عقد صحیح بروجہ شرعی خالی عن الشروط الفاسدہ تھا نہ پہلے سے باہم یہ قرارداد ہوکر اسی بناء پر وہ بیع ہوسکتی تو بیع جائز ہے اور بائع کا بعد بیع اس میں مشتری سے کرایہ ٹھہراکرکرایہ پر رہنا اورمشتری کو ماہوار مقررشدہ دینا جائز ہیے اور اگر عقد بیع میں یہ شرط کی یا بیع میں تو اس کا ذکر نہ تھا مگر پہلے سے باہم قرداد ہوئی تھی کہ یوں بیع کرینگے اور یہ شرط ہوگی پھر اسی قرار داد پر یہ بیع کی تو ان دونوں صورتوں میں حرام ہے،
ردالمحتارمیں ہے : اشاربقولہ بشرط الی انہ لابد من کونہ مقارنا للعقد لان الشرط الفاسد لوالتحق بعد العقد قیل یلتحق عند ابی حنیفۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ وقیل لاوھو الاصح کمافی جامع الفصولین (تنبیہ) فی جامع الفصولین ایضا لو شرطا فاسدا قبل العقد ثم عقدا لم یبطل العقد اھ قلت ینبغی الفساد لو اتفقا علی بناء العقدعلیہ کما صرحوا بہ فی بیع الھزل، وقد سئل الخیر الرملی عن رجلین تواضعا علی بیع الوفاء قبل عقدہ وعقد البیع خالیا عن الشرط فاجاب بانہ صرح فی الخلاصۃ والفیض والتتارخانیۃ وغیرہا بانہ یکون علی ماتواضعا ۱ھ ۱؎ (ملتقطا) مافی الشامی وکتبت علی قولہ یکون علی ماتواضعا اذا تصادقا علی ان العقد مبنی علی تلک الموضعۃ کما قید بہ فی الخیریۃ والخلاصۃ اقول: وھذا فی القضاء، اما فی الدیانۃ فاذا علم اﷲ تعالٰی منہما النباء وعلیہا یکون وان تکاذبا من بعد ۲؎ واﷲ تعالٰی اعلم۔
ماتن نے اپنے قول ''بشرط'' سے اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ اس کا عقد سے مقرن ہونا ضروری ہے اس لئے کہ شرط فاسد اگر عقد کے بعد لگائی جائے توایک قول یہ ہے کہ امام ابوحنیفہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کے نزدیک عقد سے ملحق ہوتی ہے اور ایک قول یہ ہے کہ ملحق نہیں ہوتی ، اویہی زیاد صحیح ہے جیسا کہ جامع الفصولین میں ہے (تنبیہ) جامع الفصولین میں یہ بھی ہے کہ اگر بائع اور مشتری نے عقد سے قبل کوئی شرط فاسد لگائی پھر عقد کیا تو وہ عقد باطل نہ ہوگا الخ میں کہتاہوں کہ فاسد ہونا چاہئے اگر وہ دونوں اس پر متفق ہوں کہ عقد اسی شرط پر مبنی ہے جیسا کہ فقہاء نے بیع ہزل میں اس کی تصریح کی خیرالدین رملی سے ان دو مردوں کے بارے میں سوال کیا گیا جنھوں نے عقدسے پہلے بیع وفاء پر قرارداد کی پھر اس شرط سے خالی عقد کیا تو انھوں نے جواب دیا کہ خلاصہ، فیض اور تتارخانیہ وغیرہ میں تصریح کی گئی ہے کہ یہ بیع ان کی قرار داد پر مبنی ہوگی (شامی کے بیان کے آخر تک) میں نے شامی کے قول ''علی ماتواضعا'' پرلکھا کہ یہ حکم تب ہوگا جب وہ دونوں اس بات میں سچے ہوں کہ یہ عقد اس قرار داد پر مبنی ہے جیساکہ خیریہ اور خلاصہ میں یہ قید لگائی گئی، میں کہتاہوں کہ یہ حکم قضا میں ہے رہا دیانت میں تو جب اللہ تعالٰی کے علم میں ہے کہ انھوں نے عقد کی بناء اس قرادا دپر کی ہے تو یہ عقد اسی پر مبنی ہوگا اگرچہ انھوں نے بعد میں جھوٹ کہا۔ واللہ تعالٰی اعلم۔ (ت)
(۱؎ ردالمحتار کتاب البیوع باب البیع الفاسد داراحیاء التراث العربی بیروت ۴/ ۲۱ ۔ ۱۲۰) (۲؎ جدالممتار علی ردالمحتار)
مسئلہ ۸۶: مسئولہ ننھے میاں صاحب شہر بریلی محلہ سوداگران از کرتوالی بروز شنبہ بتاریخ ۲۳ذی الحجہ ۱۳۳۳ھ کھڑا کھیت خرید کر ناجائزہے یانہیں ؟
الجواب:کھیت اگر تیار ہوگیا اور ابھی کاٹ لیا جائے گا تو جائز ہے اور اگر ابھی نہ پکا اور پکنے تک کھیتی قائم رکھی جائے گی، تو خرید وفروخت ناجائز ہے بشرط مافیہ نفع عاقد بلا قضیۃ العقد (اس چیز کی شرط لگانے کی وجہ سے جس میں کسی عاقد کا نفع ہے اور عقد اس کا تقاضا نہیں کرتا۔ ت) اوراس کے جواز کا حیلہ یہ ہے کہ مثلا کھیتی دو مہینہ میں پکتی سمجھے تو کھیتی فی الحال خرید لے اوراس کے باقی رکھنے کی شرط نہ کرے اور اسی وقت معا وہ زمین جس مین کھیتی ہے اپنے کسی کام کے لئے دومہینہ تک کو ایک معینہ کرایہ پر لے لے خریداری میں اس اجرت کاحساب دل میں سمجھ لے مثلا بیس روپے قیمت کا کھیت ہے اور روپیہ مہینہ زمین کا کرایہ ہوگا اور دومہینہ کو کرایہ لینا ہوا تو اٹھارہ روپے کوکھیت خریدے اور دوروپے کو زمین کرایہ پرلے،
درمختار میں ہے :
والحیلۃ فی الزرع والحشیش یشتری الموجود ببعض الثمن ویستاجرالارض مدۃ معلومۃ یعلم فیہا الادراک بباقی الثمن ۱؎۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
کھیتی اورگھاس کے باقی رکھنے کاحیلہ یہ ہے کہ جو موجود ہو اس کو بعض ثمن کے مقابل میں خریدلے اورباقی ثمن کے عوض زمین کو ایک معینہ مدت کے لئے کرایہ پر لے لے جس میں کھیتی کا پکنا معلوم ہو، واللہ تعالٰی اعلم۔ (ت)
(۱؎ درمختار کتاب البیوع فصل فی مایدخل فی البیع تبعا مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۹)