Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۷(کتاب البیوع، کتاب الحوالہ، کتاب الکفالہ )
27 - 180
ردالمحتارمیں  ہے :
شمل المہر والنفقۃ المفروضۃ و الماضیۃ والکسوۃ کذٰلک ۲؎۔
یہ حکم شامل ہے مہر، نفقہ مقررہ، نفقہ گزشتہ اور اسی طرح لباس کو۔(ت)
 (۲؎ ردالمحتار  کتاب الطلاق باب الخلع داراحیاء التراث العربی بیروت ۲/۵۶۵)
تو اس بیع کے انعقاد میں  شک نہیں  پھر اگر حقوق ثابتہ معلومہ ہیں  تو بیع صحیح ہے اور اگر یہ مراد ہو کہ آئندہ نفقہ سے بھی اس کے عوض برائت ہو تو بیع فاسد ہے لانہ شرط فاسد فیہ نفع احد العاقدین فیفسد البیع (کیونکہ یہ شرط فاسد ہے جس میں  متعاقدین بائع ومشتری میں  سے ایک کانفع ہے لہٰذا بیع فاسد ہوگی۔ ت) اور بیع فاسد میں  بھی بعد قبضہ ملک مشتری ثابت ہوجاتی ہے اگر چہ ملک خبیث ہے کما نصوا علیہ قاطبۃ (جیساکہ اس پر تمام فقہاء نے نص کی ہے۔ ت) دوسرے سوال کو یہاں  سے تعلق نہ رہا کہ حقوق زوجیت مال ہیں ، واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۷۸: از دھامن گاؤں  ضلع امراوتی، برار معرفت حاجی محمد عثمان ٹمبر مرچنٹ مسئولہ ضیاء الدین ۱۱رمضان ۱۳۳۹ھ

کیا فرماتے ہیں  علمائے دین کہ دوشخض آپس میں  سوداکرتے ہیں  مثلا ایک دوسرے سے ایک قسم کی لکڑی خریدتاہے کہ اس وقت اس لکڑی کی قیمت فی عدد تین روپے ہے، اب دونوں  میں  یہ شرط ٹھہری ہے کہ فلاں  تاریخ اس قسم کی لکڑی کئی سو عدد ہونا اگر اس قیمت معین پر لکڑی نہ دے گا تو اس وقت کے بھاؤ کے موافق روپیہ لے لوں  گا مہنگا ہو یاسستہ ،اور بیچنے والا بھی راضی ہوکر قبول کرلیتاہے اور لکڑی کے سب دام پہلے سے لیتاہے اس بیع پر شرط مطہر کا کیاحکم ہے؟ بینوا توجروا
الجواب :یہ بیع حرام ہے کہ نرخ وقت کے حساب سے روپیہ لے لینے کی شرط بوجہ جہالت شرط فاسد ہے اور شرط فاسد سے بیع فاسد ہوتی ہے اور بیع فاسد حرام ومثل ربوٰ ہے کما فی الدرالمختار وغیرہ (جیسا کہ درمختارمیں ہے۔ ت) واللہ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۷۹: از چوک لکھنو، مدرسہ فرقانیہ مرسلہ حافظ شیخ اکرام الدین رضوی ۲۷ جمادی ا لاولٰی ۱۳۳۶ھ

چہ می فرمایند علمائے دین درصحت بیع افیون و بنگ۔

کیا فرماتے ہیں  علمائے دین افیون اور بھنگ کی صحت کے بارے میں ؟ (ت)
الجواب: صحت چیزے دیگر ست وجواز بمعنی حل دیگر اینہا اگر چہ تاحد سکر حرام است فاما ہمچو خمر وخنزیر از تقوم برنیفتادہ است وچوں  بیع برمال متقوم  مقدورالتسلیم وارد شود صحیح بود گو حرام باشد پس صحت درینہا مطلق ست وگربرائے تداوی از بیرون بدن می خواہد میخواہد بمعنی حل نیز باشد وگربرائے معصیت میخواہد روانیست قال تعالٰی ولاتعاونوا علی الاثم والعدوان ۱؎۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
صحت اور چیز ہے اور جوازبمعنی حل دوسری چیز، مذکورہ اشیاء یعنی افیون اور بھنگ جب نشہ کی حد تک پہنچ جائیں  تو اگرچہ حرام ہیں  مگر متقوم ہونے سے خارج نہیں  ہوتیں ، جیسے شراب اور خنزیر متقوم ہونے سے خارج ہوتے ہیں  تو بیع مال متقوم مقدورالتسلیم پر وارد ہوتو صحیح ہوتی ہے اگرچہ حرام ہولہٰذا صحت تو ان میں  مطلق ہے اور اگر بیرون بد ن ان میں سے علاج معالجہ مطلوب ہو تو جواز بمعنی حل بھی ہوگا اور اگر معصیت کے لئے ان کی

بیع مطلوب ہو تو جائز نہیں ۔ اللہ تعالٰی نے فرمایا گناہ اور ظلم پر تعاون مت کرو۔ واللہ تعالٰی اعلم۔ (ت)
 (۱؎ القرآن الکریم        ۵ /۲)
مسئلہ ۸۰: از ضلع سلمپور موضع سگو ڈاکخانہ سگو، مولوی محمد حیات بروز یکشنبہ ۱۶ ذی الحجہ ۱۳۳۴ھ

علمائے دین ومفتیان شرع متین کیا فرماتے ہیں  اس مسئلہ میں  جوکہ جانور حلال مرجائے اس کو مسلمان بکری کرکے اپنی ضرورت پوری کرنی جائز ہے یانہیں ؟
الجواب: جو جانور مردا ر ہوگیا بغیر ذبح شرعی کے مرگیا اس کا بیچنا حرام ہے اور اس کے دام حرام واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۸۱: مسئولہ عبدالرحیم وخدابخش بریلی محلہ اعظم نگر    ۱۵ جمادی الاول ۱۳۳۴ھ

کیا فرماتے ہیں  علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں  کہ ایک قبرستان جو ایک مدت سے ہندوؤں  کے قبضے میں  تھا حکیم مظاہر الاسلام کے والد نے اس کو بہ کوشش اہل محلہ کچہری کے ذریعہ سے ہندوؤں  سے واپس لیا بعد مرگ مظاہر الاسلام رحیم بخش بہشتی نے بہت کم قیمت کو زوجہ مظاہر الاسلام نے خرید لیا اور ایک بیعنامہ موروثی زمین قرار دے کر لکھا لیا کسی اہل محلہ کو معلوم بھی نہ ہوا رحیم بخش جانتا تھا کہ قبرستان ہے مگر نفع کے خیال سے خرید لیا، آیا یہ خریدوفروخت قبرستان جائز ہے یا حرام؟ اور اہل محلہ اس قبرستان کو رحیم بخش کے ہاتھ سے قیمت دے کر چھڑائیں  یا بغیر قیمت، اوراگر نہ چھڑائیں  تو شرعی مواخذہ وپکڑ ہے یانہیں ؟ اور رحیم بخش کو اصلی قیمت لینا چاہئے یاجو بیعنامہ میں  لکھی ہے یا زیادہ، اور اگر قیمت لیں  تو مواخذہ شرعی ہوگا یانہیں ؟ بینواتوجروا
الجواب: رحیم بخش پر فرض ہے کہ قبرستان کو فورا فوراً بلا قیمت چھوڑ دے، اگرنہ چھوڑے گا تو روز قیامت اس کا عذاب یہ ہے کہ اسے تکلیف دی جائے گی کہ زمین کا اتنا ٹکڑا ساتوں  طبقوں  تک کھودے اور پھر وہ کروڑہا کروڑ من پہاڑ اس کے گلہ میں  طوق ڈالے جائیں ، اس پر اگر ایک کوڑی قیمت لے گا تو اس کے لئے جہنم کی آگ ہے، اہل محلہ پر فرض ہے کہ ہر جائز کوشش سے قبرستان کو بلا قیمت اس کے قبضہ ظلم سے چھڑائیں  اگر مجبور ہوں  اور بے قیمت نہ چھوٹ سکے تو یہ قیمت دے سکتے ہیں  مگر اس کا لینا اسے سور کی مثل ہوگاا ور خواہ اصلی لے یا بیعنامہ کی، کم یا زیادہ ہر طرح حرام قطعی ہے، ہاں  اس نے جو قیمت زوجہ مظاہر الاسلام کو دی وہ اس عورت پر حرام قطعی ہے، وہ رحیم بخش کو واپس دے مگر رحیم بخش اس کی واپسی پر قبرستان کو روک نہیں  سکتا اسے فورا بلا قیمت واگزاشت کردے خواہ اسے عورت سے واپس ملے یانہ ملے۔ واللہ تعالی اعلم۔
Flag Counter