Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۷(کتاب البیوع، کتاب الحوالہ، کتاب الکفالہ )
26 - 180
مسئلہ ۷۵: از اودے پور میواڑ مہارانا ہائی اسکول مسئولہ وزیر احمد مدرس 

مسلمان کو ہندو مردہ جلانے کے لئے لکڑیاں  بیچنا جائز ہے یانہیں ؟
الجواب: لکڑیاں  بیچنے میں  حرج نہیں  لان المعصیۃ لاتقوم بعینہا (کیونکہ معصیت اس کے عین کے ساتھ قائم نہیں  ہوتی۔ ت) مگر جلانے میں  اعانت کی نیت نہ کرے اپنا ایک مال بیچے اور دام لے واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۷۶: از شہر محلہ سوداگراں  مسئولہ حافظ مولوی محمد حشمت علی صاحب رضوی مدرسہ منظر اسلام    ۱۵صفر ۱۳۳۹ھ
الی اعلیحضرت سیدنا وسید اھل السنت والجماعت مجدد المائۃ الحاضرۃ مدظلہم الاقدس السلام علیکم ورحمۃ اﷲ وبرکاتہ بعد لثم عتبتکم القدسیۃ ماتقول الشریعۃ الحنفیۃ الحنفاء فی ھذہ المسئلۃ ھل یجوز مبایعۃ الحشیش الذی یقال لہ فی الھندیۃ بھنگ
بخدمت جناب اعلحضرت ، ہمارے اور اہلسنت وجماعت کے سردار، موجودہ صدی کے مجدد، جناب کا سایہ مقدس دراز ہو، آپ پر سلام اور اللہ کی رحمت وبرکت ہو، جناب ولا کی پاکیزہ چوکھٹ کے بوسہ کے بعد گزارش ہے کہ شریعت مطہر حنفیہ اس مسئلہ میں  کیا فرماتی ہے کہ کیا حشیش جس کوہندی میں  بھنگ کہاجاتاہے، کی بیع جائز ہے ؟
الجواب: یجوز للدواء وان ظن انہ یتعاطاہ للتفتیر لایحل البیع منہ لقیام المعصیۃ بہ بعینہ۔ واﷲتعالٰی اعلم۔
دوا کے لئے جائز ہے اور اگر گمان غالب ہو کہ وہ اس کو نشہ کےلئے استعمال کرے گا تو ایسے شخص کے ہاتھ بیع کرنا حلال نہیں  کیونکہ معصیت بعینہٖ اس کے ساتھ قائم ہوتی ہے، واللہ تعالٰی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۷۷: از ریاست رامپور یکم ذی القعدہ ۱۳۳۸ھ

کیا فرماتے ہیں  علمائے دین اس مسئلہ میں  کہ زید نے اپنی حقیت اپنی زوجہ کے نام بعوض دس ہزار روپے اور حقوق زوجیت بیع قطعی کی جائداد پر عورت کا قبضہ ہے اور عاقدین میں  کوئی نزاع نہیں  شخص ثالث جو بائع کا ڈگری دار ہے اس بیع کو کالعدم قرار دیتاہے کچہری سے تجویز ہوجانے پر جزوثمن یعنی حقوق زوجیت ثمن ہونے کی صلاحیت نہیں  رکھتے لہٰذا بیع باطل ہے، سوال یہ ہے کہ حقوق زوجیت نان نفقہ قرار پاکر بھی مال ہوسکتے ہیں  یانہیں ؟ ایسی بیع باطل ہے یاصحیح یا فاسد؟ اور اگر کوئی بیع ایسی دو چیزوں  کے معاوضہ میں  ہوجن میں  سے ایک پاک نہ ہوسکتی ہو تو بقیہ جز کے اعتبار سے بیع صحیح ہوسکتی ہے؟
الجواب:حقوق زوجیت کہ ثمن قرار دئے گئے مال ہیں  یعنی مہر ونفقہ وکسوت، درمختارمیں ہے : یسقط الخلع کل حق متعلق بذٰلک النکاح ۱؎۔  خلع ہر ایسے حق کو ساقط کردیتاہے جواس نکاح سے متعلق ہوتاہے۔ (ت)
(۱؎ درمختار    کتاب الطلاق باب الخلع   مطبع مجتبائی دہلی        ۱/ ۲۴۷)
Flag Counter