Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۷(کتاب البیوع، کتاب الحوالہ، کتاب الکفالہ )
25 - 180
مگر یہ کابین نامہ جو زید نے لکھا اس میں  دو قطعہ مکان بعوض دین مہر دئیے ہیں  اور یہ شر ط کی ہے کہ آئندہ جو حاصل کرے وہ بھی بعوض دین مہر ملک زوجہ ہوا اور بحال نااتفاقی تمام وکمال کی مالک ہو ، یہ دونوں  شرطیں باطل ہیں ، اس باطل کی بناء پر جو بعد کی جائداد زید نے زینب کو دی وہ زینب کی ملک نہ ہوئی اگر چہ ہزار قبضہ کرادیا ہو فان المبنی علی الباطل باطل والباطل لاحکم لہ (اس لئے کہ جو باطل پر مبنی ہو وہ باطل ہوتاہے اور باطل کا کوئی حکم نہیں ۔ ت) وہ بوجہ شرط فاسد بیع فاسد ہے، زید وزینب پر واجب ہے کہ اس بیع کو فسخ کریں  مکان زید کو وپس دئے جائیں  مہر زینب کا ذمہ دار زید ہے جبکہ وہ مکان قبضہ وملک زینب میں  ہنوز موجود ہیں اوراگرزینب ان کو کسی اور کے ہاتھ بیع صحیح یاہبہ وا وقف یا وصیت یا رہن کرچکی تو اب مکانوں  کی واپس نہ ہوگی مگر مہر میں  سے اتناہی ساقط ہوجتنے کی مالیت وہ مکان برنرخ بازارہوں  باقی مہرذمہ زید رہا،

(۲) اگر وہ مکان بعد کی جائداد میں  تھا جب تو ظاہر ہے کہ زینب اس کی مالکہ ہی نہی تھی زید کا اقرار اپنے اسی شرط کی بناء پر ہے اور باطل کی بناء پر جو اقرار ہو باطل ہے کما فی الاشباہ والدروغیرہما (جیسا کہ اشباہ اور دروغیرہ میں  ہے۔ ت) اور اگر وہ ان دونوں  مکانوں  میں  سے تھا جو وقت نکاح مہر میں  دئیے تو ہم بیان کرچکے کہ وہ بیع فاسد واجب الفسخ تھی اورزینب کا اسے کرایہ پر دینا مانع فسخ تھا۔
فی الدرالمختار ان باعہ المشتری فاسدا بیعا صحیحا باتا لغیر بائعہ اووھبہ وسلم، او وقفہ وقفا صحیحا الفاسد فی جمیع مامروا امتنع الفسخ لتعلق حق العبد بہ وکذا کل تصرف قولی غیر اجازۃ ونکاح ۱؎۔
درمختار میں ہے اگر بیع فاسد کے مشتری نے مبیع فاسد کو غیر بائع کے ہاتھ بیع صحیح تام کے ساتھ فروخت کردیایا ہبہ کرکے قبضہ دے دیا یا وقف صحیح کے ساتھ وقف کردیا یا اسی کو کسی کے پاس رہن رکھ دیا یا کسی کے لئے اس مبیع فاسد کی وصیت کردی یا صدقہ کردیا تو ان تمام تصرفات مذکورہ میں وہ بیع فاسد نافذ ہوجائے گی اور فسخ ممتنع ہوجائے گا بسبب حق عبد کے اس کے ساتھ متلعق ہونے کے ، اور یہی حکم ہے تمام تصرفات قولی کا سوائے اجارہ اورنکاح کے۔ (ملتقطا) ۔ (ت)
(۱؎ درمختار    کتاب البیوع باب البیع الفاسد  مطبع مجتبائی دہلی     ۲/ ۲۹ ۔ ۲۸)
ردالمحتار میں  ہے :
لان الاجارۃ تفسخ بالاعذار ورفع الفساد من الاعذار ۲؎۔
اس لئے کہ اجارہ عذروں  کی وجہ سے فسخ ہوجاتاہے اور فسخ فساد بھی عذروں  میں  سے ایک عذر ہے۔ (ت)
(۲؎ ردالمحتار     کتاب البیوع باب البیع الفاسد    داراحیاء التراث العربی بیروت     ۴/ ۱۲۷)
اب کہ زید نے اسے اپنی ملک ٹھہرا کر دعوٰی کیا اورڈگری پائی، یہ اس بیع فاسد کا فسخ ہوگیا مکان زید کوواپس آگیا اور زینب کا مہر اس پر رہا پھر زید اس اسے دے دینا اگر وہی بربنائے سابق ہو جب تو باطل وبے سود ہے اور اب قبضہ زینب سے بھی ملک نہ ہوگی کہ اس وقت تک بیع فاسد تھی اب بعد فسخ باطل ہوگئی، ہاں  اگر اس بناء پر نہ ہو بلکہ اپنی طرف سے ہبہ مستقل کرکے زینب کو قابض کردیا ہو تو زینب مالک ہوگئی جبکہ وہ نصف قطعہ مشاع نہ ہو، واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۶۹: از سرنیاں  ضلع بریلی مرسلہ امیر علی صاحب قادری    ۲رجب ۱۳۳۱ھ

عمرو کی مسجد میں  یہ قاعدہ ہے کہ جو درخت مسجد میں  ہیں  ان کی سوکھی لکڑی گری ہوئی کمہار ہمیشہ خرچ میں  لاتا ہے، ہمیشہ کے لئے لوٹے گھڑے کمہار کے خرچ کودیتاہے۔
الجواب : یہ عقد بوجہ مجہول ہونے کے ناجائز ہے۔ نہیں  معلوم کتنی لکڑی گرے گی، نہیں  معلوم کتنے لوٹوں  کی حاجت ہوگی، ہاں  اگریوں  ہو کہ اتنی لکڑی کے عوض اتنے لوٹے ، تو جائز ہوگا، واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۷۰ تا ۷۱: مسئولہ حافظ محمد آمین صاحب از قصبہ نجیب آباد ضلع بجنور محلہ پٹھان     ۲۵ محرم ۱۳۳۲ھ

(۱) کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں  کہ کوئی شخص کسی کامال چوری کرکے لایاا ور اس نے اس مال کو فروخت کرنا چاہا تو جس شخص کو معلوم ہوچکا ہے کہ یہ مال چوری کا ہے پھر بھی اس کو خریدتاہے تو اس کے لئے وہ خریدنا جائز ہے یانہیں ؟ اور جو شخص لاعلمی میں  ایسا مال مسروقہ خریدلے تو کیاحکم ہے؟ اور بعد خرید لینے کے معلوم ہوجائے کہ یہ مال چوری کا تھا جب کیاحکم ہے؟

(۲)ایک شخص پندرہ بیس برس سے کسی محکمہ میں  ملازم ہے اور وہ نوکری کا استعفاء دے کر حج بیت اللہ شریف کا جاتاہے دوسرا شخص یہ چاہتاہے کہ تم استعفا ء مت دو بلکہ بذریعہ درخواست بجائے اپنے مجھ کوقائم کردو اور مجھ سے پچاس روپےلے لو، تو یہ روپیہ لینا سابقہ ملازم کے واسطے درست ہے یانہیں ؟
الجواب

(۱)چوری کا مال دانستہ خریدناحرام ہے بلکہ اگر معلوم نہ ہو مظنون ہو جب بھی حرام ہے مثلا کوئی جاہل شخص کو اس کے مورثین بھی جاہل تھے کوئی علمی کتاب بیچنے کو لائے اور اپنی ملک بتائے اس کے خریدنے کی اجازت نہیں  اور اگر نہ معلوم ہے نہ کوئی واضح قرینہ تو خریداری جائز ہے، پھر اگر ثابت ہوجائے کہ یہ چوری کا مال ہے تو اس کااستعمال حرام ہے بلکہ ملاک کو دیا جائے اور وہ نہ ہو تو اس کے وارثوں  کو ، اور ان کا بھی پتہ نہ چل سکے تو فقراء کو، واللہ تعالٰی اعلم۔

(۲)یہ مسئلہ بہت مشتبہ ہے اور اختلاف کثیر ہیں  اورنظائر متشابہ ہیں  اور احتراز اولٰی ہے، انظرردالمحتار من اول البیوع (ردالمحتار میں  کتاب البیوع کے شروع میں  دیکھئے۔ ت) واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۷۲: از قصبہ نیٹھور ضلع بجنور محلہ سادات مرسلہ سید شاہد حسین انسپکٹر پنشنر ۲۹ محرم ۱۳۳۲ھ

جناب عالی! نہایت ادب سے گزراش ہے کہ میں  نے ایک مولوی صاحب سے ذریعہ تحریر بابت پرامیسیر نوٹ ۵مسئلے دریافت کئے تویہ جواب آیا جو ملاحظہ کے لئے ارسال کرتاہوں  اور نیٹھور کے مدرسہ اسلامیہ کے حامد حسین مولوی صاحب سے دریافت کیا تو فرمایا کہ ہدایہ کتاب الزکوٰۃ میں  تحریر ہے کہ جوروپیہ ملک میں  ہو یا کسی کو امانت یاقرض دے رکھا ہو اور اس کے ملنے کی امید ہو چاہے مدیون مقر ہو یا مفلس یا منکر، مگر منکر کی صورت میں  داین کے پاس اپنے قرض کی پکی سند ہو مثلا معتبر گواہ یا مدیون کا اقرار نامہ ہو تو ایسے قرض کی زکوٰۃ مالک کے ذمہ واجب ہے، مالک روپیہ مذکور مدیون یا امانت دار سے لے کر قبضہ کرے یا نہ کرے، اب عرض یہ ہے کہ پرامیسری نوٹ کا روپیہ مردہ نہیں  ہے البتہ اس قدر ضرور بے قابو ہے کہ ضرورت کے وقت مالک کو نہیں  مل سکتا جب گورنمنٹ کے اعلان پر کوئی جدید خریدار پیدا ہو اس وقت روپیہ مالک کو ملک جائے گا اب اس کے واسطے جس قدر زمانہ گزرے یہ قاعدہ گویا ایسا ہے جیسے کہ کسی کارخانہ یا کمپنی میں  حصے فروخت ہوں  اور کوئی شخص اول حصہ جات کو خرید لے اب اگر حصہ دار اپنا روپیہ کارخانہ یاکمپنی سے واپس لینا چاہے تو اس کو اس وقت تک روپیہ نہیں  مل سکتا جب تک کہ ان حصوں  کاخریدار پیدا نہ ہوں  خواہ کسی قدر زمانہ گزر جائے البتہ منافع مقررہ ملتارہے گا اب براہ کرم وبندہ نوازی کے جواب شافی مرحمت فرمائے ۶ پائی کا ٹکٹ جوا ب کے لئے ارسال ہے بحث صرف پرامیسری نوٹ کی بابت ہے سیونگ بنک کا جواب نہیں  چاہتا۔ زیادہ حدادب!

حاضرالوقت حسین احمد دست بستہ سلاعم عرض کرتاہے یہ سید صاحب بہت ہی شش وپنج میں  مبتلا ہیں  ان کی تسلی فرمادیجئے گا از راہ کرم۔ فقط
الجواب: پرامیسیر نوٹ کا روپیہ گورنمنٹ کبھی واپس نہیں  دیتی ہے خریدارپیدا ہونے پر اگر یہ بیع کرے گا توخریدار سے روپیہ لے گا گورنمنٹ کے یہاں  سود دینے کے لئے اس کے نام کی جگہ خریدار کانام قائم ہوجائے گا، یہ اس قرض کا واپس ملنا نہ ہوا، قرض ملتا تو گورنمنٹ سے ملتا نہ کہ خریدار سے، تو وہ قرض یقینا مردہ ہے، اور یہ کہ ملتا ہے غیر مدیوں  کے ہاتھ دین کی بیع سے ملتاہے، وہ بیع ناجائزوفاسد و حرام ہے، مگر جبکہ خریدار کو مدیون سے اس کا قبضہ لینے پر مسلط کرے،  اشباہ میں ہے :
لایجوز بیع الدین ممن لیس علیہ الدین الا اذاسلطہ علی قبضۃ ۱؎۔
غیرمدیون کے ہاتھ دین فروخت کرنا جائز نہیں  مگر اس وقت جائز ہے جب اس کو قبضہ پر مسلط کرے۔ (ت)
 (۱؎ الاشباہ والنظائر    الفن الثانی        ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی    ۲ /۴۱)

(۲؎ الاشباہ والنظائر    الفن الثالث        ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی    ۲ /۲۱۳)
اوریہاں  قبضہ پر مسلط کرنا ناممکن ہے کہ سو خریدار بدلیں  گورنمنٹ وہ روپیہ کسی کو نہ دے گی سود دیتی رہے گی، تویہ روپیہ قطعا اجماعا حرام محض بیچنا حرام روپیہ لینا حرام او رلے لیا ہو تو واپس دینا فرض ہے پھر اس روپیہ سے کون سے اتنفاع کا امکان ہوا۔ اوریہی معنی قرض مردہ کےہوں  کہ ملک ہوا اور انتفاع پر قدرت نہ ہو، لہٰذا حکم وہی ہے جو فتوٰی اول میں  لکھا گیا، واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۷۳: از ریاست رامپور محلہ گھیرپورن سنگھ متصل قبرستان مسجد ۱۲ع مرسلہ محمد عبدالقادر صفر ۱۳۳۲ھ

ماقولکم رحمکم اﷲ تعالٰی فی ھذہ المسئلۃ (اس مسئلہ کے بارے میں  تمھارا کیاا رشاد ہے اللہ تعالٰی تم پر رحم فرمائے۔ ت) زید نے نوآنے قیمت کے ایک ٹکٹ ۹/ آنے سے لے کر سرکار میں  داخل کیا بعد ازاں  سرکار نے اسی زید سے سوا روپیہ لے کر اس کو چارٹکٹ اور دے دئے، بعد اس کے زید نے وہی چار ٹکٹ وہی سواروپیہ بیچ کر پھر سرکار میں  داخل کیا، بعد روپیہ داخل کرنے کے سرکار نے اسی روپیہ کے دو فی قیمت کا ایک کپڑا زید کو دے دیا اب یہ معاملہ مطابق شرح شریعت کے جائز ہے یانہیں ؟ اور اس کپڑا سے نماز پڑھنا جائز ہے یانہیں ؟ بینوا توجروا بالدلائل وحوالۃ الکتب (دلائل و حوالہ کتب کے ساتھ بیان کرو اجردئے جاؤ گے۔ ت)
الجواب: یہ صورت شرعا باطل وناجائز ہے کہ وہ ٹکٹ جو اس کے ہاتھ بیچا جاتاہے اور یہ دوسروں  کے ہاتھ بیچتا ہے اصلا مال نہیں  تو رکن بیع کہ مبادلۃ المال بالمال ہے اس میں  متحقق نہیں  اس کی حالت مٹی سے بھی بدتر ہے مٹی پر بھی کام آتی ہے، اوریہ کسی مصرف کا نہیں  سوائے اس کے کہ احمق پہلے اپنا گلا پھانسے پھر اس کے چھڑانے کو اپنے سے چاراحمق اور تلاش کرے اور ان میں  ہر ایک کو چار چار ڈھونڈتا پڑیں  اوریہ سلسلہ بڑھتا رہے یا بعض احمقوں  کے خسارہ پر ختم ہوجائے، ہاں  وہ کپڑا کہ اسے ملا وہ معاوضہ نہیں  ہوتا بلکہ بطور انعام دیا جاتاہے تو وہ فی نفسہٖ اس کے لئے جائز اور اس سے نماز درست ہے۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۷۴: مسئولہ محمد سلیمان شاہجہان پور

کیا فرماتے ہیں  علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں  کہ اس شہر میں  جس قدر افتادہ زمین مکانات سے باہر گلیوں  کوچوں  میں  ہے سب سرکار نے ضبط کرلی ہے پبلک کو مکان بنانا دیوار بنانی منع کردیا ہے، اب اگر دوسرا پڑوسی زمین مقبوضہ کو سرکارسے خرید کر مکان بنالے، جائز ہے یانہیں ؟ بینوا توجروا
الجواب: اگر وہ افتادہ زمین غیر مملوکہ تھی جسے شرع میں ''عادی الارض'' عرف حال میں  ''سرکاری زمین'' کہتے ہیں  تو خریدنے میں  کوئی حرج نہیں  ہے، واللہ تعالٰی اعلم۔
Flag Counter