Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۷(کتاب البیوع، کتاب الحوالہ، کتاب الکفالہ )
24 - 180
مسئلہ ۶۷ تا ۶۸: از جاورہ ملک مالوہ مسئولہ جناب سید مقبول عیسٰی صاحب ۱۴ جمادی الآخر ۱۳۱۰ھ

(۱)مسماۃ زینب سے زید نے اس شرط پر نکاح کیا اور ایک دستاویز کا بین نامہ بھی اس مضمون کی لکھ دی کہ جو زینب کو بالعوض دین مہر مبلغ پچاس ہزار روپے اور دو اشرفی کے اپنے نکاح میں  لایا ہوں  اور بالعوض اس دین مہر جو دوقطعے مکانات نصف نصف حصہ خو د مع حدود اربعہ ہیں  زینب کو دین مہر میں  دے دیئے اور جو آئندہ جائداد منقولہ وغیرہ منقولہ میں  اپنے قوت بازو سے پیدا کروں  گا اس کی مالک بھی عوض اس دین مہر کے منکوحہ رہے گی اور بشرط نااتفاقی جمیع جائداد منقولہ وغیر منقولہ کی مالک منکوحہ ہے اس جائداد میں  میرا اور میرے خویش واقارب کا کسی طرح سے دعوی نہ ہوگا بعد ازاں  ایک مدت کے زید نے اور جائداد منقولہ وغیر منقولہ اپنے قوت بازو سے پیدا کی وہ بھی جائداد منقولہ وغیرہ منقولہ بموجب شرائط کا بین نامہ زینب کو دے کر نصف قبضہ کرادیا، اندریں  صورت مالک جمیع جائداد کی زینب قرار پاسکتی ہے یازید؟ اور جو شے دین مہر میں  اس صورت سے دے دی جائے کیا قبضہ لازم ہوگااور بلاقبضہ ہو تو کیاحکم ہے؟

(۲)بعد دو چار برس کے منجملہ جائداد مذکورہ ایک مکان میں  کرایہ دار رہتاتھا وہ مالک بن گیا، زید نے اپنے نام نالش کرکے قبضہ لیا اور زینب کو دیا یا نہ دیا اور دیگر شخص نے زید پر نالش کرکے اس مکان کو حراج کرایا اب اس مکان کی دعویدار زینب ہوئی اور زید کو اقرار ہے کہ اندریں  صورت اس مکان کی مالک زینب ہوسکتی ہے یانہیں ؟
الجواب

(۱)دین مہر کے عوض دینا ہبہ بالعوض ہے اور ہبہ بالعوض اور بیع میں  قبضہ شرط نہیں ۔
فی الدرالمختار لوقال وھبتک بکذا فہو بیع ابتداءً وانتہاءً ۱؎۔
    درمختار میں ہے کہ اگر کسی نے کہا میں  نے انتے کے بدلے تجھے ہبہ کیا ہے تو یہ ابتداء اور انتہاء بیع ہے۔ (ت)
 (۱؎ درمختار        کتاب الہبہ باب الرجوع فی الہبہ    مطبع مجتبائی دہلی    164/ 2)
Flag Counter