| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۷(کتاب البیوع، کتاب الحوالہ، کتاب الکفالہ ) |
مسئلہ ۶۲: از شاہجہان پور مرسلہ عنایت حسین خاں محلہ ہاتھی تھان ۲۷ ربیع الاخر ۱۳۱۸ھ کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اوپر اس بات کے کہ زید نے پیداوار رس قبل تیار ہونے پیداوار کھیت نیشکر ازروئے تخمینہ واندازہ کے کہ جو بعد چہار ماہ کے اگر اللہ نے چاہا تو پیدا ہوگا اس مال رس کو زید نے بہ نفع مبلغ (مہ ہہ ۱۲/) ایک سومن بوزن خام بدست بکر کے اس شرط سے فروخت کیا اور فورا زر قیمت پیشگی بیباک کرلیا شرط باہم یہ قرار پائی کہ اگرتخمینہ مذکورہ سے مال رس کم پیدا ہوگا اس وجہ سے کم دیا جائے گا تو فی من خام آدھ آنہ کے جس کے حساب سے ہے سومن خام پر ہوتے ہیں ، بطریق منافع جس کو عوام الناس گٹے کہتے ہیں بوجہ پیشگی لینے روپیہ کے زید کو مع روپیہ باقی ماندہ کے بکر کو دینا ہوں گے لہٰذا یہ بیع اور کمی منافع دونوں شرعا مذہب حنفیہ میں جائز ہیں یا کیا درجہ رکھتے ہیں ، عنداللہ اجروثواب ہوگا۔
الجواب: یہ بیع بھی حرام اور یہ شرط بھی حرام، اور یہ دام جو اس کمی پر لئے جائیں نرے سود ہیں ۔
فان النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نھی عن بیع مالیس عندہ وعن بیع وشرط والربٰوھوالفضل المستحق بالعقد الخالی عن العوض کما فی الہدایۃ ۱؎ والمسائل واضح، واﷲ تعالٰی اعلم۔
نبی اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے اس چیز کی بیع سے منع فرمایا جوآدمی کے پاس نہ ہو اور بیع اور شرط سے منع فرمایا اور سود عقد سے ثابت ہونے والی اس زیادتی کو کہتے ہیں جو عوض سے خالی ہو جیسا کہ ہدایہ میں ہے، اور یہ تمام مسائل واضح ہیں ، واللہ تعالٰی اعلم۔ (ت)
(۱؎ الہدایہ کتاب البیوع باب الربوٰ مطبع یوسفی لکھنؤ ۳ /۸۰)
مسئلہ ۶۳: از شہر کہنہ مرسلہ مولوی خدایار خاں صاحب ۱صفر ۱۳۱۹ھ جناب مولانا معظم مکرم دام سالما، السلام علیکم ورحمۃ اللہ وربرکاتہ، ایک مسلمان شخص کے ہاتھ رس بیچا تھا بہ نرخ (صہ مہ / )فیصدی من یہ شرط ٹھہری تھی کہ بعد ختم بیل ڈیڑھ مہینہ کے اند رجو روپیہ باقی نکلے گا دیں گے اگرنہ دیں گے تو اس کا نرخ (معہ سہ / ) کا دیں اور خدا یار کے اوپر ہمارا روپیہ باقی نکلے وہ بھی ڈیڑھ مہینہ کے اندر دیں اگر میعاد میں نہ دیں تو (مہ لہ/)کانرخ لیں ، سو روپیہ ہمارا نکلا تیرہ سواور میعاد گزرگئی، اب نرخ (معہ سہ/) کالینا سود تونہیں ہے یا ہے چونکہ میں آپ سے اکثر اپنے معاملات پوچھ لیتاہوں لہٰذا اب بھی تصدیعہ دیتاہوں کہ مجھ کو صبح اس کی اطلاع ہوجائے ۔ زیادہ نیاز خاکسار خدایار تبیتہ اللہ بالتصدیق والاقرار
الجواب: یہ شرط فاسدا ور عقد حرام ہے دووجہ سے :اولا اس شرط میں احداد العاقدین کی منفعت ہے،
وکل شرط کذا فاسد وکل شرط فاسد فہو یفسد البیع وکل بیع فاسد حرام واجب الفسخ علی کل من العاقدین فان لم یفسخا اثما جمیعا وفسخ القاضی بالجبر۔
ہر وہ شرط جو ایسی ہو فاسد ہے اور جو شرط فاسد ہو وہ بیع کو فاسد کردیتی ہے اور ہر فاسد بیع حرام ہے جس کا فسخ کرنا بائع اور مشتری میں سے ہر ایک پر واجب ہے اگر وہ فسخ نہ کریں تو دونوں گنہگار ہوں گے اور قاضی جبرا اس بیع کو فسخ کرائے۔ ثانیا اس میں جہالت قدر ثمن لازم آئندہ اورخاصہ قمار ہے کہ بائع مشتری کے لئے ایک آئندہ نامعلوم صورت میں کہ خدا جانے کس طرح واقع ہوگی ہارجیت بدی گئی ہے اور قمار بنص قطعی قرآن حرام ہے، واللہ سبحانہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۶۴ــــــ: نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم، کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس معاملہ میں کہ زید نے عمرو سے مبلغ (ما لعہ لعہ/ )لے کر ایک اقرار نامہ بدیں مضمون تحریر کیا کہ (۱۴۰) چٹے لکڑی پانچ اقساط میں دوں گا منجملہ ان کے صرف ۲۵ چٹے لکڑی دی اور اقرار نامہ مذکور الصدرمیں یہ شرط تحریر کی کہ اگر کسی جانب سے لین دین لکڑی میں انحراف ہو تو پانچ روپیہ فی چٹہ ہرجہ لینے کا ایک دوسرے سے مستحق ہوگا، پس عمرو زید سے اس صورت سے ہر جہ تحریری لینے کا شرعا مستحق ہے یانہیں ؟ بینوا توجروا
الجواب: صورت مستفسرہ میں اگر لکڑی زیدکے پاس اس وقت موجود نہ تھی تو یہ بیع حرام وباطل ہوئی، عمرو پر لازم ہے کہ یہ ۲۵ چٹے بھی زیدکو واپس دے اور زید پر لازم کہ پورے (ما لعہ لعہ/) عمرو کو پھیردے اور اگر لکڑی موجود معین بیچی اور پھر اس میں سے ۱۱۵ چٹے مشتری کونہ دی تو زید پر فرض ہے کہ اب دے دے اور اگر وہ لکڑی دوسری جگہ بیچ ڈالی ہے تو زید سخت گنہگار ہوا اور عمرو اپنی لکڑی اس دوسرے مشتری سے واپس لے سکتاہے اور اگر پتہ نہ چلے تو ۱۱۵ چٹے کے جو دام بازار کے بھاؤ سے ہوئے عمرو زید سے لے، بہرحال ہرجہ لینے کا کسی صورت میں اختیارنہیں ، نہ وہ شرط اقرارنامہ اصلا قابل قبول ۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۶۵: ۲۲ محرم الحرام ۱۳۲۳ھ کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ کھال مردہ کا بیچنا جائزہے یانہیں ؟ اور ہڈی بیچنا جائز ہے یانہیں ؟ بعض عالم کہتے ہیں جائز نہیں ہے اور بعض کہتے ہیں جائز ہے۔ بینوا توجروا
الجواب:کھال اگر پکاکر یا دھوپ میں سکھاکر دباغت کرلی جائے تو بیچنا جائز ہے لطھارتہ و حل الانتفاع (بسبب اس کی طہارت کے اور حلال ہونے اس سے نفع حاصل کرنے کے۔ ت) ورنہ حرام وباطل ہے لانہ جزء میتۃ وبیع المیتۃ باطل (اس لئے کہ وہ مردار کی جزء ہے اور مردار کی بیع باطل ہے۔ ت) ہڈی پر اگر دسومت نہ ہو خشک ہو تو اس کی بیع جائز ہے لما تقدم لان الحیاۃ لاتحلہ (اس وجہ سے جو پہلے گزر چکی ہے کیونکہ حیات اس میں سرایت نہیں کرتی۔ ت) اورا ن احکام سے خنزیر مستثنٰی ہے اس کی کھال یا ہڈی کسی حال میں اصلا خرید وفروخت یا کسی قسم کے انتفاع کے قابل نہیں لنجاسۃ عینہا (اس کے نجس عین ہونے کی وجہ سے۔ ت) واللہ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۶۶: مرسلہ محمد بشیر الدین طالبعلم مدرسہ امداد العلوم محلہ بانسمنڈی کانپور ۲۹صفر ۱۳۳۰ھ کوئی شخص زندہ گائے یا بکری وغیرہ کی کھال چھوڑ کر صاف گوشت خریدے ذبح کرنے کے بعد دس بارہ آدمی مل کر تقسیم کرکے کھائیں اس صورت میں بیع کیسی ہے؟ اور گوشت کھانا حلال ہے یا حرام؟ بینوا توجروا
الجواب: بیع فاسد ہے اور وہ کھانا حرام۔
والوجہ ظاہر فھو کجذع فی سقف بل اشد قال فی الدر فی السراج لوسلم الصوف والبن بعد العقد لم ینقلب صحیحا وکذا کل مااتصالہ خلقی کجلد حیوان ونوی تمر وبزر بطیخ ۱؎ واﷲ تعالٰی اعلم۔
اس کی وجہ ظاہر ہے تو وہ چھت میں لگی ہوئی شہتیر کی مانند ہے بلکہ اس سے بھی سخت تر، در میں فرمایا کہ سراج میں ہے اگر عقد کے بعد اون اور دودھ مشتری کو سونپ بھی دیا تب بھی بیع صحیح نہ ہوگی اور ایسے ہی ہےہر وہ چیز جس کا اتصال پیدائشی طورپر ہے جیسے حیوان کی کھال، کھجور کی گٹھلی اور تربوز کا بیچ، واللہ تعالٰی اعلم۔ (ت)
(۱؎ درمختار کتاب البیوع باب البیع الفاسد مطبع مجتبائی دہلی 24/ 4)