Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۷(کتاب البیوع، کتاب الحوالہ، کتاب الکفالہ )
22 - 180
مسئلہ ۶۰: از ضلع پربھنی صوبہ اورنگ آباد مرسلہ مولوی سید غلام رسول حسین صاحب وکیل ۱۶ رمضان المبارک ۱۳۱۳ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مٹی کی بیع وشراء میں کہ جائز ہے یاناجائز؟
درمختارکے بیع فاسد میں تحریر فرماتے ہیں :
بطل بیع مالیس بمال، المال مایمیل الیہ الطبع ویجری فیہ البذل والمنع درر فخرج التراب ونحوہ ۱؎۔
  جو چیز مال نہیں اس کی بیع باطل ہے، اور مال وہ ہے جس کی طرف طبیعت مائل ہو اور اس میں (بطور ہبہ وغیرہ) دینا اور (غیر کو اس میں تصرف سے) منع کرنا جاری ہوتا ہو (درر) چنانچہ مٹی وغیرہ اس تعریف سے خارج ہوگئی۔ (ت)
(۱؎ درمختار    کتاب البیوع باب البیع الفاسد    مطبع مجتبائی دہلی        23 /2)
اور بعض مقام میں جیسا کہ مقام پر بھنی میں مٹی کی طرف طبائع مائل ہیں اور اس میں بذل ومنع جاری ہے اور بیع وشراء بھی جاری ہے اور یوما فیوما اس کی قدر وقیمت زیادہ ہوتی جاتی ہے، اس صور ت میں مٹی پر مال کی تعریف صادق ا ۤسکتی ہے یانہیں ؟ اور اس کی بیع وشراء شرعا جائز ہوسکتی ہے یانہیں ؟ بینوا توجروا
الجواب: مٹی کہ مال وصالح بیع نہیں ، وہ تراب قلیل ہے جس میں بذل ومنع نہیں جیسے ایک مٹھی خاک، ورنہ تراب کثیر خصوصا بعد نقل بلاشبہ مال ہے اور عموما اس کی بیع میں تعامل بلاد، مٹی کی گاٹھیا چھتو ں پرڈالنے یا گہگل کرنے یا استنجو ں کے ڈھیلو ں کے لئے جگہ بکتی ہے، ردالمحتارمیں اسی عبارت درمختار پر لکھا :
  قولہ فخرج التراب ای القلیل مادام فی محلہ والا فقد یعرض لہ بالنقل مایصیربہ مالامعتبرا ومثلہ الماء ۲؎۔
ماتن کے اس قول کہ''مٹی تعریف مال سے خارج ہوگئی'' کا مطلب یہ ہے کہ وہ مٹی قلیل ہواور ابھی تک اپنی جگہ پر پڑی ہو ورنہ وہا ں سے نقل کرلینے کے بعد وہ مال معتبر بن جاتی ہے۔ اورپانی بھی اسی کی مثل ہے۔ (ت) بلکہ زمین خود مٹی ہے اور اس کی بیع قطعا جائز، تو مناط وہی تحقق حد مال ہے، واللہ تعالٰی اعلم۔
 (۲؎ ردالمحتار    کتاب البیوع باب البیع الفاسد    داراحیاء التراث العر بی بیروت    101/ 4)
مسئلہ ۶۱: از پیلی بھیت محلہ پنجابیا ں متصل مسجد مرسلہ شیخ عبدالعزیز صاحب    ۲۲ ربیع الآخر شریف ۱۳۱۴ھ بسم اللہ الرحمن الرحیم، کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید مسلم تاجر لٹھہ نے ایک روز قوم ہنود کے تعلقہ دارکے ساتھ بایں شرائط چوب فروش کی کہ جس نمونہ اورپیمائش کی لکڑی بکر کو درکار ہوگی زید چراکر اپنے مصارف بار برداری سے بذریعہ ریل یا کشتی کے زید اس مال کو بکر کے مکان پرپہنچادے گا اور بکر نے یہ معاہدہ کیا کہ بعد پہنچ جانے اس مال کے تاریخ پہنچنے سے عرصہ تیس یوم میں قیمت اس لکڑی کی بشرح( ۱۰ عہ) زید کو ادا کریں گے اورا گر اس عرصہ میں نہ ادا کریں تو قیمت اس کی تین روپیہ کے نرخ سے دیں گے، چنانچہ زید نے حسب پیمائش فرمائش بکر کی لکڑی تیار کرکے بکر کو اطلاع دی کہ لکڑی تیار ہے حسب معاہدہ سابق مستری بھیجو کہ پاس کرجائے، چنانچہ مستری آیا اور زید کے مکان پر اس لکڑی کو پاس کرکے اپنا نشان اور ٹانچ لگا گیا اور زید نے اس پاس شدہ لکڑی کو اپنے مصارف باربرداری سے بکر کے مکان پر پہنچادیا اوربعد پہنچادینے کے بکر کے ذی اختیار کارکنان کارندگان سے رسید دستخطی حاصل کرلی اس مابین جب تک وصولیابی روپیہ کازمانہ آئے علاقہ بکر میں انتظاما تبدل وتغیر ہوا اور بجائے کارندگان سابق کے دوسرا کارندہ یوروپین سے قائم ہوا اس سے قیمت کا روپیہ طلب کیا گیا اول تو بوجہ ابتدائے انتظام کے اس نے لیت ولعل کیا پھر عرصہ تین چار مہینے بعدا س لکڑی مستری کی پاس شدہ میں سے بقدر ایک ثلث کے ناقص انتخاب کی اور اب کہ بجائے ۳۰ یوم کے معاہدہ کے عرصہ آٹھ سات ماہ کا منقضی ہوتاہے ہنوز قیمت چوب کا روپیہ ادا نہیں ہوا اور طلب پر بکر خود اورنیز اس کا کارندہ جدید جواب دیتے ہیں کہ جس قدر لکڑی ہم نے ناقص برآمد کی ہے واپس لے جاؤ اور باقیماندہ عمدہ مال کی قیمت شرح( ۱۰ عہ) کی دی جائے گی کیا ایسی صورت میں جائز ہوگا کہ زید بذریعہ نالش محکمہ جات حکام زمانہ کی امداد سے شرائط فی مابین کے پورے اس مال کی قیمت جس کو بکر کا مستری پاس کرکے نشان دے گیا تھا اور زید نے اس کو بکر کے مکان پر پہنچا کر رسید حاصل کی ہے بشرح (ے ) روپیہ کے مع خرچ محکمہ کے وصول کرکے یاحسب خواہش بکرکے عمدہ لکڑی کی قیمت بہ نرخ( ۱۰ عہ) کے وصول کرکے ناقص منتخب کی ہوئی لکڑی اپنا دوسرا مصارف خرچ کرکے واپس لائے، بیان فرمائیں ثواب پائیں ۔ فقط
الجواب: صورت مستفسرہ میں بیع ہی نہ ہوئی کہ یہ لکڑی وقت بیع معدوم وغیر مملوک بائع تھی اور ایسی چیز کہ بیع بے طریق سلم باطل محض ہے،
درمختارمیں ہے :
بطل بیع مالیس فی ملکہ لبطلان بیع المعدوم ومالہ خطرا لعدم الابطریق السلم لانہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نھی عن ییع مالیس عند الانسان ورخص فی السلم ۱؎۔
  غیر مملوک کی بیع باطل ہے بسبب باطل ہونے اس چیز کی بیع کے جو معدوم ہویا اس کے معدوم ہونے کاخطرہ ہو مگر بطور رسلم اس کی بیع باطل نہیں اس لئے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے اس چیز کی بیع سے منع فرمایا جو آدمی کے پاس نہ ہوا ور بیع سلم میں رخصت دی۔ (ت)
(۱؎ درمختار     کتاب البیوع باب البیع الفاسد    مطبع مجتبائی دہلی   ۲/ ۲۴)
ردالمحتار میں ہے: لم ینعقد بیع المعدوم ومالہ خطر العدم کالحمل واللبن فی الضرع ولابیع مالیس مملوکالہ وان ملکہ بعدہ الا السلم ۲؎ الخ۔
اس چیز کی بیع منعقدنہیں ہوتی جو معدوم ہو یا اس کے معدوم ہونے کا خطرہ ہو جیسے حمل اور تھنو ں کے اندر دودھ ، اور نہیں منعقد اس چیز کی بیع جو بائع کی ملک میں نہ ہواگرچہ بعدمیں اس کا مالک بن جائے سوائے بیع سلم کے الخ (ت)
 (۲؎ ردالمحتار    کتاب البیوع باب البیع الفاسد   داراحیاء التراث العربی بیروت    ۴ /۵)
تو زید وبکر میں باہم کوئی معاہدہ ہی نہیں جس کی بناء پر ایک دوسرے سے کچھ مطالبہ کرسکے، زیداپنی لکڑی تمام وکمال واپس لے اور اپنے صرف سے جہا ں چاہے لے جائے، ہا ں اب از سرنو اس مال موجودہ کی بیع برضائےباہمی جس قیمت پر ہوجائے تو وہ جائز ہوگی اور اس کا مطالبہ ہوسکے گا واللہ سبحانہ و تعالٰی اعلم۔
Flag Counter