فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۷(کتاب البیوع، کتاب الحوالہ، کتاب الکفالہ )
21 - 180
مسئلہ ۵۶: ۱۵رجب ۱۳۰۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ا س مسئلہ میں کہ زید نے ایک درخت عمرو سے ا س شرط پر خریدا کہ اس کا کٹوادینا عمرو کے ذمہ ہے اب عمرو اس کے کٹوانے میں حجت کرتاہے، اس صورت میں کیاحکم ہے؟ بینوا توجروا
الجواب: درخت کاٹنے کے لئے بیچا جائے اس کا کاٹنا شرعا مشتری کے ذمہ ہے کما اوضحناہ بتوفیق اﷲ تعالٰی فی فتاوٰنا (جیسا کہ اللہ تعالٰی کی توفیق سے ہم اپنے فتاوٰی میں اسے واضح کرچکے ہیں ۔ ت)
ردالمحتارمیں ہے :
فی البحر من الظہیریۃ اشتری شجرۃ للقلع یؤمر بقلعہا الخ ۱؎۔
بحرمیں ظہریہ کے حوالے سے ہے کہ کسی شخص نے اکھاڑنے کےلئے درخت خریدا تو خریدار کو اسے اکھاڑنے کاحکم دیا جائے گا الخ (ت)
(۱؎ ردالمحتار کتاب البیوع فصل فی مایدخل فی البیع تبعا الخ داراحیاء التراث العربی بیروت 4/38)
یہا ں کہ برخلاف حکم شرع اس کے کٹوانے کی شرط ذمہ بائع لگائی گئی بیع فاسد ہوئی،
درمختار وردالمحتارمیں ہے:
یقطعہا المشتری فی الحال (ای اذا طلب البائع تفریغ ملکہ) وان شرط ترکھا فسدالبیع کشرط القطع علی البائع حاوی (وعلل فی البحر الفساد بانہ شرط لایقتضیہ العقد وھو شغل ملک الغیر ۲؎ اھ ملتقطا۔
مشتری اس درخت کوفی الحال کاٹے یعنی جب بائع اپنی ملکیت کی فراغت کا مطالبہ کرے، اور اگر اس کو زمین میں چھوڑے رکھنے کی شرط لگائی توبیع فاسد ہوگئی جیسا کہ کاٹنے کی ذمہ داری بائع پر عائد کرنے کی شرط لگانے سے بیع فاسد ہوجاتی ہے، حاوی بحر۔ میں فساد کی علت یو ں بیان فرمائی کہ یہ ایسی شرط ہے جس کا تقاضا عقد نہیں کرتا اور وہ شرط ملک غیر کو مشغول رکھنے کی ہے اھ ملتقطا (ت)
(۲؎ردالمحتار کتاب البیوع فصل فی مایدخل فی البیع تبعا الخ داراحیاء التراث العربی بیروت 39 /4)
(درمختار کتاب البیوع فصل فی مایدخل فی البیع تبعا الخ مجتبائی دہلی ۲ /۹)
پس بائع ومشتری دونو ں گنہگار ہوئے اور دونو ں پر بحکم شرع واجب ہے کہ اپنے اس بیع کوفسخ کریں ان میں جو کوئی نہ مانے دوسرا بے اس کی رضامندی کےکہہ دے میں نے اس بیع کو فسخ فوراً فسخ ہوجائے گی اور اگر دونو ں فسخ کرنا چاہیں اورحاکم شرع خو خبر ہو تو وہ جبر ا فسخ کردے کہ گناہ کا زائل کرنا فرض ہے،
درمختارمیں ہے :
یجب علی کل واحد منہما فسخہ قبل القبض اوبعدہ مادام المبیع بحالہ اعداماللفسادلانہ معصیۃ فیجب رفعہا بحرولذالایشترط فیہ قضاء قاضی واذا اصرعلی امساکہ وعلم بہ القاضی فلہ فسخہ جبرا علیہما حقا للشرع بزازیہ ۱؎۔
بیع فاسد کو بائع ومشتری میں سے ہر ایک پر واجب ہے چاہے مبیع پر قبضہ سے پہلے ہو یا بعد، جب تک مبیع اپنے حال پر قائم ہے اوریہ فسخ فساد کو ختم کرنے کے لئے ہے کیونکہ یہ معصیت ہے۔ لہٰذا اس کا رفع واجب ہے، بحر، یہی وجہ ہے کہ اس میں قضاء قاضی کی شرط بھی نہیں اور اگر وہ اس بیع فاسد کے برقرار رکھنے پر اصرار کریں اور قاضی کو خبر ہوجائے تو وہ حق شرع کے لئے ان دونوں یعنی بائع ومشتری پر جبر کرکے فسخ کراسکتاہے بزازیہ اھ تلخیص (ت)
(۱؎ درمختار کتاب البیوع باب البیع الفاسد مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۸)
پھر جب اس بیع کو فسخ کرلیں اورباہم رضامندی ہو تونئے سرے سے پھر بیع صحیح بغیر اس شرط مفسد کے کرسکتے ہیں ۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۵۷: ۴ رجب ۱۳۱۱ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اور مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید نے شیشی قاروری فی سیکڑہ دس آنے کے حساب سے خرید کر بمنافع فی صدی دوآنہ سیکڑہ کے عمرو سے تعدادی آٹھ سو قاروری کے مبلغ چھ روپے وصول پاکر قاروریان واسطے دینے عمرو کے اپنی دکان پر لاکر رکھیں اور عمرو سے کہا کہ آپ شیشیا ں اپنی لے جائے، عمرو نے جواب دیا کہ مجھ کو اس وقت فرصت نہیں ہے پیلی بھیت سے واپس آکر لو ں گا، جب عمرو پیلی بھیت سے واپس آیا اس وقت قاروریا ں شمار کی گئیں تو منجملہ آٹھ سو قاروری کے سو قاروری بوجہ ناز کی کے ٹوٹی نکلیں تو اب اس سوقاروری شکستہ کی قیمت ۱۲ زید کے ذمہ ہونا چاہئے یا عمرو کے؟ بینوا توجروا
الجواب: سائل مظہر کہ اس وقت بیع نہ ہوئی تھی بلکہ عمرو نے اس سے شیشیا ں مانگیں اس کے پاس نہ تھیں اس نے خرید کر دیناکہا اور قیمت فیصل کرلی کہ جس بھاؤ کو خریدو ں گا فی صدی دوآنے کے نفع پر تجھے دو ں گا۔ عمرو نے اسے پیشگی روپے دے دئے یہ صورت بیع کی نہ ہوئی صرف ایک وعدہ قرار داد ہوا اور اگر ایجاب وقبول ہو بھی جاتاتاہم باطل تھی کہ شیشیا ں زید کے پاس نہ تھیں اور جو چیز ہنوز اپنی ملک ہی میں نہیں بیع سلم کے سوا اس کا بیچنا باطل ہے۔
فی الدرالمختار من البیع الباطل وبیع مالیس فی ملکہ لبطلان بیع المعدوم ومالہ خطرالعدم لابطریق السلم لانہ علیہ الصلٰوۃ والسلام نھی عن بیع مالیس عندالانسان ورخص فی السلم ۱؎ اھ قال فی ردالمحتار المراد بیع ما سیملکہ قبل ملکہ لہ ۲؎۔
درمختار میں ہے کہ بیع باطل کے قبیلہ سے ہے اس چیز کی بیع جا بائع کی ملک میں نہ ہو کیونکہ معدوم چیز اور وہ چیز جس کے عدم کا خطرہ ہو اس کی بیع باطل ہے مگر بطور سلم ان کی بیع باطل نہیں اس لئے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے اس چیز کی بیع سے منع فرمایا جو آدمی کے پاس نہ ہواور بیع سلم میں رخصت دی الخ ردالمحتار میں فرمایا کہ اس سے مراد اس چیز کی بیع ہے جو عنقریب اس کی ملک میں آئے گی اس کی ملک میں ہونے سے قبل۔ (ت) پس شیشیا ں کہ زید نے خریدیں زیدہی کی ملک تھیں جتنی ٹوٹیں اس کی عمرو سے کچھ علاقہ نہیں ۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
(۱؎ درمختار کتاب البیوع باب البیع الفاسد مطبع مجتبائی دہلی 24 /2 )
(۲؎ ردالمحتار کتاب البیوع باب البیع الفاسد داراحیاء التراث العربی بیروت 105/ 4)
مسئلہ ۵۸: ۱۹ رمضان المبارک ۱۳۱۲ھ
علمائے دین اس مسئلہ میں کیا فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے پھول پر انبہ خریدے اور کل روپیہ دینے کافرداپر وعدہ کیا مگر کل کی قیمت وعدہ پر ادا نہ کی، وعدہ کو فسخ کیا، بیع جائز ہے یاناجائز؟بینوا توجروا
الجواب: پھل کا پھول پر بیچنا ہی سرے سے حرام وناجائز ہے وہ بیع بالاتفاق صحیح نہ ہوئی بائع ومشتری دونو ں پر اس سے دست کشی وتوبہ لازم ہے :
درمختارمیں ہے کہ کسی نے پھل کو نمودار ہونے سے پہلے بیچا تو بالاتفاق صحیح نہیں ۔ (ت) واللہ تعالی اعلم۔
(۱؎ درمختار کتاب البیوع فصل فی ما یدخل فی البیع تبعا الخ مطبع مجتبائی دہلی 9/ 2)
مسئلہ ۵۹: مسئولہ محمدعلی بخش ۹ربیع الاول ۱۳۰۸ھ
جناب عالی! کیا فرماتے ہیں آپ اس مقدمہ میں کہ ایک جائداد بقیمت مبلغ تین ہزار روپیہ کو خرید کرتاہو ں اوریہ شرط ٹھہرتی ہے کہ جب اس کاجی چاہے اسی قیمت کو یا کچھ روپے زیادہ دے کر مجھ سے پھر خریدلیں میں بلاعذر ان کو دے دو ں گا، اگر یہ جائز ہو توحکم فرمائے۔
الجواب: اندراج شرط مذکور الصدور بیعنامہ میں مفسد بیع ہے کیونکہ جو شروط زائد مفید بائع ہو ں یا مشتری باطل کنندہ بیع میں فقط محمد یعقوب علی خا ں
الجواب: بیعنامہ کوئی چیز نہیں وہ گفتگو عقد کی جو زبانی عاقدین میں ہو شرعا اس کا اعتبارہے اگر اس میں بائع نے صرف اس قدر کہیا کہ میں نے یہ چیزیں تین ہزار روپیہ کو بیچیں اور مشتری نے کہا میں نے قبول کیں ، اورعقد ختم کردیا، اور دونو ں نے اسے بیع صحیح شرعی لازم سمجھا تو بیع صحیح وجائز ہوگئی، مشتری جائداد اور بائع قیمت کا مالک ہوگیا پھرختم عقد کے بعد عقد سے علاوہ (عہ) باہم یہ ٹھہرا لیا کہ جب تو چاہنا مجھ سے خریدلینا میں تیرے ہاتھ بیچ ڈالو ں گا، پھر اگر بیعنامہ میں اس وثوق سے کہ کہیں یہ اپنے وعدہ سے نہ پھر جائے یو ں لکھا گیا کہ میں نے فلا ں جائداد بکر ک ہاتھ بعوض سوا تین ہزار روپے کے بیع صحیح شرعی کی اورباہم یہ وعدہ قرار داد ہےکہ میں جب چاہو ں اس قدر روپے کو یہ جائداد مشتری سے خریدلو ں اسے میرے ہاتھ بیع میں عذر نہ ہوگا تو اس لکھے جانے سے بیع میں اصلا حرج نہیں کہ عقد تو وہی تھا جو ان میں باہم زبانی ہوا اس میں اس شرط کا اصلا ذکر نہ تھا بیعنامہ میں ایک ساتھ تحریر ہونا عقد شرعی کو جوصحیح واقع ہوا فاسد نہیں ہوسکتاہے۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
عہ : یتعلق بہ مسئلۃ التحاق الشرط بعد العقد بالعقد وفیہا قولان مصححان ۱۲ منہ۔
عقد کے بعد شر ط کو عقد کے ساتھ ملحق کرنے کا مسئلہ بھی اس سے متعلق ہے اوراس میں دو مصحح قول ہیں ۱۲ منہ (ت)