Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۷(کتاب البیوع، کتاب الحوالہ، کتاب الکفالہ )
20 - 180
فقیر غفرلہ اللہ تعالٰی لہ مسئلہ تجارت نوٹ میں اسے واضح کرچکا وباللہ التوفیق مگر ان صورتو ں کا وقوع نادر ہے،انھیں پرقانع ہوکر تجارت نہ چل سکے گی، اور اگرکوئی قناعت کرے اور جب تک ہوسکتاہے البتہ ایک صورت عدم اکراہ کثیر الوقوع ہے یعنی جھوٹی نالش کے لئے خریدنا کہ یہ لوگ مظلوم نہیں خود ظالم ہیں توانھیں شراء پر کیا مجبوری ان کے ہاتھ بیچنے میں اگر چہ عدم حلت کی وہ وجہ نہ ہوئی،مگر اور وجوہ معصیت پیداہو ں گی کہ درحال سے خالی نہیں یا تو بائع کو معلوم ہوگا کہ مشتری ظالم ہے اور خاص نالش ناحق کے لئے خریدتاہے یا بے دلیل وعلم ٹھہرا لے گا کہ اس مشتری کا ایسا ارادہ ہے برتقدیر ثانی سوء ظن میں گرفتار ہوا اور بدگمانی حرام قطعی، پھر تراشیدہ خیال معصیت مال کی بناء پر کیونکر مال مسلم کا استحلال کرسکتاہے، برتقدیر اول جبکہ یہ جاننا تھا کہ وہ نالش دروغ کے لئے کاغذ لیتاہے تو اس سے اس کے ہاتھ بیچنا معصیت پر اعانت کرنا ہوا جس طرح اہل فتنہ کے ہاتھ ہتھیار اور معصیت پر اعانت خود ممنوع ومعصیت،
  قال عزوجل ولاتعاونوا علی الاثم والعدوان ۲؎۔
آپس میں ایک دوسرے کی مددنہ کرو گناہ اور حد سے بڑھنے پر۔ واﷲ الہادی ھذا ماعندی والعلم بالحق عند ربی،  واﷲ سبحنہ وتعالٰی اعلم۔ اور اللہ تعالٰی ہی ہدایت دینے والاہے یہ وہ ہے جو میرے پاس ہے اور حق کا علم میرے پروردگار کے پاس ہے، اور اللہ سبحانہ وتعالٰی خوب جاننے والا ہے۔(ت)
 (۲؎ القرآن الکریم   ۵/۲)
مسئلہ ۵۴: از کلکتہ فوجداری بالاخانہ نمبر ۳۶ مرسلہ جناب مرزا غلام قادر بیگ صاحب

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ یہا ں کلکتہ میں مصنوعی یعنی میل کا گھی بکتاہے باوجود علم ایسا گھی تجارت کے لئے خرید کر بیچنا جائز ہے یانہیں ؟ بینوا توجروا
الجواب:اگریہ مصنوعی جعلی گھی وہا ں عام طور پر بکتاہے کہ ہر شخص اس کے جعل ہونے پر مطلع ہے اور باوجود اطلاع خریدتاہے تو بشرطیکہ خریداراسی بلد کا ہو، نہ غریب الوطن تازہ وارد ناواقف اور گھی میں اس قدرمیل سے جتنا وہا ں عام طورپر لوگو ں کے ذہن میں ہے اپنی طرف سے اور زائد نہ کیا جائے نہ کسی طرح اس کا جعلی ہونا چھپا یاجائے، خلاصہ یہ کہ جب خریدارو ں پر اس کی حالت مکشوف ہو اور فریب ومغالطہ راہ نہ پائے تو اس کی تجارت جائزہے، اخر گھی بیچنا بھی جائز اور جوچیز اس میں ملائی گئی اس کا بیچنا بھی، اور عدم جواز صرف بوجہ غش وفریب تھا، جب حال ظاہر ہے غش نہ ہوا، اور جواز رہا جیسے بازاری دودھ کہ سب جانتے ہیں کہ اس میں پانی ہے او ر باوصف علم خریدتے یہ اس صورت میں ہے جبکہ بائع وقت بیع اصلی حالت خریدار پرظاہر نہ کردے، اور اگر خود بتادے تو ظاہر الروایت ومذہب امام عظم رضی اللہ تعالٰی عنہ میں مطلقا جائز ہے خواہ کتنا ہی میل ہو اگرچہ خریدار غریب الوطن ہو کہ بعدبیان فریب نہ رہا،
درمختارمیں ہے :
لاباس ببیع المغشوش اذا بین غشہ اوکان ظاھرا یری وکذاقال ابوحنیفۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ فی حنطۃ خلط فیہا الشعیر والشعیریری لاباس بیبعہ و ان طحنہ لایبیع وقال الثانی فی رجل معہ فضۃ نحاس لایبیعہا حتی یبین ۱؎۔
ملاوٹ والی چیز کو فروخت کرنے میں کوئی حرج نہیں جب اس کی ملاوٹ کو بیان کردے یا ملاوٹ ایسی ظاہر ہو کہ دکھائی دیتی ہو اوریونہی فرمایا امام ابوحنیفہ رضی اللہ تعالٰی عنہ نے ایسی گندم کے بارے میں جس میں جوملے ہوئے ہو ں اس طورپو کہ جونظر آتے ہو ں تو ایسی گندم کی بیع کوئی مضائقہ نہیں اور اگر اس مخلوط گندم کو پیس لیا تومت بیچئے، اور امام ابویوسف نے اس شخص کے بارے میں فرمایا جس کے پاس تانبا ملی چاندی ہے کہ وہ اسے بتائے بغیر نہ بیچے۔ (ت)
 (۱؎ درمختار  باب المتفرقہ  مطبع مجتبائی دہلی    ۲/ ۵۲)
ردالمحتار میں ہے :
قول وان طحنہ لایبیع ای الاان یبین لانہ لایری ۱؎۔
ماتن کا یہ فرمانا کہ جب اس نے مخلوط گندم کو پیش لیا تو مت بیچے، اس کا مطلب یہ ہے کہ بیان کئے بغیر نہ بیچےکیونکہ اب اس میں ملاوٹ دکھائی نہیں دیتی، (ت)
(۱؎ ردالمحتار   باب المتفرقات    داراحیاء التراث العربی بیروت   ۴/ ۲۲۱)
بالجملہ:  مدار کا ظہور امر پرہے خواہ خود ظاہر ہو جیسے گیہو ں میں جو چنو ں میں کسایا بجہت عرف و اشتہار مشتری پرواضح ہوجیسے دودھ کا معمولی پانی خواہ یہ خو دحالت واقعی تمام وکمال بیان کرے، واللہ سبحنہ وتعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
مسئلہ ۵۵: ۸شوال ۱۳۰۸ھ ازلبکن

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید جو زمانہ دراز سے بعارضہ آتشک سخت علیل ہے اپنی زمینداری غیر منقسمہ کو صرف حق تلفی زوجہ منکوحہ ذی مہر اور ورثاء ذوی الفروض مثل دختر اپنی کے بدست اپنے لڑکے نابالغ کے کہ جو عورت بازاری غیر نکاحی کے بطن سے ہے بیع شرعی کرکے زرثمن اس کا ہبہ کردینا (بایں عبارت کہ بعد ایجاب وقبول زرثمن حقیت مبیعہ کا بحق مشتری ہبہ کردیا) ظاہر کرتاہے تو درحالیکہ مشتری نابالغ ہے توہبہ کردینا زرثمن کا بحق مشتری عندالشرع قابل تقسیم ہے یانہیں اوریہ بیع شرعا جائزہے یاناجائز؟ بینوا توجروا
الجواب: یہ بیع شرعا محض باطل وناجائزہے، وہ لڑکا جبکہ زنا سے ہے تو شرعا نہ وہ زیدکا بیٹانہ زید اس کا باپ،قال رسول اﷲ تعالٰی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم الولد للفراش وللعاہر الحجر ۲؎۔    رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا: اولاد خاوند کے لئے ہے اورزانی کے لئے پتھر ہیں ۔ (ت)
(۲؎ صحیح البخاری کتاب البیوع    باب تفسیر المشبہات  قدیمی کتب خانہ کراچی    ۱/ ۲۷۶)
تو زید اس پر اصلا ولایت مالیہ نہین رکھتا بلکہ محض اجنبی ہے ولایت مالیہ تو باپ دادا اور قاضی شرع اور ان کے اوصیاءکے سوا ما ں بھائی چچاکو بھی نہیں ہوتی نہ کہ ایسا شخص جس سےکچھ علاقہ نہيں ،
تنویر الابصار میں ہے:
ولیہ ابوہ ثم وصیہ ثم جدہ ثم وصیہ ثم القاضی او وصیہ دون الام او وصیہا ۱؎ (ملتقطا)
نابالغ کا ولی اس کا باپ ہے پھر باپ کا وصی پھر اس کا دادا، پھردادا کا وصی پھر قاضی یا اس کا وصی ،نہ کہ ما ں یا اس کا وصی (ملتقطا) (ت)
(۱؎ درمختار    کتاب الماذون    مطبع مجتبائی دہلی    ۲/ ۲۰۳)
اولا: زید کو اس نابالغ کے لئے جائداد اور اپنے نفس سے خواہ کسی غیر سے اپنے روپے خواہ نابالغ کے روپیہ سے کسی طرح خریدنے کا اصلا اختیار نہ تھا کہ یہ اختیار ولی مال کے سوا کسی کونہیں ۔
درمختارمیں ہے :
ام و اخ لایملکان بیع العقار مطلقا و لاشراء غیر طعام وکسوۃ ۲؎۔
نابالغ کی ما ں اور اس کا بھائی نابالغ کی غیر منقولہ جائداد کو کسی طرح فروخت کرنے کا اختیار نہیں رکھتے اور نہ ہی انھیں طعام ولباس کے سوا کچھ خریدنے کا اختیارہے۔ (ت)
 (۲؎درمختار    کتاب الوصایا   مطبع مجتبائی دہلی    337/ 2)
ثانیا : وہ اس خریداری میں فضولی ہے لعدم ولایۃ ولاوصایۃ (ولایت او روصی نہ ہونے کی بناء پر۔ ت) اور وہ اس بیع میں طرفین ایجاب وقبول دونو ں کا خود ہی متولی ہوا ایسی صورت میں جب یہ شخص کسی طرف سے فضولی ہو عقد باطل محض ہوتاہے۔
درمختار میں ہے :
لایتوقف الایجاب علی قبول غائب عن المجلس فی سائر العقود من نکاح وبیع وغیرہما بل یبطل الایجاب ولاتلحقہ الاجازۃ اتفاقا ۳؎۔
ایجاب مجلس سے غائب شخص کے قبول پر موقوف نہیں ہوتا تمام عقود میں جیسے نکاح او ر بیع وغیرہ بلکہ وہ ایجاب باطل ہوجاتاہے اور بالاتفاق اس کو اجازت لاحق نہیں ہوتی۔ (ت)
(۳؎درمختار    کتاب النکاح   مطبع مجتبائی دہلی   ۱/ ۱۹۶)
ردالمحتارمیں ہے :
 فاذا اوجب الحاضر وھو فضولی من جانب اومن الجانبین لایتوقف علی قبول الغائب بل یبطل وان قبل العاقد الحاضر بان یتکلم بکلامین کما یأتی ۴؎۔
    جب حاضر ایجاب کیا اور آنحالیکہ وہ فضولی ہے ایک طرف  سے یا دونو ں طرفو ں سے تو وہ ایجاب، غائب کے قبول پر موقوف نہیں رہے گا بلکہ باطل ہوجائے گا اگرچہ عاقد حاضر نے قبول کیا ہوبایں طور کہ دونو ں کلامو ں (ایجاب وقبول) سے تکلم کیا ہو جیسا کہ آرہاہے۔ (ت)
 (۴؎ ردالمحتار   کتاب النکاح     داراحیاء التراث العربی بیروت    ۲/ ۳۲۶)
پس یہ بیع محض باطل وبے اثر ہے اور جائداد بدستور ملک زید پر باقی، واللہ تعالٰی اعلم۔
Flag Counter