Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۷(کتاب البیوع، کتاب الحوالہ، کتاب الکفالہ )
19 - 180
ظاہر ہے کہ آدمی نالش اپنے استخراج کےلئے کرتاہے جبکہ خود اس کی تحصیل پر قادرنہیں ہوتا اور کوئی شخص اپنے دل کی خوشی سے نہ چاہے گا کہ میراحق جو غیر کے پاس ہے بے صرف کے میسرنہ ہو بلکہ جب اسے اپنا حق جانے گا قطعا مفت ہی ہاتھ آنا چاہے گا، ہا ں اگر دیکھے گا کہ یو ں نہیں مل سکتا ناچار بحکم من ابتلی ببلیتین اختاراھونہما ۲؎ (جو شخص دو مصیتبو ں میں مبتلا ہو وہ ان میں سے ہر کمتر کو اختیار کرے۔ ت)
 (۲؎ الاشباہ والنظائر    الفن الاول    بیان احکام من ابتلی ببلیتین    ادارۃ القرآن کراچی    123/ 1)
صرف وخرچ گوارا کرلے گا کہ سارا دھن جاتا دیکھے تو آدھا دیجئے بانٹ، یہ معنی اگر چہ منافی اختیار نہیں کہ کسی نے اس پر اپنا حق لینے کا جبر نہ کیا تھا اسے اختیار تھا کہ بالکل خاموش رہنا تو یہ صرف نہ پڑتھا مگر مفسد رضا بیشک ہے اگربے اس کے وصول ممکن جانتا ہر گز خرچ اختیار نہ کرتا مثلا عمرو نے زید کا سو روپے کا مال دبالیا اورکہتاہے دس روپے دے تو واپس کرو ں ، زید اس کی زبردستی اور اپنا عجز جان کر دس دے آیا اور مال چھڑالیا یہ روپے اگرچہ فی الواقع زید نے باختیار خود دیے مگر عمرو کے لئے حلال نہ ہوجائیں گے کہ ہر گز برضائے خود نہ دئے، اختیار ورضا میں زمین وآسمان کا فرق ہے ، اور عقود بیع وشراء وہبہ وامثالہا صرف بے اختیاری ہی سے فاسد نہیں ہوتے بلکہ عدم رضا بھی ان کے فساد کو بس ہے۔ کما مرفی قولہ تعالٰی عن تراض منکم ۳؎ وفی الحدیث الابطیب نفسہ ۴؎۔ جیسا کہ اللہ تعالٰی کے اس ارشاد میں گزرا کہ کسی کا مال مت کھاؤ سوائے اس کے کہ تمھارے درمیان باہمی رضامندی سے سودا ہو، اور حدیث میں گزرا کہ کسی مومن کی دلی خوشی کے بغیر اس کا مال لینا حلال نہیں ۔ (ت)
     (۳؎ القرآن الکریم       ۴ /۲۹ )

 (۴؎ الترغیب والترہیب     بحوالہ ابن حبان حدیث ۹    مصطفی البابی مصر    ۳ /۱۷)
ردالمحتار میں ہے :
نفی الرضٰی اعم من افساد الاختیار و الرضی بازاء الکراھۃ والاختیار بازاء الجبر ففی الاکراہ بحبس اوضرب لاشک فی وجوب الکراھۃ وعدم الرضی وان تحقق الاختیار الصحیح اذ فسادہ انما ھو بالتخریف باتلاف النفس او العضو ۱؎۔
رضاء کی نفی فساد اختیار سے عام ہے اور رضا کراہت کے مقابلے میں جبکہ اختیار جبرکے مقابلے میں آتاہے، چنانچہ قید اور مار کے ذریعے اکراہ کی صورت میں کراہت وعدم رضا کے پائے جانے میں کوئی شک نہیں اگر چہ اختیار صحیح متحقق ہے کیونکہ فساد اختیار جان سے ماردینے یا عضو کے ضائع کردینے کی دھمکی دے حاصل ہوتاہے۔ (ت)
 (۱؎ ردالمحتار    کتاب الاکراہ   داراحیاء التراث العربی بیروت    ۵ /۸۰)
درمختار میں ہے :
الاکراہ الملجی وغیر الملجی یعد مان الرضاء والرضاء شرط لصحۃ ھذہ العقود وکذا لصحۃ الاقرار فلذاصارلہ حق الفسخ والامضاء ۲؎۔
      اکراہ ملجی و غیر ملجی یعنی اکراہ تام وناقص رضاکو ختم کردیتے ہیں حالانکہ ان عقود کی صحت کے لئے رضا شرط ہے اور اسی طرح صحت اقرار کے لئے بھی رضا شرط ہے، اسی لئے اس کو فسخ کرنے اور جاری رکھنے کا حق حاصل ہوا ہے۔ (ت)
 (۲؎ درمختار     کتاب الاکراہ       مطبع مجتبائی دہلی        ۲/ ۱۹۵)
بعینہٖ یہی حال خریداری کاغذ مذکورکا ہے کوئی شخص بلاوجہ اپنا ایک پیسہ ضائع جانا گوارانہیں کرتا مال کا سولہواں حصہ تو بہت ہوتاہے مگر جب رئیس کاحکم ہے کہ بے اس کے کوئی نالش نہ سنی جائے تو آدمی یا تو اپنے حقوق واملاک سے یکدست ہاتھ دھو بیٹھے یہ ممکن نہیں کہ ظالم ناخدا ترس جس کے اس عزم پر آگاہ ہوجائیں اس کے تن کے کپڑے تک اتار کر بس نہ کریں کہ آخریہ بخوف مصرف نالش تو کرے گا ہی نہیں پھر ڈر کاہے یا، رہی عاقبت، وہ کس نےدیکھی ہےخدا کا سامنا ہوگا ہوگا، آج تو اپنی چلتی گئی نہ کریں ، یہ ان کاحال ہے جو خدا کا سامنا ہونے پر ایمان لاتے ہیں اور جو اس پراعتقاد ہی نہیں رکھتے ان کیا کہنا، وہ توپورے بے غم ہے یا بحالت قدرت بطور خود جبرا اپنے حقوق واپس کرلے توالٹی ان کی طرف سے نالش ہو اورحکم کے نزدیک یہ خود مجرم ٹھہرے معہذا

جوا بدی نہ کرے تو وہی ظلم بے تحاشہ اور کرے تو اب کیا اس قسم کے صرف نہ ہو ں گے پھر بھی ہما ں آش درکاسہ غرض دنیا میں سب راہیں بند ہیں سوا اس کے کہ ریاست سے مددلے اورریاست علانیہ حکم دے چکی کہ ہماری امداد اسی شرط پر موقوف ہے ورنہ زنہار دار القضاء کے دروازے تک بازنہ ہوگا ناچار خریداری کاغذ مذکور گوارا کرے گا  مگریہ گوارش اسی طرح کی ہے کہ دل نہیں چاہتا بس چلے تو حق یہی ہے کہ اپنا حق بے کوڑی خرچے ہاتھ لگے مگر مجبوری کوکیا کیجئے، تو ثابت ہوا کہ یہ خریداری ہرگز بطیب خاطر نہیں ہوتی اور جو روپیہ اس کے بدلے نذر فروشندگان ہوتاہے زنہار رضائے قلب سے نہیں دیا جاتا تو بحکم قرآن وحدیث اسے مال حلال وطیب نہیں کہہ سکتے، ہا ں اس قدر مسلم کہ بوجہ مرور زمان وعموم ابتلاء بہت لوگو ں خصوصا مقدمہ بازو ں پر اس قسم کے مصارف میں آثار کراہت غالبا ظاہر نہیں ہوتے مگر حاشا یہ طیب نفس ورضائے دلی نہیں بلکہ یہ بات وہی ہے کہ عادت ہوگئی اور جب سب ایک حال میں ہیں تو مرگ انبوہ جشنے دارد (اجتماع کی موت میں اپنی موت جشن رکھتی ہے۔ ت) آخر اور رقمو ں میں نہ دیکھئے جن میں اپنے کسی نفع کی توقع نہیں ہوتی اور رؤسا وسلاطین اموال ومزارع پر باندھ دیتے ہیں اول اول چند روز ایک عام واویلا رہتاہے پھر کچھ نہیں کہ آخر دنیا اول دنیا پھر اظہار کراہت بے معنی جب زیادہ زمانہ گزرا چلئے وہ رفتہ رفتہ ایک امور عادیہ میں داخل ہوگیا مگر دل کی خواہش ہرگز اس کی مساعد نہیں ہوجاتی اس کا سہل سا ایک امتحان یہ ہے کہ مثلا اسی کاغذ ہی کے نسبت ریاست کاحکم ہوجائے کہ ضروری نہیں سادے پر بھی دعوٰی سن لیں گے پر دیکھئے کتنے خرید نے جاتے ہیں ، حاشا وکلا کوئی پاس بھی نہ پھٹکے گاکہ بلاوجہ اپناخرچ کسے بھاتاہے تو قطعا عدم رضا دائمی ابدی ہے اور یہ شراء بالکل شرائے مکروہ کی حالت میں ہے  وبعداللتیا واللتی (اوربحث وتمحیص کے بعد۔ ت) عدم رضا وفقدان طیب نفس میں کلام نہیں اور اسی قدر انعدام حلت میں کافی علماء فرماتے ہیں اگر بادشاہ وقت کا بھاؤ کاٹ دے مثلا لوگ روپیہ کے پندرہ سیر گیہو ں بیچتے ہیں حاکم حکم دے کہ بیس سیر سے کم نہ بیچیں ورنہ سزا پائیں گے اسی صورت میں مشتری کے لئے یہ بھاؤحلال نہ ہوگاکہ اگرچہ حاکم  نے بائع کو بیع پر جبر نہ کیا کہ اصلا نہ بیچے تو اپنے مال کا مالک ہے مگریہ حکم تو کردیا ہے کہ بیچے تو اسی بھاؤ بیچے اور اس کی مخالفت میں حاکم کی طرف سے اندیشہ ہے تو اس نرخ پر اس کی رضا متحقق نہ ہوئی، اور مسلمان کا مال بے مرضی لینا حلال نہیں ۔ درمختار میں ہے : اذا سعر وخاف البائع ضرب الامام لونقص لایحل للمشتری ۱؎۔  اگر حاکم نرخ مقررکردے اور بائع کوضرب حاکم کاڈر ہے اگر وہ اس نرخ میں کمی کرے تو ایسی صورت میں مشتری کے لئے حلال نہیں ۔ (ت)
 (۱؎ درمختار    کتاب الحظروالاباحۃ     فصل فی البیع        مطبع مجتبائی دہلی    ۲ /۲۴۸)
شرح نقایہ میں ہے:
لوسعر فباع للخوف لم یحل للمشتری لقولہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم لایحل مال امری مسلم الابطیب نفس منہ ۲؎۔
اگر حاکم نے نرخ مقرر کردیا اوربائع اس کے خوف سے فروخت کیا تو مشتری کے لئے حلال نہیں کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا ارشاد ہے کسی مسلمان کا مال اس کی دلی خوشی کے بغیر لینا حلال نہیں ۔ (ت)
(۲؎ جامع الرموز    کتاب الکراھیۃ        مکتبہ اسلامیہ گنبد قاموس ایران     ۳ /۳۲۴)
اسی طرح اگرچہ رئیس نے نالش پرمجبور نہ کیا نہ کرے تو اپنے ترک حق کا مختار ہے مگرحکم دیا ہے کہ کرے تو کاغذ ضرورہی دے اور اسی مقدار کا دے اور اس کی مخالفت میں تلف حق کا اندیشہ ہی نہیں بلکہ یقین کا مل ہے تو اس شراء پر بھی رضامتحقق نہ ہوئی، فرق اس قدرہے کہ حکم حاکم نہ ہوتا تو گیہو ں والا گیہو ں خود بھی بیچتا اگرچہ زیادہ کو، اور یہا ں حکم نہ ہوتا تو نالش والایہ کاغذ کوڑی کو بھی نہ پوچھتا کم لایخفی (جیسا کہ پوشیدہ نہیں ۔ ت)
بالجملہ فقیر غفراللہ تعالٰی لہ جہا ں تک نظر کرتاہے اس تجارت کے مطابق حلال وطیب ہونے کی راہ نہیں پاتا، ہا ں بعض صورتیں ایسی بھی ہیں جن میں مشتری بخوشی خود خریدیں مثلا فروشندہ سے دوسرے نے قدرے نفع دے کر بیچنے کو مول لیا جیسے اونچے بزازو ں سے گٹھری والے کپڑالیتے ہیں یا نالش جس بات پر کرتاہے وہ ایسی نہ تھی جس سے درگزر کرنی کچھ اس پر شاق ہوتی صرف ایذائے مخالف یا انتقام کے لئے نالش چاہتاہے یہ بھی صورت حاجت کی نہ ہوئی، یا دائن کو یہ کاغذ درکا تھا مدیو ں سے کہا میرے قرض لادے وہ لے آیا یہ خریدار ی بھی برضائے خود ہوئی کہ اس پر کاغذ دے کر قرض اتارنا لازم تھا، یا اپنے کسی بزرک کو نالش کی حاجت ہوئی چھوٹے نے خوشنودی کے لئے اپنے پاس سے کاغذ خرید کر لگایا خواہ کسی عزیز یا دوست یا محتاج کے کام میں صرف کیا کہ یہ سب حالتیں خریدار کی ضرورت کی نہیں ایسی صورت میں بیشک بیع صحیح وجائز اور زرثمن فروشندہ کےلئے حلال وطیب، اور صرف یہ بات کہ ومڑی کا کاغذ سوروپے کوکیونکر جائے بعد ثبوت تراضی موثر نہیں، ہر شخص اپنے مال کا مختار ہے جنتے کو چاہے بیچے،
اما م محقق علی الاطلاق فتح القدیر میں ہے :
لوباع کاغذۃ بالف یجوز ولایکرہ ۱؎۔
اگر کسی نے کاغذ کا ٹکڑا ہزار کے بدلے میں فروخت کیا تویہ جائز ہے مکروہ نہیں ہے۔(ت)
(۱؎ فتح القدیر  کتاب الکفالۃ   مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر   224/     2)
Flag Counter