Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۷(کتاب البیوع، کتاب الحوالہ، کتاب الکفالہ )
180 - 180
ردالمحتار میں ہے :
اجماع علی ان المحتال لوابرأالمحتال علیہ من الدین اووھبہ منہ صح ولو ابرأ المحال علیہ من الدین او وھبہ منہ صح ولو ابرأ المحیل او وھبہ لم یصح۔۵؎
اس پر اجماع ہے کہ اگرمحتال، محتال علیہ کو قرض سے بری کردے یا اس کو قرض سے بری کردے یا اس کو قرض ہبہ کردے تو صحیح ہے اور اگرمحیل کو بری کیا یا اس کو قرض ہبہ کیاتوصحیح نہیں۔(ت)
 (۵؎ ردالمحتار          کتاب الحوالہ       داراحیاء التراث العربی بیروت    ۴/ ۲۸۸)
ولہٰذا اب اگر اصل مدیون اس اترے ہوئے دَین کے بدلے کوئی چیز دائن کے پاس رہن رکھے صحیح نہیں کہ دَین اس پر رہا ہی نہیں یہ رہن کاہے کے عوض رکھتاہے،
کافی شرح وافی پھرعالمگیریہ میں ہے:
لواحال بدینہ فرھن لایصح۱؎
اگرمحیل نے قرض پرکسی کاحوالہ کردیا پھردائن کے پاس کچھ رہن رکھا تو صحیح نہیں۔(ت)
(۱؎ فتاوٰی ہندیہ     بحوالہ الکافی         کتاب الحوا لہ الباب الاول        نورانی کتب خانہ پشاور    ۳/ ۲۹۶)
اور اگرپہلے سے اس دَین کے بدلے کوئی رہن دائن کے پاس رکھا ہواتھا حوالہ ہوتے ہی دائن سے واپس لے لے گا کہ اب دَین اس پر نہ رہامحیط امام شمس الائمہ سرخسی پھرہندیہ میں ہے:
اذا احال الراھن المرتہن بالدین علی غیرہ یسترد الرھن۲؎۔
جب راہن نے مرتہن کاقرض کسی اور پر حوالہ کردیا تواب رہن واپس لے سکتاہے۔(ت)
 (۲؎ فتاوٰی ہندیہ      بحوالہ محیط السرخسی   کتاب الحوا لہ الباب الاول        نورانی کتب خانہ پشاور    ۳/ ۲۹۶)
حوالہ کے بعد دائن کواصلاً اختیارنہیں رہتا کہ اصل مدیون سے اپنے دَین کامطالبہ کرے، ہاں اگر محتال علیہ حوالہ ہونے سے مکرجائے اور قسم کھالے اور محیل ومحتال کسی کے پاس گواہ نہ ہوں یامحتال علیہ مفلس مرجائے کہ جائداد یامال نقد یاقرض نہ چھوڑے، نہ کوئی اس کی طرف سے ضامن ہو تو صرف اس صورت میں حوالہ باطل ہوکر دَین پھر اصل مدیون پرعود کرتاہے، عود کرنے کے معنی ہی خود یہ ہیں کہ اس سے پہلے اس پر دَین نہ رہاتھا،
تبیین الحقائق شرح کنزالدقائق للامام الزیلعی میں ہے :
لم یرجع المحتال علی المحیل الا ان یتوی حقہ فاذا توی علیہ عاد الدین الی ذمۃ المحیل والتوی عندابی حنیفۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ احدالامرین اما ان یجحد المحتال علیہ الحوالۃ ویخلف ولابینۃ للمحیل ولاللمحتال لہ اویموت مفلسا بان لم یترک مالا عینا لادینا ولاکفیلا۳؎۔(ملخصا)
محتال محیل کی طرف رجوع نہیں کرسکتا مگر اس وقت کرسکتاہے جب اس کا حق ہلاک ہوجائے، ہلاکت کی صورت میں دَین محیل کے ذمہ کی طرف لوٹ آتاہے، اور ہلاکت کی امام ابوحنیفہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے نزدیک دوصورتیں ہیں یا یہ کہ محتال  علیہ حوالہ کا انکار کرے اور قسم کھا جائے جبکہ محیل اور محتال لہ کے پاس گواہ نہ ہوں یا محتال علیہ مفلس ہوکرمرجائے نہ کوئی عین چھوڑے نہ دَین اور نہ ہی کوئی کفیل۔(ت)
 (۳؎ تبیین الحقائق           کتاب الحوا لہ    المطبعۃ الکبری الامیریہ بولاق مصر    ۴/ ۷۳۔۱۷۲)
تنویرالابصار ودرمختارمیں ہے:
لایرجع المحتال علی المحیل الابالتوی و ھوباحدامرین ان یجحد المحال علیہ الحوالۃ ویحلف ولابینۃ لہ اویموت مفلسا بغیرعین ودین وکفیل وقالابھما وبان فلسہ الحاکم۱؎۔
ہلاکت کی صورت کے علاوہ محتال محیل کی طرف رجوع نہیں کرسکتا اور ہلاکت دومیں سے ایک امر کے ساتھ ہوتی ہے یامحتال علیہ حوالہ کاانکار کرکے قسم کھاجائے اور محتال لہ، کے پاس گواہ نہ ہوں یا محتال علیہ مفلس ہوکرمرجائے اور کوئی عین، دَین یا کفیل نہ چھوڑے، او ر صاحبین نے کہا ان دوصورتوں سے بھی اور ہلاکت متحقق ہوتی اور حاکم کے اس (محتال علیہ) کو مفلس قراردینے سے بھی۔(ت)
 (۱؎ درمختار شرح تنویرالابصار        کتاب الحوالہ    مطبع مجتبائی دہلی    ۲/ ۶۹)
ردالمحتار میں ہے:
ظاھرکلامھم متوناوشروحا تصحیح قول الامام ونقل تصحیحہ العلامۃ قاسم ولم ارمن صحح قولھما۲؎۔
متون وشیروح میں فقہاء کے کلام سے ظاہرامام ابوحنیفہ کے قول کی تصحیح ہے اور علامہ قاسم نے امام صاحب کے قول کی تصحیح کو نقل کیا، میں نےکسی کو نہیں دیکھا جس نے صاحبین کے قول کی تصحیح کی ہو(ت)
 (۲؎ ردالمحتار            کتاب الحوالہ      داراحیاء التراث العربی بیروت    ۴/ ۲۹۳)
ان تصریحات وتصحیحات وھوالصحیح وعلیہ الفتوی (وہی صحیح ہے اور اسی پرفتوٰی ہے۔ت) کے بعد پھر یہ گمان کرنا کہ بدری پرشاد زید کی طرف سے اداکرے گا وہ سودزید کی طرف سے منوسنگھ کودیاجائے گا کیسی فاحش غلطی ہے، سبحان اﷲ! جب نہ یہ مدیون رہا نہ اس پر مطالبہ، نہ یہ دیتاہے نہ دائن اب اس سے لے سکتاہے تویہ سوددینے والا کس حساب سے ٹھہرا، طرفہ یہ کہ تنویرالابصارکی عبارت خود نقل کی کہ حوالہ اس کے ذمہ دَین سے مشغول ہے یا اس کی طرف سے اداکرے گا جس کے ذمہ پردَین نہیں اور اس صورت میں زید کوسودخور ٹھہرانا اور بھی عجیب ترہے، بفرض غلط ہوتا تو اتناہوتا جس کا خود ان صاحبوں نے اعتراف کیا کہ زید نے خود نہیں دئے دلوائے، نہ یہ کہ معاذاﷲ اس نے خود سودلیا، تفصیل کے لئے عرض کرچکاہوں کہ ضرورت ہوئی تو پھرگزارش ہوگی، ذی انصاف کے لئے اسی قدرکافی ہے وباﷲ التوفیق واﷲ سبحانہ وتعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۹۳ تا۲۹۷: ازکاٹھیاواڑ مسئولہ حاجی عیسٰی خان محمدصاحب ۸جمادی الاولٰی ۱۳۳۰ھ

(۱) زید نے عمروسے کہا میرے بکرپر روپے آتے ہیں تم وصول کرکے اپنے پاس جمع اور تصرف کاتمہیں اس میں اختیارہے جب مجھے ضرورت ہوگی لے لوں گا، یہ جائزہے یانہیں؟

(۲) زید نے عمرو کے ہاتھ ہزارکانوٹ بارہ سو کو چارمہینے کے وعدہ پربیچا اور تمسک لکھا لیاپھرزید نے بکر سے گیارہ سوکانوٹ بارہ سو کوخریدا اور کہہ دیا کہ عمرو پرمیرے بارہ سو آتے ہیں وصول کرلو اور اطمینان کے لئے وہ تمسک کہ عمرو نے لکھاتھا بکرکودے دیا، یہ جائزہے یانہیں؟

(۳) زید نے ہزارکانوٹ گیارہ سو کو عمرو کے ہاتھ وعدہ پربیچا اور یہ شرط کرلی کہ سوروپے نقدابھی لوں گا اور باقی ہزار روپے میعاد پراور ہزار کاتمسک لکھالیا پھرزید نے بکر سے ہزار کانوٹ ساڑھے دس سوکو خریدا اور پچاس فوراً اداکردئیے اور ہزار کاعمرو پرحوالہ کردیا اور اطمینان کے لئے وہی عمرو کا لکھاہواتمسک بکرکودے دیا، یہ جائزہے یانہیں؟

(۴) ہنڈی کی کیاتعریف ہے؟

(۵) جبکہ ہنڈی حرام ہے تو کوئی صورت شرعاً ایسی ممکن ہے کہ جائزطورپرہنڈی کامطلب اس سے حاصل ہوجائے۔
الجواب

(۱) جائزہے فانہ توکیل بالقبض وتسویغ للقرض (کیونکہ یہ قبض کے لئے وکیل بنانا اور قرض دیناہے۔ت) واﷲ تعالٰی

اعلم۔

(۲) جائزہے، لانہ حوالۃ ومقابلۃ الاجل بقسط من الثمن والکل یجوز کمافی فتح القدیر۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔

کیونکہ یہ حوالہ ہے اور اجل کے مقابلہ میں ثمن کاکچھ حصہ ہے اور یہ سب جائزہے جیسا کہ فتح القدیر میں ہے۔(ت) واﷲ تعالٰی اعلم

(۳) جائزہے، یہ وہی صورت سابقہ ہے فقط اتنافرق ہے کہ اس میں بعض ثمن معجل اور باقی مؤجل ہے اور اس میں کل مؤجل اور بحال اختلاف جنس وقدریہ سب جائزہے۔ واﷲ تعالٰی اعلم

(۴) زیدعمروکے پاس کچھ روپیہ بطورقرض اس شرط پرجمع کرے کہ یہ روپیہ فلاں شہرمیں فلاں شخص کواداکیاجائے یایہ کہ میں خود فلاں شہر میں پاؤں، اس کانام ہنڈی ہے، یہ ناجائزوگناہ ہے اور اس پرجوبعض وقت کمی بیشی ہوتی ہے جسے متی کہتے ہیں وہ نِراسود حرام قطعی ہے اور بطورقرض دینے سے یہ مرادنہیں کہ قرض کہہ کردے بلکہ جب معاملہ یوں ہوا کہ اگریہ روپیہ عمر کے پاس سے بے اس کے قصور کے گم جائے چوری ہوجائے کسی طرح جاتارہے جب بھی زیداپناروپیہ اس سے بھروالے تو اسی کانام قرض ہے اگرچہ دیتے وقت قرض کالفظ نہ کہا ہو جمع کرنا کہا ہو جو امانت کوبھی شامل ہے اور یہاں عام طور پر یہی ہے کہ عمرو کو ہرطرح اس روپے کادیندار جانیں گے اور کسی طرح ضائع ہو بے تاوان لئے نہ مانیں گے تومعلوم ہوا کہ امانت نہیں بلکہ قرض ہے امانت ہوتی تو بے اس کے قصور کے اگرروپیہ جاتارہتا تو اس سے کچھ نہ لیاجاتا معہذا یہاں جمع کرنا اور دوسری جگہ اس کا عوض لینایہ خود ہی حاصل قرض ہے امانت توبعینہا واپس لی جاتی ہے نہ اس کا عوض ، اور جب یہ قرض دینا ہوا اور زید اس میں یہ فائدہ پاتاہے کہ اگر روپیہ کسی کے ہاتھ اس شہر کوبھیجتا یا اپنے ساتھ لے جاتا تو راستے میں جاتے رہنے کااندیشہ تھا عمرو کوبطور قرض دینے سے یہ اندیشہ جاتارہا تویہ ایک نفع ہے کہ زید نے قرض دے کر حاصل کیا اور قرض دینے والے کو قرض پرجو نفع جوفائدہ حاصل ہو وہ سب سود اورنراحرام ہے۔
حدیث میں ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
کل قرض جرمنفعۃ فھوربا۱؎۔
قرض سے جوفائدہ حاصل کیاجائے وہ سودہے۔
لہٰذا ہنڈی ناجائزہوئی۔
(۱؎ کنزالعمال    حدیث ۱۵۵۱۶     فصل فی لواحق کتاب الدین  موسسۃ الرسالہ بیروت  ۶/ ۲۳۸)
ردالمحتار میں ہے:
صورتھا ان یفع الی تاجر مالاقرضا لیدفعہ الی دیقہ وانما یدفعہ قرضا لاامانۃ لیستفیدبہ سقوط خطر الطریق وقیل ھی ان یقرض انسانا لیقضیہ المستقرض فی بلد یریدہ المقرض لیستفیدبہ سقوط خطرالطریق کفایۃ۲؎۔
اس کی صورت یہ ہے کہ کوئی شخص تاجر کو کچھ مال قرض دے تاکہ وہی اس کے دوست کو دے دے تو بلاشبہ یہ مال اس کو بطورامانت نہیں بلکہ بطورقرض دیتاہے اور اس سے راستہ کے خطرہ کے سقوط کافائدہ اٹھاتاہے، اور ایک قول میں اس کی صورت یہ ہے کہ کسی کو قرض دے تاکہ مقروض وہی قرض اس شہر میں قرض دہندہ کو واپس کرے جس شہر میں وہ لیناچاہتاہے تو اس سے وہ راستہ کے خطرہ کے سقوط کافائدہ اٹھاتاہے۔(کفایہ)۔(ت)
(۲؎ ردالمحتار        کتاب الحوالہ    داراحیاء التراث العربی بیروت    ۴/ ۲۹۵)
(۵) ہاں ممکن ہے روپیہ نہ دے بلکہ نوٹ اور قرض نہ دے بلکہ بیع کرے اس شرط پرکہ کہ خریدار اس کی قیمت کا حوالہ فلاں شہر کے فلاں تاجر پرکردے کہ ہم خود یا اپنے کسی وکیل کے ذریعہ سے وہاں وصول کرلیں یہ جائزہے اورمطلب پوراحاصل ہے اور اب کمی بیشی بھی رواہے سوکانوٹ ننانوے کو بیچیں خواہ ایک سو ایک کو۔ کما حققناہ فی کفل الفقیہ (جیسا کہ اس کی تحقیق ہم نے کفل الفقیہ میں کردی ہے۔ت)
درمختار میں ہے :
باع بشرط ان یحیل علی المشتری بالثمن غریمالہ ای للبائع بطل ولو باع بشرط ان یحتال بالثمن صح لانہ شرط ملائم کشرط الجودۃ بخلاف الاول۱؎۔
اگرکسی نے کوئی چیز اس شرط پرفروخت کی ثمن کے بدلے میں بائع اپنے کسی قرضخواہ کاحوالہ مشتری پرکرے گا توبیع باطل ہے اور اگر اس شرط پربیع کی مشتری ثمن کاحوالہ کسی اور شخص پرکرے گا توجائزہے کیونکہ یہ شرط عقد کے مناسب وملائم ہے جیسے کہ جودت کی شرط بخلاف پہلی صورت کے۔(ت)
 (۱؎ درمختار    کتاب الحوالہ    مطبع مجتبائی دہلی    ۲/ ۷۰)
ردالمحتارمیں ہے:
قولہ لانہ شرط ملائم لانہ یؤکد موجب العقد اذاالحوالۃفی العادۃ تکون علی الاملاء والاحسن قضاء فصار کشرط الجودۃ درر۲؎۔
ماتن کاقول کہ بیشک یہ شرط عقد کے ملائم ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ موجب عقد کو پکاکرتی ہے کیونکہ حوالہ عام طورپر صاحب ثروت اور بہتر ادائیگی کرنے والوں پرکیاجاتاہے، تویہ شرطِ جودت کی مثل ہوگیا، درر۔(ت)
(۲؎ ردالمحتار    کتاب الحوالہ       داراحیاء التراث العربی بیروت    ۴/ ۹۵۔۲۹۴)
ہاں اس شرط پر بیچنا کہ تو اس کی قیمت فلاں شہر میں مجھے دینا، یہ ناجائزہے۔
ردالمحتارمیں ہے:
ومنہ (ای الشروط الفاسدۃ المفسدۃ للبیع) ان یدفع الثمن فی بلداٰخر او یھب البائع منہ کذا بخلاف ان یحط من ثمنہ کذا، لان الحط ملحق بما قبل العقد بحر۳؎ ۱ھ مختصراً۔
بیع کو فاسد کرنے والی شروط فاسدہ میں سے یہ ہے کہ شرط لگائی جائے کہ مشتری کسی دوسرے شہر میں ثمن ادا کرے گا یابائع ثمن میں سے اتنے مشتری کو ہبہ کرے گا بخلاف اس کے کہ بائع ثمن سے اتنے گھٹائے گا کیونکہ گھٹانا عقد کے ماقبل کو لاحق ہوتاہے، بحر۱ھ مختصراً(ت)
 (۳؎ ردالمحتار   باب بیع الفاسد    داراحیاء التراث العربی بیروت   ۴/ ۱۲۱)
یہ فرق خوب یاد رہے کہ غلطی ہوکر حرام میں وقوع نہ ہوجائے واﷲ تعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم۔
مسئلہ ۲۹۸:  ازچتوڑگڑھ علاقہ اودے پورراجپوتانہ، مسئولہ عبدالکریم صاحب ۱۶ربیع الاول شریف ۱۳۳۴ھ شنبہ

زید نے پانچ سو روپے بکر کے پاس اس غرض سے جمع کئے کہ بذریعہ ہنڈی کے سالم کے نام بمبئ پہنچ جائے  اور بکر نے ہنڈی کو سالم کے پاس بمبئ روانہ بھی کردیا اور سالم کو مل بھی گیا اور سالم اس ہنڈی کو خالد ساہوکار کے پاس لے گیا اور کہا کہ اس ہنڈی کے روپے دیجئے، خالد ساہوکار نے روپے دینے سے انکار کیا لہٰذا سالم نے ہنڈی مذکور کو واپس کیا اور واپس آنے میں پندرہ یوم کی دیربھی ہوئی، اور ساہوکاروں کاقاعدہ ہےکہ جتنے روز میں ہنڈی واپس آتی ہے اتنے روزکاہرجاجمع کنندہ کو دیاجاتاہے توآیا اس ہرجاکالیناجائزہے یا نہیں؟ اگرجائزنہیں ہے تو زید کو بہت نقصان پہنچے گا کیونکہ کافرتاجر مسلمان تاجر سے اپنے مذہب کے موافق ہرجانہ ضرور لے گا اور مسلمان اس سے بازرہے گا، اور ایسا ہونہیں سکتا کہ تمام مسلمان تجارت کو چھوڑ دیں، تجارت توکتاب وسنت سے ثابت ہے، علاوہ اس کے تمام علماء ودانشمند اہل اسلام اس وقت مسلمانوں کوتجارت کرنے پر زوردے رہے ہیں تو اگریہ ہرجانہ مذکور ناجائزہے رکھاجائے گا تومسلمانوں کو دوطرفہ نقصان ہوگا ایک تودینے کی وجہ سے اور دوسرے نہ لینے کی وجہ سے فقط۔
الجواب:  ہنڈی سرے سے خود ہی ناجائز ہے متون میں السفنجۃ حرام (ہنڈی حرام ہے۔ت) حدیث میں ہے:
کل قرض جرمنفعۃ فہوربا۱؎
 (جوقرض نفع حاصل کرے وہ سود ہے۔ت)
 (۱؎ کنزالعمال    فصل فی لواحق کتاب الدین    حدیث ۱۵۵۱۶    موسسۃ الرسالہ بیروت    ۶/ ۲۳۸)
اور پھر اس پر جرمانہ دوسراناجائزہے مگریہ عمل اگرمحض کفار سے ہے کہ اس دکان میں اصالۃً یابالواسطہ کسی مسلمان کی شرکت نہیں تونہ بنیت اس عقد فاسد کے بلکہ اسی نیت سے کیہ یہی مسلمان سے لیتے ہیں اور غیرمسلم کابلاغدرملتاہے لینے میں حرج نہیں۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
Flag Counter