Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۷(کتاب البیوع، کتاب الحوالہ، کتاب الکفالہ )
18 - 180
ردالمحتارمیں ہے :
ھوالایجاب والقبول بان کان من مجنون اوصبی لایعقل وکان علیہ ان یزید اوفی محلہ اعنی المبیع فان الخلل فیہ مبطل بان کان المبیع میتۃ اودما اوحرا اوخمرا کما فی ط عن البدائع ۲؎ اھ
    وہ (رکن) ایجاب وقبول ہے بایں طور کہ مجنون کی طرف سے ہو یا نہ سمجھ بچے کی طرف سے ہو، اور ماتن پر لازم تھاکہ وہ محل یعنی مبیع میں خلل کے ذکر کا اضافہ کرتے کیونکہ مبیع میں خلل بھی مبطل بیع ہے بایں طور کہ مبیع مردار، خون، حر یا شراب ہو جیسا کہ ط میں بحوالہ بدائع ہے الخ
(۲؎ ردالمحتار   کتاب البیوع  باب البیع الفاسد   دارحیاء التراث العربی بیروت  100 /4)
اقول:  الایجاب حدث لابدل من محل کالضرب لاوجودلہ یدون مضروب فاذا العدم المحل بتطرق الخلل وجب انعدام الرکنین لانعدام مایتعلقان بہ الاتری ان من قال بعتک نجوم السماء وامواج الھواء واشعۃ الضیاء وقال الاخراشتریت لم یفہم ھذا ایجاب ولا قبولا  فی الشرع فکذ ا قول القائل بعتک ھذا لحراواشتریت بھذ الدم اذا لافاصل بعد انعدام المالیۃ والحاصل ان خلل المحل یوجب خلل الرکن فکان فیہ معنی من ذکرہ نعم لوذکر لکان اظہر واوضح ۔
اقول:  (میں کہتاہو ں )کہ ایجاب حدث ہے جس کے وجو د کےلئے محل کا موجود ہونا ضروری ہے جیساکہ ضرب کا وجود مضروب کے بغیر نہیں ہوسکتا، چنانچہ جب خلل کے پائے جانے کی وجہ سے محل معدوم ہونا واجب ہے بسبب ان کے متعلق کے معدوم ہونے کے، کیا نہیں دیکھتاہے تو کہ جس شخص نے کہا میں نے تجھ پرآسمان کے ستارے، ہوا کی موجیں اور روشنی کی شعاعیں فروخت کیں ، دوسرے نے کہا میں نے خریدیں ، تواس کی شرعا ایجاب وقبول نہیں سمجھا گیا اور یونہی ہے کسی کا یہ کہنا کہ میں نے تجھ پر یہ آزاد شخص فروخت کیا اور دوسرے کاکہنا کہ میں نے اس کو خون کے بدلے میں خریدا کیونکہ مالیت کے منعدم ہونے اور محل کے منعدم ہونے میں کوئی فرق نہیں ،خلاصہ یہ کہ محل کا خلل لازم کرتاہے رکن خلل کو۔ تو گویا خلل رکن کے ذکر میں معنی کے اعتبار سے خلل مبیع بھی مذکور ہوا، ہا ں اگر ماتن علیہ الرحمۃاس کا ذکر کردیتے تو زیادہ ظاہر اور زیادہ واضح ہوجاتا (ت)
اور فاسدوہ جس کی اصل حقیقت خلل سے خالی ہو مگر وصف یعنی ان متعلقات میں خلل ہو جو قوام عقدمیں داخل نہیں مثلا شروط فاسدہ اگر رکن ومحل سالم از خلل ہو ں تو بیع شرعی قطعا متحقق، پھر اگر وصف میں خلل ہے مثلا بیع مقدور التسلیم نہیں یا مجہول ہے یاکوئی شرط فاسد مفہوم، اصل یہ کہ بیع شرعی میں مبادلہ مال بمال کانام ہے ایجاب وقبول اس کے رکن اورمال متقوم محل اور اجل و قدرت تسلیم وشرط وغیرہا اوصاف اور انتقال ملک حکم واثر ہے اپنے وجود شرعی میں صرف رکن ومحل کا محتاج ہے کہ بے ان کے اس کے (تحقق کی کوئی ضرورت نہیں )جو خلل کہ ان میں ہوگا مبطل بیع قرار پائے گا جس کے معنی یہ ہو ں گے کہ عندالشرع راسابیع ہی نہیں خلل رکن مثل بیع(عہ)
	عہ: یہا ں تک جواب دستیاب ہوا۔
مسئلہ ۵۳: از تعلقہ پٹن ضلع اورنگ آباد علاقہ حیدر آباد دکن کچہری منصفی مرسلہ مولوی عبدالعزیز صاحب ۲۶ ربیع الاول ۱۳۰۶ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دن اس مسئلہ میں کہ سرکاری کاغذ ممہور ہوتے ہیں مہر میں اس کی قیمت بھی لکھی ہوتی ہے اور یہا ں سرکاری قاعدہ یہ ہے کہ دعوٰی جب تک اسی کاغذپر نہ لکھا جائے ہر گز مسموع نہیں ہوتا، اوربعد مسموع ہونے یہ ضرور نہیں کہ فیصلہ مدعی کے حسب دلخواہ ہو اس کاغذ میں سرکار کی منفعت ہے آٹھ روپے کا دعوٰی ہو تو( ۸/ )کاکاغذ ممہور لیا جاتاہے (عہ؎) تک( عص ۔للعہ ؎ )تک( عہ۔للعہ)تک (للعہ ماصہ) تک (مئے ِ) ، وعلی ہذا القیاس او راس ممہور کے فروخت کرنے کے واسطے سرکار کی جانب سے جو شخص معین ہوتاہے وہی فروخت کرسکتاہے غیر کی مجال نہیں اور اس کے بائع کو ہر سوروپے میں پانچ روپیہ نفع ملتاہے اس کا غذ ممہور کی بیع اور تجارت کا طریقہ شرعا جائز ہے یانہیں ؟ بینوا توجروا
الجواب:نسأ اﷲ ھدایۃ الحق والصواب اللہم اغفر (ہم اللہ تعالٰی سے حق اور درستگی کی ہدایت مانگتے ہیں اے اللہ! مغفرت فرما۔ ت) یہ تجارت اکثرصورتو ں میں خالی از خباثت نہیں ، اللہ عزوجل نے جواز تجارت کے لئے تراضی باہمی شرط فرمائی
       قال تعالٰی عزمن قائل یایھاالذین اٰمنوا لاتاکلوا اموالکم بینکم بالباطل الا ان تکون تجارۃ عن تراض منکم ۱؎۔
اللہ تعالٰی کاارشادہے: اے ایمان والو! نہ کھاؤ اپنے مال آپس میں ناحق طورپر مگریہ کہ کوئی سودا ہو تمھارے آپس کی رضامندی سے۔
 (۱؎ القرآن الکریم    ۴/ ۲۹)
حدیث میں جناب سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں : لایحل مالی امریئ مسلم الابطیب نفسہ ۲؎۔ رواہ الدارقطنی عن انس بن مالک رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔  کسی مسلمان کا مال حلال نہیں مگر اس کے جی کی خوشی سے، (اسے دارقطنی نے انس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا۔ت)
 (۲؎ سنن الدارقطنی    کتاب البیوع حدیث ۹۱  نشرالسنہ ملتان 26 / 3)
دوسری حدیث میں ہے حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
لایحل لمسلم ان یأخذ عصا اخیہ بغیر طیب نفس منہ قال ذٰلک لشدۃ ماحرم اﷲ من مال المسلم علی المسلم ۱؎۔ رواہ ابن حبان فی صحیحہ عن ابی حمید الساعدی رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔
مسلمان کوحلال نہیں کہ اپنے مسلمان بھائی کی چھڑی بے اس کی مرضی کے لے اور یہ اس سبب سے ہے کہ اللہ تعالٰی نے مسلمان کا مال مسلمان پر سخت حرام کیا ہے (اسے ابن حبان نے اپنی صحیح میں ابوحمید ساعدی سے رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کیا۔ ت)
 (۱؎ الترغیب والترہیب     بحوالہ ابن حبان حدیث ۹        مصطفی البابی مصر    17 /3)
Flag Counter