فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۷(کتاب البیوع، کتاب الحوالہ، کتاب الکفالہ )
179 - 180
قال فی تنویر الابصار فی تفسیرالحوالۃ ھی نقل الدین من ذمۃ المحیل الٰی ذمۃ المحتال علیہ ۱؎انتھی۔
تنویرالابصار میں حوالہ کی تفسیر میں کہا کہ وہ دین کو محیل کے ذمہ سے محیل علیہ کے ذمہ کی طرف منتقل کرناہے انتہی۔(ت)
(۱؎ درمختار شرح تنویرالابصار کتاب الحوالہ مطبع مجتبائی دہلی ۶/ ۶۹)
توبدری پرشاد کا (صمہ معہ ؎۰۴/)لے کے اور( سامہ؎۰۱۲/)بڑھاکے (صمہ سالعہ لہ) اداکرنا زید کو( سا؎۰۱۲/ )سوددینا ہے کیونکہ یہ (سامہ؎۰۱۲/ )جو بدری پرشاد زید کی طرف سے منورسنگھ کواداکرے گا یہ رقم کسی مال کے عوض میں ثابت نہیں ہوئی توبالضرور زید کے (صمہ معہ ؎۰۴/) قرض دئے ہوئے روپوں کا نفع ہوگا،
وفی الاشباہ کل قرض جرنفعا حرام انتھی درمختار۲؎،فی جواھر الفتاوی اذاکان مشروطاصارقرضافیہ منفعۃوھو رباانتھی شامی۱؎، قال فی الکفایۃ الربٰو فی الشرع عبارۃ عن فضل مال لایقابلہ عوض فی معاوضۃ مال بمال۲؎ انتھی۔
اشباہ میں ہے کہ جو قرض نفع کھینچے وہ سود ہے انتہی(درمختار) جواہرالفتاوٰی میں ہے کہ اگر وہ مشروط ہو تو ایساقرض ہوگا جس میں نفع ہو اور وہ سود ہے انتہی (شامی)، کفایہ میں کہا سودشرع میں اس مالی زیادتی کو کہتے ہیں جس کے مقابل کوئی عوض نہ ہو جبکہ یہ مالی معاوضات میں ہو انتہی(ت)
(۲؎ درمختار شرح تنویرالابصار فصل فی القرض مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۴۵)
(۱؎ ردالمحتار فصل فی القرض داراحیاء التراث العربی بیروت ۴/ ۱۷۴)
( ۲؎ الکفایۃ مع فتح القدیر باب الربائ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۶/ ۱۴۷)
اور اس صورت میں سوددینے کا مواخذہ توظاہرہے کیونکہ (سالعہ ؎۱/ ) جومنجانب زیدمنوسنگھ کو پہنچیں گے یہ رقم سود ہے جو زید نے اپنے ذمہ دین تسلیم کرکے بدری پرشاد پرحوالہ کئے، غایت یہ ہے کہ زید نے خود نہیں دئیے دلوائے اور چونکہ برتقدیر صرف دوہزار کی اترائی کے موافق شرط مذکور بقدردوہزار کے سودبھی بدری پرشاد اپنے پاس سے ادا کرے گا تو اس صورت میں وہی وجہ عدم جواز کی ہے جو پہلی صورت میں تھی لہٰذا یہ اور وہ دونوں ناجائزہیں، ھذہ صورۃ الجواب واﷲ تعالٰی اعلم بالصواب۔
المجیب فقیہ الدین عفاعنہ
اصاب من اجاب ذٰلک کذٰلک ذلک کذالک
محمد معزاﷲ مدرس مدرسہ عالیہ رامپور محمد منورعلی(مہر) محمدعنایت اﷲ عفی عنہ
الجواب صحیح والرای نجیح واﷲ تعالٰی اعلم الجواب الجواب واﷲ سبحانہ اعلم بالصواب
محمدلطف اﷲ مہر ابوالافضال محمدفضل حق
بیشک صورت مذکورہ میں دونوں صورتیں ناجائزہیں فقط
ہدایت اﷲ خاں ولدحافظ عنایت اﷲ خاں
استفتاء : برضمیر معدلت پیرائے ارباب شریعت غرامخفی مبادکہ ایک سوال کے دوجواب متضاد موصول ہوئے یعنی حضرات دارالافتاء اہل سنت وجماعت بریلی نے جوازصورت مسئولہ کاحکم دے کر بنظر عمل بالخیر ہونے کے اس امر کو واجب العمل فرمایا اور حضرات علمائے رامپور نے اس امرواجب العمل کو ناجائز وحرام تحریر فرمایاہے زیادہ مصیبت یہ ہے کہ جس ضرورت کے واسطے استفتاء کیاگیاتھا اس کا کچھ چارہ کارنہیں بتلایا حالانکہ بفحوائے الدین یسرپیرو ملت اسلام کے واسطے آسانی کا دروازہ کھول دیا گیاہے اب نہایت ضرورہوا کہ منجملہ ہردوجوابات کے ایک جواب غلط ہوکر اس کی غلطیاں براہین قاطعہ سے ثابت کی جائیں اور بعد قائم ہوجانے امرحق کے اس کی تعمیل کی ہدایت فرمائی جائے۔ بینواتوجروا۔
الجواب : اللھم ھدایۃ الحق والصواب، بملاحظہ مولانا المکرم جناب مولوی سیدمحمد فخرالحسن صاحب اکرمکم اﷲ تعالٰی السلام علیکم ورحمۃ اﷲ وبرکاتہ،
نوازش نامہ اس وقت تشریف لایا اہالی دارالافتاء بعزم آرہ شاہ آباد جلسہ مدرسہ فیض الغربا پابرکاب ہیں اجمالی جواب فوری گزارش ہے کہ تکلیف انتظار بھی نہ ہو اور ایک مسلمان کہ سود کی بلا سے بچتا ہے مبادا تاخیر میں وہ معاملہ ہاتھ سے نکل جائے اگرضرورت ہوگی ان شاء اﷲ تعالٰی اور تفصیل کردی جائے گی وباﷲ التوفیق۔
مولٰنا آپ نے بنظرعجلت سوال وہاں ارسال فرمایا اگریہ جواب لکھ کر بھیجتے تومامول تھا کہ ان صاحبوں کی نظرلغزش نہ کرتی بطور خود زلت نظربعید نہیں مگربعد علم بالحق مخالفت مظنون نہیں ہوتی الامن عَنِدَ وھواہ عَبِدَ (سوائے اس شخص کے جو عناد اختیار کرے اور اپنی نفسانی خواہش کی پرستش کرے۔ت) ان صاحبوں کابڑا منشاء غلط یہ ہے کہ بعد اس حوالہ کے بھی زید ہی کو مدیون سمجھے ہوئے ہیں اور وہ دوسرا ہندو جو اداکرے گا اسے زید کی طرف سے اداکرنا گمان کررہے ہیں کہ لکھتے ہیں بدری پرشاد منوسنگھ والے قرضہ ذمگی زید کو زید کی طرف سے ادا کرکے دستاویز واپس لے نیز لکھتے ہیں یہ (سامہ ۰۱۲/)بدری پرشاد زید کی طرف سے منوسنگھ کو ادا کرے گا نیز لکھتے ہیں (سالعہ ۱/) منجانب زیدمنوسنگھ کوپہنچیں گے ان کے سارے خیالات کامنبع بلکہ سراپا تحریر کامحصل یہی زعم ہے اور وہ اصلا صحیح نہیں حوالہ میں (جسے قرضہ کی اترائی کہتے ہیں) اصل مدیون(جسے محیل کہتے ہیں) دَین سے بری ہوجاتاہے دَین اس پرنہیں رہتا اس دوسرے پرہوجاتاہے جس نے اپنے اوپر کادین دائن کو (جسے محتال علیہ کہتے ہیں) محتال علیہ وہ دین محیل کی طرف سے ادا نہیں کرتا بلکہ خود اپنے اوپر کا دین دائن کو جسے محتا ل ومحتال لہ کہتے ہیں دیتاہے۔
تنویرالابصار میں ہے:
الحوالۃ نقل الدین من ذمۃ المحیل الی ذمۃ المحتال علیہ۱؎۔
حوالہ محیل کے ذمہ سے دین کو محتال علیہ کے ذمہ کی طرف منتقل کرنے کانام ہے۔(ت)
(۱؎ درمختار شرح تنویرالابصار کتاب الحوالۃ مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۶۹)
محتال علیہ کی طرف سے قبول کے بعد محیل قرض سے بری ہوجاتاہے۔(ت)
(۱؎ درمختار شرح تنویرالابصار کتاب الحوالہ مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۶۹)
فتح القدیر ودرمختارمیں ہے:
ھل توجب البرأۃ من الدین المصحح نعم۲؎۔
کیاحوالہ دَین صحیح سے براء ت کاموجب ہے، جواب ہاں۔(ت)
(۲؎ درمختار بحوالہ فتح القدیر کتاب الحوالہ مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۶۹)
محیط سرخسی وفتاوٰی عامگیریہ میں ہے :
اما احکامھا فمنھا برأۃ المحیل عن الدین۳؎۔
حوالہ کے احکام میں سے ایک یہ ہے کہ محیل قرض سے بری ہوجاتاہے۔(ت)
(۳؎ فتاوٰی ہندیہ بحوالہ محیط السرخسی کتاب الحوالہ الباب الاول نورانی کتب خانہ پشاور ۳/ ۲۶۹)
یہاں تک کہ اب اگردائن اصل مدیون کو دَین بخش دے یامعاف کرے توباطل ہے کہ جو دَین اس پررہا ہی نہیں اس کی بخشش یامعافی کیا معنی، اور اگر محتال علیہ کو معاف کردے معاف ہوجائے گا۔
فتاوٰی ظہیریہ و فتاوٰی ہندیہ میں ہے :
فلوابرأ المحتال المحیل عن الدین او وھبہ لہ لایصح علیہ الفتوی۴؎۔
اگرمحیل کومحتال علیہ قرض سے بری کرے یاقرض اس کو ہبہ کرے توصحیح نہیں، اسی پرفتوٰی ہے(ت)
(۴؎ فتاوٰی ہندیہ بحوالہ الظہیریہ کتاب الحوالہ الباب الاول نورانی کتب خانہ پشاور ۲ /۲۹۶)