فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۷(کتاب البیوع، کتاب الحوالہ، کتاب الکفالہ )
177 - 180
مسئلہ ۲۹۰: ازریاست رام پور مرسلہ سید محمد انوار حسین متوطن قدیم قصبہ کندر کی حال مقیم ریاست رام پور ۲۵جمادی الاولٰی ۱۳۲۷ھ
بسم اللہ الرحمن الرحیم، بحضرت اقدس علامہ محقق وفہامہ مدقو فاضل بریلی فیضہم العالی علی کافۃ المسلمین، السلام علیکم، بصد ادب حضوروالا میں عرض پرداز ہوں کہ حضور نے تین فتوے متعلق استغراق جائداد عطافرمائے جو عدالت دیوانی ریاست رام پور میں پیش کئے گئے جن کی بنیاد پر جناب مفتی صاحب عدالت دیوانی ریاست رام پور نے بحوالہ فتووں حضور کے ڈگری بحق مدعا علیہ کے صادر فرمائی اوریہ تجویز فرمایا (یہ مقدمہ بربنائے کفالت مستاجری دائرہےکہ مدعی نے مدعا علیہ کی مستاجری میں اپنی جائدادمکفول کی تھی لہذا سب سے پہلے اس امر کا انفصال ضروری ہے مدعا علیہ نے جناب مولوی احمد رضاخاں صاحب بریلوی کے چند فتو ے پیش کئے ہیں فاضل بریلوی نے اس امر کو ثابت کیا ہے کہ ایسی کفالت بالمال جو اس مقدمہ میں زیر بحث ہے شرعا ناجائز ہے منجانب مدعی ان کی تردید میں کوئی شرعی استدلال یاحکم ریاست پیش نہیں کیا، عدالت نے مسائل شرعیہ پر غور کیا تو فتوی پیش کردہ مدعا علیہ صحیح ولائق پابندی ہیں پس ایسی حالت میں جبلہ کفالت مذکورہ بھی جائز نہیں تو مدعی نے جو روپیہ بوجہ کفالت مذکور داخل سرکار کیا ہے اس کا دین دارمدعا علیہ شرعا نہیں ہوسکتا اور دفعہ ۷۱، ۷۹، قانون حامدیہ مفید مدعی نہیں ہے بلکہ صورت مقدمہ سے غیر متعلق ہے) لچھمی نرائن مدعی ناکامیاب نے بناراضی تجویز مفتی صاحب دیوانی اپیل دائر کیا اور عدالت اپیل میں ایک فتوی حضور والا کا اس تائید میں پیش کیا کہ ایسی کفالت شرعا جائز ہے اور اپنے سوال میں چند واقعات غیر صحیح تحریر کرکے جناب والا سےفتوی حاصل کیا سوال مذکور میں جو امور خلاف واقعہ درج کئے ہیں وہ حسب ذیل ہیں:
(۱) دفعہ ۷۹ آئیں حامدیہ کایہ مضمون تحریر کیا ہےکہ صیغہ مال میں جو شخص مطالبہ سرکاری کی ضمانت کرکے روپیہ سرکارمیں داخل کرے اس کواس اصل مستاجر پر دعوٰی رجوع کرکے زر مدخلہ اپنا وصول کرنے کا اختیار حاصل ہے یہ مضمون دفعہ ۷۹ آئین حامدی کا ہر گز نہیں ہے بلکہ دفعہ مذکور تابع دفعہ ۷۷، ۷۸ کے ہے، دفعہ ۷۷ کا منشا یہ ہے کہ جب کوئی جائداد مستاجر مکفول کرے تو مالک جائداد کو حق عذرداری مابین میعاد پندرہ روز حاصل ہے اور جب استغراق منطور ہوجائے تو حسب منشا دفعہ ۷۹ بعد منظوری ضمانت کے استغراق کی نسبت کسی شخص کی عذرداری بارجاع نالش کسی عدالت میں قابل سماعت نہ ہوگی البتہ بمقابلہ مالگزاری کے عذر دار مجازی دعوٰی ہر جہ کا عدالت دیوانی میں حسب ضابطہ ہوسکتاہےجس کا خلاصہ یہ ہے کہ اگر مستاجر کسی شخص کیی جائدادبلا اسکی مرضی کے خود مکفول کردے تو مالک جائداد بعد منظوری واگذاشت کی نالش نہیں کرسکتا بلکہ ہرجہ کی نالش کرسکتا ہے یہاں ایسانہیں ہے کیونکہ مالک جائداد نے خود اپنی جائداد مکفول کرائی ہے جیسا کہ مفتی صاحب نے تحریر فرمایا ہے کہ دفعہ ۷۹ آئین حامدیہ متعلق نہیں۔
(۲) سائل نے اپنے سوال میں یہ بھی تحریر کیا ہے کہ عمرونے ضمانت اپنی جائداد سے کی جس کا مفہوم ہوتاہے کہ عمرونے ضمانت کی حالانکہ عمرو نے ضمانت نہیں کی ہے بلکہ اپنی جائداد کو مکفول کرایا ہے کفالت نامہ
کی نقل شامل عرضداشہ ہذا ہے اس کے ملاحظہ سے واضح ہے کہ عمرو نے ضمانت نہیں کی ہے بلکہ جائداد کو مکفول کرایاہےـ،
(۳)تیسرا مضمون سوال میں یہ غلط ظاہر کیا ہے کہ زید کا یہ عذر ہے کہ کفالت بالمال شرعا ناجائز ہے مجھ مدعا علیہ کا ہر گز عذر نہیں ہے بلکہ میرا عذر یہ ہے کہ کسی مطالبہ کی بابت جائداد کو مکفول کرانا شرعا ناجائز ہے یعنی ضمانت میں جائداد کا استغراق کرانا شرعا ناجائز ہے۔
(۴) چوتھا مضمون سوال میں یہ بھی خلاف درج کیا ہے کہ زید کی درخواست پر عمرو نے اس کی ضمانت مستاجری اپنی جائداد سے کی، یہ واقعہ بالکل غلط ہے، مفتی صاحب نے اس واقعہ کو ثابت شدہ نہیں قرار دیا ہے اس غلط اور غیر مطابق سوال کی بنیاد پر حضور نے یہ تجویز فرمایاہےکہ کفالت بالمال شرعا ناجائز ہے لہذا حضور والا ! میں نقول ہرسہ فتوٰی حضور جو سادہ کاغذ پر ہے اورنقل فیصلہ جناب مفتی صاحب دیوانی اورنقل فتوٰی آخر جو باضابطہ عدالت سے حاصل کیا گیا ہے اور نقل اقرار نامہ کفالت اور قانون آئین حامدیہ معطوفہ عرضہ داشت ہذا درگاہ والا میں پیش کرکے امیدوار ہوں کہ حضور ہر سہ فتوی سابق وفتوی مابعد نظر ثانی فرماکر اور فیصلہ مفتی صاحب دیوانی اور نقل اقرارنامہ کفالت ودفعہ ۷۷ لفایت ۷۹ قانون مذکورہ ملاحظہ فرماکر ارشاد فرمائیں کہ ہر سہ فتاوٰی سابق پیش کردہ انوار حسین مدعا علیہ مطابق نالش مدعی ہیں یا فتوٰی آخر پیش کردہ لچھمی نرائن مدعی متعلق مقدمہ ہے اور عذر مدعا علیہ کا شرعا قابل منظوری ہے یاعذر مدعی کا؟ زیادہ حد ادب
الجواب: دارالافتادہ دارالقضاء نہیں یہاں کوئی تحقیق واقعہ نہیں ہوتی، صورت سوال پرجواب دیا جاتاہے ، سوال اخیر کے حضور احمد خاں رامپوری ملازم کچہری بریلی منصرم نقل نے پیش کیا (جسے اس سوال حال و ملاحظہ تجویز مفتی صاحب ودیگر کاغذات مدخلہ سائل نے بتایا کہ ہندومدعی کا سوال تھا اوراسی مقدمہ سے متعلق جس کی نسبت کئی سوال منشی سید انوار حسین مدعی رامپوری نے بوساطت مرزا نظیر بیگ صاحب سابق نائب تحصیلدار بریلی دارالافتاءمیں پیش کئے اور ۹ ربیع الاخر ۱۳۳۶ھ کو جواب دئے گئے تھے) اس میں یہ تھاکہ زید وعمرو سے درخواست ضمانت کی اور عمرو نے اس کی درخواست پر اس کی ضمانت کی اور زید کفالت بالمال کو ناجائز کہتاہے اس میں حکم کیاہے، اس کا جواب یہی تھا کہ کفالت بالمال یقینا صحیح ہے اورجبکہ کفیل حسب درخواست مکفول عنہ ضامن ہوا تو بلا شبہ مطالبہ زر ادہ کردہ کرسکتاہے ہے اپنی جائداد سے دو لفظ سوال میں فضول تھاکہ جب عمرو زید کی درخواست پر ضامن ہوا یعنی اپنا ذمہ زید سے ضم کیا ضمانت مکمل ہوگئی خواہ زر نقد سے کی ہو یا جائداد سے یا صرف زبانی، تینوں طریقے رائج ہیں، اور اصل وہی ضم ذمہ ہے اس کےبعدنہ زر نقد داخل کرنے کی ضرورت نہ جائداد کی ضروررت نہ ان کے ہونے سے ضمانت میں کوئی خلل کہ یہ ایک امر زائد غیر متعلق ہیں، ہندو مدعی نے سائل ایک مسلمان کوٹھہرایا اور اصلاپتہ نہ دیا کہ سوال اس مقدمہ سے متعلق ہے کہ سال گزشہ کی نسبت دارالافتاء سے فتوٰی جاچکا ہے نہ سوالات سابقہ وسوال مدعی میں مفصل صورت واقعہ یکساں بتائی گئی تھی جس سے دونوں کا خصومت واحدہ سے تعلق ظاہر ہوتا اور علمائے کرام نے ہمیں حکم دیا ہے کہ جس عقد کا سوال ذکر ہو اسے صحت پر محمول کرکے جواب دیا جائے ،
وجیز امام کردری میں ہے :
لوسئل عن صحتہ یفتی بصحتہ حملا علی استیفاء الشرائط اذالمطلق یحمل علی الکمال الخالی عن موانع الصحۃ ۱؎۔
اگر کسی عقد کی صحت سے متعلق سوال کیا جائے تو تمام شرائط کے پائے جانے پرمحمول کرتے ہوئے اس کی صحت کافتوٰی دیا جائے گا کیونکہ مطلق کو ایسے کمال پر محمولکیا جاتاہے جو موانع صحت سے خالی ہو۔ (ت)
(۱؎ فتاوٰی خیریہ بحوالہ البزازیہ کتاب الصلح دارالمعرفۃ بیروت ۲/ ۱۰۳)
( فتاوی بزازیہ علی ہامش فتاوٰی ہندیہ کتاب الصلح الفصل السادس نورانی کتب خانہ پشاور ۶/ ۵۲۔ ۵۱)
دو سوالوں میں ایسا اختلاف ہونے سے جواب مختلف ہوجانا لازم ہے جس کی ذمہ داری اس پر ہے جس نے سوال مجمل یا غلط پیش کیا، فتاوٰی خیریہ میں ایسے ہی اختلاف سوال کے بارے میں کہ علامہ رملی سے ایک بار سوال ایک طور پر ہوا دوبارہ اس کے خلاف تھا ارشاد فرمایا:
لاشک فی ان المفتی انما یفتی بما الیہ السائل ینہٰی ۲؎۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ مفتی اسی پر فتوٰی، دیتاہے جو خبر سائل اس کے پاس پہنچائے۔ (ت)
(۲؎ فتاوٰی خیریہ کتاب الوکالۃ دارالمعرفۃ بیروت ۲/ ۳۹)
نیز دوبارہ ایسے ہی واقعہ میں فرمایا:
السوال الاول لم یذکرلنا فیہ ان الاجارہ وقعت علی تناول الخراج ونحوہ من الاعیاب ومسئلتنا فیہ عن الاجارۃ مطلقا فانصرفت الی تملک المنفعۃ وقسمنا الاحکام علی الصحیحۃ والفاسدۃ اما حیث کان الواقع انہا علی اتلاف الاعیان فہی باطلۃ ۱؎۔
پہلے سوال میں ہمارے لئے اس بات کا ذکر نہیں کیا گیا تھا کہ اجارہ اخراج یا اس کی مثلی اعیان کے حصول پر موقوف ہے بلکہ اجارہ مطلقہ کے بارے میں سوال کیا تھا تو وہ تملک منفعت کی طرف لوٹا اور ہم نے احکام کودو قسموں یعنی صحیح اور فاسد پر تقسیم کیا۔ مگر جب وہ اعیان کے اتلاف پرواقع ہوا ہے تو وہ باطل ہے۔ (ت)
(۱؎ فتاوٰی خیریہ کتاب الاجارۃ دارالمعرفۃ بیروت ۲/ ۱۳۶)
اسی کے ایک تیسرے واقعہ میں ہے :
قدیختلف الجواب باختلاف المرضوع المرفوع لاہل الفتوٰی فلا اعتراض علی المجیب فی الجواب ۲؎۔
کبھی فتوٰی پوچھنے والوں کو موضوع مرفوع میں اختلاف کی وجہ سے جواب مختلف ہوجاتاہے اس لئے اس جواب میں مجیب پر کوئی اعتراض نہیں ہوتا۔ (ت)
(۲؎ فتاوٰی خیریہ کتاب الاجارۃ دارالمعرفۃ بیروت ۱/ ۱۵۹)
اسی میں ایک چوتھے واقعہ پر ہے۔
قد استفتی فی ہذہ الحادثۃ بماہو مختلف الموضوع فی السوال فاختلف الجواب بسبب ذٰلک فلا یتوھم معارضۃ الافتاء فیہ ۳؎۔
تحقیق اسی حادثہ میں سوال میں مذکور موضوع سے مختلف صورت میں فتوٰی پوچھا گیاتھا لہذا اسی سبب سے جواب مختلف ہوا چنانچہ اس میں افتاء کے معارضہ کاوہم نہ کیا جائے۔ (ت)
(۳؎ فتاوٰی خیریہ کتاب الاجارۃ دارالمعرفۃ بیروت ۱/ ۱۸۳)
ان سب ارشاد شریفہ کاحاصل یہ ہے کہ پہلے اور طرح سوال کئے گئے تھے پچھلے سوال ان کی خلاف تھے لہذا جواب مختلف ہوئے کہ مفتی اسی پر فتوٰی دے گا جو اس کے سامنے پیش کیاجائے گا اس سے کوئی فتووں میں تعارض کاوہم نہ کرے، ہاں اگر اسی وقت معلوم ہوتاکہ یہ سوال مدعی اس مقدمہ سوالات سابقہ سے متعلق ہے جس میں اس نے صورت واقعہ غلط لکھی ہے توہر گز جواب نہ دیا جاتا کہ جب مفتی کو سوال کا خلاف واقع ہونا معلوم ہوجائے تو حکم ہے کہ جواب نہ دے۔
عقود الدریہ میں ہے :
اذاعلم المفتی حقیقۃ الامر ینبغی لہ ان لایکتب للسائل لئلا یکون معینا لہ علی الباطل ۴؎۔
جب مفتی کو معاملہ کی حقیت معلوم ہو تو اس کو چاہئے کہ وہ (جھوٹے) سائل کے لئے فتوٰی نہ لکھے تاکہ وہ باطل پر اس کا مدد گار نہ ہو۔ (ت)
(۴؎ العقود الدریۃ فوائد فی آداب المفتی قبل کتاب الطہارۃ ارگ بازار قندہار افغانستان ۱/ ۳)
ملاحظہ کفالت نامہ تجویز سے ظاہر ہے کہ سوال مدعی محض غلط وفریب ہے اس میں ضمانت اپنی جائداد سے کرنے کے یہ معنی نہیں کہ عمرو ضامن ہوا اور زیادت وثوق کو اپنی جائداد پیش کی جس کاحکم وہ تھا کہ ضمانت جب زید کی درخواست پر ہے بلاشبہ صحیح ہوگئی کہ ذکر جائداد نہ ہونا فضولی ہے بلکہ یہ معنی ہے کہ آپ ضمانت نہ کی جو اپنا ذمہ مشغول نہ کیا خود نفس جائداد کو کفیل بنایا یہ قطعاباطل محض ہے جیسا کہ جوابات سابقہ میں روشن کردیا گیا مدعی نے کفالت بالمال کو پوچھا اس کا جواب قطعا یہی تھا کہ صحیح ہے، اب ملاحظہ کاغذات سے ظاہر ہواکہ اس کی غلط بیانی ہے یہاں صورت واقعہ کفالت بالمال نہ تھی جسے شرع میں کفالت بالمال کہتے ہیں اور اس سے جو معنی خادمان شرع سمجھتے ہیں کہ مامکفول بہ ہو یعنی وہ چیز جس کا مطالبہ کفیل نےاپنے ذمہ لیا بلکہ یہاں کفالت المال باضافت الی الفاعلی تھی یعنی خود مال وجائداد کسی مطالبہ کی کفیل ہو یہ قطعا باطل ہے او ر وہ قطعا صحیح، لاجرم فتوٰی کہ مدعی نے غلط بیانیوں سے حاصل کیا ہر گز متعلق مقدمہ نہیں، متعلق مقدمہ وہی فتاوٰی سابقہ مدخلہ مدعا علیہ ہیں اور عذر مدعی باطل محض اور عذر مدعاعلیہ صحیح وواجب القبول۔ واللہ تعالٰی اعلم۔