فی الدرر والبزازیۃ وبقول الثانی یفتی و فی انفع الوسائل وغیرہ الفتوی علی قولہما ۳؎۔
درر اور بزازیہ میں ہے کہ امام ثانی (ابویوسف) کے قول پر فتوی دیا جاتاہے اور انفع الوسائل وغیرہ میں ہے کہ فتوٰی طرفین کے قول پر ہے۔ (ت)
(۳؎ ردالمحتار کتاب الکفالۃ داراحیاء التراث العربی بیروت۴/ ۲۵۱)
ظاہر ہے کہ قبول ہبہ یا اخذ ہبہ نامہ کے وقت رئیس کی طرف سے کوئی قبول کرنے والانہ تھا اور ہبہ نامہ کے لفظ اس کے ایجاب نہیں ہوسکتے کہ اس میں مطالبہ باطلہ ذمگی جائداد کاذکر ہے نہ کہ مطالبہ ذمگی واہب کا۔
اور اگر فرض کیجئے کہ جانب ریاست سے اس وقت اس کفالت جائزہ کا ایجاب یاقبول واہب خواہ کسی شخص اجنبی نے کیا تو اب ایک رکن کفالت جانب فضولی سے پایا گیا کفالت منعقدہوکر اجازت ریاست پر موقوف رہی،
محیط وہندیہ میں ہے :
قال اجنبی لغیرہ اکفل بنفس فلان اوبمال عن فلان لفلان فیقول ذٰلک الغیر کفلت تصح الکفالۃ وتقف علی ماوراء المجلس علی اجازۃ المکفول لہ وللکفیل ان یخرج عن الکفالۃ قبل ان یجیز الغائب کفالتہ ۱؎۔
اجنبی نے غیرسے کہا کہ تو فلان کے نفس کا یا فلاں کے لئے فلاں کے مال کا کفیل بن جاؤں اور وہ غیر کہے کہ میں کفیل بن گیا توکفالہ صحیح ہوگا اورمجلس کے بعد مکفول لہ،کی اجازت پر موقوف رہے گا اورکفیل کو اختیار ہوگا کہ مکفول لہ کے کفالہ کی اجازت دینے سے پہلے خود کو کفالہ سے خارج کرلے۔ (ت)
(۱؎ فتاوٰی ہندیہ کتاب الکفالۃ الباب الاول نورانی کتب خانہ پشاور ۳/ ۲۵۲)
مگرریاست کو اس امر جائز کی اطلاع نہ دی گئی نہ اس کی جانب سے اس کی منظوری ہوئی بلکہ منظوری اسی امر باطل کی ہوئی کہ جائداد بدستور مکفول رہے پھر یہ کفالت بے اثر رہی، ھکذاینبغی التحقیق واﷲ سبحانہ ولی التوفیق (یونہی تحقیق چاہئے اور اللہ تعالٰی ہی توفیق کامالک ہے۔ ت) واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۸۹: مرسلہ سید مقبول عیسٰی صاحب سادات نومحلہ ازریاست جاورہ ملک مالوہ ۱۳۲۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک شخص مسلمان جو تابع شریعت محمدی ہے جس کا نام جمعہ ہے اس نے مسماۃ بنت پیاری سے مہر شرعی پر عقد برضامندی خود بہ اقرار کہ علاوہ نان ونفقہ زوجہ کے میں جمعہ اپنی خوشدامن کو بھی بوجہ عسرت خوردونوش کے تکلیف ہوگی تو میں ان کے خوردونوش کا صرفہ بھی اپنے ذمہ لوں گا اور گھرمیں صفر خورد ونوش خوشدامن یعنی مسماۃ پیاری کانہ دوں تو خدا بخش ضامن جس کے اقرار نامہ ہذا پر دستخط ہیں دے گا اب مسماۃ پیاری کو خوردونوش واقعہ ہوئے تو جمعہ اور اس کا ضامن بالاصالہ مضمون دستاویز سے اقراری ہیں مگر صرفہ خوردونوش دینے سے حجت وحیلہ حوالہ کرتے ہیں، چنانچہ نقل دستاویز بھی بناپر ملاحظہ مفتیان کرام ارسال ہے ازروئے احادیث جواب مرحمت فرمایا جائے۔ بینو ا توجروا
الجواب: پیاری کا نفقہ شرعا ذمہ جمعہ واجب نہ تھا اور اس کا یہ لکھ دیناکہ اگرمیری خوشدامن کوکبھی خوردونوشی کی تکلیف ہوگی تو ان کے خوردونوش کا بھی صرف ہ اپنے پاس سے دوں گا محض ایک احسان کا وعدہ تھا اور احسان پر جبر نہیں پہنچتا۔
فقد صرحوا قاطبۃ ان لاجبر علی المتبرع وقال اﷲ تعالٰی ماعلی المحسنین من سبیل ۱؎۔
تحقیق تمام فقہاء نے اس کی تصریح کی کہ احسان کرنے والے پرکوئی جبرنہیں ہوگا اور اللہ تعالٰی نے فرمایا: احسان کرنے والوںپر کوئی راہ نہیں۔ (ت)
(۱؎القرآن الکریم ۹/ ۹۱)
او روہ جب خود جمعہ پر واجب نہ تھا تو خدا بخش جس نے ضمانت کی اور اقرار نامہ پر یوں دستخط کئے کہ بموجب اقرار نامہ نوشتہ جمعہ جی میں خدا بخش ضامن ہوں مجھ کویہ ضمانت منظور ہے یہ ضمانت بھی محض باطل وبے اثر ہوئی کہ جب اصل ہی پر مطالبہ نہیں ضامن پر کیا ہوگا۔
کما ہوا فی ردالمحتار عن البحر عن البدائع اماشرائط المکفول بہ فالاول ان یکون مضمونا علی الاصل الخ ۲؎۔
جیسا کہ ردالمحتار میں بحر سے بحوالہ بدائع منقول ہے کہ مکفول بہ کی شرطوں میں سے پہلی یہ کہ وہ اصل پر قابل ضمان ہو۔ الخ (ت)
(۲؎ ردالمحتار کتاب الکفالۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۴/ ۲۵۱)
درمختارمیں ہے :
شرطہا فی الدین کونہ صحیحا لاضعیفا کبدل کتابۃ فما لیس دینا بالاولی نہر ۳؎۔
دین میں کفالہ کی شرط یہ ہے کہ وہ دین صحیح ہو ضعیف نہ ہوجیسے بدل کتابت اور جو دین ہی نہیں اسکی کفالت بدرجہ اولٰی صحیح نہیں نہر (ت)
(۳؎ درمختار کتاب الکفالۃ مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۵۹)
البتہ جمعہ کے حق میں اولٰی یہ ہے کہ اگر کوئی عذر صحیح نہ ہو تو اپنا وعدہ پورا کرے فان الوفاء من مکارم الاخلاق (کیونکہ وعدہ کو پورا کرنا اعلٰی خلاق کریمانہ میں سے ہے۔ ت) واﷲ تعالٰی اعلم۔